A.i.a Or Mera Bhai

A.I.A اور میرا بھائی

عائشہ احمد بدھ جون

A.i.a Or Mera Bhai
یہاں A.I.A سے مراد معروف شاعر امجد اسلام امجد ہیں۔ ہاں جیسے نصرت صاحب کو آجکل سب nfak کہتے ہیں بالکل اسی طرح میں نے امجد صاحب کو بھی AIA کردیا ہے۔ غلط کیا ہے مانتی ہوں مگر آجکل یہی چلتا ہے۔ (اردو ادب سے محبت کرنے والوں سے معذرت)۔

جیسے آج کل نام چھوٹے ہوتے جارہے ہیں بالکل اسی طرح لوگوں کے کام بھی چھوٹے ہوتے جارہے ہیں۔ اب نصرت نام کا کوئی دوسرا قوال میں نے تو آج تک نہیں دیکھا۔

ہاں نصرت نامی ایک خاتون ہیں ہمارے محلے میں جو اکثر ہمارے گھر چینی لینے یا فردوس خالہ کی برائی کرنے آتی رہتی ہیں۔ فردوس خالہ وہی ان کی نند۔

بالکل اسی طرح ایک امجد نام کے لڑکے کو بھی بہت اچھے سے جانتی ہوں۔ بھائی ہے میرا ! سگا ! وہی جس کا ذکر پچھلی تحریر میں کیا تھا! امجد کی زندگی کی دو انتہائیاں ہیں جو میں امجد اسلام امجد کے ہی دو اشعار سے بیان کرونگی۔

(جاری ہے)


پہلی ہے۔۔۔
تیرے کہے ہوئے لفظوں کی راکھ کیا چھیڑیں
ہمارے  اپنے  قلم   کی  صداقتیں  بھی   گئیں
جس کا مطلب بہت واضعے ہے کہ جناب جب جب کتابیں کھولتے ہیں تب تب روتے ہیں۔ علم برساتے حروف جیسے ان کی نظروں کے سامنے ناچتے ہیں۔ امجد کے بارے میں میں یہی کہونگی کہ سترہ سال کا ایک خوبصورت نوجوان ہے (اس خوبصورتی کا اسے اچھے سے احساس ہے), میٹرک میں ساٹھ کے آس پاس پرسنٹیج آئی تھی اور اب انٹر کے امتحانوں کی تیاری کر رہے ہیں۔

گھر میں سب سے چھوٹے ہیں اس لیے سب کے لاڈلے ہیں اور گھر کا سودا وغیرہ لانےکا عظیم کام بھی ان ہی کے کندھوں پر ہے۔ پڑھائی کے معاملے میں مجھ سمیت گھر والوں کو بھی اس سے کوئی خاص امید نہیں ہے لیکن اب sچونکہ اپنا خون ہے اس لیے اس کی دی ہوئی ذلت اماں ابا پہلی جماعت سے ہی سہتے آرہے ہیں۔ اور بہت حوصلے سے سہتے آرہے ہیں۔

ایسا نہیں ہے کہ ہم نے اسے تعلیم کی اہمیت کا کبھی احساس نہیں دلایا بلکہ ہم نے کافی بار اسے شرم دیلانی چاہی کہ اچھے سے پڑھو تاکہ زندگی میں کچھ بڑا کرسکو لیکن جب کانوں میں headphones لگے ہوں تو نصحیت تو کیا دروازے کی گھنٹی تک کی آواز نہیں آتی۔


خیر دوسری انتہا کچھ یوں ہے کہ۔۔۔

طالب ہیں تیرے رحم کہ ہم عدل کے نہیں
جیسا   بھی  اپنا  جرم   تھا  تفسیر جو   بھی  تھی
یہ حال ہے امتحان کے نتائج کے بعد کا۔ امجد کے دل کی آواز! ایک طرف ابا ہوتے ہیں اور ایک طرف امجد ۔اور ہم سب اس سوچ میں ہوتے ہیں کہ تسلی دیں تو کسے۔ کس کی تکلیف زیادہ بڑی ہے ابا کی جو آج پھر استادوں کی باتیں سن کر آرہے ہیں یا خود امجد کی جس کا ایک بار پھر ہر سال کی طرح دو دن کے لیے زندگی سے بھروسہ اٹھ گیا ہے۔



ویسے دیکھا جائے تو اس کا بھی قصور نہیں۔ اب جب گھر کا ہر فرد  دو دو منٹ سے اسے آواز دیگا تو وہ بےچارہ کیسے پڑھے گا۔ گھر کا سامان لانے کے علاوہ بھی دوسرے ضروری کام بھی وہی کرتا ہے جیسے کہ ٹی وی کو ریموٹ دینا، پانی پلانا، کمرے کا بلب بند کرنا وغیرہ وغیرہ۔ ہمارے گھر میں یہ سب کام بہت اہم مانے جاتے ہیں اور نہ کرنے پر فوراً نافرمان کا دھبہ لگ جاتا ہے۔



ایک اور کام جو امجد ہر اتوار کو کرتا ہے وہ ہے ابا کے سکوٹر کی صفائی۔ اس آٹھ سال پرانی سکوٹر کو امجد جتنا چاہے صاف کر لے لیکن وہ ہمیشہ اسے دھوکا دے دیتی ہے اور امجد بےچارے کو اسے گھسیٹ کے گھر لانا پڑتا ہے۔ جبکہ اس کا بس چلے تو اسے وہیں کہیں سڑک پر چھوڑ آئے لیکن ابا کے خوف سے وہ ہر دفعہ کی بےوافائی کے بعد بھی گھر میں ہی دیکھتی ہے- یہ صفائی والا کام ابا بڑے بھائی سے نہیں کرواتے کیونکہ وہ بہت قابل ہے اور زیادہ قابل اولاد سے یہ کام نہیں کروائے جاتے۔

ہمارے گھر کی طرح ہر گھر میں ایک امجد ضرور ہوتا ہے جو قسمت کا مارا ہوتا ہے لیکن اسی امجد کی وجہ سے گھر کی رونق اور ہنسی قائم رہتی ہے۔ اللّٰہ اس جیسے تمام امجد (وں) کی عمر دراز کرے۔

Your Thoughts and Comments