Bol Mere Machli

بول میری مچھلی

عطاالحق قاسمی بدھ اپریل

Bol Mere Machli
میں نے مچھلیاں پکڑنے کیلئے دریا میں کنڈی ڈالی اور پھر مچھلی کے انتظار میں سگریٹ سلگا کر بیٹھ گیا، تھوڑی دیر بعد کنڈی میں حرکت ہوئی میں نے فوراً ایک جھٹکے سے اسے اوپر کی طرف کھینچا مگر میں نے دیکھا کہ نہ صرف یہ کہ کوئی مچھلی پھنسی نہیں بلکہ کنڈی کے ساتھ لگا ”گنڈویا“ (کیچو) بھی غائب تھا۔ میں نے ایک اور گنڈویا کنڈی میں پھنسایا اور ڈوری دریا میں پھینک دی اور ایک دفعہ پھر بگلا بھگت بن کر بیٹھ گیا۔

بیٹھے بیٹھے ”اباسیاں“ آنے لگی تھیں مگر مچھلی تھی کہ پھنسنے کا نام ہی نہیں لیتی تھی، اتنے میں امید کی ایک ہلکی سی کرن نمودار ہوئی یعنی ڈوری میں ایک بار پھر حرکت پیدا ہوئی۔ میں نے فوراً اسے اپنی طرف کھینچا مگر اس دفعہ بھی نہ صرف یہ کہ اس میں مچھلی کوئی نہیں تھی بلکہ وہ گنڈویا بھی غائب تھا، جو میں نے کنڈی کے ساتھ اس غرض سے پھنسایا تھا کہ یہ مچھلی کی خوراک بنے گا اور اس کے ذریعے مچھلی میری خوراک بنے گی۔

(جاری ہے)

اب مجھ پر جھنجھلاہٹ سی طاری ہونے لگی، ایک تو اس خیال سے کہ اتنی دیر میں کوئی مچھلی نہیں پھنسی تھی اور دوسرے یہ سوچ کر کہ مچھلیاں مجھے بے وقوف بنا رہی تھیں۔ وہ اس صفائی سے گنڈوئے پر ہاتھ صاف کرتی تھیں کہ خود کنڈی کی زد میں آنے سے بچ جاتی تھیں بلکہ تیسری دفعہ جب ڈوری میں حرکت ہوئی اور میں نے اسے اپنی طرف کھینچا تو مجھے مچھلیوں کے ہنسنے کی آواز بھی سنائی دی۔

مجھے ان کی اس حرکت پر بہت غصہ آیا، اور مجھے یوں لگا جیسے وہ سب مل کر میری توہین کر رہی ہوں مگر میں نے ایک بار پھر اپنے غصے پر قابو پایا، میں دراصل مان گیا تھا کہ غصے سے مسئلہ حل نہیں ہو گا، چنانچہ میں نے اس کا سیاسی حل تلاش کرنا شروع کیا اور تھوڑی دیر بعد میں یہ حل ڈھونڈنے میں کامیاب ہو گیا۔
میں نے ڈوری دریا میں سے نکالی ، اسے اپنے تھیلے میں بند کر دیا اور مترنم آواز میں گانا شروع کر دیا۔


ہرا سمندر گوبی چندر
بول میری مچھلی کتنا پانی
مجھے یوں لگا جیسے یہ گیت میرے علاوہ کسی نے نہیں سنا حتیٰ کہ اس جنگل میں مجھے اس کی بازگشت بھی سنائی نہ دی، میں نے ایک بار پھر اپنا سارا ترنم یکجا کیا اور آواز میں سوز پیدا کرتے ہوئے کہا
ہرا سمندر گوبی چندر
بول میری مچھلی کتنا پانی
مگر اس بار بھی دریا میں مکمل خاموشی تھی۔

