Jootay Aur Jootay Chor. .. !

جُوتے اور جُوتے چور ۔۔۔!

سید تنصیر حسین جمعہ مئی

Jootay Aur Jootay Chor. .. !
 جوتے دو قسم کے ہوتے ہیں؛ پاؤں میں پہننے والے جوتے اورذات کے ’ جوتے‘․ جھنگ شورکوٹ کے علاقے میں کافی تعداد میں ذات کے جوتے پائے جاتے ہیں مگر سرِ دست ہمارا مو ضوعِ سُخن پہننے والے جوتے ہیں جنہیں مختلف زبانوں میں پاپوش، لتر، پاؤلا، چھتر، کھونسڑا اور شو بھی کہا جاتا ہے․ زبردست لوگ کمزور لوگوں کو جوتے کے نوک پررکھ کر اُن سے زورازوری مفادات حاصل کرتے ہیں جبکہ کچھ کاروباری حضرات اس شاعر کی طرح جوتے کے زور پر روزی کماتے ہیں :۔

 
 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ # شُو میکری کی شہر میں کھولی ہے اک دُکان روزی کمائیں گے اب جُوتے کے زور پر 
ایک جوتا فروش کی دکان پر ایک گاہک کافی دیرسے نئے جوتے کے ایک پاؤں کو اپنے پاؤں میں پھنسائے اسے خریدنے یا نہ خریدنے کے بارے میں کشمکش کا شکار تھا ․ کچھ دیر انٹظار کے بعد دُکاندار نے موصوف کو معنی خیز اندز میں کہا ، ’ جوتا پسند آیا کہ اُتاروں جوتا ! ‘جس پر وہ صاحب ٹھٹک سے گئے اور بلا تا خیر خود ہی جوتا اُتار کر دکاندار کے ہاتھوں میں تھمانے کے بعد دکاندار کو اپنے جوتے کا تلوا دکھاتے ہوئے وہاں سے غائب ہوگئے․ اُردو کی ایک کہاوت کے مُطابق ہنگامی حالات میں جوتے یا جوتیاں دال باٹنے کے کام بھی آتے ہیں․پہننے والے جوتے کی شکل بگاڑ کر اور بڑھے ہوئے جگر کی طرح اسکا سائز بڑا اور بے ڈھب کرکے اس سے ایک اور کام لیا جاتا ہے اور وہ ہے پولیس اور ایسے دیگر اداروں کے عقو بت خانوں میں ملزموں پر جسمانی تشدد المعروف ’ لتریشن، لترول یا چھترول ‘․ ہر تھانے اورعقوبت خانے میں کنگ سائز کے انتہائی بھیا نک متعدد ’لترز ‘ موجود ہوتے ہیں جن پر پولیس والوں نے تجاہل ِ عارفانہ سے کام لیتے ہوئے جلی حروف میں لکھوایا ہوتا ہے، ’چن کتھاں گُزاری ائی رات وے ‘ حالانکہ اکثر پولیس والوں کو اس بات کی کی رپوٹ ہوتی ہے کہ بیشتر ملزموں نے رات کتھے ‘ گُزاری ہے․ نیز اس سپیشل جوتے سے مُک مکا کرنے والے ملزمان کے کپڑے جھاڑنے کا کام بھی لیا جاتا ہے ․ جس نگری میں انصاف نہ ہو وہاں اکثر جوتا بغیر پاؤں کے ہی چل جا تا ہے․ بعض شریر لوگوں کی تحریر جبکہ بعض کی تقریربھی جوتا چلنے کا باعث بن سکتی ہے نمو نے ملاحظہ ں:۔

