Gannu Ka Farq

گنوں کا فرق

قمر بخاری بدھ جنوری

Gannu Ka Farq
عملی زندگی میں آپ کو متعدد بار دلچسپ صورت حال کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن وقت کی گرد، ان واقعات کو دھندلا کر ہماری یادوں سے محو کر دیتی ہے۔ میں نے بھی اپنی عملی زندگی میں بہت دلچسپ واقعات کا سامنا کیا ہے جنہیں محفوظ کر کے اپنے قارئین تک پہنچانے کی کوشش کر رہا ہوں۔ امید ہے آپ کو یہ کاوش اچھی لگے گی۔ میں نے اپنی عملی زندگی کا آغاز زرعی تحقیقاتی ادارہ برائے مشینی کاشت ایمری سے کیا۔

یہ پنجاب میں مشینی تحقیق کا پہلا ادارہ تھا جو ملتان کے پرانا شجاع آباد روڈ پر قائم کیا گیا تھا۔ ملتان کی شدید گرمی کے موسم میں میری ملازمت کے ابتدائی دن بہت خوبصورت گزرے، خاص طور پر شدید ترین حبس اور گرمی کی وجہ سے ایمری کے لوگ ٹھنڈک کی تلاش میں رہتے تھے کیونکہ ان دنوں دفاتر میں ایئرکنڈیشنڈ نہیں ہوا کرتے تھے۔

(جاری ہے)

ادارے کے ڈائریکٹر نے ملازمین کو مکمل ٹھنڈک پہنچانے کی خاطرخواہ کوششیں کیں لیکن اس کے لئے بھرپور وسائل کی ضرورت تھی لہٰذا انہوں نے کچھ خواتین ادارے میں بھرتی کر لیں تاکہ اس گرمی کے موسم میں لوگوں کے لئے کم از کم آنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان ہو سکے۔

شروع شروع میں گرمی کے ستائے ہوئے لوگ اے مری۔۔۔ اے مری۔۔۔۔ اے مری۔۔۔ پکارا کرتے تھے لیکن خواتین کے آنے کے بعد اے میری۔۔۔ اے میری۔۔۔ کی آوازیں سنائی دینے لگیں۔ شروع شروع میں ایگریکلچرل میکنائزیشن ریسرچ پر توجہ دی جاتی رہی بعد میں انجینئر حضرات Agree ” کلچر“ کے حوالے سے اپنی تمام تر توانائیاں بروئے کار لانے لگے۔ آپ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ سائنسدان کوئی ایجاد مقبول تلاش کرنے کی بجائے ایجاب و قبول کے راستے تلاش کرتے دکھائی دیئے۔

ایک سال کا مختصر عرصہ ایمری میں گزارنے کے بعد مجھے محکمہ زراعت توسیع میں خدمات سرانجام دینے کا موقع ملا۔ اس ادارے کے سربراہ ایک حساس ادارے کے ریٹائرڈ افسر تھے۔ لہٰذا ان کی طبیعت میں حساس پن کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ موصوف زراعت سے زیادہ لوگوں کو مٹی کے ذرات کی نظر سے دیکھا کرتے تھے۔ انہوں نے خواتین فیلڈ و دفتری سٹاف کے لئے اپنے دفتر اور دل کے دروازے ہمیشہ کھلے رکھے اور انہوں نے ان خواتین کو حساس تنصیبات کا درجہ دے رکھا تھا جن کی طرف کوئی میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا تھا۔

زراعت کی توسیع کی بجائے وہ اپنے توسیع پسندانہ عزائم پر پوری توجہ مرکوز رکھتے تھے۔ موصوف خود کو تمام فصلوں کا ماہر قرار دیتے تھے لیکن خاص طور پر کماد کے حوالے سے ان کا دعویٰ تھا کہ اس کے بارے میں مجھ سے زیادہ کوئی مہارت نہیں رکھتا۔ لہٰذا جہاں کہیں کماد کا کھیت نظر آتا تھا موصوف اس میں گھس کر اپنی مہارت کا ثبوت دینے سے گریز نہیں کیا کرتے تھے اور باہر کھڑے ہوئے لوگ اس مہارت کی آوازیں سن کر دنگ رہ جایا کرتے تھے۔

وہ جنگ والی گنوں اور کھیت والے گنوں دونوں کے بارے میں وسیع تجربہ رکھتے تھے اور اپنے اسی تجربے کی بنیاد پر ان دونوں کا فرق بیان کرتے ہوئے فرمایا کرتے تھے کہ دونوں میں صرف فرق اتنا ہے کہ ایک کو چوسا جا سکتا ہے جبکہ دوسرے کو نہیں۔ ان کے اس قسم کے دانش کے موتی ہمیں ہر روز سننے کو ملا کرتے تھے۔ اپنی ملازمت کے پہلے روز مجھے ان کے ساتھ ایک سیمینار میں شرکت کے لئے ان کی کار پر جانے کا اتفاق ہوا۔

