Abaadi Ki Sunami Or Adbi Tabsray

آبادی کی سونامی اورادبی تبصرے

امجد محمود چشتی منگل فروری

Abaadi Ki Sunami Or Adbi Tabsray
 ازمنہ قدیم سے مختلف قدرتی آفات انسانی آبادی کے لئے وبال بنتی رہی ہیں مگر آج انسانی آبادی میں اندھا دھند اور خطرناک اضافہ زمین اور ماحول کیلئے خود ام المسائل بنتا جارہاہے۔ اگر آبادی میں اضافے کی یہی رفتار رہتی ہے تو وسائل اور تدابیر کے باوجود کسی بھی معاملے پہ قابو نہیں پایا جاسکتا۔ماہرین کے مطابق میعاری طرز حیات کیلئے زمین پہ دو ارب انسانوں کی گنجائش ہے جبکہ موجودہ آبادی نو ارب کے قریب جا پہنچی ہے۔

آبادی کنٹرول کرنے والے ممالک، ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑے ہیں جبکہ زیادہ آبادی والے نہ صرف پسماندگی کا شکار ہیں بلکہ دوسرے ملکوں پہ انحصار کرنے پہ مجبورہیں۔چین نے ستر کی دہائی میں قانون سازی کے ذ ریعے اس سیلاب کو روکا اور آج ترقی یافتہ قوم کی حیثیت سے اپنا لوہا منوا چکا ہے۔

(جاری ہے)

اگر چین آبادی پہ قابو پانے کیلئے ٹھوس اقدام نہ کرتا توآج اس کی آبادی ایک ارب کی بجائے دوگنا ہوتی۔

مالتھس کے مطابق وسائل ایک ، دو ، تین،چار اور پانچ کی شرح سے بڑھتے ہیں جبکہ آبادی ایک ،دو، چار،آٹھ اور سولہ کے تناسب سے بڑھتی ہے۔بڑھتی آبادی تیزی سے وسائل ختم کرتی جارہی ہے۔اتنی ترقی کے باوجود رہائش،خوراک، علاج،ٹرانسپورٹ،سیوریج،مہنگائی،خشک سالی اوربے روز گاری کے مسائل نے دنیا کو گھیر رکھا ہے۔پانی کی شدید قلت سب سے بڑا المیہ ہے۔

اب زندہ رہنے کے ساتھ ساتھ مرنے کیلئے قبور کی جگہ بھی ناپید ہورہی ہے۔ اب رہائشی علاقوں کی طرح مردوں کو دفنانے کی خاطر زمین پہ تنازعات کا امکان پیدا ہو چکا ہے۔ لہٰذا بہت سے یورپی ممالک میں کرائے کے قبرستانوں کی بڑی بڑی عمارتیں بن رہی ہیں اور احتراق ِ نعش کا رواج بھی بڑھ رہا ہے۔آبادی میں اضافے کے موجب زرعی رقبوں پہ رہائشی کالونیاں زراعت کیلئے سمِ قاتِل ہیں۔

لگتا ہے کہ بہت جلد زرعی زمینیں ختم ہو جائیں گی۔ اقبال نے اس مٹی کے نم ہونے کا مژدہ سنایا تھا پر اس قوم کے کارہائے نمایاں کو دیکھتے ہوئے دلاور فگار لکھتے ہیں ،
 ابھی تو آٹھ دس بچوں کی حسرت اور ہے باقی
 ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی 
 سب سے بڑھ کر انسانوں کی تعداد میں بے تحاشا اضافہ ماحولیات کی تباہی کا باعث بن رہا ہے۔

گلوبل وارمنگ میں اضافہ خطرناک آفات کا موجب بن سکتا ہے۔ پھر زیادہ بچے پیدا کرنے کے موجب ماؤں کی صحت شدید متاثر ہوتی ہے اور وہ بچوں کی تعلیم و تربیت و پرورش کما حقہُ نہیں کر پاتیں ۔اس پہ بھی شاعر لکھتا ہے،
 ماں کا شباب اس کی ہی اولاد کھا گئی
 موجد کا حسن اپنی ہی ایجاد کھا گئی 
 یہ زمین،یہ دھرتی بھی تو ہماری ماں ہے اور اس کی اولاد اور باسیوں نے بھی زمین کے حسن کو تار تار کر دیا ہے۔

