Dinosaur

ڈائنا سور

جمعرات اپریل

 محمود نقوی
کہتے ہیں کہ سینکڑوں ہزار سال پہلے اس دھرتی پر آدم کے جنت سے اتارے جانے اور آدم زاد کے پیدا ہونے سے قبل یہاں ڈائنا سور رہا کرتے تھے۔طرح طرح کے ڈائنا سور،بڑے چھوٹے ،کچھ دو پیروں پر چلتے تھے اور کچھ چار پیروں پر اور کچھ دونوں طرح سے۔کچھ اتنے تیز دوڑتے تھے جیسے آج کی تیز رفتار گاڑیاں اور کچھ اتنے سست چلتے تھے جیسے ان کے گھٹنوں کا آپریشن ہو گیا ہو۔


ڈائنا سور165ملین برسوں تک بلا شرکت غیر ے اس زمین پر راج کرتے رہے،جہاں چاہتے گھومتے پھرتے ،جو چاہتے کھاتے پیتے۔پھر 65ملین برس پہلے نہ جانے کیا ہوا کہ ان کا خاتمہ ہو گیا۔انسٹی ٹیوٹ آف فزکس ،بھو نیشور کے پروفیسر افسر عباس کی تحقیق کے مطابق کوئی دُمدار ستارہ یا بڑا شہاب ثاقب اس دھرتی سے آٹکرایا۔یہ دھماکہ اس قدر زبردست تھا کہ ہر طرف اتھل پتھل ہو گئی ،جنگلوں میں آگ لگ گئی،یہ دھرتی جو ابھی تک ایک ہی قطعہ زمین تھی،ٹکڑے ٹکڑے ہو گئی،ملکوں اور سرحدں میں بٹ گئی اور پھر بٹتی ہی چلی گئی۔

(جاری ہے)

ڈائنا سوریہ کریہہ منظر برداشت نہ کر سکے۔
انھوں نے غالباً اجتماعی طور پر آتم ہتیا کرلی۔وہ شاید ہم سے زیادہ حساس تھے۔اس کے علاوہ بے چارے کر بھی کیا سکتے تھے،یہاں کے سپیدوسیاہ میں اس سے زیادہ ان کاد خل بھی نہ تھا۔رات کو رورو کر صبح کرنا اور دن کو جوں توں شام کرنا،انھوں نے سیکھا نہیں تھا۔
ڈائنا سور کی اب تک پانچ سو قسمیں دریافت ہو چکی ہیں۔

سب سے بڑا ڈائنا سور سوفٹ کا یعنی تیس میٹرلمبا اور پچاس فٹ یعنی پندرہ میٹر اونچا ہوا کرتا تھا،اور سب سے چھوٹا ڈائنا سور ایک چوزے کے برابر ہوتا تھا۔بڑے ڈائنا سور چھوٹے ڈائنا سور کو کھاتے تھے یا نہیں ،یہ تو ابھی تک مصدقہ طور پر دریافت نہیں ہو سکا ،لیکن یہ ضرور معلوم ہو گیا ہے کہ ان میں دو قسمیں ہوا کرتی تھیں ،ایک ویجی ٹیرین اور دوسری نان ویجی ٹیرین ۔

سبزی خورجوگھاس پتے کھا کر گزارا کرتے تھے اور دوسرے گوشت خورجن کے منہ کو اپنی طاقت اور اقتدار کا خون لگ گیا تھا۔ابھی گزشتہ 24فروری2004ء کو گجرات میں ڈائنا سور کا جو انڈا دستیاب ہوا ہے ،ماہرین کا کہنا ہے کہ وہ گوشت خورڈائنا سور کا انڈا ہے جو دریائے نربدا کی گھاٹیوں میں رہا کرتے تھے ۔پانچ کلووزن کے اس انڈے پر نارنجی یعنی بھگوا رنگ کے کچھ نشانات ہیں جو یہ بتاتے ہیں کہ انڈا گوشت خورڈائنا سور کا ہے۔


یہ خبر پڑھ کر بے ساختہ جی چاہا کہ کاش یہ تاریخی انڈا بابری مسجد کے اطراف کی کھدائی کے دوران برآمد ہوجاتا تو ایک بڑا قضیہ خوش اسلوبی سے طے پاجاتا،سپریم کورٹ بھی چین کا سانس لیتا اور”فیل گڈ فیکٹر“کو کچھ اور تقویت مل جاتی ۔بڑے بڑے اشتہاروں کی صورت میں اس انڈے کی تصویریں اخباروں میں چھپتیں۔
این ڈی اے سرکار کی اُپ لبھدیوں میں ایک اور تاریخی اضافہ ہوجاتا۔

