Dar Dard Ya Dar

ڈر، درد یا ڈار

حسن نصیر سندھو جمعہ 3 اپریل 2020

Dar Dard Ya Dar
ڈار شخص با اصول ڈار شخص با ضمیر
اپنی ذات تک ذاتی مفاد تک
ہر محفل کا کوئی چاند ہوتا ہے کوئی ستارہ ہوتا ہے اور کوئی ڈار ہوتا ہے عموما ہم سب کا ایک ایسا دوست ضرور ہوتا ہے جس کے پاس پیسے ہوتے ہوئے بھی پیسے نہیں ہوتے اور وہی ڈار ہوتا ہے ہماری محفل میں بھی ایک  ڈار ہیں۔ ڈار صاحب کی قدر میں باقی دوستوں میں سے اس لیے بھی زیادہ کرتا ہوں کہ وہ عموما اوچھی حرکتیں کرکے معصوم بن جاتے ہیں اور یہ بہت بڑا ٹیلنٹ ہے جو عموما سوتن یعنی کی دوسری بیوی میں پایا جاتا ہے کیونکہ فرشتے بھی معصوم ہوتے ہیں تو ڈاکٹر صاحب اپنے آپ کو انسان نہیں سمجھتے فرشتہ سمجھتے ہیں ان کے کام بھی فرشتوں جیسے ہیں یعنی دوسروں کے گناہوں اور برائیوں کا حساب رکھنا۔


ڈار صاحب میں ایک خوبی اور ہے کہ وہ ہر چیز کے آداب فٹافٹ سیکھ جاتے ہیں۔

(جاری ہے)

مگر محفل میں کھانے کے آداب جو انہیں آتے ہیں وہ بڑے بڑے پہلوانوں اور گوجرانوالہ کے بٹ صاحبان کو بھی نہیں آتے عموما معدہ خراب کی شکایت منہ پر سجائے رکھتے ہیں اور جتنا 8دوست مل کر کھاتے ہیں اتنا وہ اور ان کا معدہ خوراک پر ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ سیکھنے سے یاد آیا انسان کو بولنا سیکھنے میں دو سال لگتے ہیں لیکن ڈار صاحب کو کون سا لفظ کہاں بولنا ہے یہ یہاں تو انھوں نے سیکھا ہی نہیں یا شروع سے سیکھنا ہی بھول گئے۔


ڈار صاحب کافی سوشل آدمی ہیں ہیں ان کا اپنے رشتے داروں اور دوستوں کے ساتھ کافی اٹھنا بیٹھنا ہے جب وہ بیٹھتے ہیں تو دوست اٹھ کے چلے جاتے ہیں اور جب رشتےدار بیٹھتے ہیں تو وہ اٹھ کے چلے جاتے ہیں ویسے آج کل وہ اپنی بیوی کے گڈوںگٹووں میں بیٹھے ہوئے ہیں۔
ڈار صاحب لڑکیوں کے معاملے میں کافی لطیف حس رکھتے ہیں بقول ڈاڑ صاحب جگہ کے بغیر محبت ادھوری رہتی ہے ایک دفع دونوں میاں بیوی آرٹ گیلری میں چلے گئے وہاں ایک پینٹنگ دیکھنا شروع کر دی جس میں لڑکی کے جسم پر  صرف درخت کے پتے تھے جناب غور سے گھور گھور کر دیکھنے لگ پڑے پاس کھڑی ان کی بیوی جل کر بولی اب آگے چلیں یا ہوا چلنے کا انتظار کرو گے۔

ڈار ایک بہادر شخصیت کا نام ہے پر جتنا مرضی بہادر ہو اپنا موبائل بیوی اور دوست کے ہاتھ میں دیکھ کر اس کا "تراہ" ضرور نکل جاتا ہے۔
     ڈار صاحب کے پاس اللہ کا دیا سب کچھ ہے پر انہیں ایک بات کی بڑی حسرت ہے جو پوری نہیں ہوئی کہ ان کو آج تک کسی نے نہیں کہا کہ ڈار صاحب آپ اچھے آدمی ہیں یہ لفظ ڈار صاحب اپنی زندگی میں تو سننے سے رہے ہمارا خیال ہے یہ الفاظ سننے کے لیے انہیں مر نا پڑے گا۔


ڈار صاحب, صاحب صحت ہیں مگر ایک بیماری کی شکایت انہیں اکثر رہتی ہے اس کے علاج کے لیے ڈار صاحب ڈاکٹر کے پاس گئے گے ڈاکٹر نے پوچھا آپ کو تکلیف کیا ہے ؟ ڈار نے لجہایت بھرے لہجے میں کہا۔ پہلے آپ وعدہ کریں میری تکلیف سن کر آپ ہنسے گے نہیں ڈاکٹر نے کہا ٹھیک ہے وعدہ کیا ڈار نے اپنی زبان دکھائی جو تقریبا دو گز  لمبی تھی۔ ڈاکٹر کو یہ دیکھ کر ہنسی آۓ ای ڈاک نے کہا ڈاکٹر صاحب آپ نے نہ ہنسنے کا وعدہ کیا تھا ڈاکٹر نے کہا اچھا سوری اب آپ اپنی تکلیف بتائیں ڈار نے معصومیت سے تکلیف بتائی ڈاکٹر صاحب میری زبان سکڑ گئی ہے۔


موصوف  نے بڑی تیاری کے بعد مقابلے کے امتحان دیے رزلٹ کے بعد دوستوں نے پوچھا تمہارا رزلٹ اتنا برا کیوں آیا ہے ڈار صاحب کا جواب سنہری حروف میں لکھنے کے قابل ہے کہتے ہیں اچھے لوگوں کے ساتھ ہمیشہ برا ہی ہوتا ہے۔ ہم بھی اک امتحان میں بیٹھے تھے مقابلہ تھا "شکی کنجوس" کی تعریف لکھیں لوگ گوگل سے جواب ڈھونڈتے رہ گئے میں نےجواب "ڈار" لکھ دیا۔


میرا دوستوں کو مشورہ ہے ہے ہے صبر اور شکر دونوں ہی کا بڑا درجہ ہے صبر مصیبت کو ختم کرتا ہے اور شکر نعمتوں کو بڑھاتا ہے اسلئے متاثرین ڈار!!! اگر ڈار گھر ہو تو شکر کرو اور اگر ہمارے درمیان ہو تو صبر کرو۔ آخر میں ایسے تمام دوست جو ڈار جیسے ہیں ان کے لئے یہ پیغام۔
نا غریب نوں ویکھ کے ہسیا کر
نا بری نظر نا ل تکیا کر
لوکان دے عیب لبھدا ایں فریدا
کدی اپنے اندر وی تکیا کر

Your Thoughts and Comments