Bananay Ka Fun

بنانےکا فن

منگل جنوری

Bananay Ka Fun
 کنہیا لال کپور
دوسروں کو بنانا خاص کران لوگوں کوجوچالاک ہیں یا اپنےکوچالاک سمجھتےہیں۔ ایک فن ہے۔ آپ شاید سمجھتےہوں گےکہ جس شخص نے بھی ‘‘لومڑی اور کوّے’’کی کہانی پڑھی ہے۔ وہ بخوبی کسی اور شخص کو بناسکتا ہے۔ آپ غلطی پر ہیں۔ وہ کوّا جس کا ذکرکہانی میں کیا گیا ہے ضرورت سے زیادہ بے وقوف تھا۔ ورنہ ایک عام کوّا لومڑی کی باتوں میں ہرگز نہیں آتا۔

لومڑی کہتی ہے۔ ‘‘میاں کوّے! ہم نےسنا ہےتم بہت اچھا گاتے ہو۔’’وہ گوشت کا ٹکڑا کھانےکےبعد جواب دیتا ہے۔‘‘لومڑی۔ آپ نےغلط سنا۔ خاکسار تو صرف کائیں کائیں کرنا جانتا ہے۔’’
تاہم مایوس ہونےکی ضرورت نہیں۔ تلاش کرنےپربیوقوف کوّے کہیں نہ کہیں مل ہی جاتے ہیں۔ اس اتوارکا ذکر ہے۔ ہمیں پتہ چلا کہ رائےصاحب موتی ساگرکا کتا مرگیا۔

(جاری ہے)

ہم فوراً ان کےہاں پہنچے۔

افسوس ظاہرکرتےہوئےہم نےکہا۔ ‘‘رائےصاحب آپ کےساتھ بہت ظلم ہوا ہے۔ برسوں کا ساتھی داغِ مفارقت دے گیا۔’’
‘‘پرماتما کی مرضی۔’’ رائےصاحب نےمری ہوئی آواز میں جواب دیا۔
‘‘بڑا خوب صورت کتا تھا۔ آپ سےتو خاص محبت تھی’’۔
‘‘ہاں مجھ سےبہت لاڈکرتا تھا۔’’
‘‘کھانا بھی سنا ہےآپ کےساتھ کھاتا تھا۔’’
‘‘کہتےہیں آپ کی طرح مونگ کی دال بہت پسند تھی۔

’’
‘‘دال نہیں گوشت۔’’
‘‘آپ کا مطلب ہےچھیچھڑے۔’’
‘‘نہیں صاحب بکرےکا گوشت۔’’
‘‘بکرے کا گوشت! واقعی بڑا سمجھ دار تھا۔ تیتر وغیرہ تو کھا لیتا ہوگا۔’’
‘‘کبھی کبھی۔’’
‘‘یونہی منہ کا ذائقہ بدلنےکےلئے۔ سنا ہے۔ ریڈیو باقاعدگی سےسنتا تھا۔’’
‘‘ہاں ریڈیو کےپاس اکثر بیٹھا رہتا تھا۔’’
‘‘تقریریں زیادہ پسند تھیں یا گانے؟’’
‘‘یہ کہنا تومشکل ہے۔

’’
‘‘میرے خیال میں دونوں۔ سنیما جانےکا بھی شوق ہوگا۔’’
‘‘نہیں سنیما توکبھی نہیں گیا۔’’
‘‘بڑے تعجب کی بات ہے۔ پچھلےدنوں تو کافی اچھی فلمیں آتی رہیں۔ خیراچھا ہی کیا۔ نہیں تو خواہ مخواہ آوارہ ہوجاتا۔’’
‘‘بڑا وفادارجانور تھا۔’’
‘‘اجی صاحب۔ ایسےکتے روز روز پیدا نہیں ہوتے۔ آپ نےشاید اڑھائی روپےمیں خریدا تھا۔

’’
‘‘اڑھائی روپےنہیں اڑھائی سومیں۔’’
‘‘معاف کیجئے۔ کسی مہاراجہ نےآپ کو اس کےلئےپانچ روپے پیش کئےتھے۔’’
‘‘پانچ نہیں پانچسو۔’’
‘‘دوبارہ معاف کیجئے۔پانسو کےتوصرف اس کےکان ہی تھے۔ آنکھیں چہرہ اورٹانگیں الگ۔’’
‘‘بڑی رعب دارآنکھیں تھیں اس کی۔’’
‘‘ہاں صاحب کیوں نہیں جس سےایک بارآنکھ ملاتا وہ آنکھ نہیں اٹھا سکتا تھا۔

