Hansta Hai Insaan Tu Acha Lagta Hai

ہنستا ہے انسان ....تو اچھا لگتا ہے ....؟

حافظ مظفر محسن پیر جنوری

Hansta Hai Insaan Tu Acha Lagta Hai
اظہر منہاس میرے دوستوں میں وہ ہستی ہے جو دائیں طرف دیکھے تو میں اُس کی شخصیت کو ” انجوائے “ کرتا ہوں اور اگر وہ بائیں طرف دیکھے تو بھی اُس کا سٹائل میرے دل کو لبھاتا ہے .... آج سے بیس سال پہلے اظہر منہاس کی شخصیت ایسے ہی دل لبھانے والی ہوتی تھی اور خاص بات یہ کہ اُس سے بیس سال پہلے بھی اظہر منہاس ایسا ہی دکھائی دیتا تھا.... جب میں اُسے ذہنی امراض کے ڈاکٹر گلزار کے پاس لے کر گیا تو یہ دونوں اس ملاقات سے پہلے ایک دوسرے کو بالکل نہیں جانتے تھے لیکن دونوں ایک دوسرے کو اس قدر گر مجوشی اور فحش انداز میں ملے کہ میں شرم سے ” پانی پانی“ ہو گیا .

... ایسے دوستوں کی ’ ’ خوشبو“ بھی میرے پاس سے گزرے تو مجھے اچھا لگتا ہے اور اگر وہ خود سامنے آجائے تو پورا دن گزرے واقعات یاد کر کر کے میں بیتے دنوں کو ” انجوائے “ کرتا ہوں .... اظہر منہاس جب اپنی موٹر سائیکل پر نکلتا ( کالے رنگ کی) تو ایک ” کّتا“ بھی ساتھ چل پڑتا .... اس بات کو نہ کبھی کّتے نے مائنڈ کیا اور نہ ہی اظہر منہاس نے اس جابرانہ دوستی کا بُرا منایا .

.. یہ دوستی طویل عرصہ تک چلتی رہی اور پھر میری درخواست پر انہوں نے اُ س کالے کتّے کو اپنے ڈرائنگ روم کے ساتھ خالی جگہ الاٹ کردی اور یہ مل جل کر رہنے لگے .....
جب خواتین کے حقوق کی تحریک پاکستان میں اپنے عروج پر تھی جس کی روح رواں کشور ناہید اور اسی انداز کی دوسری ” ماڈ“ خواتین ہو تی تھیں جو ریڈیو پر اکثر خواتین کے حقوق کی بات کیا کرتی تھیں .

... تو یہ صاحب خواتین کے ساتھ تھے کیونکہ ان کی ابھی شادی نہیں ہوئی تھی اور یہ سمجھتے تھے کہ آزادی نسواں کا خیال رکھا جانا چاہیے .... پچھلے دنوں اسی حوالے سے ایک نئے موضوع پر کہ ” کیا عورت کو حق ہے مرد کی جیب پر ” ہاتھ“ صاف کرنے کا اب حالات مختلف ہیں اب موصوف اُس ” تحریک“ کے بالکل خلاف ہیں بلکہ جو لوگ اس معاملے میں Active ہیں موصوف اُن کی سر پرستی فرما رہے ہیں لیکن میں اس بات سے خوش ہوں کہ چالیس سال سے میرا یہ دوست ہر وقت ہنستا مسکراتا رہتا ہے .

... اس سلسلہ میں تازہ نظم بعنوان ” چنے ، ساتھ ہو نان ؟“ ملاحظہ کریں .....
ہنستاہے انسان،تو اچھا لگتا ہے
چنے،ساتھ ہو نان ،تو اچھا لگتا ہے
رج کے کھاؤ ، عادت جو ہے کھانے کی
اور پھر میٹھا پان ، تو اچھا لگتا ہے
کھاتا جاؤ ں ، جمع کروں اور مر جاؤں
پکڑا گیا شیطان، تو اچھا لگتا ہے
میرے دل میں ، میری روح میں بسا ہے جو
بنے کبھی مہمان، تو اچھا لگتا ہے
دنیا بھر کی طاقت ، دولت اِدھر اُدھر
سونے کی اِک کان ، تو اچھا لگتا ہے
 طمع، طلب، تیری میری کے چکر میں
پڑے نہ گر انسان ، تو اچھا لگتا ہے
گرمی کا موسم ہو ، آم کا ڈھیر بھی ہو
 بندہ ہو ملتان ، تو اچھا لگتا ہے
ڈگری ہو ، قابل بھی ہو مجبوری میں
” بن بیٹھے دربان؟“ تو اچھا لگتا ہے
حسب عادت میرے سا منے بیٹھتے ہی اظہر منہاس نے ایک نہایت سنجیدہ بات کی جو اُس کی اچھی عادتوں میں سے ایک ہے اور ایسی سنجیدہ بات کر کے اچانک اُٹھ کے محفل سے نکل جاتا ہے .

...
ایک نوجوان نے اپنے دادا سے پوچھا ....
” دادا جان آپ لوگ پہلے کیسے رہتے تھے ؟ نہ کوئی ٹیکنالوجی .... نہ جہاز .... نہ کمپیوٹر.... نہ بڑی سکرین والی LCD .... نہ انٹرنیٹ ... نہ گاڑیاں .... نہ موبائل .... “
دادا جان نے جواب دیا ....
” بیٹا جیسے تم لوگ آجکل رہتے ہو . ... نہ نماز .... نہ روزہ ... نہ تربیت... نہ اخلاق .... نہ شرم .... نہ حیاء . ... “
اظہر منہاس یہ کیا پرانی بات سنا دی ہے لیکن میں خوش ہوں کہ نوجوانوں کی تربیت کے لئے ایسی باتیں بار بار کرنی چاہئیں .

...
 حالات جس تیزی سے بدل رہے ہیں دنیا بھر میں ہر میدان میں تبدیلی آتی چلی جا رہی ہے ، اس تبدیلی کے انسانیت کوکافی فائدے ہیں لیکن میری سوجھ بوجھ کے مطابق ہم نے ان تبدیلیوں کو اپنی ضرورت ، اپنی طمع اور اپنی گھوڑے جیسی بے لگام خواہشات کے باعث اپنی مرضی کے سانچے میں ڈھال لیا ہے جس سے دنیا میں خوف و ہراس بڑھتا چلا جا رہا ہے ۔

(جاری ہے)

ا ن حالات میں میرا دوست اظہر منہاس مجھے ” ایک آئیڈیل“ انسان دکھائی دیتا ہے جس کی محبت اور محبت بھرا انداز تبدیل نہیں ہوا . .. وہ میرے سامنے آتا ہے تو مجھے اُسی طرح کی خوشی نصیب ہوتی ہے جو تیس پینتیس سال پہلے اُسے دیکھ کر، اُس سے مل کر محسوس ہوتی تھی ...․

Your Thoughts and Comments