Khawateen Oh Hazrat Episode 1

خواتین و حضرات قسط نمبر 1

شہزادہ رضا ہفتہ اپریل

Khawateen Oh Hazrat Episode 1
شہزادہ رضا
بلاشبہ اللہ تعالیٰ کی سب سے خوبصورت تخلیق” خواتین و حضرات“ آپ ہی ہیں ۔
کائنات کے اس کینوس پر موجود رنگ آپ دونوں کی وجہ سے موجود ہیں99%............اور1%کے تناسب سے۔
جی ہاں میرے مرد بھائیو، وہ 1%آپ کا گندمی رنگ ہی ہے،
خواتین اپنے لباس ، وضع قطع اور طرز زندگی میں باقاعدہ ایک قوسِ قزح کا درجہ رکھتی ہیں۔ جبکہ مرد حضرات قدرت کے چند فیصلوں کی وجہ  سے گاڑی میں بیٹھے گاڑی اور پیدل چلتے ہوئے سڑک کا حصہ ہی دکھائی دیتے ہیں۔

اپنی بیوی یا گھر کی دوسری خواتین کے وارڈ روب کو دیکھنے کے بعد اپنے وارڈ روب میں لٹکتی وائٹ، بلیک اور گرے شرٹ اور بلیو/بلیک جینز دیکھ کر دل گرفتہ مت ہو ں۔ اِس میں بھی اللہ کی طرف سے کوئی بہتری ہوگی،آپ کی ان محرومیوں کا بدل یقینا اللہ کے ہاں روز قیامت محفوظ ہے۔

(جاری ہے)


بات رنگوں کی چل نکلی ہے تو یقین مانیں ہم مردوں کے نزدیک دنیامیں سفید ، سیاہ، نیلا ، پیلا، سرخ اور پنک کلر ہی پائے جاتے ہیں ۔

بیوی کی فرمائش پر سرخ رنگ کی نیل پالش یا لپ سٹِک لینے جاتے ہیں،
بڑے اہتما م سے scarletیا Rubyکلر کی آئٹم پیک کروا کے لے آتے ہیں اور بیوی کے سر پیٹنے کے باوجود بضد رہتے ہیں کہ ” سُرخ ہی تو ہے۔مردوں کے نزدیک کا ر نیشن ، سٹرابیری، ببل گم ، یا مگنیٹا کاکوئی وجود نہیں........... وہ ان تما م رنگوں کو پنک ہی گردانتے ہیں۔ سائنسی تحقیق کے مطابق مردوں میں کلر بلائنڈ نیس زیادہ ہوتی ہے رنگوں کے اس اندھے پن کی وجہ(ایکس) کرو موسوم ہوتے ہیں جوکہ مردوں میں ایک اور عورتوں میں دو عدد ہوتے ہیں ۔

طے پایا کہ مردوں کی زندگی میں پھیکا پن قدرے زیادہ ہو تا ہے۔
مگر اللہ نے اِس کی جگہ ہم مردوں کو ’ حِس مزاح‘ جیسی دولت سے مالا مال کر رکھا ہے۔
خواتین کو عموماََ ہماری جُگتیں سمجھ نہیں آتیں ، وہ بس ہمارا ساتھ دینے کے لیے ہنستی ہیں،
MBA کی بزنس کمیونیکشن کی کلاس کو لیکچر دیتے ہوئے میرے ایک شرارتی سٹوڈنٹ کی جُگت کا جواب میں نے بھی اُسی انداز میں دیا تو پوری کلاس زعفرانِ زار بن گئی، لڑکیوں نے بھی قہقہوں کی اس برسات میں برابر کا ساتھ دیا ، میرے لیے لڑکیوں کا یہ ردِّعمل بالکل انہونی تھا ،تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کر اگلے دِن میں نے اُن لڑکیوں سے کلاس ختم ہونے کے بعد پوچھ ہی لیا کہ ” بیٹا آپ لوگ کل کلاس میں کیوں ہنسے تھے؟“
جواب ملا” سر وہ نہ آپ انگلش بولتے بولتے اچانک پنجابی بولنے لگ گئے تو اِس بات پہ ہمیں بہت ہنسی آئی “۔