(جاری ہے)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 ۔۔۔۔ # اُ س نے اِک جوتا بنا یا ، میں نے اِ ک مضمون لکھا شھر میں مضموں نہ پھیلا اور جُوتا چل گیا ۔۔۔ کیا بلاغت ہے تیری تقریر میں پہلے انڈے بعد میں چھتر چلے۔۔
 ا یسی صورتحال کو عرفِ عام میں ’ جُوتم پیزار ‘ کہا جاتا ہے․ ایسے افراد جوتم پیزار کا ہی نشانہ بنے ہوتے ہیں جنکے بارے میں کسی نے کیا خوب تبصرہ کیا ہے؛ ’ آگئے ماں کے جنٹلمین، گھر آیاں نوں چھتر پین! ‘
 شکل شباہت اور ڈیزائن کے لحاظ سے عام سے جوتے بھی ہوتے ہیں جبکہ نفیس کام والے کھسہ ٹائپ رنگ رنگیلے اعلیٰ درجے کے جوتے بھی ہوتے ہیں جن میں سونے اور چاندی کی انتہائی قیمتی تاریں استعمال کی جاتی ہیں․یہ بات عام لوگوں کو عجیب سی لگتی ہے کہ پاؤں کی جوتی کے اس طرح ناز نخرے اُٹھا کر اسے سر چڑھا لیا جاتا ہے․ مگر گفتار کے کچھ جا دو گراپنے پُر پیچ الفاظ کے زریعے نوبت ’ پاپوش ‘ یعنی جوتے پر آ فتاب کی کرن لگانے تک لے جاتے ہیں ․بزبانِ شاعر:۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ # پاپوش میں لگائی کرن آفتاب کی جو بات کی خدا کی قسم لا جواب کی 
جوتے سے ہی ایک دلچسپ روایت بھی منسوب ہے․ کہتے ہیں ایک علاقے کا حاکم بڑا ظالم اور بے اصولہ تھا․ اسکے علاقے میں سے ایک دریا گزرتا تھا جس پر موجود اکلوتا پل آمد ورفت کا واحد زریعہ تھا․ عوام پر اپنی ہیبت طاری کرنے کے لیئے حاکم مذکور نے یہ انوکھا حکم جاری کر رکھا تھا کہ جو بھی اس پل پر سے گُزرے چونگی کے طور پر اسے دس جوتے مارے جائیں․ شروع شروع میں تو لوگوں نے اس بے تکے حکم پر احتجاج کیا مگربلآخر حاکم کی ہٹ دھرمی اور غضب سے خوف زدہ ہوکر چُپ سادھ لی․ رفتہ رفتہ وہ چھتر کھانے کے عادی سے ہوگئے ۔

ع ۔۔رنج سے خوگر ہوا انسان تو مٹ جاتا ہے رنج۔۔
․ کچھ عرصہ بعد اہلِ علاقہ کی طرف سے ایک وفدحاکم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی، ’ سرکار آپکی طرف سے پل پر سے گزرنے والے ہر شخص کو دس جوتے مارنے کا حکم قابلِ ستائش ہے کہ اس نے ہمیں مار کھانے کا ایکسپرٹ بنا دیا ہے․ مگر حضورِ والیٰ پل کے دونوں طرف چھتر مارنے والے اہلکاروں کی ناکافی تعداد کی وجہ سے چھتر کھانے کے خواہش مند افراد کی لمبی قطاریں لگ جاتی ہیں․ دست بستہ عرض ہے کے ان اہلکارو ں کی تعداد بڑھائی جائے تاکہ اہلِ علاقہ بر وقت ’ چھترول‘ کروانیکی اس لازمی مشق سے فارغ ہو کر اپنے دھندے پر جا سکیں․ لو مارلو چھتر !
 جوتاسازی، جوتا فروشی، جوتم پیزار، جوتیوں میں دال بٹنے اور جوتا چلنے کے علاوہ ’جوتا چوری‘ کے کسب نے بھی بہت کمال حاصل کیا ہے․یوں تو کسی کے بھی جوتے کہیں بھی چوری ہوسکتے ہیں مگر عبادت گاہیں، خصوصاً مساجد، اس قبیح سرگرمی کا گڑھ ہیں․ خدا کے بر گُزیدہ بندوں نے خدا کا گھر یعنی مساجد تعمیر کرائیں جبکہ اسکی مخلوق میں ہی سے کچھ نا عاقبت اندیشوں نے انہیں اپنی جوتا چوری کرنے کی ٹھرک پورا کرنے کا وسیلہ بنالیا․ سوچ کے فرق نے ’ آدمیوں‘ میں سے ہی کچھ کو خدا کا اور کچھ کو ابلیس کا رفیق بنا ڈالا ․۔

