Kal Ki Panghat,aaj Ka Flutter

کل کی پن گھٹ، آج کا فلٹر

امجد محمود چشتی پیر فروری

Kal Ki Panghat,aaj Ka Flutter
زمانے میں تغیرات کو ثبات حاصل ہونا عین فطری تقاضہ ہے۔وقت کے ساتھ ساتھ حسب ِ ضرورت چیزوں ، روّیوں،روائیتوں اور اقدار کا بدلنا لازمی امر ہے۔ کچھ معمولات مکمل بدل جاتے ہیں تو کچھ قدرے تبدیلی کا شکار ہوکر مختلف دِکھتے ہیں۔ مگر بعض روایات کچھ عرصہ غائب رہ کر گردش ِ ایاّم کے باعث پھر سے کسی نہ کسی طرح مروج ہوکر معاشرے میں اپنا مقام بنا لیتی ہیں۔

مثلاً اِک دور تھا کہ ہر گھر میں پانی دستیاب نہ تھا اور گاؤں کی گوریاں مٹی کے مٹکے اٹھا ئے گاؤں کے مرکز میں کنووں یا آبادی سے ہٹ کر واقع پنگھٹ سے پانی بھرنے جاتی تھیں۔ وقت کا پہیہ چلتا رہا اور بتدریج ہر محلہ اور ہر گھر میں ٹوٹیاں ، نلکے اور پمپ نصب ہونے لگے۔ اور باہر سے پانی بھر کر لانے کی ضرورت جاتی رہی۔ پنگھٹ اور گوری ماضی کا حصہ بن گئیں۔

(جاری ہے)

پھر انسان ترقی و کامرانی کی منزلیں طے کرتے ہوئے ترقی کی خطرناک حد تک جا پہنچا۔ کہ اپنے ہاتھوں سے پینے کے زیرِ زمین پانی کو آلودہ کرنے لگا۔ جس سے بیماریوں کے انبار لگ گئے اور پینے کا صاف پانی نا پید ہونے لگا۔
 اب صاف اور فلٹر کا پانی ضرورت ٹھہر چکا ہے۔ حکومتی سطح پر شہروں اور قصبوں میں جگہ جگہ واٹر پلانٹ لگائے جا رہے ہیں۔ اور لوگوں کیلئے اپنے گھر میں نصب نلکوں یا پمپوں کا پانی پینے کے قابل نہیں رہا۔

پھر سے لوگ شہر کے فلٹروں سے پانی بھرنے جاتے اور آتے نظر آتے ہیں۔ مگر دورِ رفتہ کی پنگھٹ اور آج کی پنگھٹ میں کچھ نمایاں فرق موجود ہے۔ ماضی میں سکھیوں سہیلیوں کے ہوش ربا قافلے مٹک مٹک کر خوبصورت منقش مٹکے اٹھائے رواں دواں نظر آتے تھے۔ ہر لحاظ سے پُر خطر رستوں پہ چلنے والی گوریاں اپنے گھر والوں کیلئے پانی کی ترسیل کی ذمہ دار ہوتی تھیں۔

اُن پنگھٹوں کے ڈگر بڑے کٹھن ہوتے تھے۔جن پہ کبھی کبھی چال اور رفتار میں بدنظمیاں بھی دیکھنے میں آتی تھیں۔دل پھینک عشاق کیلئے وہ لمحات بڑے قیمتی ہوتے تھے۔ کہیں راہوں میں آنکھیں بچھتی تھیں تو کہیں کسی پہ آنکھیں آجانے کے امکانات رہتے۔ ہاتھوں سے دل تھامے جاتے تو دوسری طرف بھی دل میں لڈو پھوٹا کرتے ۔ لاکھ تھم تھم کر چلنے کے باوجود پائیلوں میں چھم چھم کے گیت چھپ نہ پاتے۔

ان مسحور کن پنگھٹوں کی دل کش راہ گزروں پر خوب رونقیں اور میلے لگتے۔ مٹی کے برتنوں کو کنکر بھی لگا کرتے تھے اور بہت سے نند لال پنگھٹ پہ چھیڑ خوانی کی غرض سے براجمان ہواکرتے تھے۔ان حالات میں اُن مٹکوں اور عصمتوں کا تحفظ جوئے شیر لانے سے کم نہ تھا۔
مگر آج فلٹر والی پنگھٹ پہ وہ عشقیہ و معشوقیہ سرگرمیاں نظر نہیں آتی ہیں۔ کیونکہ آج پانی بھرنے کیلئے وہ نازک اندام گوریاں ان ماڈرن پنگھٹوں پہ کہاں آتی ہیں؟ بلکہ اُن کی جگہ بے شمار گورے ، کالے، بھینگے ، گنجے اور ہمہ قسم کے مرد حضرات پلاسٹک کے کینز اور بوتلیں تھامے غیر رومانوی انداز میں مضطرب کھڑے نظر آتے ہیں۔

ان کے راستوں میں کوئی کہکشاں نہیں ہوتی۔ ان بے چاروں کی خاطر کوئی گوری منتظر نہیں ہوتی بلکہ انہیں با دلِ نخواستہ اپنی ہی گھر والی اور گھر والوں کے لئے فلٹر سے پانی لانے کا فریضہ انجام دینا ہوتا ہے۔ کچھ لوگ سائیکلوں، سکوٹروں رکشوں اور گاڑیوں پہ پانی بھرنے آتے ہیں۔ لیکن یہ کہنا بجا ہوگا کہ لوگ پھر سے دور سے پانی بھر کر لانے کی روایت کی طرف مجبوراً لوٹ رہے ہیں۔

اب ہم اپنے گھروں کے آلودہ اور مضرِ صحت پانی پینے سے کتراتے ہیں۔آج صاف پینے کے پانی کی کامیابی دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ بنتا جارہا ہے۔لگتا ہے کہ جلد ہی ،،جوئے شیر لانے، کا محاورہ ، جوئے آب لانے میں تبدیل ہو جائیگااور مستقبل میں شرم سے پانی پانی ہونے اور دودھ میں ملانے کیلئے بھی صاف پانی کی مناسب مقدار دستیاب نہ ہو۔ہمارے گذشتگان کے لئے پانی کی فراہمی پنگھٹوں کی مرہونِ منت تھی اور موجودگان فلٹروں سے تشنگی کا مداوا کرتے ہیں جبکہ آئیندگان اپنی حیرت انگیز مگر بے ثمر ترقی کے موجب پینے کے صاف پانی کی نعمت ِ عظیم کو ترستے نظر آرہے ہیں۔

یہ تھی پنگھٹ سے فلٹرتک کی کہانی،البتہ اس دور میں بھی ریگستانی علاقوں میں پرانی پنگھٹیں موجود ہیں جن سے آج بھی انسان اور جانور اکٹھے پانی پیتے ہیں۔

Your Thoughts and Comments