تیسری بار میری آواز میں واقعی درد کا عنصر شامل ہو گیا اور یہ دردو غم احساس شکست کی وجہ سے پیدا ہوا تھا چنانچہ جب میں نے اس دفعہ
ہرا سمندر گوبی چندر
بول میری مچھلی کتنا پانی
کہا تو میری آنکھوں میں آنسو بھی تھے۔ اتنے میں میں نے دیکھا کہ ایک ساتھ بہت سی مچھلیاں دریا کی سطح پر نمودار ہوئیں، انہوں نے کچھ دیر کیلئے غور سے میری طرف دیکھا، اور پھر انہوں نے ”کورس“ میں ہنسنا شروع کر دیا۔

جب وہ ایک دوسرے کے ساتھ ہاتھ پر ہاتھ مار کر ہنس چکیں تو ان میں سے ایک مچھلی نے پھدک کر ساحل کے قریب آتے ہوئے کہا ”یہ تم کیا بے معنی سا گیت گا رہے ہو، تمہاری اطلاع کے لئے عرض ہے کہ یہ سمندر نہیں دریا ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ یہ ہرا نہیں ہے، تم اس قسم کے رجعت پسندانہ سلوگنز سے اب ہمیں دھوکہ نہیں دے سکتے“ اس کے ساتھ ہی اس مچھلی نے حلق کی پوری قوت سے
”سیکولر، سیکولر، پاکستان پاکستان“
کے نعرے لگانے شروع کر دیئے۔

میں نے اس مچھلی سے کہا ”میں نے تمہاری بات سن لی ہے لیکن اگر تم میری بات بھی سن لو تو شاید ہم کسی نتیجے پر پہنچ جائیں“ پیشتر اس کے کہ یہ مچھلی کوئی جواب دیتی، ایک اور مچھلی نے پھدک کر پانی سے اپنا سر باہر نکالا اور کہا ”تمہارے قول اور فعل میں تضاد ہے ایک طرف تم ” ہرا سمندر“ کہہ کر ہمیں امن اور سلامتی کا تصور دے رہے ہو، مگر دوسری طرف تم ہمیں شکار کرنے کیلئے کنڈی بھی دریا میں ڈالتے ہواور پھر اس کے ساتھ ہی اس نے
المدد المدد یا خدا یا خدا
کے نعرے لگانے شروع کر دیئے۔

میں نے اپنے غصے پر قابو پاتے ہوئے اس مچھلی سے کہا ”میں نے تمہاری بات بھی سن لی ہے لیکن اگر تم میری بات بھی سن لو، تو شاید ہم کسی نتیجے پر پہنچ جائیں“ مگر اس نے پانی میں غوطہ لگایا اور دریا کی تہہ میں چلی گئی اور اس کے ساتھ ہی دوسری مچھلیاں بھی غوطہ مار کر نظروں سے غائب ہو گئیں۔
اب میرے لئے اس کے سوا اور کوئی چارہ نہیں رہ گیا تھا کہ میں ان نافرمان مچھلیوں کو ان کے کئے کی پوری سزا دیتا چنانچہ میں نے کنڈی تو تھیلے میں رہنے دی اور اس کی جگہ ایک بڑا سا جال نکال کر دریا میں پھینک دیا اور ایک دفعہ پھر سگریٹ سلگا کر مچھلیوں کے پھنسنے کا انتظار کرنے لگا۔

کچھ دیر بعد مجھے احساس ہوا کہ دریا میں سے کھسر پھسر کی آوازیں آ رہی ہیں اور پھر یہ آوازیں بلند ہوتی چلی گئیں مگر پھر رفتہ رفتہ یہ آوازیں مدھم ہونا شروع ہوئیں حتیٰ کہ دریا میں مکمل خاموشی چھا گئی ۔ مجھے یوں محسوس ہوا جیسے ہر طرف سناٹوں کا راج ہے۔ مجھے ان سناٹوں سے خوف آنے لگا، اتنے میں جال میں حرکت ہوئی، میرا چہرہ خوشی سے دمک اٹھا، میں نے فوراً پوری قوت سے جال کو اپنی طرف کھینچنے کی کوشش کی مگر میں نے محسوس کیا کہ جال کے دوسری طرف کوئی مجھے کھینچ رہا ہے۔