۔۔
اب کی بار ہنسنے کی باری میری تھی۔
لیکن ساتھ ہی شکر ادا کیا کہ میرا ثیت کے وہ لمحے اُن کے لیے بالکل قابِل فہم نہ تھے ورنہ میرے لیے مسائل بڑھ سکتے تھے۔
خواتین عموماََ بے ضرر باتوں پہ ہنستی ہیں ، مثلاََ ”( ارے تم لوگ اتنی جلدی آگئے؟ہاہاہاہا
” اُ س کا میاں دیکھا ہے ؟ اتنا لمبا ؟ بالکل جِن لگتا ہے ۔ ہاہاہا ہا ہا“
پاکستانی خواتین کو عموماََ ہنسنے ہنسانے والے مرد اچھے لگتے ہیں ۔

میکے سے دوری اور سنجیدہ و رنجیدہ ڈراموں کی اکثریت سے پیدا ہونے والی دماغی قنوطیت سے چھٹکارہ پانے کے لیے اگر شوہر ذرا ہنس مُکھ ہو تو انہیں زندگی کا احساس رہتا ہے وگرنہ،
خواتین اور خودکشی کے درمیان محض جہنم جانے کا خوف ہی حائل ہو تا ہے۔
ہماری خواتین بظاہر بہت مذہبی ہوتی ہیں۔
شو ہر کی آنکھوں کا بدلتا رنگ اور شیطانی مسکراہٹ دیکھتے ہی اِن کے اندر کی رابعہ بصری جاگ جاتی ہے۔

اور یہ خود کو قضا ہوتی نماز یا گھر کے
دوسرے غیر ضروری کام یاد دلا کر کھسک لیتی ہیں۔
پھر واپسی تبھی ممکن ہوتی ہے ، جب شوہر اپنی نا تمام آشاؤں کی چِتا جلا کر تھکن اور انتظار کے ہاتھوں نیم مُردہ ہو کر نیند کے شمشان گھاٹ پہنچ چکا ہو تا ہے ۔
ماہرین نفسیات کے مطابق ہم مرد حضرات قدرے FACTUAL یعنی حقیقت پسند ہو تے ہیں ، جبکہ خواتین زیادہ INTUITIVE یعنی دِلی وجدان کی قائل ہو تی ہیں۔


چنانچہ لمبے سفر پر جانے سے پہلے اگر آپ گاڑی کے گنجے ہوتے ٹائر بدلنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو بیگم صاحبہ یہ کہہ کر آپ کا اِرادہ ڈگمگا دیں گی کہ ” اللہ مالک ہے، میں نے دو نفل پڑھ لیے ہیں ، سفر خیریت سے کٹے گا ، ٹائروں کا معاملہ اگلی تنخواہ پہ دیکھا جائے گا۔“
خواتین کی یاداشت میرے خیال کے مطابق مردوں سے 3.6ملین گُنا زیادہ ہو تی ہے،
 آپ کے سچے جھوٹے تما م معاشقوں (جوآپ نے جذبات کی رو میں بہک کر شادی کے اوائل میں شےئر کیے ہوتے ہیں) کی تاریخوں سے لیکر آپ کے تمام دوستوں اور اُنکی بیگمات کے فون نمبر ز انہیں زبانی یا د ہوتے ہیں ،
تمام غیر شادی شدہ حضرات سے اپیل ہے کہ آپ پہلے دن سے لیکر آج تک بھول کر بھی اپنے کسی سابقہ معاشقے کا ذِکر تک اپنی بیوی سے نہ کیجئے گاورنہ کبھی آپ کا پوتا بھی کوئی غلط حرکت کرتے پکڑا گیا تو دادی یہی کہے گی ،”نسل ہی ایسی ہے“۔


خواتین کو بچوں کی تاریخ پیدائش اور وہ لمحے بھی یاد ہو تے ہیں جب وہ نسوانیت کی معرا ج کو چھُوتے ہوئے ماں بننے کے تکلیف دہ عمل سے گزرتی ہیں جبکہ مرد اکثر بچوں کی تاریخ پیدائش تک بھول جاتے ہیں،
کچھ لا پرواہ مرد تو ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں صِرف اتنا معلوم ہو تا ہے کہ اُنکے گھر میں چند چھوٹے قد کے انسان رہتے ہیں جو ہمہ وقت شور مچاتے ہیں۔

