Ghazal Sapling And Co Manufacturing

غزل سپلائنگ اینڈ مینو فیکچرنگ کمپنی (پرائیوٹ ان لمیٹیڈ)

بدھ فروری

Ghazal Sapling And Co Manufacturing
مجتبی حسین

ادھر جب سے دنیا تجارت کے چنگل میں پھنس گئی ہے۔

اس وقت سے ہر شئے ترازو میں تلنے اور تجارت کے سانچے میں ڈھلنے لگی ہے۔

(جاری ہے)

ہمیں
اس نوجوان کی بات اب بھی یاد ہے جس نے ایک کتب فروش کی دکان پر کھڑے ہو کر کتب فروش سے کہا تھا:‘‘جنابِ والا! مجھے کرشن چندر کے دو کلو افسانے، راجندر سنگھ بیدی کے ڈیڑھ کلو کہانیاں اور فیضؔ کی چار کلو غزلیں دیجئے۔

’’

اس پر کتب فروش نے ہماری آنکھوں کے سامنے کرشن چندر اور بیدی کی کہانیوں کے مجموعے ترازو میں تول کر دیئے اور فیضؔ کی غزلوں کے بارے میں فرمایا:‘‘حضور والا! میں آپ کو فیض احمد فیضؔ کی غزلیں دینے کے موقف میں نہیں ہوں کیونکہ فیضؔ کا سارا ادبی سرمایہ دو کلو غزلوں پر مشتمل ہے۔

یقین نہ آئے تو‘دستِ صبا’،‘نقشِ فریادی’اور ‘زنداں نامہ’کو تول کر دیکھ لیجئے۔

’’

اس دن سے ہمیں یہ یقین ہو چلا ہے کہ وہ دن دور نہیں جب تجارت، ادب پر اس قدر غالب آجائے گی کہ لوگ شاعری کی بلیک مارکیٹنگ اور افسانوں کی ذخیرہ اندوزی کرنے لگیں گے (ویسے بیرونی ادب کی اسمگلنگ تو ہمارے ہاں اب بھی جاری ہے) مگر ہمارا یقین اُس وقت پختہ ہوا جب ہمیں پتہ چلا کہ ایک صاحب نے ‘‘غزل سپلائنگ اینڈ مینیوفیکچرنگ کمپنی پرائیویٹ ان لمیٹیڈ’’ قائم کررکھی ہےاوراس کمپنی کا کاروبار زوروں پرجاری ہے۔

چنانچہ ہم اس کمپنی کا معائنہ کرنے کی غرض سے اس مقام پر پہنچے تو دیکھا کہ لوگ قطار باندھے کھڑے ہیں اوران کے ہاتھوں میں کورے کاغذات ہیں۔

ہم نے ان لوگوں سے پوچھا:‘‘صاحبو!آپ لوگ کون ہیں، یہاں کیوں کھڑے ہیں اور آپ نے ہاتھوں میں کورے کاغذات کیوں پکڑ رکھے ہیں؟’’

اس پرایک نازک اندام نوجوان،جس کے بال بڑھے ہوئے تھے، آگے بڑھا اوربولا:‘‘جناب والا! ہم ماڈرن شاعرہیں اور فکرِ شعر میں وقت برباد نہیں کرتے، اس لئے ریڈی میڈ غزلیں خریدنے آئے ہیں اور ہمارے ہاتھوں میں کورے کاغذات اس لئے ہیں کہ ہم ان پرغزلیں لکھوا کر لے جائیں گے۔

’’

نوجوان کا یہ جواب سن کر ہم آگے بڑھنے لگے تو قطار میں ایک شور بلند ہوا:‘‘صاحب! قطار میں ٹھہریئے، ہم تو صبح سے یہاں کھڑے ہیں۔

آپ دیر سے آئے ہیں اس لئے آپ کو قطار میں سب سے پیچھے ٹھہرنا چاہئے۔

’’

ہم نے شعراء کی ہوٹنگ کا کوئی نوٹس نہ لیا اور کمپنی کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوگئے۔

ایک کمرے میں ہمیں اس کمپنی کے پروپرائٹر مسٹر عبدالرحیم وفاؔ نظر آئے جو ہاتھ میں قینچی پکڑے ایک غزل کو کاٹ رہے تھے۔

ہم نے اپنا تعارف کرایا تو بولے: ‘‘مکرّر مکرّر۔’’ہم نے اپنا دوبارہ تعارف کرایا تو وہ بے حد خوش ہوئے اور بولے:‘‘معاف کیجئے، میں ذرا اونچا سنتا ہوں، اسی لئے آپ کو اپنا تعارف مکرر کروانا پڑا۔

’’پھر
بولے:‘‘میں آپ کو اپنی کمپنی کا معائنہ ضرور کراؤں گا۔

مگر آپ کو پانچ منٹ تک انتظار کی زحمت برداشت کرنی ہوگی کیونکہ اس وقت میں ایک غزل کو کاٹ رہا ہوں۔

’’پھر
جب وہ قینچی لے کر دوبارہ غزل کو کاٹنے میں مصروف ہوگئے تو ہم نے ازراہ تجسس ان سے پوچھا:

‘‘قبلہ! آپ قینچی سےاس غزل کو کیوں کاٹ رہے ہیں؟’’

وہ مسکراتے ہوئے بولے:‘‘بھئی!بات دراصل یہ ہے کہ یہ غزل بڑی بحر میں لکھی گئی ہے اوراب میں اسے کاٹ کراس میں سے چھوٹی بحر کی دو غزلیں برآمد کروں گا کیونکہ میرے پاس وقت بہت کم ہے اور شعرا کے ڈھیروں آرڈرز میرے پاس پڑے ہوئے ہیں۔

’’

