Kach Puncher

کچا پنکر

عطاالحق قاسمی جمعرات اپریل

Kach Puncher
ماڈل ٹاؤن ایف بلاک میں پروفیسر منان یٰسین کا گھر تلاش کرتے ہوئے جب میں نے بائیں جانب ٹرن کیا تو کچھ یوں محسوس ہوا جیسے موٹر سائیکل کو میرا موڑ کاٹنے کا فیصلہ کچھ زیادہ پسند نہیں آیا کیونکہ ان لمحوں میں مجھے اس ”شیطانی چرخے“ کو قابو رکھنے میں خاصی دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ تھوڑی دیر بعد مجھے ایک بار پھر یوں لگا جیسے موٹر سائیکل کا پاؤں بھاری ہو گیا ہے، اس بار میں نے چیک کرنے کے لئے نیچے اتر کر اسے اسٹینڈ پر کھڑا کیا اور اگلا ٹائر ”ٹوہ“ کر دیکھا تو پتہ چلا کہ یہ پنکچر ہو چکا ہے۔


”اب کیا کیا جائے؟“ میں نے رفیق نشست احمد حسن حامد سے کہا: ”اس خوبصورت بستی میں ، میں نے زندگی کے پندرہ بیس برس گزارے ہیں اور میں جانتا ہوں یہاں قرب و جوار میں موٹر سائیکلوں کی کوئی دکان نہیں ہے اور اگر ہے بھی تو آج جمعہ ہے“۔

(جاری ہے)


حامد نے تجویز پیش کی کہ اسے گھسیٹ کر بس سٹاپ تک لے جاتے ہیں، پھر دیکھیں گے کہ کیا کرنا

ہے۔


بس سٹاپ بھی کچھ اتنا نزدیک نہیں تھا، چنانچہ ایک گھوڑے کی طاقت کے مالک (100cc) اس موٹر سائیکل کو چند قدم گھسیٹنے کے بعد میرا سانس پھول گیا اور میں نے محسوس کیا کہ اس گھوڑے کے مقابلے میں ، میں ایک لاغر گھوڑا ہوں۔ اتنے میں ایک کار قریب آ کر رکی، اس میں مکیش بیٹھا تھا اور وہ میری طرف دیکھ کر دانت نکال رہا تھا۔ مکیش کا اصل نام جاوید تھا مگر وہ بچپن میں مکیش کے گانے ہوبہو مکیش کی آواز میں دوستوں کو سنایا کرتا تھا جس سے اس کا نام مکیش پڑ گیا۔

مکیش نے کہا ”تم موٹر سائیکل کار کی ڈگی میں رکھو ، یہاں قریب ہی ایک سائیکلوں کی دکان ہے جو موٹر سائیکلوں کے پنکچر بھی لگاتا ہے۔ذرا دیکھتے ہیں وہ دکان آج کھلی بھی ہے یا نہیں؟“
دکان بند تھی البتہ ایک لڑکا ایک سائیکل میں پمپ سے ہوا بھر رہا تھا، لڑکے نے بتایا کہ اس کے پاس کھوکھے کی چابی تو ہے لیکن جمعہ کی نماز کا وقت چونکہ قریب ہے اس لئے اس کے پاس پکا پنکچر لگانے کا وقت نہیں کیونکہ اس کے لئے بھٹی گرام کرنا پڑے گی البتہ وہ کچا پنکچر لگا دے گا۔

تاہم اس نے ہمیں مشورہ دیا کہ یہ عارضی پنکچر لگوانے کے بعد ہم وقت ضائع کئے بغیر ہی سی بلاک میں واقع موٹر سائیکلوں کی دکان سے پنکچر لگوا لیں کیونکہ اس صورت میں یہ کسی بھی وقت دوبارہ پنکچر ہو سکتا ہے۔
موٹر سائیکل میں سائیکل کا پنکچر لگوانے کے بعد میں نے احمد حسن حامدکو جلدی سے بیٹھنے کے لئے کہا اور پھر میں نے موٹر سائیکل کا رخ فل سپیڈ پر سی بلاک کی طرف موڑ دیا۔

میں جلد سے جلد وہاں پہنچنا چاہتا تھا کہ عارضی پنکچر کہیں راستے ہی میں نہ اکھڑ جائے اور یوں ہمیں پریشانی کا سامنا کرنا پڑے۔ راستے میں شک پڑنے پر میں نے ایک جگہ موٹر سائیکل کھڑا کیا اور اگلے پہیے کی ہوا چیک کی اور مجھے بڑی خوشگوار سی حیرت ہوئی کہ ہوا اپنی پوری مقدار میں موجود تھی۔
سی بلاک میں پنکچر کی دکان کھلی تھی ، میں نے وہاں بریک لگائی اور ایک بار پھر ہوا چیک کی تو وہ ٹھیک تھی چنانچہ میں نے حامد سے کہا : ”یہ دکاندار مصروف ہے آگے کسی دوکان سے پنکچر لگوا لیں گے“۔

