Chup Na Rehna

چپ نہ رہنا

منگل اکتوبر

Chup Na Rehna
 اعتبارساجد
کچھ لوگ ایک لمحے کے لئے بھی چپ نہیں رہ سکتے ۔ بولتے رہتے ہیں ضرورت ہو یا نہ ہوبولیں گے ضرور آپ کوئی خط لکھ رہے ہیں کوئی ضروری کام کررہے ہیں کچھ دماغی سکون اور یکسوئی چاہتے ہیں ۔ مگر وہ بار بار اپنی موجودگی کا احساس دلاتے جائیں گے مثلاً آپ اگر انتہائی یکسوئی اور توجہ کے ساتھ کچھ لکھ رہے ہیں تو وہ لہک کر انتہائی گر مجوشی سے قریب آجائیں گے ” اخاہ “ ․․․․․ ماشاء اللہ بڑا انہماک ہے صاحب ․․․․ لکھ رہے ہیں سبحان اللہ ․․․․․ بھلا ہم بھی تو دیکھیں کیا لکھ رہے ہیں ․․․․․ “ ایک خط لکھ رہاہوں بڑاضروری ہے۔

“ آپ جلدی سے ان کی بات کا جواب دے کر پھر تیزی سے لکھنے لگتے ہیں تاکہ فقرہ ذہن سے نہ نکل جائے ۔ مگر بات یہیں ختم نہیں ہوتی وہ بڑی اپنائیت بڑی رازداری کے ساتھ آپ کے مزید قریب آجاتے ہیں ۔

(جاری ہے)

سرگوشی میں پوچھتے ہیں ” کس کو لکھ رہے ہیں خط “ ایک دوست ہیں ۔ آپ لکھتے لکھتے سرسری سا جواب دیتے ہیں ۔
” واسطی صاحب ۔؟ وہ اچانک آپ کے دوستوں کے نام گنوانے لگتے ہیں ۔


” جی نہیں ۔ “ آپ انکار میں سرہلاتے ہیں ۔
”وارثی صاحب۔؟“
”جی نہیں۔“آپ لکھتے لکھتے سر سری جواب دیتے ہیں۔
” انجم صاحب ۔“ وہ مزید قریب آجاتے ہیں۔” نہیں بھائی۔ “ آپ نہیں پرزوردے کربڑی بیزاری سے بھائی کہتے ہیں ۔
” تو پھرکون ہے وہ خوش نصیب ․․․․․․“
وہ آپ کے کندھے پر ہاتھ رکھ دیتے ہیں صرف ہاتھ ہی نہیں باقاعدہ کندھا بھی ہلاتے ہیں ۔

اس طرح کہ قلم چلنے نہ پائے ، چلے تو فقرہ نہ لکھے ۔ لکیر کھینچے اور وہ بھی ٹیڑھی مجبوراً آپ کو بتانا پڑتا ہے کہ یہ خط آپ اعظم صاحب یا اکرم صاحب یا اسلم صاحب کو لکھ رہے ہیں ۔ اور ارجنٹ ڈاک سے پوسٹ کرنا چاہتے ہیں۔ اور وقت کم ہے ۔
وہ آپ کی جان نہیں چھوڑتے حیران ہوکر پوچھتے ہیں ۔ یہ کون صاحب ہیں ۔ ؟ “
” ایک دوست ہیں ۔ “ آپ بیزاری سے کہتے ہیں ۔

اب وہ باقاعدہ بحث مباحثے پرتل جاتے ہیں کہتے ہیں۔
” بھئی یہ تو صاف بات ہے کہ آپ جسے بھی خط لکھ رہے ہیں وہ آپ کا دوست ہے دوست نہ ہوتا تو آپ خط کیوں لکھتے ۔ کیونکہ یہ تو بالکل واضح ہے کہ دشمنوں کے نام خط نہیں لکھا جا سکتا ۔ مگر میں یہ جانتا چاہتا ہوں کہ وہ کون سادوست ہے جسے میں نہیں جانتا “
آپ الجھ کر کہتے ہیں ” بھئی ضروری تو نہیں کہ آپ میرے تمام دوستوں سے واقف ہوں یہ بھی انہی میں سے ایک ہیں ۔

جنہیں آپ نہیں جانتے ۔ وہ بات ختم کرنے کی بجائے مزید حیران ہوکر سلسلہ گفتگو جاری رکھتے ہیں ۔
” کمال ہے صاحب حد ہوگئی ۔ آپ کا دوست اور ہم ناواقف ۔ نہیں صاحب ۔ آپ انصاف سے کام نہیں لے رہے ضرور ان صاحب سے ہماری کوئی نہ کوئی واقفیت ہوگی ۔ آپ ذراً ذہن پرزور ڈالیئے ۔ یہ بتائیں وہ رہتے کہاں ہیں سٹیلائٹ ٹاؤن میں یا گارڈن ایونیو میں۔ “
ظاہر ہے اب اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ آپ قلم ہاتھ سے رکھ دیں اور ان کی طرف متوجہ ہوجائیں لہٰذا آپ یہی کرتے ہیں تب وہ خوشی سے سرشار ہوجاتے ہیں اور بڑی ہی اپنائیت سے آپ کے کندھے تھپتھپا کرکہتے ہیں۔

