Ishq Baz Tiddah

عشق باز ٹڈہ

بدھ دسمبر

Ishq Baz Tiddah

خواجہ حسن نظامی
ہزاروں لاکھوں ننھی سی جان کےکیڑوں پتنگوں میں ٹڈہ ایک بڑےجسم اوربڑی جان کاعشق بازہےاورپروانےآتےہیں توروشنی کےگردطواف کرتےہیں۔بےقرارہوہوکرچمنی سےسرٹکراتےہیں۔ ٹڈے کی شان نرالی ہے۔ یہ گھورتا ہے۔مونچھوں کو بل دیتا ہےاوراچک کرایک حملہ کرتا ہے۔ سمجھتا ہوگا میں ٹکرمارکرروشنی کوفتح کرلوں گا۔ سب کم ذات چھوٹےرقیبوں کی آنکھ میں خاک ڈال کراپنی محبوبہ کواڑاکرلےجاؤں گا۔

اورآکھہ کےدرخت پربیٹھ کراس کوگلےلگاؤں گا۔میرےگیت سن کرروشنی ہمیشہ ہمیشہ کومیری تابعداربن جائےگی۔
پرہائےعشق کےکوچہ میں کس کا خیال پوراہواہے۔ کس کی آرزوبرآئی ہے۔ کون بامراد رہا ہے جو ٹڈہ کا ارمان پوراہوتا۔ حسرت نصیب اُچک اُچک ۔ پھُدک پھُدک کر۔

(جاری ہے)

گھورگھورکررہ جاتا ہےاورنور پر قبضہ میسرنہیں آتا۔
مجھ کوان عاشق زارکیڑوں نےبہت ستایا ہے۔

میرے رات کےمطالعہ میں یہ شریربڑارخنہ ڈالتےہیں۔ سرکےبالوں میں آنکھوں میں کانوں میں گھسےچلےآتےہیں۔ کوئی پوچھےکہ بھئی آدمی کےسرکیوں ہوتےہوجس پرجی آیا ہےاس کےپاس جاؤ۔ اس سےملنےکی کوشش کرو۔
مگروہ توزمانہ کی تاثیرہے۔آج کل ہرعشق بازباتوں اورلسان ہوگیا ہے۔ جان دینےاورمعشوق پرقربان ہوجانےکی ہمت جانوروں تک میں نہیں۔اب وہ وقت گیا۔

شیخ سعدی نےبلبل کوپروانےکی سرفروشی کا طعنہ دیا تھا۔ اورکہا تھا کہ عشق پروانے سےسیکھ کربولتا نہیں ایک دفعہ آکرجان دیدیتا ہے۔
اب توپروانےبھی آتےہیں تو آدمیوں کوستاتےہیں۔ ان کےناک کان میں گھستےہیں۔ تاکہ وہ ان کی عشق بازی سےآگاہ ہوجائیں۔ نمود کا شوق آدمیوں سےگزرکرجانوروں تک میں سرایت کرگیا۔ ان دنوں ہر ہستی دکھاوے اورریاکاری کی مشتاق ہے۔

یہ کیڑے صرف اپنےعشق کا اظہارکرنےکوآدمی پرگرے پڑتےہیں تاکہ اس کوعلم ہوجائےکہ ان کو روشنی سےمحبت ہے۔
ذراانصاف کرنا۔ کل میں نےمسہری کےپردے ڈال کرسرہانےروشنی رکھی کہ اب توان نسوبازوں سےچھٹکاراملےگا۔ مگرموذی ننھےکیڑےمسہری کےچھوٹےسوراخوں میں گھس آئےاور ایسی شورش کی کہ میں نےکتاب اٹھا کردےماری۔ غصہ سے بیتاب ہوگیا۔ دیوانوں کی طرح کیڑوں کو،برسات کواوراس موسم کی رات کوبرابھلا کہا۔
اورتواورغسل خانہ توالگ کونہ میں ہے۔اس کےدروازہ پرتوچلمن پڑی ہوئی ہے۔ وہاں بھی ان فتنوں کی فوج گھستی چلی جاتی ہے۔ کیونکہ غسل خانہ میں بھی ان کی فاحشہ معشوقہ روشنی رکھی ہے۔

Your Thoughts and Comments