یہ کہہ کرانہوں نےغزل کاٹی اورنوکر کو بلا کر کہا:‘‘میاں! یہ غزلیں اسی وقت میوزک ڈائرکٹر کے پاس لے جاؤ اورکہو کہ شام تک ان دونوں غزلوں کا ترنم فٹ ہوجائے کیونکہ آج رات میں مشاعرہ ہے اور جناب ترنمؔ روحانی اس مشاعرہ میں یہ غزلیں پڑھیں گے۔

’’

ہم نے پوچھا:‘‘یہ ترنمؔ روحانی کون ہیں؟’’

بولے:‘‘ہمارے بہت پرانے گاہک ہیں،آپ انہیں نہیں جانتے؟ یہ تو ہمارے ملک کے ممتاز شعراء میں شمار کئے جاتے ہیں اور ہمیں فخر ہے کہ وہ گزشتہ بیس برسوں سے ہماری کمپنی سے غزلیں اور ان کا ترنم خرید رہے ہیں۔

’’

پھر جناب عبدالرحیم وفاؔ نے اپنی داستان الم انگیز یوں بیان کرنی شروع کردی:

‘‘جناب والا!میں بچپن ہی سے اس نظریہ کا قائل ہوں کہ شعراءتین قسم کے ہوتے ہیں:ایک پیدائشی شاعر، دوسرا موروثی شاعر اور تیسرا نمائشی شاعر۔

پیدائشی شاعر تو وہ ہوتا ہے جو پیدا ہوتے ہی مطلع عرض کرتا ہے یعنی روتا بھی ہے تو علم عروض کے اصولوں کو پیش نظر رکھتا ہے۔

اُس کے رونے میں بھی ایک ترنم پوشیدہ ہوتا ہے اورابھی دس بارہ سال کا بھی ہونے نہیں پاتا کہ ‘‘صاحب دیوان’’بن جاتا ہے۔

موروثی شاعر وہ ہوتا ہے جسے شاعری ورثے میں ملتی ہے یعنی اصل میں اس کا باپ شاعرہوتا ہے اور جب وہ مرتا ہے تو اپنے پیچھے قرض خواہوں کے علاوہ غیر مطبوعہ غزلیں اور نظمیں چھوڑ جاتا ہے۔

پس اس کا بیٹا ان غزلوں اور نظموں کو وقفہ وقفہ سے رسائل میں چھپواتا ہے اور موروثی شاعر ہونے کا شرف حاصل کرتا ہے۔

لیکن شاعروں کی ایک تیسری قسم بھی ہوتی ہے جو نمائشی شاعر کہلاتی ہے۔

سچ پوچھئے تو ان دنوں ہر طرف نمائشی شعراء کی بھر مار ہے جو کہیں سے غزلیں سہ غزلیں لکھوا کر لاتے ہیں انہیں مشاعروں میں پڑھ کر نام کماتے ہیں۔

چونکہ میں ابتداء ہی سے پیدائشی شاعر رہا ہوں اس لئے میں نے یہ فیصلہ کرلیا تھا کہ بڑا ہو کر ایک ایسی کمپنی قائم کروں گا جہاں سے نمائشی شعراء کو سستے داموں پر غزلیں اور نظمیں فراہم کی جائیں۔

چنانچہ میں نے نہایت قلیل سرمائے سے کمپنی کا آغاز کیا۔

میں نے ایک سکنڈ ہینڈ قلم اور ایک سکنڈ ہینڈ دوات خریدی اور مستقبل کی طرف روانہ ہوگیا۔

ابتداء میں میرا طریقہ کار یہ تھا کہ میں اپنے ہاتھ میں قلم پکڑ کر گلی گلی آوازیں لگاتا پھرتا کہ ’غزل لکھوائیے، نظم کی اصلاح کروائیے۔

وہ دن میرے لئے سخت آزمائش کے تھے۔ جب ہر طرف ‘‘پیدائشی شاعر’’نظرآیا کرتے تھے لیکن رفتہ رفتہ نمائشی شعراء بھی نمودار ہونے لگے اور میرا کاروبار چل پڑا۔

جب میری حالت ذرا سنبھلی تو میں نے ایک ٹھیلہ خریدا اوراس ٹھیلے میں غزلیں، نظمیں، سہرے اور رباعیاں رکھ کر فروخت کرنے لگا۔

رفتہ رفتہ میری گمنامی دور دور تک جاپہنچی اور لوگ دور دور سے غزلیں لکھوانے کے لئے آنے لگے۔

میرا نصیب جاگ اٹھا اور میں اتنا مالدار ہوگیا کہ آج‘‘غزل سپلائینگ اینڈمینو فیکچرنگ کمپنی’’کا پروپرائٹر ہوں۔

اب میں چار پیدائشی شعرا کی خدمات بھی حاصل کرلی ہیں جو دن رات غزلیں، نظمیں، رباعیاں اور قطعات لکھتے ہیں۔

اس کے علاوہ میں نے ایک میوزک ڈائرکٹر کی خدمات بھی حاصل کر لی ہیں جو مختلف غزلوں کا ترنم فٹ کرتا ہے۔

پھر میں نے اپنی کمپنی میں ایک نیا شعبہ بھی قائم کیا ہے جسے‘‘شعبۂ سامعین’’کا نام دیا گیا ہے۔

اس شعبے کے ذمہ یہ کام ہے کہ وہ مشاعروں میں سامعین کو روانہ کرے اور کمپنی کی فراہم کردہ غزلوں پر کچھ ایسی داد دے کہ اچھے خاصے نمائشی شاعر پر ‘‘پیدائشی شاعر’’کا گمان ہونے لگ جائے۔

چنانچہ میں فی سامع سواری خرچ کےعلاوہ دو روپے چارج کرتا

Your Thoughts and Comments