Baat Latifoon Se Wazifoon Tak Aan Pohanchi

بات لطیفوں سے وظیفوں تک آپہنچی

حسن نصیر سندھو پیر جون

Baat Latifoon Se Wazifoon Tak Aan Pohanchi
کنوارے پن سے شادی تک کے سفر کو کو اگر بات لطیفوں سے وظیفوں تک آپہنچی کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ اور اگر یہ کہا جائے، مرد کو شادی کے بعد سمجھ آتی ہے کہ فلم ہیرو اور ہیروئن کے ملتے ہی ختم کیوں کر دیتے تو غلط نہ ہو گا۔ پاکستانی عورتوں کی شرافت کی انتہا: وہ شوہر کو دیکھے بغیر شادی کر لیتی ہیں, اور شوہر کی شرافت کی انتہا: وہ خاتون کو بغیر میک اپ کے دیکھ کر بھی انکار نہیں کرتا. اس کے پیچھے وجہ بس یہی کہ مرد کے پاس اللہ کا دیا سب کچھ بھی ہو تو بس بات بات پر منہ بنانے والی کی کمی جو رہتی ہے. اور عورت کو مسلسل ایک مرد الو بنانے کی کمی جو رہتی  ہے تو غلط نہ ہوگا۔


شوہر وہ ہستی ہے۔ جس کو اسلام کا کچھ پتا ہو نہ ہو یہ ضرور پتہ ہوتا، چار شادیاں کرنا اس کا حق ہے۔

(جاری ہے)

اور بیوی وہ ہستی ہے جسے گھر ہستی آتی ہو یا نہ ہو شوہر کی ٹھکائی بجائی اور پٹائی کرنا اپنا پیدائشی حق سمجھتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے، اس دنیا میں اچھا شوہر کسی کو نہیں ملتا ہے ۔بس شوہر کے رشتے داروں کو برا بنا کر ہی اسے اچھا بنایا جاتا ہے۔ ایک تحقیق یاد آگئی، جس کے مطابق دل کے امراض شادی شدہ لوگوں کو کم ہی ہوتے ہیں کیونکہ کے انھیں دماغی امراض سے چھٹکارا ہی نہیں ملتا۔


سنا ہے شہر تو طرح کے ہوتے ہیں ایک جو بنا کہیں دل کی بات سمجھ جاتے ہیں بات بات پر مسکراتے ہیں ہر خوشی غمی میں برابر کے حصے دار ہوتے ہیں جو دھوپ میں چھاؤں اور غمی سوکھ کے نہیں ہوتے ہیں اور دوسرے جو پاکستانی بیویوں کے پاس ہیں جو لونگ ڈرائیو کولانگ سفرنگ سمجھتے ہیں، دل کھول کر شاپنگ کروانے کو آ بیل مجھے مار سمجھتے ہیں، مووی دیکھانے کو، امان خطرہ میں ڈالنے کے برابر سمجھتے ہیں۔

ہر جگہ کمانے کی بجائے بس باتوں میں گھماتے ہیں، اور تو اور برتھ ڈے کی بجائے ڈیٹھ دے زیادہ یاد رکھتے ہیں۔
اگر آپ عقل مند ہیں تو شوہروں کے تین بڑے سوالوں کے جواب دیں۔ پہلا پاکستانی شہروں کی سب سے بڑی پریشانی کیا ؟ جی مہنگائی ۔ ویسے جو آپ نے سوچا تھا، وہ سو فیصد ٹھیک تھا۔ دوسرا مرد سب سے زیادہ معافی کس سے مانگتے ہیں؟ جی فقیروں سے۔ جو آپ نے سوچا تھا وہ بھی ٹھیک ہے۔

تیسرا عشق میں مبتلا شخص کے نزدیک دنیا کی کل آبادی صرف ایک شخص ہے، اور شوہر کے نزدیک سارے مسئلے؟ جی گھرداری۔ کیا آپ گھر والی سمجھے تھے۔اگر سمجھے تھے تو ٹھیک سمجھے تھے۔
دیکھا جائے تو آج کل کی اولاد سے زیادہ شوہر فرمابردار ہیں، کام ختم ہوتے ہی، گھر آ جاتے ہیں۔ اور کبھی انہوں نے سوچا اپنی بیوی کو اپنی سو فیصد رقم دینے سے، دس فیصد سکون ملتا ہے۔

کسی دوسری کو دس فیصد دینے سے سوفیصد سکون ملتا ہے۔پیسہ آپ کا فیصلہ آپ کا۔ شوہر اپنی بیوی کو مسکرا کر بھی دیکھے تو جواب ملتا ہے آج میں کچھ نہیں پکانے والی، اور یہی اگر کسی اور کو مسکرا کر دیکھو تو زندگی میں ایک نئی کک ملتی ہے، مسکراہٹ آپکی فیصلہ اپکا، اپنی بیوی کو شعر وشاعری سنائی جائے تو آگے سے سوجھا ہوا چہرہ ہی دیکھنے کو ملتا ہے، کسی اور کو سناؤ تو وہاں مسکراہٹ کے ساتھ فون نمبر مل سکتا ہے۔

اور گھر میں میک اپ لانا ایسے ہی ہے جیسے پرانی کرولا کی ڈینٹنگ پینٹنگ، وہی میک اپ کسی اور کو دینا مراد اڑن کھٹولہ بھائی اڑن کھٹولہ اور ویسے بھی شوہر کو بیوی کی قدر صرف اس وقت محسوس ہوتی ہے جب پارک کے باہر گارڈ روک کے کہتا ہے فیملی کے بغیر اندر جانے کی اجازت نہیں۔ تو دماغ آپ کا فیصلہ اپکا۔ نیز لکھاری آنے والے واقعات و حادثات سے بری الذمہ سمجھا جائے گا۔

Your Thoughts and Comments