۔
بقول نظیر اکبر آبادی#:۔۔۔۔۔۔ # مسجد بھی آدمی ہی نے بنائی ہے اے میاں ! اور آدمی ہی بنتے ہیں امام اور خطبہ خواں
 اور آدمی ہی اُنکی چُراتے ہیں جوتیاں جو اُنکو تاڑتا ہے سو ہے وہ بھی آدمی!
مساجد سے جوتے یا جوتیاں چُرانے کی وارداتیں عام ہونے او ر ان میں ہر قسم اور قماش کے لوگوں کے ملوث ہونیکی وجہ سے نمازی مسا جد کے ارد گرد منڈلانے والے ہر شخص کو شک کی نظر سے دیکھتے ہیں․ حتیٰ کہ بظاہر بزرگ اور پارسا بندے کو بھی مسجد کی طرف بڑھتے دیکھ وہ بعد از نماز مسجد سے باہر رکھے اپنے جوتوں کی دستیابی کے بارے میں فکر مند ہو جاتے ہیں․ مساجد کی انتظامیہ بھی نمازیوں کو محض جوتا چوروں سے ہشیار رہنے کی تنبیہ کر کے ہی اپنے فرض سے سبکدوش ہوجاتی ہے:۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ # اپنے جوتوں سے رہیں سارے نمازی ہشیار اِک بُزگ آتے ہیں مسجد میں خضر کی صورت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 مساجد کے باہر سے جوتا چوری کی وارداتوں کے تسلسل کی وجہ سے نمازیوں لیئے اسکے علاوہ کوئی چارہء کار نہیں رہا کہ گھر میں دستیاب سب سے پھٹیچر جوتے پہن کر اللہ کے گھر کی طرف اللہ کے سامنے حاضری کے لیئے جائیں․ نئے جوتوں کی تو یہ بدبخت جوتا چور گویا تاک میں ہوتے ہیں․ بعض جوتا چور تو بازار سے نیا جوتا خریدنے کو پرلے درجے کی حماقت سمجھتے ہیں اور حسبِ موقع یہ ضرورت مساجد کی دھلیز سے ہی پورا کرتے ہیں بلکہ کوے کی طرح دوسروے جوتا چوروں کو بھی اس کی ترغیب دیتے رہتے ہیں :۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ # فجر کا وقت ہے اور ہے مسجد بھی قریب ا ُ ٹھیئے! صاحب کہ پیغامِ عمل لایا ہوں 
 گھر میں موجود ہیں جتنے بھی پُرانے جوتے آپ بھی آئیں بدل میں بھی تو بدل آیا ہوں ! 
 نمازی بیچاروں کے جوتے چوری کرکے یہ بد بخت جوتا چور نہ صرف انکو مالی نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ نماز کے بعد کافی دیر تک ان بیچاروں کو اپنے گُم گشتہ جوتوں کی تلاش میں مساجد کے گر د و نواع میں سرگرداں رکھ کر انہیں ذ ہنی ازیت کا شکار ا ور لوگوں کیلئے تماشہ بنا کر رکھ دیتے ہیں․ ایسے نمازی کو ،کہ جسکے جوتے چوری یا لا پتہ ہوجاتے ہیں ، تلاش میں بظاہر اسکی مدد کر نے والے حضرات طرح طرح کے مشوروں سے بھی نوازتے جاتے ہیں ۔

۔ ’ اعلان کرا دو۔۔۔ کسی نے تمہارا جوتا اُٹھا لیا ہے ، تُم کسی اور کا اُٹھا کر ٹوٹل پورا کر لو۔۔ اس کہتے ہیں کرے کوئی بھرے کوئی!۔۔‘ ان مفت کے مشوروں سے متا ثرہ نمازیوں کی طرف سے اکثر اوقات مساجد سے ایسے معصومانہ اعلان سننے کو ملتے ہیں کہ جنہیں سُن کر اعلان کرانیوالے کی سادگی پر مر جانے کو دل چاہتا ہے: ٹر یلر کے طور پرایک ایسے ہی اعلان کامتن ملاحظہ ہو ، ’ کوئی صاحب غلطی سے مسجد سے اپنے جوتے بدل کر لے گیا ہے․․․ براہِ مہربانی وہ جوتے واپس کرکے اپنے جوتے لے جا ئے ؛ اعلان کے دس روپے بھی ساتھ لیتا آئے․ ‘ یوں تو زیادہ تر ایسے نمازی جنکے جوتے مساجد سے چُرا لیئے جاتے ہیں، بلآخر مایو س ہو کر ننگے پاؤں ہی گھر کو سدھارتے ہیں مگر اس قسم کا اعلان کرانے والے نمازی تو برہنہ پا عازمِ گھر ہونے کے علا وہ طرح طرح کے تبصروں کی صورت میں لوگوں کی تضحیک کا نشانہ بھی بنتے ہیں․ بھلا مساجد سے جوتے چُرانے والے ایسے سکہ بند چو ر بھی کبھی مالِ مسر وقہ کو واپس کرنے کا سوچ سکتے ہیں جو ا س مالِ مفت کو اللہ کی دین سمجھتے
 ہوں؟بقول شاعر:۔

