Burho Ki Conference

بوڑھوں کی کانفرنس

پیر مارچ

Burho Ki Conference

دفترسے واپس آرہا تھا کہ راستہ میں رکشہ، ٹم ٹم اور فٹن پر رنگ برنگ کے بوڑھے حضرات کو جوق مراد پور کی طرف جاتے دیکھ کر میں نے ایک بزرگ سے پوچھا ’’جناب عالی! غالباً آپ صاحبان کسی کے جنازے میں شرکت کے لئے تشریف لے جارہے ہیں۔

(جاری ہے)

’’

انہوں نے مجھے گھورتے ہوئے جواب دیا—‘‘جی نہیں، ہم لوگ بوڑھوں کی کانفرنس میں شرکت کے لئے جارہے ہیں۔

’’

یہ کہہ کر وہ اس تیزی سے آگے بڑھ گئے کہ میں مزید تحقیق نہ کرسکا۔

میں نے قیاس کر لیا کہ تبلیغ یا سیرت قسم کا جلسہ ہونے جارہا ہوگا۔

اس لیے میں بھی مراد پور کی طرف چل پڑا۔ ابھی دور ہی تھا کہ انجمن اسلامیہ ہال کے پھاٹک پر جلی حرفوں میں لکھا نظر آیا ‘‘بوڑھوں کی کانفرنس’’۔

میں نے کہا ‘‘الٰہی توبہ! کیا اب یہ بوڑھے بھی اپنی کانفرنس بلانے لگے۔

’’

انجمن اسلامیہ ہال کے پھاٹک پر چند بوڑھے کھڑے تھے اور کچھ عصائے پیری لئے ہوئے ادھر ادھر چہل قدمی کررہے تھے۔

میں نے یہ اطمینان تمام، شیروانی کے جیب میں ہاتھ ڈالے پھاٹک کے اندر قدم رکھنا چاہا، تو ایک بزرگ نے میری گردن ناپی اور دوسرے بڑے میاں نے اس بیدردی سے میری شیروانی کا دامن پکڑ کر کھینچا کہ ‘چر’ سے آواز آئی—میں تڑپ اٹھا— ‘‘اجی حضرت! یہ کیا مذاق ہے آپ کا۔

دیکھئے تو میری شیروانی کی کیا گت بنی۔’’

بوڑھے میاں آنکھوں سے شعلے برساتے ہوئے گرجے:‘‘اندھے تو نہیں ہو تم۔

’’’اندھا’۔ میں نے دہرایا۔ ‘مگر حضور میری آنکھیں بفضلہ سلامت ہیں۔

بخدا میں آپ کو دیکھ رہا ہوں۔’’

بوڑھے میاں غرائے ‘‘اندھے نہیں ہو تو ہماری کانفرنس میں دھنسے کیوں پڑتے ہو۔

جب یہ معلوم ہے کہ اس کانفرنس میں نوجوانوں کی شرکت پر پابندی ہے۔

انہیں کسی حال میں اندر جانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ورنہ مجھے اس طرح پھاٹک پر پہرا دینے کی کیا ضرورت تھی۔

اچھا...... یہ آپ الٹا مجھے آنکھیں دکھلا رہے ہیں۔ بلواؤں کیا سکریٹری صاحب کو۔

’’

میں نے عرض کیا ‘‘خدا شاہد ہے حضور، مجھے قطعی اس کی اطلاع نہ تھی کہ بوڑھوں کی کانفرنس میں نوجوانوں شریک نہیں ہوسکتے۔

ورنہ میں کبھی ایسی جرأت سے کام نہ لیتا لہٰذا میں یقین دلاتا ہوں کہ کانفرنس میں شرکت کا خیال تو درکنار اس طرف نظر اٹھا کر بھی نہ دیکھوں گا۔

’’

ان بوڑھوں سے اپنی جان سلامت لے کر نکل آیا لیکن دل میں ایک طرح کی بے چینی تھی کہ طرح بوڑھوں کی کانفرنس کی کاروائی اپنی آنکھوں سے دیکھوں۔

کیونکہ ‘‘بوڑھوں کی کانفرنس’’اپنی نوعیت کی ایک عجیب کانفرنس تھی۔

اس پر طرہ یہ کہ نوجوانوں کی شرکت پر پابندی۔

سوچتے سوچتے ایک تکیب ذہن میں آئی۔

بازار جاکر مصنوعی مونچھ اور داڑھی میں نے خریدی اور اسے لگائے ہوئے شیروانی تبدیل کرنے کے لئے گھر آیا۔

صحن میں قدم رکھا ہی تھا کہ بہنیں چیخ مار کر بھاگنے لگیں اورلطف یہ کہ میں ان کے پیچھے دوڑ رہا ہوں اس خیال کے تحت کے انہیں بیٹھے بیٹھائے یہ کیا ہوگیا۔

نتیجہ ظاہر ہے کہ ان کی چیخ پکار اور بھاگ دوڑ میں اور اضافہ ہوگیا۔

تب کہیں مجھے اپنی مصنوعی داڑھی اور مونچھ کا خیال آیا اور میں نے چھٹ انہیں الگ کیا۔

اس واقعہ سے کم از کم اتنی تسلی ضرور ہوئی کہ میں اپنی صورت تبدیل کرنے میں کامیاب رہا۔

میں نے ایک عصا لیا اور تسبیح ہزار دانہ ہاتھوں میں لٹکائے رکشہ پر سوار انجمن اسلامیہ ہال کے پھاٹک پر پہنچا اور عصا کے سہارے بہ مشکل رکشہ سے اتر کر اس انداز سے آہستہ آہستہ چلنے لگا میں کسی خانقاہ کا سجادہ نشین ہوں۔