میں خود بار ہا اس تجربے سے گُزرا ہوں، امریکہ اور کینیڈا میں قیام کے دوران میری دو چار بار باقاعدہ سُبکی ہوئی جب میں اپنے ایک بچے کی تاریخ پیدائش کا سال بھو ل گیا ۔ یہ اُس معاشرے میں ناقابل معافی جرم تصور ہوتا ہے۔خواتین کی یاداشت بارے میری یہ غلط فہمی تب دور ہوگئی جب میں ایک مشہور جریدےMENOPAUSE جسے تحقیق کی دنیا میں سب لوگ NAMSیعنی NORTH AMERICAN MENOPAUSE SOCIETY کے نام سے جانتے ہیں کے مطابق خواتین زیادہ بھلکڑ ہوتی ہیں۔

زیادہ تر خواتین کےاندESTRDIOL LEVEL کی کمی کی وجہ سے مردوں کے مقابلہ میں اِنکی یاداشت کمزور ہوتی ہے ، او ر اِن کو BRAIN FOGGING کا مسئلہ بھی رہتا ہے ، میرا ذاتی خیال یہی ہے کہ اِس دماغی دھند کا باعث گھر میں موجود دوسری سسرالی خواتین ہوتی ہیں۔
کنگ سعود یونیورسٹی (ریاض ) سعودی عرب کی پروفیسر داکٹر زینت کا ایک آرٹیکل نظروں سے گُزرا ، جس کے مطابق مرد کا دماغ سائز میں عورت سے تقریباََ 10گنا بڑا ہو تا ہے ، اور وزن میں بھی 12فی صد زیا دہ ۔

دماغ کے حصےHYPOTHALAMUSاورCEREBELLUMمردوں میں نسبتاََ بڑے ہو تے ہیں دماغ میں موجود NEURONS کی تعداد بھی عورتوں کی نسبت مردوں میں 4فی صد زیادہ ہوتی ہے ،
تحقیق کے مطابق خواتین کا دماغ دورانِ نیند زیادہ کام کرتا ہے ، لہذا تمام شوہر برادری سے گزارش ہے کہ حفاظتی تدابیر اختیار کئے بنا مت سوئیں، کیونکہ آپ کو خواب میں کسی دوسری عورت کے ساتھ دیکھ کر بیوی کے نازک ہاتھوں کی ضرب شدید آپ کو گہری نیند سے پڑ بڑا کر اُٹھتے ہوئے ” اوہ کی ہو یا؟ کی ہویا؟“کی گردان کہنے پر مجبور کر سکتی ہے ۔


خواتین تیار ہوتے سمے انتہائی بے یقینی کا شکار ہو تی ہیں،
خود کو آئینے میں ہر زاویے سے دیکھتی ہیں ، اصل میں ان کو یقین ہی نہیں آرہا ہو تا کہ آئینے میں موجود خوبصورت سی رنگی رنگائی شخصیت یہ خود ہی ہیں۔
جہاد زند گانی میں ہم مردوں کے پاس چند ایک شمشیریں موجود ہو تی ہیں جن میں GILLETEبلیڈ، شیونگ فوم، ایک عدد DEODRANT اورکسی سابقہ محبوبہ سے تحفے میں ملا ایک پرفیوم ہوتا ہے ، ہم لوگ کوئی سابھی شیمپو استعمال کر لیتے ہیں ، بہت سے حضرات تو CONDITIONER کو ہی شیمپو سمجھ کر مزے سے شاور لے کر باہر آجاتے ہیں۔


یقین مانئے مجھے ابھی چند دِن پہلے ہی پتا چلا کہOIL REPLACEMENTنامی کوئی بلابھی موجود ہے۔
ایک سطحی سے مرد کی صبح باتھ روم میں جاکر جملہ تیاری بشمول ٹوائلٹ شیو ، اور شاور میں تقریباََ5منٹ اور 26سیکنڈ کا وقت لگتا ہے،
جبکہ خواتین کے باتھ روم میں جانے کے کافی دیر بعد تک کسی قسم کی آہٹ نہ پاکر فکر لاحق ہو جاتی ہے کہ کہیں بیگم خدا خواستہ ہماری دوسری شادی کی راہ تو ہموار نہیں کر گئی۔