۔۔۔۔۔۔۔۔ # میں جو جوتا اُٹھا کے لایا ہوں یہ نہ سمجھو چُرا کے لایا ہوں
 اسکو اللہ کی دین ہی سمجھو اسکے گھر سے اُٹھا کے لا یا ہوں! 
نتیجے میں چشمِ فلک یہ منظر اکثر دیکھتی ہے کہ اکثر نمازی اپنے جوتے بغل میں دبائے مسجد کے اندر ہی اُنکے لیئے کوئی محفوظ کونہ تلاش کررہے ہوتے ہیں ․ زیادہ رش کے دنوں میں خصوصاً ،عیدین اور جمعتہ الوداع کے موقع پر ، اکثر نمازی اپنے جوتے صف بندی کے دوران اپنے پیچھے رکھ دیتے ہیں جو کہ پچھلی صف کے نمازیوں کے آگے ہوتے ہیں ․جوتا چوروں کے ڈر سے پیدا ہونے والی اس صورتِ حال پر کافی بحث وتمحیص ہوتی رہتی ہے کہ اس طرح نماز ہو جاتی ہے کہ نہیں․ مگر نمازی وا عظ کے فتوؤں کے باوجود جوتوں کو سب سے آخری صف سے پیچھے رکھنے کا رسک لینے پر تیا ر نہیں:۔

۔۔ کہا واعظ نے جو ہو جو تا آگے تو پھر سجدہ نہیں ہوتا کہااُس نے کہ جو ہو جوتا پیچھے تو پھر جوتا نہیں ہوتا۔۔۔۔۔۔ مساجد سے جوتے چُرانے والے دل کے خوش رکھنے کو بھلے ، اپنے تئیں، ان مسروقہ جوتوں کو اللہ کی دین سمجھتے رہیں مگر عام لوگ انکی اس حرکت کو گُناہِ کبیرہ اور قابلِ گردن زنی
 سمجھتے ہیں مگر بعض جوتا چور ایسے بھی ہیں جو کہ مجرم ہونے کے باوجود محرم سمجھے جاتے ہیں․ہمارے ہاں شادیوں میں دلہن دل کی چوری کی مجرم ہونے کے باوجود دھڑلے سے اپنے دُلھا کو یہ تڑی کراتی ہے کہ ۔

۔۔ ع۔۔ میں آں محرم توں ایں مجرم دفعہ میں کیڈی لاواں جی کردا اے عمر قید دا تینوں حکم سُناواں۔۔ ۔ مگر ایسے موقع پر اصلی تے وڈی چور اسکی بہنیں ، یعنی دلھے کی سالیاں ، ہوتی ہیں جو دودھ پلائی کی رسم کے دوران اکثر چپکے سے دولھے میاں کے جوتے چرالیتی ہیں اور پھر ’ چور نال چتر‘ ہونے کو ثبوت دیتے ہوئے دولھا سے اسکے اغوا شدہ جوتوں کی واپسی کے بدلے بھاری تاوان المعروف ’جوتا چرائی‘ طلب کرتی ہیں․ حیرت تو اس بات پر ہے کہ سارا خا ندان ان جوتا چوروں کی مذمت اور انہیں حوالہء پولیس کرنیکی بجائے اِنکا مطالبہ پورا کرنے کے لیئے بیچارے دولھے پر دباؤ ڈالتے ہیں․ اسے کہتے ہیں ۔

