Brown Parents

براون پیرنٹس

عائشہ احمد جمعہ جون

Brown Parents
دنیا کی سب سے کمپلیکیٹڈ چیز ہمارے یہ براون پیرنٹس ہوتے ہیں۔
میں ۲۳ سال کی ہوں اور اس عمر تک پہنچتے پہنچتے سب زندگی کے دو بڑے مراحل سے گزرتے ہیں۔ ایک ہے پروفیشن چوس کرنا اور دوسرا ہے شادی کے لیے پارٹنر چوس کرنا، جو کہ لازم ہے کہ ماں باپ کی مرضی کا ہو ورنہ جہنم میں ایک پلاٹ تو آپ کا پکا ہے۔
میں ایک فارماسسٹ ہوں لیکن ۸۰% پاکستانی بچوں کی طرح خوشی سے نہیں ہوں۔

بچپن ہی سے دماغ میں یہی ڈال دیا گیا تھا کہ ڈاکٹر بننا ہے کیونکہ ڈاکٹر، انجینئر یا زیادہ سے زیادہ وکیل بننے کے علاوہ پاکستانی بچوں کے پاس کوئی اور دوسرا اوپشن نہیں ہوتا۔ سیڈلی انف !!!! اور آڑٹس والوں پر تو خصوصی لعنت ہے۔
خیر پرسنٹیج نا آنے پر ہمارا کسی میڈیکل کالج میں تو آڈمیشن نہیں ہوا لیکن ہاں روتے دھوتے فارم ڈی کرنے کے لیے ہم کراچی یونیورسٹی پہنچ گئے اور پہنچتے ہی احساس ہوا کہ آو!  یہ تو میرا پیشن ہی نہیں ہے۔

(جاری ہے)

مگر اب اور کیا ہو سکتا تھا اس لیے "آگئے ہیں تو کر ہی لینگیں " کے چکر میں پورے ۵ سال گزار دئیے۔ اور جب ماں باپ سے اپنے شوق کا ذکر کیا (جسے انگریزی میں آموشنل ہوکر پیشن کہتے ہیں ) تو ایک ہی جواب ملا کہ "یہ ڈرامے چھوڑو! سیدھے سیدھے نوکری کرنا"۔
لیکن یہ براون پیرنٹس اور ان کے دہرے معیار ، آجکل ہر کسی سے کہتے پھرتے ہیں کہ "ہم نے بچوں کو ان کی مرضی کرنے دی"۔

جو لوگ میرے ماں باپ کو نہیں جانتے انکو میں بتاتی چلوں کہ میرے دونوں والدین ڈاکٹر ہیں اور والدہ میں تو خاص قسم کی female آلفا ولف والی خصوصیات بھی پائی جاتی ہیں اس لیے ان کا کہا پتھر پر لکیر ہے اور حکم نہ ماننے کی سزا سر قلم ہے۔
ابا حضور کا یہاں خاص ذکر کرنا ضروری ہے کیونکہ وہ ہم جیسے بلکل نہیں ہیں۔ پاکستان کے دیگر باپوں کی طرح انھوں نے اسکول تک کا سفر پیدل کیا ہے (بس شاید ان کے گھر تک نہیں آتی تھی!) ، دو آنے میں ان کا لنچ بریک ہوجایا کرتا تھا(پاکستان کی معیشیت وقت کے ساتھ بدلی ہے لیکن یہ بات ٹاپ سیکریٹ ہے ،ہمارے معصوم ابا اس بات سے واقف نہیں) اور رات میں ہماری دادی جان ، جو کہ دنیا کی سب سے معصوم خاتون تھیں، وہ ابا سمیت باقی ساری فوج کو سبزی ہی کھلاتی تھیں (برگر ۱۹۰۰ میں امریکہ میں اور پیزہ ۱۷۳۸ میں اٹلی میں پہلی بار بنایا گیا لیکن ہمارے معصوم ابا یہی سمجھتے ہیں یہ ایجاد ان کی اپنی اولاد کی ہے)۔

فیئر انف !!!!