’’
‘‘چہرہ بھی رعب دار تھا۔’’
‘‘چہرہ! اجی چہرہ تو ہوبہوآپ سےملتا تھا۔’’
‘‘رائےصاحب نےہماری طرف ذرا گھوم کردیکھا۔ ہم نےجھٹ اٹھتےہوئےعرض کیا۔‘‘اچھا رائےصاحب صبرکےسوا کوئی چارہ نہیں واقعی آپ کو بہت صدمہ پہنچا ہے۔ آداب عرض۔’’
رائے صاحب سے رخصت ہو کر ہم مولانا کے ہاں پہنچے ۔ مولانا شاعر ہیں اور زاؔغ تخلص کرتےہیں۔


‘‘آداب عرض مولانا۔ کہئےوہ غزل مکمل ہوگئی۔’’
‘‘کونسی غزل قبلہ۔’’
‘‘وہی۔ اعتبار کون کرے۔ انتظارکون کرے؟’’
‘‘جی ہاں ابھی مکمل ہوئی ہے۔’’
‘‘ارشاد۔’’
‘‘مطلع عرض ہے۔ شاید کچھ کام کا ہو۔
جھوٹےوعدہ پہ اعتبارکون کرے
رات بھر انتظار کون کرے’’
‘‘سبحان اللہ۔ کیا کرارا مطلع ہے ؎ رات بھرانتظارکون کرے۔

واقعی پینسٹھ سال کی عمرمیں رات بھرانتظارکرنا بہت مشکل کام ہے۔ اور پھرآپ تو آٹھ بجےہی اونگھنےلگتےہیں۔’’
‘‘ہےکچھ کام کا۔’’
‘‘کام کا تونہیں۔ لیکن آپ کی باقی مطلعوں سےبہتر ہے۔’’
‘‘شعرعرض کرتاہوں ؎
گوحسین ہے مگر لعیں بھی ہے
اب لعیں سے پیار کون کرے’’
‘‘کیا بات ہےمولانا۔ اس‘لعیں’کا جواب نہیں۔ آج تک کسی شاعرنےمحبوب کےلئےاس لفظ کا استعمال نہیں کیا۔

خوب خبر لی ہےآپ نےمحبوب کی۔’’
‘‘بجا فرماتے ہیں آپ۔ شعر ہے۔ ؎
ہم خزاں ہی میں عشق کرلیں گے
آرزوئے بہار کون کرے
‘بہت خوب۔ خزاں میں بیگم صاحب شاید میکےچلی جاتی ہیں۔ خوب موسم چنا ہےآپ نےاور پھرخزاں میں محبوب کوفراغت بھی توہوگی۔’’
‘‘جی ہاں۔عرض کیا ہے۔ ؎
مر گیا قیس نہ رہی لیلی
عشق کا کارو بار کون کرے
‘‘بہت عمدہ ؎ عشق کا کاروبارکون کرے۔

چشم بد دورآپ جو موجود ہیں۔ ماشاءاللہ آپ قیس سے کم ہیں۔’’
‘‘نہیں قبلہ ہم کیا ہیں۔’’
‘‘اچھا کسرنفسی پراترآئے۔ دیکھئے بننےکی کوشش مت کیجئے۔’’
‘‘مقطع عرض ہے۔’’
‘‘ارشاد۔’’
‘‘رنگ کالا۔ سفید ہے داڑھی
زاغؔ سے پیار کون کرے
‘‘اے سبحان اللہ۔ مولانا کیا چوٹ کی ہےمحبوب پر۔ واللہ جواب نہیں،اس شعر کا۔ ؎ زاغ سے پیارکون کرے۔

کتنی حسرت ہےاس مصرع میں۔’’
‘‘واقعی؟’’
‘‘صحیح عرض کررہا ہوں۔ اپنی قسم یہ شعر تو استادوں کے اشعار سے ٹکر لے سکتا ہے۔کتنا خوبصورت تضاد ہے۔ ؎ رنگ کالا سفید ہے داڑھی۔ اور پھر زاغ کی نسبت سے کالا رنگ کتنا بھلا لگتا ہے۔’’
زاغؔ صاحب سےاجازت لےکرہم مسٹر‘‘زیرو’’کےہاں پہنچے۔آپ آرٹسٹ ہیں اور آرٹ کےجدید اسکول سےتعلق رکھتے ہیں۔