۔۔ ع۔۔ وہی زبح بھی کرے ہے وہی لے ثواب اُلٹا۔ایسے موقع پر حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے اکثر دولھوں کو اپنی ہونے والی سالیوں کے مطالبے کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا پڑتا ہے․ مگر ہمارے ایک دوست نے اپنی شادی پر اپنے سے پہلے دولھا بننے والے دوستوں کے حشر کو مدِ نظر ر کھتے ہوئے ان معزز جوتا چوروں سے نمٹنے کا ایک انوکھا نسخہ آزمایا․ دُلھن کے گھر داخل ہوتے ہوئے اُس نے معنی خیز انداز میں اپنے ایک دوست کے کان میں سرگوشی کی․ دودھ پلائی کی رسم کے دوران جب اسکی سالیوں نے جوتا چرائی کی واردات کا ارتکاب کرکے دولھا سے مسروقہ جوتوں کی واپسی کے لیئے ایک بڑی رقم کا بطور تاوان مُطالبہ کیا تو دولھا نے انکے مطالبے کی طرف دھیان دینے کی بجائے اپنے مزکو ہ ر دوست کو اشارہ کیا جس نے جھٹ سے دولھا کے بیگ سے لشکارے مارتے نئے نکور جوتوں کا جوڑا نکالا اور دولھا میاں کے قدموں میں رکھ دیا جسپر دولھا نے شوخی سے اپنی سالیوں کو مخاطب کیا او ر ان الفاظ میں اپنے مسروقہ جوتوں سے دستبداری کا حاتم طائیانہ فرمان جاری کرکے معاملہ نمٹا دیا ، ’ رکھو اپنے کول، مینوں نی چائی دے ․ ‘ ایک اور دولھے نے اپنی شادی کے موقع پر اپنی سالیوں کی ریشہ دوانیوں کا توڑ کرنے میں ہمارے دوست سے بھی بڑھ کر پھرتی کا مظاہرہ کر ڈالا؛ مثل مشہور ہے کہ ’ چوراں نوں پے گئے مور ․ ‘ لگتا ہے یہ ضرب المثل گھڑنے والے دانشور کوبھی کسی ایسی ہی صورت ِ حال کا سامنا کرنا پڑا ہوگا جسکا سامنا اس شوخ دولھے کی خود کو فنکار سمجھنے والی سالیوں کو دودھ پلائی کی رسم کے دوران کرنا پڑا تھا ․ اس نے اپنی سالیوں کی طرف سے جوتا چھپائی یا چرائی کی رسم کی صورت میں کی جانے والی جوتا چوری کی واردات کا بھر پور جواب دینے کے لیئے پیشگی بندوبست کررکھا تھا․ اس سے پہلے کہ اسکی سالیاں اسکے جوتوں کو غائب کرنے میں کامیاب ہوتیں ، دولھا میاں نے اپنے تیز وطرار دوستوں کے زریعے شادی کی رسموں کے لیئے مختص کمرے میں بچھے قیمتی قالین کیو جہ سے کمرے سے باہر اتاری گئیں خرمستیوں میں مصروف اپنی سالیوں اور دیگر خواتین کی جوتیاں، تھرا کے ، غائب کرادیں․ جسکا پتہ چلنے پر دولھا مزکور کی سالیاں دولھا سے جوتا چُھپائی یا چرائی کی وصولی کو بھول کریہ کہتے ہوئے اپنے اپنے جوتے تلاش کرنے میں مصروف ہوگئیں کہ
 :۔

۔۔ # نبھا ئی جارہی تھیں ساری رسمیں مگر پاپوش پر ہی زور نکلا 
 ہمیں جوتا چرائی کیا وہ دیتا وہ دولھا خود بھی جوتا چور نکلا ! 
 جوتا چورو! تمہیں اگرخود نماز پڑھنے کی توفیق نہیں تو دوسروں کو تو اطمینان سے نماز ادا کرنے دو․ با جماعت نماز کے دوران تمہاری طرف سے ممکنہ جوتے چوری کے خدشات نمازیوں کے خشُوع و خضوع پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں․کیا تمہیں اللہ کے غضب سے ڈر نہیں لگتا․ کیا بقول با با بلھے شاہ تم نے بھی یہ سمجھ رکھا ہے کہ۔

۔۔ ع۔۔ بلھے شاہ اساں مرناں ناہی، گور پیا کوئی ہور ! یاد رکھو! تم انسان کی نظر سے تو بچ سکتے ہو مگر اللہ کی پکڑسے نہیں! لہذا ، اس سے پہلے کہ تم اللہ کے غضب کا نشانہ بنو اس قبیح حرکت سے توبہ کرلو! شادی کی رسمیں پیار کی رسمیں ہوتی ہیں مگرہمیں ایسی رسموں سے پر ہیز کرنا چاہیئے جو مہنگی اور چوری جیسے قبیح فعل کی ریفائنڈ شکل ہوں․ اغیار اکثر مسلمانانِ عالم پر یہ پھبتی کستے رہتے ہیں کہ ا تحادبین المسلمین کے فُقدان ہونے کی وجہ سے اُمتِ مسلماں میں باہم میں جوتم پیزار اور جوتیوں میں دال بٹنے کا عمل جاری وساری رہتا ہے ․ایسے میں بھلا اُمتِ مسلماں ہمارے لیئے کیا خاک خطرہ ثابت ہوسکتی ہے؟ ہمیں قرآن وسنت کی تعلیمات پر عمل پیرا ہوتے ہوئے اسلام کے دُشمنوں کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جا نا چاہئیے اور اپنے ارسم ورواج کو اسلامی تعلیمات کے مطابق ڈھال کر مالکِ کائنات کی خوشنودی حاصل کرنے کا سا مان کرنا چاہیئے 

Your Thoughts and Comments