۔۔۔۔ گُبھرا کہ باتھ روم کے دروازے پر دستک دینے پہ جواب ملتا ہے ” نہیں مرتی اتنی جلدی“ صبر کرو
خواتین کی میک اَپ آئٹمز کی تعدا د سینکڑوں میں ہے ، میں دعویٰ سے کہہ سکتا ہو کہ آپ مرد ان میں سے دوچار سے زیادہ کانام نہیں بتا سکتے،
ابھی حال ہی میں بیٹی نے ایک خوبصورت اور نازک سا BOTTLE OPENER خریدا، خوشگوار حیرت سے استفسار کیا تو معلوم ہو کہ وہ پلکوں کو ایک خوبصورت موڑ دینے وا لا آلہ ہے جسے EYELASH CURLERکہتے ہیں۔


میک اپ یعنی کا سمیٹکس انڈسٹری میں کام کرنے والے کا ریگروں اور سائنسدانوں میں تقریباََ 95فی صد مر د حضرات ہو تے ہیں ، جو یقیناََ نئی آئٹم بنانے وقت باقاعدہ ہاتھ پر ہاتھ مار کر ہنستے بھی ہونگے، اِس خبیث مسکراہٹ کے پیچھے میک اَپ کی تیاری میں استعمال ہونے والا وہ
خام مال ہے جس کے بارے خواتین سوچ بھی نہیں سکتیں،مثلاََ خواتین کےJF-17تھنڈر یعنی لپ سٹِک میں مچھلی کی جلد کے چھلکے (Scales)استعمال ہو تے ہیں ، جو لپ سٹک کی واٹر پروفنگ اور چمٹے رہنے کی صلاحیت میں اضافہ کرتے ہیں ۔

اور یہ خواتین اِسے لگا کر ہونٹ بھنیچ بھنیچ کر دیکھتی ہیں ۔ کچھ پرلے درجے کے شدید قسم کے کنوارے خودہی لپ سٹک لگا کر اپنی سفید شرٹ کالر کے قریب Kissکر کے نشان چھوڑ جاتے ہیں اور تقریبات میں وہی شرٹ پہنے گھومتے ہیں.............. اپنا STATUS تبدیل کا یہ انتہائی بھونڈا طریقہ ہے، اطلاعاََ عرض ہے کہ لپ سٹک میں مچھلی کے چھلکوں کے علاوہ RETINYL ACETATE , RETINYL PLMITATE اورPOLYPARABEN جیسے خطرناک کیمیکل بھی استعمال ہوتے ہیں۔

زمانہ قدیم میں میک اپ دشمن کو ڈارنے کے لیے استعمال ہوا کرتا تھا ۔۔۔۔یہ روایت آج بھی زندہ ہے۔۔ خواتین سے التماس ہے کہ میک اپ آئٹم خریدتے وقت ORGANIC ITEMS کو ترجیح دیں یا پھر آئٹم پر موجود HYPOALLERGENIC کا لفظ تلاش کریں، یہ قدرے محفوظ آئٹم کی نشانی ہو تی ہے۔
تقریبات کے لیے خواتین تیار ہونے میں بہت وقت لیتی ہیں ، اس دوران مرد حضرات سوائے صبر کے کچھ بھی نہیں کر سکتے ، اس مسئلے کا آسان حل یہ ہے کہ کسی بھی تقریب میں جانے سے قبل میزبان مر د سے ساز با ز کر کے باقاعدہ ایک ٹیکسٹ میسج کر والیں جس کے مطابق تقریب کا وقت اصل وقت سے 2گھنٹے پہلے کا ہو۔