اس کے کونے کونے کو زخمی کیا ہے اور اسے داغدار کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ ” لاگا چُنری میں داغ چھپاؤں کیسے “اس دھرتی کا نوحہ محسوس ہوتا ہے۔
 پاکستان بنا تو کسی تعمیری کام میں ترقی ٹاحال نظر نہیں آتی مگر آبادی میں اضافہ کی شرح سب سے مثالی ہے۔خصوصاََغریب طبقات میں یہ اضافہ ہولناک حد تک ہے ۔جتنی آبادی زیادہ ہو گی اتنی خوراک اور وسائل درکار ہونگے ،یہی وجہ ہے کہ غربت میں بھی تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔

گداگری بڑھ رہی ہے ۔ بڑے شہروں خاص کر کراچی میں ہر بھکاری کے ہمراہ پانچ سات نیم برہنہ بچے بھی ہوتے ہیں جبکہ دوسری گلی میں اس کی زوجہ اتنے ہی بچوں کی فوج لئے مصروف کار ہوتی ہے۔ مگر غریب یہ ٹینشن لینے سے یکسر آزاد ہے ۔بلکہ اس کا نظریہ اس حوالے قدرے مختلف ہے ۔مستزاد جمہوری اقدار کی کثرت اور میڈیائی آگہی نے ان کی سوچ ایسے پختہ کی ہے کہ
 ہمار ا کام یہ تھا پید ا کر دیں گیارہ شہزادے
 حکومت کا ہے یہ کام ان کو روٹی اور کپڑا دے 
 یعنی بچوں کی پیدائش کو میشیتِ ایزدی سمجھتے ہیں جبکہ ان کی قسمت ، رزق اور غربت کا ذمہ دار معاشرے کو ٹھہرا کر عجیب عقیدے کا اظہار کیا جاتا ہے۔

 اک اور شاعر کی سنئیے،
 ایک درجن دیکھ کر بچے کہا راہگیر نے
 آپ کو تو ٹیم کا کپتان ہونا چاہئیے 
 دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ ہمارے ہاں ملاوٹ شد ہ خوراک ، طبی سہولیات کا فقدان، اتائیت کی بھر مار، سیلاب ، ڈینگی ، خشک سالی و قحط ،حاد ثات ، بنگالی بابوں اور اماوں کی کار ستانیوں ،باہمی دشمنیوں اور دہشت گردی کے واقعات کے باوجود آبادی میں ریکارڈ اضافہ ہورہا ہے۔

پاکستان بنا تو دونوں حصوں کی آبادی تین کروڑ تھی جو اب اکیس کروڑ ہو چکی ہے۔ اس دیس میں روزانہ 15000 بچے پیدا ہورہے ہیں۔پاکستان کی طرح بھارت بھی اسی بحران کا شکار ہے جہاں زندہ رہنا خواب ہوتا جارہا ہے۔پانی اور ٹائیلٹس کی شدید قلت ہے۔کہا جارہا ہے کہ سن دو ہزار پچیس تک انڈیا چین کو آبادی میں پیچھے چھوڑ جائے گا ۔ پھر ہر جگہ ہی سلم ڈاگ کے مناظر ہونگے ۔

اک شاعر نے ایسے گھر وں کی کہانی کچھ بیان کی ہے ،،
 یہ گیارہ بچوں کی اک ٹیم ،گھر جس کا ٹھکانہ ہے
 جہاں بچے بنائیں جائیں یہ وہ کار کارخانہ ہے
 رپورٹ کے مطابق 2050ء میں دنیا میں دس ارب انسان ہو جائیں گے ۔اس زمین کے ساتھ ناقابلِ تلافی ظُلم ہورہا ہے اور اس کے باسی اس کی تباہی کے ذمہ دار ہیں۔ایک وقت آئے گا کہ یہاں تِل دھرنے کی جگہ نہ رہے گی۔

بہت سے ممالک اس کا تدارک کررہے ہیں مگر اس طرف توجہ نہ دینے والوں کے لئے خطرے کی گھنٹی بج رہی ہے۔ 2050ء تک دنیا کی نصف آبادی صرف نو ممالک یعنی بھارت،پاکستان،انڈونیشیا،نائیجیریا،گانگو،ایتھوپیا،تنزانیہ،یوگنڈا اور امریکہ پر مشتمل ہوگی۔اس وقت دنیا کا جائزہ لیں تو آبادی کے حوالے سے غربت،جہالت اور آبادی کا گہرا تعلق نظر آتا ہے۔پاکستان میں ماسوائے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی کوششوں کے اس جانب کوئی کام ہوتا نظر نہیں آتابلکہ ایسی کوششوں کے خلاف شدید رد عمل دیکھنے کو ملتا ہے۔