بس اس ہی لیے ہمیں عادت نہ ہوئی۔۔۔۔ نہ پیدل چلنے کی، نہ ایک آنے میں گزارہ کرنے کی اور تیسری بات اس لیے پوری نہیں ہوئی کیونکہ دادی نے کہا کہ "ماں تمھاری تیز ہے"۔ اور تیز عورتیں بچوں کو صرف سبزی نہیں کھلاتی، اس کے لیے معصومیت فرض ہے۔
بہرحال فارم ڈی کی ڈگری پوری کرنے کے بعد میرے براون پیرنٹس کا ایک ہی رونا ہوتا تھا کہ اولاد نے نام روشن نہیں کیا! ڈاکٹر بنتی تو اچھا تھا۔

دنیا بھر سے لڑنے کے بعد کہ فادم ڈی آڈوانس کورس ہے، یہ کرنے کہ بعد نام کے پیچھے Dr. لگتا ہے اتنی ہمت نہیں تھی کہ ماں باپ سے بھی لڑتے اس لیے خاموشی سے یہ الزام سہ گئے۔
میں کیونکہ ایک پاکستانی لڑکی ہوں اس لیے میرا اینڈ "شادی" ہے اور یہی سوچ کر میرے ماں باپ نے اپنے دل کو تسلی دیدی کہ کوئی بات نہیں ڈاکٹر نہیں بنی تو کیا ہوا شادی ہوجائے بس۔

Hilariously cruel enough!!!!
اصل مسلئہ ہوا میرے سب سے چھوٹے بھائی کو۔
میری medically compromised فیلڈ کو قبول کرلیا گیا۔ دوسرا بھائی جو کہ معجزاتی طور پر ذہین اور قابل طلبہ تھا اسکی انجینئریگ فلیڈ کو بھی ایک بڑی دعاوت کے ساتھ خوشی خوشی منایا گیا لیکن کامرس !!
ڈاکٹر ہونے کہ باوجود بھی میرے براون پیرنٹس اس فلیڈ کو کیوں نہیں مانتے یہ آج تک کوئی نہیں جانتا۔

کئی مہینے لگے ،کافی ڈرامہ ہوا اور آخرکار ہم دونوں بڑے بہن بھائی نے اپنا فرض پورا کیا اور چھوٹے میاں کو زور زبردستی سے اس کی پسند کی فیلڈ دیلوادی  لیکن اس کا ایک پلاٹ جہنم میں پکا ہے یہ ہم سب کو پتا ہے۔
ماں باپ چاہے دیسی ہوں یا ودیسی ان کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ اللہ نے آپ کو ایک بہتر انسان پروارش کرنے کی ذمہ داری دی ہے نہ کہ ان کی پسند کو اور خواہشات کو ختم کرنے کی۔

سانس لینا ہر بچے کا حق ہے اور اسے یہ آزادی دینی چاہیے۔ اسے سہی غلط ضرور بتائیں لیکن اپنا فیصلہ اس پر مسلط نہ کریں ، اسے خدا سے نہ ڈرائیں۔ اللہ کسی کو بھی اس بات پر سزا نہیں دیگا کہ وہ اپنے ماں باپ کے خلاف جاکر ایک آرٹسٹ بنا ۔ اللہ اس بات پر بھی سزا نہیں دیگا کہ اس نے اپنی پسند سے شادی کی۔ جنت تک کا راستہ ایک دوسرے کے لیے آسان بنائیے  اور ایک دوسرے سے راضی رہئیے تاکہ جہنم کا دروازہ بند ہی رہے۔
میرے براون پیرنٹس نے میرے بھائی کے ساتھ کیا کیا یہ جاننے کے لیے دوسرے حصے کا انتظار کیجئے۔

Your Thoughts and Comments