لیجئے! وہی جلاد قسم کےبوڑھے، جنہوں نے میری شیروانی کی گت بنائی تھی، مجھے دیکھتے ہی بڑے تپاک سے میرا خیر مقدم کرتے ہوئے بولے ‘‘جزاک اللہ! تشریف لائیے شاہ صاحب۔

’’

مجھے ہنسی تو ضرور آئی لیکن تسبیح کے دانوں پر جلدی جلدی ہاتھ پھیرتا ہوا ہال کے اندر داخل ہوگیا۔

پنڈال میں پہنچ کر میں نے نگاہ دوڑائی تو اللہ کی پناہ! بوڑھوں کا ایک سیلاب ٹھاٹھیں مار رہا تھا۔

ایک سے ایک سن رسیدہ، ریش دراز، ریش مخضب اور ریش حنائی وغیرہ وغیرہ۔

مقررہ وقت سے ایک گھنٹہ بعد کانفرنس کی افتتاح کے لئے ایک بوڑھے میاں بہ مشکل اٹھ کر کھڑے ہوئے تھے کہ لڑکھڑا کر گر پڑے۔

دو آدمیوں نے سہارا دیا تب کہیں انہوں نے کلام مجید کی ایک سورۃ تلاوت فرما کر کانفرنس کی افتتاح کی۔

اس کے بعد ایک جوشیلے بوڑھے نےایک نظم پڑھی۔ مگر ایسی مکروہ آواز سے کہ یہی معلوم ہوتا تھا کہ فشار قبر کی تکلیف سے کوئی مردہ چیخ رہا ہے۔

نظم کا ایک شعر مجھے یادہ ہے ؎

اٹھ اور ذرا ہمت مردانہ دکھادے

بوڑھے نہیں ڈرتے ہیں کسی سے یہ بتادے

بعدہٗ صدر کا انتخاب عمل میں آیا اور حضرت‘‘بلائے بے درماں’’ بہ اتفاق رائے صدر منتخب ہوئے۔

کرسی صدارت پر جلوہ فگن ہوتے ہی انہوں نے کہا ‘‘بھائیو! مجھ ذرۂ ناچیز کو جو شرف امتیاز بخشا گیا ہے اس کا میں کسی طرح اہل نہیں۔

لیکن مشکل یہ درپیش ہے کہ مجھ میں جرأت انکار نہیں اور نہ مجھے یہ گوارا ہے کہ میری ذات سے کسی کی دل شکنی ہو۔

لہذا صدارت کا یہ بارگراں مجھے اپنے دوش ناتواں پر اٹھانا ہی پڑے گا........ لیکن گستاخی معاف، میں بہت دیر سے اجابت کی خلش محسوس کر رہا تھا اور پیٹ میں کچھ مروڑ بھی....... اگر آپ حضرات میری تھوڑی دیر کی غیر حاضری نظر انداز فرمائیں تو میں بیت الخلاء سے ہو آؤں...... جی ہاں، حاجت ضروری سے فارغ ہوتے ہی جلسے کی کاروائی زور و شور سے شروع کردوں گا....... ہاں، میری ایک گذارش یہ ہے کہ آپ حضرات تھوڑا تھوڑا اور آگے بڑھ آئیں تاکہ پیچھے والے معزز حاضرین اور ڈیلیگیٹس کو بھی بیٹھنے کا موقع مل جائے۔

’’

جناب صدر بیت الخلاء سے فارغ ہو کر اور وضو بنا کر آدھ گھنٹے کے بعد تشریف لائے، لیکن مائک کے سامنے کھڑے ہوتے ہی ان کو کھانسی اٹھی۔

جناب صدر کا کھانسنا تھا کہ دوسرے بوڑھوں کو بھی اپنی کھانسی یاد آگئی۔

اب کیا تھا پورے پنڈال کے بوڑھے کھانستے کھانستے بے دم ہو گئے۔

جب قدرے سکون ہوا تو جناب صدر کے بار بار پکارنے پر ایک بڑے میاں ‘‘حضرت ستارۂ آسمانی’’جو دری کا کونہ الٹ کر تھوک اور بلغم جمع کرنے میں منہمک تھے، رومال سے منہ پوچھتے ہوئے تقریر کرنے کے لئے کھڑے ہوئے اور بولے:

‘‘جناب صدر، میرے بوڑھے ساتھیو اور معزز حاضرین! معاف کیجئے گا، میں ذرا شکی طبیعت کا واقع ہوا ہوں۔

لہٰذا صرف دفع شک کے لئے یہ درخواست کروں گا کہ اس کا نفرنس کی اہمیت کے پیش نظر آپ صاحبان پورے پنڈال پرایک طائرانہ نگاہ ڈال کراطمینان کرلیں کہ آیا ہماری کانفرنس کی کاروائی سننے یا دیکھنے کے لئے کوئی نوجوان تو ہم میں نہیں آملا ہے۔

کیونکہ یہ نوجوان طبقہ ہم بوڑھوں کو جل دینے میں اس قدر ماہر ہے کہ کم ازکم میں ان سے پناہ مانگتا ہوں.......... تو حضرات جبکہ یہ یقین ہوگیا کہ اس کانفرنس میں ہماری قوم کے معصوم لوگ ہیں، تواب میں اپنی تقریربلا کسی خوف و خطر کے شروع کرتا ہوں۔

’’

‘‘امابعد— اس

Your Thoughts and Comments