دانیال گل جو کہ اس وقت اسسٹنٹ ڈائریکٹر تھے وہ بھی ہمراہ تھے۔ سیمینار سے واپسی پر ڈائریکٹر صاحب نے اپنے پہلو میں بیٹھے ہوئے دانیال گل سے اپنی تقریر کی بابت پوچھا تو دانیال گل نے زمین و آسمان کے قلابے ملا دیئے۔ اس پر موصوف دونوں کندھے اچکاتے ہوئے شرٹ کے کالر کھڑے کر کے بولے کہ میرے جیسا کپاس کا ماہر پورے ملک میں نہیں۔ دانیال گل نے مزید تعریف کے ڈونگرے برسائے لیکن ستائش پسند ڈائریکٹر کی طبیعت کو نہ سمجھنے کی بنا پر ان سے بھی اوپر ایک افسر ڈائریکٹر جنرل کی تعریف کر بیٹھے۔

ڈائریکٹر صاحب کے اچکتے کندھے اچانک جامد ہو گئے۔ انہوں نے ڈرائیور کو کاشن دیا کہ گاڑی روک لو اور دانیال گل کو جھاڑ پلاتے ہوئے کہا کہ ڈی جی اچھی تقریر کرتا ہے؟ اگر تمہارا یہ وژن ہے تو مجھے افسوس ہے کہ میں کس گھٹیا آدمی کو اپنے ساتھ بٹھا کر لایا ہوں۔ چلو اترو گاڑی سے۔۔۔ یہ کہہ کر دانیال کو گاڑی سے اتار دیا اور مجھے آواز دے کر کہا بیٹا آپ پیچھے میرے ساتھ آ کر بیٹھو۔

میں نے دانیال گل سے بھی زیادہ تعریفی جملوں کو اپنے ذہن میں جمع کرنا شروع کر دیا ورنہ مجھے بھی گاڑی سے اترنے کی سزا ملنے کی صورت میں پیدل چل کر دفتر پہنچنا پڑنا تھا۔ اسی ادارے میں ملازمت کے دوران پروٹوکول ڈیوٹی پر ایک بزرگ صوبائی وزیر کے ہمراہ کپاس کے کھیتوں کا معائنہ کرنے کے لئے ہمیں مختلف علاقوں کا دورہ کرنا پڑا۔ دورے کے دوران بزرگ وزیر ایک ویران جگہ پر سڑک سے کافی دور ایک کپاس کے کھیت کی طرف اکیلے لپکے، فوٹوگرافر بھاگتا ہوا ان سے آگے نکل گیا اور وزیر موصوف کی تصاویر اتارنے لگا۔

بزرگ وزیر کھیت میں داخل ہوئے فوٹو گرافر مزید آگے بڑھ کر تصویریں بناتا رہا۔ صوبائی وزیر دائیں طرف مڑے تو فوٹو گرافر چوکڑیاں بھرتا ہوا پھر ان کے سامنے آن کھڑا ہوا۔ یہ دیکھ کر صوبائی وزیر نے دوسری جانب رخ کر لیا تو پھر وہی صورت حال دیکھنے کو ملی۔ بزرگ صوبائی وزیر نے فوٹو گرافر کو جھاڑتے ہوئے کہا کہ نوجوان تمہیں کیا پرابلم ہے، میں بھی وہی ہوں اور کپاس کا کھیت اور پودے بھی ویسے ہی ہیں جن کی تم دن بھر تصویریں بناتے رہے ہو؟ یہ کہہ کر انہوں نے اس کا کندھا تھپتھپاتے ہوئے کہا کہ میں شوگر کا مریض ہوں اگر اجازت ہو تو میں کیمرے کی آنکھ سے ایک دو منٹ کے لئے اوجھل ہو سکتا ہوں؟ یہ سن کر کیمرے کو بھی پسینہ آ گیا۔

اپنی ملازمت کے یہ خوبصورت لمحات مجھے جب یاد آتے ہیں تو چہرے پر تبسم کی کلیاں کھلنے لگتی ہیں۔ ایک ڈپٹی ڈائریکٹر ہر فصل کی آمد کے موقع پر دلچسپ سلوگن شاعرانہ انداز میں تخلیق کیا کرتے تھے اور اپنی اس شاعرانہ کاوش پر خود کو بہت داد دیا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ گندم کی فصل سے پہلے انہوں نے ایک سلوگن تیار کیا جس میں اپنا شاعرانہ کمال دکھاتے ہوئے کچھ یوں شعر ترتیب دیا ”کسان 30نومبر تک فصل بو۔

۔۔ تاکہ پیداوار میں کمی نہ ہو“۔۔۔ ہمارے زمانے میں پینٹر حضرات اپنے تعلیمی پس منظر کے پیش نظر لوگوں کی لکھی ہوئی تحریروں کو اپنے علمی مرتبے کی وجہ سے خود ہی نوک پلک سنوار لیا کرتے تھے لہٰذا ڈپٹی ڈائریکٹر کے تخلیق کردہ اس سلوگن کو انہوں نے اپنے اصلاحی کارنامے کے بعد بینروں پر کچھ اس طرح لکھا ”کسان 30نومبر تک فصل بو۔۔۔۔ تاکہ پیداوار میں کمینہ ہو“ اس طرح کی علمی کمینگیاں آپ کو بھی قدم قدم پر دیکھنے کو ملتی ہوں گی۔ آج ماضی کی کچھ خوبصورت یادوں کو تازہ کرنا میری دیرینہ خواہش تھی جو میں نے اس مضمون میں پوری کر لی۔ امید ہے آپ کو یہ کاوش اچھی لگی ہو گی، میں کوشش کروں گا اپنے آئندہ کسی کالم میں اس قسم کی اور بھی شرارتیں آپ کے ساتھ شیئر کر سکوں۔

Your Thoughts and Comments