میں نے ایک دفعہ پھر اپنی ساری قوتیں مجتمع کیں مگر میرے پاؤں زمین پر سے اکھڑ رہے تھے، پیشتر اس کے کہ میں ایک جھٹکے کے ساتھ دریا میں جا گرتا، لاکھوں مچھلیاں سطح آب پر نمودار ہوئیں اور انہوں نے بیک آواز کہا ”تم اگر اپنی اور ہم سب کی سلامتی چاہتے ہو تو جال کا یہ سرا جو تمہارے ہاتھ میں ہے فوراً چھوڑ دو! میں نے اپنی انا کو مجروح ہونے سے بچانے کے لئے اپنے لہجے میں خوداعتمادی پیدا کرتے ہوئے کہا ”یہ نہیں ہو سکتا“ ان بے شمار مچھلیوں میں سے ایک مچھلی پانی پر سے پھدک کر ساحل کے قریب پہنچی اور کہا ”میں ان لاکھوں مچھلیوں کی طرف سے جو اس وقت سطح آب پر میرے ساتھ ہیں، تم سے ہاتھ جوڑ کر التماس کرتی ہوں
تم لوگ طرح طرح کے جال پھیلانا چھوڑ دو اس میں تمہاری اور ہم سب کی سلامتی ہے! “مجھے اس مچھلی کے لہجے میں ایک عجیب سا اضطراب نظر آیا، میں نے پوری قوت سے زمین پر اپنے قدم گاڑنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا ”یہ تم بار بار میری اور اپنی سلامتی کا مشترکہ ذکر کیوں کر رہی ہو؟ اس پر اس مچھلی نے مزید مضطرب انداز میں کہا ”باتوں کیلئے وقت بہت کم رہ گیا ہے تم وہی کرو جو میں کہہ رہی ہوں کیونکہ جال کے اس طرف تم اور جال کے دوسری طرف اس دریا کا سب سے بڑا مگرمچھ ہے، ہم میں سے کچھ نادان مچھلیوں نے اس کی مدد طلب کی ہے مگر یہ نہیں جانتیں کہ یہ مگر مچھ جوان کا غم خوار بن کر انہیں اپنے قریب لانے میں کامیاب ہوا ہے تم سے نجات دلانے کے بعد یہ ہم سب کو کھا جائے گا۔

دریا کے دوسرے کنارے کی مچھلیوں کو اس مگرمچھ کا تجربہ ہو چکا ہے اور ہم نہیں چاہتیں کہ ہر تجربہ اس کنارے پر بھی دہرایا جائے“۔ یہ سن کر مجھے یوں محسوس ہوا جیسے جال پر میری گرفت کمزور ہو رہی ہے اور پھر میں نے اپنے ہاتھ ڈھیلے چھوڑ دیئے۔ ایک بار یوں لگا جیسے دریا میں زلزلہ آ گیا ہو، پانی کی تند و تیز موجیں ساحل سے اپنا سر ٹکرانے لگیں اور پانی ساحل سے باہر بہنے لگا، دریا میں طوفان سا آ گیا تھا ، مگر کچھ ہی دیر بعد اس طوفان میں کمی آ گئی۔

لہریں پرسکون ہونا شروع ہوئیں اور پھر دریا پوری نغمگی کے ساتھ بہنے لگا، میں نے مچھلیاں شکار کرنے والا تھیلا دریا میں پھینکا اور پھر واپس مڑتے ہوئے ایک دفعہ ہولے سے کہا
ہرا سمندر گوبی چندر
بول میری مچھلی کتنا پانی
اس پر لاکھوں کروڑوں مچھلیاں ایک بار پھر سطح آب پر نمودار ہوئیں اور انہوں نے خوشی سے بھری ہوئی آواز میں اپنے ہاتھوں کو پھیلاتے ہوئے کہا ”اتنا پانی!“

Your Thoughts and Comments