کیونکہ مسلم ریاست ہونے کے موجب یہاں آبادی کی سونامی کے آگے بند باندھنا شرعاََ ناممکن ہے وگرنہ اس سے بڑی سونامی برپا ہونے کا اندیشہ ہو سکتا ہے ۔ بقول شاعر،
 کہا اک شخص سے میں نے کہ بچے کم کرو پیدا، تو فرمایا دخل مت دو خدا کے کار خانے میں 
 پاکستان میں جس قدر کوئی غریب ہے یا جتنے وسائل کم ہیں اتنا ہی ہی زیادہ بچے پیدا کرنے کا جنون ہے ۔

حد تو یہ کہ تین تین پشتیں بیک وقت اسی کام میں لگی نظر آتی ہیں ۔ شاعر لکھتا ہے،
 کوئی سمجھاؤ کیوں اولاد میں لوگ، بلا مقصد اضافہ کر رہے ہیں 
 اُدھر بیٹا بھی مصروفِ عمل ہے، اِدھر ابا تماشہ کر رہے ہیں 
 قائد نے اپنی قوم کو کام ،کام اور کام کی تلقین کی مگر قوم نے محض دو معانی لئے۔ ایک تو انگریزی کا calm یعنی ہاتھ پہ ہاتھ دھرے سکون سے بیٹھے رہنا اور دوسراکام آبادی میں دھڑا دھڑ اضافہ کرنا۔

لہٰذا ان دونوں کاموں کے علاوہ کوئی خاص کام دکھائی نہیں دیتا ، ضمیر جعفری بھی یہی کہتے گئے،
 شوق سے لختِ جگر نورِ نظر پیدا کرو
 ظالمو تھوڑی سی گندم بھی مگر پیدا کرو 
 عرب ممالک میں کثرتِ اولادی اور کثرت ازدواج کا عام رواج ہے اور ”یک زوجیہ،، شخص مسکین سمجھا جاتا ہے۔اور معاملات میں نہ سہی اس معاملے کو مذہبی سعادت گردانتے ہیں ، اسی بات کو شاعر یوں بیان کرتا ہے،
 جہاں میں اہلِ ایماں شادیاں بھی چار کرتے ہیں
 اِدھر ڈوبے ادھر نکلے اُدھر ڈوبے اِدھر نکلے
 ہمارے جیسے معاشروں میں شادیاں فرائض کی ادائیگی کے علاوہ عشقیہ و معشوقیہ خواہشات کی تکمیل کا اظہار ہیں ۔

نیز شرعی حکم بھی ہے ۔ کہا جاسکتا ہے کہ پورا دیس ہی ہر وقت امید سے ہوتا ہے ۔ بعد ازاں آمد اطفال کے جن سلسلہ ہائے دراز کا آغاز ہوتا ہے ، اس پہ بھی شاعر رقمطراز ہے،
 عاشقی قیدِ شریعت میں جو آ جاتی ہے
 جلوئہ کثرت ِ اولاد دکھا جاتی ہے 
 اکثر دیہاتوں میں والدین پہلو پہ دو تین شیر خوار اطفال اٹھائے چلتے نظر آتے ہیں اور آبادی کی کثرت اورشوچالوں کی کمیابی کے باعث تالاب کنارے ایک ہی گھر کے سات آٹھ برہنہ نورِ نظر اپنے تیسرے ہمسائے کے گھر تک قطار اندر قطار برائے تکمیل ِ حوائج ِ ضروریہ تشریف فرما نظر آتے ہیں۔

اور یہ منظر کئی مقامات پر اعلی الصبح دیکھا جا سکتا ہے۔ اِ س سرگرمی میں تن پر لباس کا تکلف نہیں ہوتا البتہ نظرِ بد سے حفاظت اور درازیء عمر کے لئے گلے میں چمڑے کا تعویذ ضرورہوتاہے۔ کہیں کہیں افسوس ناک پہلو یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ باپ کو اولاد کی ترتیب اور نام بھی یاد نہیں ہوتے ۔اب بھلا وہ اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت اور مستقبل کا کیونکر سوچ سکتے ہیں اور ریاست شہریوں کو کیسے خوشحال رکھ سکتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہم قوم کی بجائے بے مہار ہجوم بنتے جارہے ہیں۔ آئیے ،آخر میں فلم بول کے اس فکرانگیز ڈائیلاگ پہ غور کرتے ہیں جس میں یہ سوال کیا جاتا ہے کہ اگر غربت کے موجب بچے قتل کرنا گناہ ہے توپیدا کرنا کیوں گناہ نہیں؟

Your Thoughts and Comments