انہوں نےہمیں اپنی تازہ تخلیق دکھائی۔ عنوان تھا۔ ‘‘ساون کی گھٹا’’ہم نے سنجیدگی سے کہا۔‘‘سبحان اللہ۔ کتنا خوبصورت لہنگا ہے۔’’
‘‘لہنگا۔ اجی حضرت یہ لہنگا نہیں۔ گھٹا کا منظرہے۔’’
‘‘واہ صاحب آپ مجھےبناتےہیں۔ یہ ریشمی لہنگا ہے۔’’
‘‘میں کہتا ہوں یہ لہنگا نہیں ہے۔’’
‘‘اصل میں آپ نےلہنگا ہی بنایا ہےلیکن غلطی سےاسےساون کی گھٹا سمجھ رہےہیں۔

’’
‘‘یقین کیجئےمیں نےلہنگا......’’
‘‘اجی چھوڑیئےآپ کےتحت الشعورمیں ضرورکسی حسینہ کا لہنگا تھا۔دراصل آرٹسٹ بعض اوقات خود نہیں جانتا کہ وہ کس چیز کی تصویرکشی کررہا ہے۔’’
‘‘لیکن یہ لہنگا ہرگزنہیں....’’
‘‘جناب میں کیسےمان لوں کہ یہ لہنگا نہیں۔ کوئی بھی شخص جس نےزندگی میں کبھی لہنگا دیکھا ہے۔ اسےلہنگا ہی کہےگا۔’’
‘‘دیکھئےآپ زیادتی کر رہےہیں۔

’’
‘‘اجی آپ آرٹسٹ ہوتےہوئےبھی نہیں مانتےکہ آرٹ میں دو اوردو کبھی چارنہیں ہوتے۔ پانچ، چھ، سات یا آٹھ ہوتے ہیں۔ آپ اسےگھٹا کہتےہیں۔ میں لہنگا سمجھتا ہوں۔ کوئی اوراسےمچھیرے کاجال یا پیراسوٹ سمجھ سکتا ہے۔’’
‘‘اس کا مطلب یہ ہوا۔ میں اپنےخیال کو واضح نہیں کرسکا۔’’
‘‘ہاں مطلب تویہی ہے۔ لیکن بات اب بھی بن سکتی ہے۔

صرف عنوان بدلنےکی ضرورت ہے۔’’ساون کی گھٹا۔‘کی بجائے’۔ ان کا لہنگا‘ کردیجئے’۔
مسٹرزیرونےدوسری تصویردکھاتےہوئے کہا۔‘‘اس کےمتعلق کیا خیال ہے’’غورسےتصویرکو دیکھنےکےبعد ہم نےجواب دیا۔‘‘یہ ریچھ تولاجواب ہے۔’’
زیرو صاحب نےچیخ کرکہا۔‘‘ریچھ کہاں ہےیہ’’
‘‘ریچھ نہیں تواورکیا ہے۔’’
‘‘یہ ہےزمانہ مستقبل کا انسان۔

’’
‘‘اچھا توآپ کےخیال میں مستقبل کا انسان ریچھ ہوگا۔’’
‘‘صاحب یہ ریچھ ہرگزنہیں۔’’
‘‘چلئےآپ کوکسی ریچھ والےکےپاس لےچلتےہیں۔ اگروہ کہہ دے کہ یہ ریچھ ہےتو۔’’
‘‘تومیں تصویربنانا چھوڑدوں گا۔’’
‘‘تصویریں توآپ ویسےہی چھوڑدیں تواچھا رہے۔’’
‘‘وہ کس لئے۔’’
‘‘کیونکہ جب کوئی آرٹسٹ انسان اورریچھ میں بھی تمیزنہیں کرسکتا۔ تو تصویریں بنانےکا فائدہ۔’’
مسٹرزیرونےجھنجھلا کر کہا۔‘‘یہ آج آپ کو ہوکیا گیا ہے۔’’
ہم نےقہقہہ لگا کرعرض کیا۔‘‘آج ہم بنانےکےموڈ میں ہیں۔ اورخیرسےآپ ہمارے تیسرے شکار ہیں!۔’’

Your Thoughts and Comments