بابر نے پرانی سنسکرتی کو تہس نہس کرکے مسجد بنواڈالی جب کہ وہاں بہت پہلے ڈائنا سوررہا کرتے تھے ،ہم جیسے ترقی یافتہ قدات پسندوں کو اس مطالبہ کا حق حاصل ہو جاتا کہ مسجد مندر کا جھگڑا ختم کرکے وہاں ایک ڈائنا سور ٹمپل بنایا جانا چاہیے کیوں کہ اس سے پرانی سنسکرتی کا سراغ ابھی تک نہیں مل سکا ہے۔
مگر وائے ناکامی،ڈائنا سور کا انڈامحکمہ آثارِ قدیمہ کو اجودھیا میں کھدائی کے دوران نہیں مل سکا۔

بھارت سنچار نگم کے مزدوروں کو احمد آباد گجرات سے 65کلو میٹر دوری پر ملا،کچھ عرصے پہلے اسی کے آس پاس شکا گویونیورسٹی کے ماہرین کو ڈائنا سور کی ایک کھوپڑی ملی تھی جس کی بنیاد پر اس کا ڈھانچہ تیار کیا گیا تھا اور یہ معلوم ہوا تھا کہ وہ ڈائنا سورتیس فٹ لمبا تھا،اس کا جبڑا بہت مضبوط تھا ،اس کی ناک پر ایک غیر معمولی سینگ تھا جس سے اندازہ لگایا گیا تھا کہ وہ اپنے شکار کے لیے اس سینگ کا استعمال کرتا رہا ہو گا،اچھا ل اچھال کر اپنے سینگ سے اس کا پیٹ چاک کر دیتا ہو گا،بالکل اسی طرح جیسے ابھی کچھ دن پہلے گجرات کے بھیانک فسادات میں ایک حاملہ عورت کا پیٹ چاک کرکے اس کی کوکھ سے بچہ نکال کر ننگی تلواروں پر اچھا لا گیا تھا۔


مگر شاید ڈائنا سور کسی حاملہ جانور کو اپنے سینگ پر اچھا لتا نہ ہو گا، وہ اسے سونگھ کر چھوڑ دیتا ہو گا۔مگر ہم نے تو بہت ترقی کرلی ہے ،ڈائنا سور کو بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے ،ہم اس کے نقلی مجسمے ایسے تیار کرلیتے ہیں جیسے وہ بالکل اصلی ہوں ،چلتے پھرتے ،بولتے چالتے،اور صرف مجسمے ہی تھوڑی تیار کیے ہیں ۔ان کی عادتوں ،خصلتوں کو بھی برقرار رکھا ہے ،اس میں بھی ترقی اور اضافہ کیا ہے ۔


اوریہ تو سبھی جانتے ہیں ،یہ ایک سائنسی حقیقت ہے کہ جینس ختم نہیں ہوتے،اس کے اثرات محفوظ رہتے ہیں اور کبھی تو ایسا بھی ہوتا ہے کہ سگڑ د ادا کے مزاج کی جھلک پڑ پوتے میں نظر آتی ہے ،ویسے بھی اب دور سنچار کا زمانہ ہے ،اگر نربداگھاٹی میں ہزاروں سال پہلے رہنے والے ڈائنا سوروں کی کچھ خوبو اکیسویں صدی کے کچھ گجرات واسیوں میں پائی جائے تو تعجب کی کیا بات ہے ،جب ہزاروں سال تک ڈائنا سور کا انڈا ثابت رہ سکتا ہے تو اس کے اثرات ،اس کے جینس اس کی کرشمہ سازیاں بھی یقینا موجودرہ سکتی ہیں۔


ہمارے خیال میں یہ بہت اچھا رہے گا کہ اس انڈے کو جلد از جلد مزید تحقیق اور تفتیش کے لیے شکا گویونیورسٹی میں بھیج دیا جائے تا کہ گجرات محفوظ رہے وہاں پھر گودھرا ،بھاؤ نگر جیسے شرم ناک واقعات دوہرائے نہ جائیں اور ڈائنا سوروں کی طرف سے ہزاروں ہزار سال پرانی یہ آوازآتی محسوس نہ ہو ہم جس وقت تمھاری دھرتی پر رہتے تھے ،اس وقت تک ساری دھرتی ایک تھی ،ہم نے اسے ٹکڑوں میں نہیں بانٹا تھا ،ہم سمجھتے تھے ہم سب ایک ہیں ۔

اُس وقت تک اس دھرتی پر یہ ہمالیہ نمودار نہیں ہوا تھا جسے تم سب سے اونچا پر بت اور اپنا سنتری کہتے ہو اور بڑے زور وشور سے گاتے ہو:
سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا
ہم نے تو اپنی دھرتی کی تباہی پر اجتماعی طور سے آتم ہتیا کرلی تھی ،لیکن تمھاری دھرتی پر سینکڑوں ہزاروں لاشیں تڑپتی رہتی ہیں ،گھر لُٹتے اور جلتے رہتے ہیں اور تم میں سے کوئی ایک بھی احتجا جاً آتم ہتیا نہیں کرتا بلکہ کرسی پر ایسے جمے اور ڈٹے رہتے ہو جیسے سب کچھ صحیح اور تمھاری مرضی کے مطابق ہورہاہو۔
ڈسے ڈائنا سور،زندہ باد،پائندہ باد

Your Thoughts and Comments