Ehd E Wafa Or Hum

عہدِ وباء اور ہم

امجد محمود چشتی پیر جون

Ehd E Wafa Or Hum
عہدِرواں آفات اور وباؤں کا دور ہے ۔کرونا نے پوری دنیا کوہلا کر رکھ دیا تو کہیں ٹڈی دَل اودھم مچائے ہوئے ہے ۔ پھر پولٹری وائرس کی خبر بھی گرم ہے جبکہ خود انسان کی برپا کردہ آفات جیسے ایٹم، غربت ،جنگیں، آبادی ،نفرت اور مذہبی و سیاسی لڑائیاں پہلے ہی گُل کھلا چکیں ۔ قدیم مصر کی طرح یہاں بھی قسط وار آفات کا راج ہے یوں لگتا ہے کہ باقی سپیشیز کی مانند انسان بھی اپنی طبعی عمر پوری کرنے کو ہے ۔

ماضی میں ہر شاخ پر الوبیٹھے نظر آتے تھے مگر آج وہ شاخیں الو سے وا گزار کرالی گئی ہیں اور ان پر کرونا اور ٹڈی کا قبضہ ہے ۔گلوبل ویلج میں وباؤں کا گلوبل ہونا اچنبھے کی بات نہیں ۔سبھی ہی خالق و مخلوق سے منہ چھپائے پھرتے ہیں۔ امیر ، غریب ، ابتر و حَسیں سب ہوئے لاک نشیں ۔

(جاری ہے)

بزورِ شمشیر جس قدر سماجی فاصلے بڑھائے گئے ، نتیجتاََ ازدواجی فاصلے اتنے ہی کم ہوئے جس کے نتائج آئیندوں سالوں میں دنیا بھگتے گی۔

اپنی بات کریں تو یہ وباء کچھ لے چلی تو کچھ دے بھی گئی۔ کچھ طبقات ابتلائے وباء سے بے مراد ٹھہرے تو چند با مراد بھی ہوئے۔مزدور اورکاروباری حضرات فاقوں میں گھِرے ہیں۔ طبی عملہ اور پولیس جان ہتھیلی پہ رکھے مصروفِ کار ہیں جبکہ وکلاء وغیرہ کچھ کردہ اعمال کے موجب مکافات کا شکار ہیں۔ سرکاری دفاتر کی بندش سے کلرکوں اور کچھ افسران کو محض اپنی ہی تنخواہ پر گزارہ کرنا پر رہا ہے ۔

کچھ تواپنی جیب اور اپنے گھر سے کھانے پہ مجبور ہیں ۔بیوٹی پارلرز کے متعلقین و منحصرین کے اپنے ہی دُکھڑے ہیں۔کچھ کا کام رُکا تو کچھ کی وضع قطع متاثر ہوئی تاہم ماسک پہننے سے کسی حد تک رخِ نا زیبا کی لاج باقی ہے ۔ ٹرانسپورٹرز بھی بمشکل زندگی کی گاڑی دھکیلے جارہے ہیں جبکہ خواجہ سراء اور شوبز سٹارز تو کئی اقسام کے بدترین بحران بھگت رہے ہیں ۔

شاپنگ کی رسیا خواتین کیلئے رنج ،الم،خسارے اور کڑی آزمائش کا دور ہے ۔عشاق اور دل پھینک طبقات بھی سخت صدمے میں ہیں اور انہیں عقل اور وٹامن ” شی “کی شدید کمی کے امراض لا حق ہیں ۔محافل و مجالس کے عدم انعقاد کے باعث علماء حق اورعلماء سو کی شعلہ نوائیاں معدوم ہیں جبکہ ان کے ہمراہ مدحت سراؤں اور دیگر گائیکوں کوبھی اپنی روزی روٹی چاند میں دِکھنے لگی ہے ۔

لاک ڈاؤنی عہد سے کچھ پہلے شہرہ آفاق ” حریم شاہی دور“ کی دھوم رہی لیکن اس عہدِ وباء میں ایسے گیا ہے جیسے گدھے کے سر سے سینگ ۔تیل کے سوداگر بے حال و کنگال جبکہ خریدار خوشحال ہیں ۔اب تو سو من تیل لا کر نو ، نو رادھائیں نچوائی جا سکتی ہیں ۔ تیل کی دھار سست ہوئی تو آلودگی بھی گَھٹی۔سرکاری و غیر سرکاری معاملات معطل ہوئے تو کرپشن بھی تعطل کا شکار ہے ۔

کریانہ و میڈیکل مالکان کے ہاں تو بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹ پڑاجو بجز کرونا ممکن نا تھا ۔ ماسک سازی ،سینیٹائزراور ڈیٹول کمپنیوں کے سر پر تو جیسے ہما آ بیٹھا ۔سب سے سعید و خوش نصیب مخلوق طلباء و اساتذہ ہیں ۔پانچوں تو کیا ان کی بیسوں ہی گھی میں ہیں ۔ تاریخ میں اس طبقہ کی رواداری، فرمانبرداری اور شائیستگی ہمیشہ یاد رکھی جائے گی ۔یہی وہ مثالی گروہ ہے جس نے لاک داؤن کی مکمل پاسداری کرتے ہوئے حکومت سے کمال تعاون کیا ۔

مخالفت کا سوچا تک نہیں بلکہ کرونا کے خلاف جنگ میں تا حیات گھر بیٹھنے کیلئے پُر عزم ہیں ۔ دوسری جانب سرکارِ بے سروکار کرونا سے اموات کے نا کافی اعداد وشمار پرمطمئن نہیں کیونکہ ان حالات میں امدادی اور قرضہ جاتی معاملات کا پنپنا مشکل ہے ۔ علاوہ ازیں سرکار ٹڈی دل کے محاذ پر بھی متحرک ہے اور اقبال کے شاہینوں کو ستاروں کی بجائے ٹڈی پر کمند ڈالنے کا پلان دے رہی ہے ۔

کوئی کام مصلحت سے خالی نہیں ہوتا ۔پاکستانی عوام سے ہمیشہ یہ شکوہ رہا ہے کہ حفظانِ صحت کا خیال نہیں رکھتے اور گھر ،گلی محلے کی صفائی کی بابت ہاتھ خاصا تنگ رہتا ہے ۔تاہم پہلی بار یہ کوتاہیاں اور کوڑا کلچر رنگ لایا ہے اور ہماری غیرمعمولی قوتِ مدافعت سے کرونا چکرایا ہوا ہے ۔ابھی ہمیں کرونا کی مادہ کے بارے جاننے کا اشتیاق ہے کیونکہ وہی اس وائرسِ نامراد کی بڑھوتری کا موجب ہے ۔

حالیہ عہدِ وباء میں قوم کے غیر سنجیدہ رویوں نے متعدد سوالات کھڑے کر دئیے ہیں ۔قربان جائیے اس قوم کے ،جو کرونا کو ڈرامہ اور ڈرامے کو حقیقت سمجھنے پہ ایمان رکھتی ہے ۔ اب یہ مان لینے میں کوئی عار نہیں کہ جہالت ہماری گمشدہ میراث ہے ۔جہاں ملے ،نہ صرف خلوصِ نیت سے اپنا لی جائے بلکہ پوری دیانت داری سے دوسروں تک پہنچانے کا اہتمام بھی کیا جائے۔

Your Thoughts and Comments