Bilyaan Or Kutte

بلیاں اور کتے

عطاالحق قاسمی بدھ اکتوبر

Bilyaan Or Kutte
مجھے بلیاں بچپن ہی سے بہت پسند ہیں اور میری یہ پسندیدگی ابھی تک قائم ودائم ہے۔گزشتہ چند برسوں سے ایک بلا ہم نے پالا ہوا ہے جو مجھے بہت پیارا لگتا ہے گورا چٹا، بڑی بڑی مونچھیں ،کسرتی جسم اور بہت نفیس عادتوں کا مالک!ہم گھر والوں نے اس کا نام پیار سے ”بلا پہلوان“رکھا ہوا ہے۔بلا پہلوان اپنے طور طریقوں اور رہن سہن میں بہت مستقل مزاج واقع ہوا ہے۔

یہ سردیوں میں ہیٹر کے پاس اور گرمیوں میں فریج کے پاس آکر بیٹھتا ہے۔دودھ رغبت سے نہیں پیتا،البتہ گوشت بڑے شوق سے کھاتاہے فریج کا دروازہ کھولیں تو دوڑ ا دوڑا آتا ہے مگر ندیدوں کی طرح آپ کی ٹانگ کو سیڑھی بنا کر فریج میں منہ ڈالنے کی کوشش نہیں کر تا بلکہ صرف منہ سے نہایت سریلی آواز میں میاؤں میاؤں کرکے آپ کو یاد دلاتا ہے کہ اس کے بھی کچھ جبلی تقاضے ہیں۔

(جاری ہے)

بلے پہلوان کی ایک عادت جو مجھے بہت پسند ہے ،وہ اس کی صفائی پسندی ہے ،وہ کبھی گھر میں گند نہیں ڈالتا،بس ایسے مواقع پر چپ چاپ گھر سے باہر نکل جاتا ہے اور کسی جھاڑی کارخ کرتا ہے اپنی عادتوں سے وہ جس قدر متقی اور پرہیز گار لگتا ہے، اس کا بس چلے تو ایسے مواقع پر اس کے ہاتھ میں لوٹا بھی ہو!
بلا پہلوان بظاہر امن پسند اور صلح جو قسم کا بلا لگا ہے لیکن ہر چوتھے پانچویں دن گھر میں لہو لہان داخل ہو تا ہے،ممکن ہے اسے اپنے دفاع میں کچھ کرنا پڑتا ہو تاہم اس ضمن میں یقین سے کچھ نہیں کہا جاسکتا۔

زخمی ہونے کے دو چار دن بعد تک وہ گھر کے ٹی وی لاؤنج میں پڑا رہتاہے،ٹی وی پر کوئی اچھی شکل نظر آئے تو چند لمحوں کے لئے کنکھیوں سے اسے دیکھتا ہے اور پھر آنکھیں موند لیتاہے،البتہ ریسلنگ چل رہی ہوتو ان لمحوں میں وہ کنکھیوں سے بھی ٹی وی کی طرف نہیں دیکھتا۔جب اس کے زخم بھر جاتے ہیں تو وہ پھر باہر
 آنا جانا شروع کر دیتاہے۔ہم گھر والوں کو تجسس تھاکہ اتنے شریف النفس قسم کے بلے نے آخر کس سے دشمنی پالی ہوئی ہے اور کیوں پالی ہوئی ہے کہ ہر چوتھے دن اس سے متھا لگاتا ہے اور کیوں لگاتا ہے اور نتائج کی پرواہ کئے بغیر اس سے بھڑ جاتا ہے۔

ایک دن ہم نے اس کے دشمن اور دشمنی کاراز پالیا۔کچھ عرصہ قبل سامنے بازار سے سودا سلف خرید کر میں گھرکی طرف آرہا تھا کہ میں نے ایک بلا دیکھا جو ہمارے بلے پہلوان سے بھی زیادہ خوبصورت اور پلا ہوا تھابلا عمرمیں بھی اس سے بہت کم تھا۔یہ اپنی جوانی کے گھمنڈ میں جھومتا جھامتا سامنے چلا آرہا تھا۔اتنے میں براؤن رنگ کی ایک بھلے مانس سی بلی اس کے قریب سے گزری۔