یہ ہوئی ناں بات ۔ بھلایہ کیا کہ ہم آپ سے ملنے آئیں اور آپ توجہ ہی نہ دیں ہاں تو ذکر تھا اکرم صاحب کا․․․․․․ اعظم صاحب کا یااسلم صاحب کام ․․․․․․ تو میں کہنا چاہتا تھا کہ یہ کام کیا کرتے ہیں اور رہتے کہاں ہیں ۔ کیوں نہ ہم ان سے آج جاکرملیں وہ شعر ہے ناں کسی شاعرکا
آدمی آدمی سے ملتا ہے
دل مگر کم کسی سے ملتا ہے
تو بھئی ۔ بے شک دل سے دل نہ ملے مگر آدمی سے آدمی تو ملے۔

میل جول تو رہنا چاہیے ایسی بھی کیا دوری ؟ ہاں تو کیا خیال ہے چلیں ان کی طرف ․․․․․“
کبھی اگر آپ کا سونے کا موڈ ہوتو اور ان کا حسب عادت باتیں کرنے کاتو نہ آپ کو سونے دیں گے نہ باتیں کریں گے ۔ عموماً چھیڑ خانی اس طرح کریں گے ۔
” ارے ۔ کمال ہے ؟ ساڑھے گیارہ بجے ہی آپ کو نیند آنے لگی ۔ اتنی جلدی۔ بھئی یہ بات غلط ہے ۔ “یہ کہہ کر آپ کے قریب آجائیں گے کندھا جھنجوڑ کر جگائیں گے ۔

“جب آپ آنکھیں ملتے ہوئے اٹھیں گے تو انتہائی افسوس کے ساتھ معذرت کریں گے ۔
” اوہ ․․․․․․ سورہے تھے ․․․․․․ واقعی ․․․․․ کمال ہے ․․․․․․ حد ہوگئی ہے ․․․․․․ بہت افسوس ہے آپ کو جگادیا ․․․․․ڈسٹرب کر دیا۔پتہ نہیں کتنی گہری نیند ہوگی․․․․․ہائے ․․․․افسوس․․․․․ویری سوری․․․․․․․ رئیلی آئی ایم ویری سوری سو جائیے ․․․․․ اچھا سو جائیے ۔


آپ سونے کی کوشش کرتے ہیں مگر انہیں اتنا ملال اور دکھ ہے آپ کی نیند خراب کرنے کا کہ وہ ٹلنے پر آمادہ نہیں معذرت کرتے ہیں بار بار اچھا خدا حافظ ، کہتے ہیں اور الٹے پیروں پھر آدھمکتے ہیں ۔ جواز یہی کہ انہیں بڑا دکھ ہے بہت ہی معذرت خواہ ہیں ۔
کچھ لوگ بولتے ہیں تو گھڑی کیامخاطب کا چہرہ بھی نہیں دیکھنا پسند کرتے خلاء میں گھورتے رہتے ہیں بولتے رہتے ، ہیں سامنے سے اڑتا ہوا کوا گزر جائے تو ․․․․․ موضوع بدل کر اسی کے بارے میں اظہار خیال یا اظہار، خیال فرمانے لگتے ہیں ۔

بکری، بلی یا بھینس گزر جائے تو جانوروں کے بارے میں اظہار خیال یا اظہار ملال شروع کردیں گے موضوع کچھ اور ہوگا۔ بات کچھ اور کریں گے ۔ کہیں ، کامہ، سیمی کولن یافل اسٹاپ استعمال نہیں کریں گے ۔ بولیں گے تو بولتے رہیں گے بول بول کرتھک جائیں گے تو اسی تھکن کو موضوع گفتگو بنا کر پھر بات شروع کردیں گے ۔
عموماًپہلی ملاقات میں بعض لوگ بات چیت کے معاملے میں بڑے محتاط ہوتے ہیں ۔

کوشش کرتے ہیں کہ زیادہ نہ بولیں مگر جہاں آپ نے ان کی کسی بات کی تائیدکی کسی اچھے فقرے پرداددی ذرا نرمی اور خوش اخلاقی سے سرہلایا کہ وہ رواں ہوگئے اب آپ ہیں کہ گھڑی دیکھ رہے ہیں اور وہ ہیں کہ کسی طرح آپ کی جان چھوڑنے پر آمادہ نہیں ۔ دراصل ایسے ہی لوگوں کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ وہ گھڑی دیکھ کر نہیں کیلنڈردیکھ کر بولتے ہیں گھنٹوں کے حساب سے نہیں دنوں ہفتوں اور مہینوں کے حساب سے بولتے ہیں چلیے ا چھا ہے گھڑی کا نہ سہی کیلنڈر کا لحاظ ہی سہی․․․․․ لحاظ تو کرتے ہیں ۔

Your Thoughts and Comments