اور پھر موٹر سائیکل کا رخ فیروز پور روڈ کی طرف پھیر دیا، راستے میں پنکچر کی دو ایک دکانیں کھلی تھیں مگر مجھے گھر پہنچنے کی جلدی تھی چنانچہ میں اسی طرح چلتا ہوا اپنے گھر ونڈسر پارک پہنچ گیا، میں نے سوچا پکا پنکچر کل لگوا لیں گے۔
اگلے روز صبح گھر سے نکلتے وقت میں نے اگلا ٹائر چیک کیا اور مجھے یہ جان کر مسرت ہوئی کہ ابھی تک ہوا کی پوری مقدار اس میں موجود ہے تاہم میں نے فیصلہ کیا راستے میں کہیں سے پکا پنکچر لگوا لیا جائے تاکہ پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے لیکن یکے بعد دیگرے کی فوری مصروفیات کے باعث میری یہ خواہش پوری نہ ہو سکی، اس دوران میں کئی دکانوں کے سامنے سے بھی گزرا، مگر اپنی شدید مصروفیات کی وجہ سے پنکچر نہ لگوا سکا، تاہم اس تمام عرصہ میں میرے دل کو ایک دھڑکا سا لگا رہا کہ کہیں یہ چلتے چلتے اچانک پنکچر نہ ہو جائے۔

چنانچہ شام کو جب میں بخیریت گھر پہنچ گیا تو میں نے خدا کا شکر ادا کیا اور اس کے ساتھ ساتھ دل میں تہیہ کیا کہ صبح اٹھتے ہی سب سے پہلا کام یہ کروں گا کہ ”ایک گھوڑے کی طاقت کے مالک“ اس موٹر سائیکل کو پکا پنکچر لگواؤں گا۔ مگر جب اگلی صبح میں نے ٹائر کو صحیح حالت میں پایا تو میرے اندر ایک نئی خوداعتمادی پیدا ہوئی اور میں نے سوچا کہ کچا پنکچر بھی کوئی ایسی کچی چیز نہیں ہے۔

اس ضمن میں مزید تقویت مجھے اپنے بعض دوستوں کی طرف سے حاصل ہوئی جنہوں نے مجھے یقین دلایا کہ کچے پنکچر اور پکے پنکچر میں کوئی فرق نہیں، اصل چیز مستری کی مہارت ہے۔ اگر پنکچر لگانے والا ماہر ہو تو کچا پنکچر بھی لوہے کی طرح مضبوط ہو جاتا ہے اور اگر وہ اناڑی ہو تو پکا پنکچر بھی عارضی ثابت ہو سکتا ہے لہٰذا تم بے فکر ہو کر موٹر سائیکل چلاؤ، خطرے کی کوئی بات نہیں۔

چنانچہ میں نے اپنے ذہن کے سارے خدشات جھٹک دیئے اور یہ فیصلہ کیا کہ پکا پنکچر لگوانے پر وقت ضائع کرنے کی ضرورت نہیں اور پھر میں پورے اعتماد سے پورے شہر میں موٹرسائیکل پر دندناتا رہا۔
جب اگلے روز شہر سے گیارہ میل دور ایک ویران جگہ پر موٹر سائیکل کا کچا پنکچر اچانک اکھڑ گیا تو مجھے شدید غصہ آیا اور آج کئی دن گزرنے کے بعد بھی میں اس کوفت کا سوچتا ہوں جو اس واقعہ کی وجہ سے مجھے اٹھانا پڑی تو ایک بار پھر جھنجھلا اٹھتا ہوں۔

یہ اسی کوفت کا نتیجہ ہے کہ میں یہ تمام واقعہ اپنے تمام دوستوں کو اس تفصیل کے ساتھ سناتا ہوں مگر وہ بیچ ہی میں بور ہو جاتے ہیں اور ”اباسیاں“ لینے لگتے ہیں۔ بس ایک دوست ایسا تھا جس نے یہ واقعہ پوری دلچسپی سے سنا اور پھر آخر میں ایک ٹھنڈی سانس بھر کر کہا :
”یہ واقعہ صرف تمہارے ساتھ ہی پیش نہیں آیا۔ بارہا پوری قوم کے ساتھ پیش آ چکا ہے، جب کبھی گاڑی کا کوئی پہیہ پنکچر ہوتا ہے مارشل لاء کا کچا پنکچر لگا دیا جاتا ہے اور کچھ عرصہ گزرنے کے بعد ٹائر میں ہوا کی پوری مقدار برقرار رہنے اور دوستوں کی طرف سے حوصلہ افزاء مشوروں کے نتیجے میں ڈرائیور میں خود اعتمادی پیدا ہو جاتی ہے اور اس کچے پنکچر ہی کو پکے پنکچر کا متبادل سمجھنے لگتے ہیں، جس کا نتیجہ تمہارے سامنے ہے۔

خیر چھوڑو ! یہ بتاؤ پھر تم نے موٹر سائیکل کا کیا کیا؟“
”کرنا کیا تھا؟“ میں نے کہا: ”مجھے قریباً تین میل تک اسے گھسیٹنا پڑا مگر موٹر سائیکلوں کی کوئی دکان نظر نہ پڑی یہاں بھی سائیکلوں ہی کی ایک دکان دکھائی دی جہاں مستری نے کچا پنکچر لگایا اور مجھے ہدایت کی کہ اولین فرصت میں پکا پنکچر لگوا لوں“۔
”پھر تم نے پکا پنکچر لگوایا کہ نہیں؟“دوست نے پوچھا۔


”ایک دو دن میں انشاء اللہ لگوا لوں گا“ میں نے جواب دیا ”ویسے موٹر سائیکل ٹھیک ٹھاک چل رہا ہے، میں نے متعدد بار اس کی ہوا چیک کی ہے، سب ٹھیک ہے۔ اور پھر یار ! یہ کوئی ضروری تو نہیں کہ ہر بار کوئی تلخ تجربہ ہی ہو، مجھے تو یہ مستری پہلے مستری سے بہتر لگا ہے، اصل چیز تو مہارت ہے نا۔ میرے خیال میں اب کے کچا پنکچر چل جائے گا۔ کیا خیال ہے تمہارا ؟

Your Thoughts and Comments