موصوف اسے دیکھ کررک گئے اور غرانا شروع کر دیا۔بلی بھی رک گئی اور اس نے غراہٹ کا جواب غراہٹ سے دیا۔تھوڑی دیر بعد دونوں گتھم گھتا ہوگئے مگر کچھ ہی دیر بعد بلی نے محسوس کیا کہ اس کا مد مقابل اس سے بھی زیادہ طاقتور ہے چنانچہ وہ دم دبا کر بھاگ گئی۔بعد میں اس مغرور بلے کی ادھر ادھر سے کچھ اور شکایات بھی ملیں بہر حال کچھ روزبعدمیں نے دیکھا کہ اس نوجوان بلے کا ہمارے بلے پہلوان سے آمنا سامنا ہو گیا،دونوں ایک دوسرے پر جھپٹ پڑے مگرمیں نے آگے بڑھ کر بیچ بچاؤ کر ادیا۔

اس دن کے بعد سے بلا پہلوان ہر دو چار دن کے بعد لہو لہان حالت میں گھر میں داخل ہوتا اور زخم بھرنے پر پھر مقابلے کے لئے نکل کھڑا ہوتا!
البتہ کچھ عرصے سے میں نے بلے پہلوان اور مغرور بلے کے رویوں میں ایک نہایت دلچسپ تبدیلی دیکھی ہے،مغرور بلا رزق کی تلاش میں یا بلے پہلوان کی تلاش میں کبھی کبھی ہمارے گھر کی دہلیز میں بھی داخل ہو جاتاہے۔

جب ان دونوں کا آمنا سامنا ہوتاہے تو دونوں زمین کے ساتھ چپک سے جاتے ہیں اور کمانڈوز کی طرح گھات لگا کر بیٹھ جاتے ہیں مگر مزے کی بات یہ ہے کہ گھنٹوں اس حالت میں رہتے ہیں،آنکھ تک نہیں جھپکتے اور ایک دوسرے پر حملہ آور بھی نہیں ہوتے۔اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس عالم میں انہیں گوشت ڈالا جائے یا مار بھگانے کی کوشش کی جائے تو بھی یہ اپنی جگہ سے ٹس
 سے مس نہیں ہوتے اور مسلسل اسی طرح”مورچہ بند“رہتے ہیں ،پھر آہستہ آہستہ پسپائی کا عمل شروع ہوتاہے مگر اس کے بعد بھی میں نے بلے پہلوان کو دیکھا ہے کہ وہ کافی دیر تک نارمل حالت میں واپس نہیں آتا،غالباً دونوں ایک دوسرے پر اعتماد نہیں کرتے اب دونوں کے درمیان انا کا مسئلہ بھی ہے اور یہ انابہت بری چیز ہے ۔


جیسا کہ میں نے کالم کے شروع میں کہا تھا کہ مجھے بچپن ہی سے بلے بلیوں سے بہت پیار ہے اور میں ٹی وی لاؤنج میں بیٹھا ان کی حرکات وسکنات بڑی دلچسپی سے دیکھتا رہتا ہوں،البتہ کتے مجھے کبھی اچھے نہیں گے۔اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے ہر وقت ان کی رال ٹپکتی رہتی ہے۔کتا اگر میرے پاؤں میں لوٹنیاں بھی لے تو بھی مجھے اچھا نہیں لگتا کیونکہ کتا ،کتا ہی ہوتاہے۔

میں جب ناروے میں تھا تو میرے لینڈ لارڈ پال کے پاس دو عدد بہت خوفناک سے کتے تھے،وہ اگر کبھی راہ میں مل جاتا یا میں کبھی اس کی طرف جاتا تو یہ کتے مجھ سے بھی بے تکلف ہونے کی کوشش کرتے لیکن میں نے ان کی اس کوشش کی کبھی حوصلہ افزائی نہیں کی۔ایک دفعہ پال پہاڑوں پر چھٹیاں گزارنے گیا،وہ ان دو میں سے جو زیادہ لاڈلا کتا تھا،اسے اپنے ساتھ لے گیا،ایک دن یہ کتا پال کے بغیر اکیلا گھر سے باہر چلا گیا اور پھر واپس نہ آیا۔وہ سردی میں اکڑ کرمر گیاتھا۔پال پر اس کی ناگہانی وفات کا اتنا اثر ہوا کہ اس پر ڈپریشن کے دورے پڑے اور اسے ہسپتال میں داخل ہونا پرا!
بلیوں کی وفاداری گھر سے ہوتی ہے اور کتوں کی صرف اپنے مالک سے !شاید اسی لیے کتے مجھے اچھے نہیں لگتے!

Your Thoughts and Comments