مزید احتیاط کرتے ہوئے چپکے سے بیگم کے فون میں موجود میزبان خاتون کے نمبر کا آخری ہندسہ تبدیل کر دیں تا کہ اُن دونوں میں رابطہ نہ ہو کے،نمبر کو بعد میں اصل حالت میں لانا مت بھولیں ورنہ آپکی چالاکیاں” پُٹھی“ پڑسکتی ہیں۔
خواتین آپس میں بہت FRANK ہوتی ہیں، ہم مرد گپ شپ کے دوران باتھ روم کی اجازت طلب کر تے ہیں تو دوست جلدی واپس آنے کی ہدایت کرتے ہوئے گویا ہو تے ہیں ” اوئے! جاکر سو ہی نہ جانا“
خاتون اگر باتھ روم جانے کی اجازت طلب کرے تو ساتھی خاتون ” چلو میں بھی ساتھ چلتی ہوں“ کہہ کر اُٹھ کھڑی ہوتی ہے۔


خواتین اور مرد حضرات کا ایک دوسرے کو دیکھنے کا انداز بالکل جُدا ہو تا ہے
سامنے سے آنے والے جوڑے پر نظر ڈالتے ہوئے خاتون دوسری خاتون کے محض کپڑوں کا جائزہ لے گی جبکہ ہماری SNIPER دوسرے اہداف پہ Lockہوتی ہے۔
 خواتین کے دماغ کا حصہ جسے PREFRONTAL CORTEX کہتے ہیں ، خواتین کے سماجی رویے اور فیصلہ کر نے کی قوت کو کنٹرول کر تا ہے ، اس دماغی حصے کا اُردو ترجمہ” امّی“ بنتا ہے۔

خواتین اسی حصے کا پر مغز استعمال کر کے بچپن سے ہی احتیاط اور سیانے پن کا مظاہرہ کر تی ہیں ، لہذا ہسپتالوں کی ایمرجنسی یا ہڈی و جوڑ وارڈ میں متاثرین کی اکثریت ہر سائز کے چھوٹے بڑے مردوں پر ہی مشتمل ہو تی ہے،
آپ شاید ہی کسی خاتون کے ٹوٹے ہوئے بازوکو پلاسٹر میں لپیٹے دیکھیں گے۔
جبکہ ہم مردوں میں وہ ” جمیا“ (پیدا) ہی نہیں جس نے کم از کم ایک بار زندگی میں یہ میڈل گلے کی زینت نہ بنایا ہو،جن دِنو ں قومی شناختی کارڈ میں شناختی علامت کا خانہ ہو ا کرتا تھا،
وہاں زیادہ تر خواتین کی شناختی علامت ایک عدد ”تل“ ہوا کر تا تھا۔

۔۔ جو کبھی گال ، ٹھوڑی یا ہونٹ کے قرب و جوار میں پایا جا تا۔جبکہ مردوں کی شناختی علامات ” اپنی آنکھ کے قریب زخم کا نشان “ ماتھے پر زخم “ یا ”چہرے پر پھٹکار “ہوا کر تی تھیں۔
پروفیسر زینت کے تحقیقی نکالے کے مطابق مردوں کے دماغ کے بائیں حصہ میں زبان دانی اور دائیں حصہ میں جذبات ہوتے ہیں،
جبکہ خواتین کے دونوں حصوں میں جذبات پائے جاتے ہیں۔


اسی تحقیق کی رو سے عورت اپنی جسمانی و زہنی تکان آتار نے کے لیے فیملی سے گپ شپ کو ترجیح دیتی ہے ، جبکہ ہم مرد لو گ گھر واپس آکر صوفے پر نیم دراز ، ہاتھ میں چائے کا کپ پکڑے نیم مردہ حالت میں اپنے پسندیدہ ٹاک شوز دیکھنے لگ جاتے ہیں،
وسیم بادامی نامی انسانی لفظوں کی مشین گن کے آتے آتے ہم باقاعدہ طور پر صوفے پر ہی وفات پا چکے ہو تے ہیں۔

خواتین کی زندگی میں خوشبو ایک جزو لا ینفک ہے۔
ہزاروں قسم کے پرفیوم ، باڈی لو شن ، یہ لوشن وہ لوشن، جبکہ ہماری پسندید گی چُنی خوشبوؤں میں کون مین شو، ازارو، ہوگو باس اور پیٹرول کی خوشبو ہے۔
خواتین کے دماغ حصے CORPUS CALLOSUMمیں بچھا پچیدہ رگون کا جال مردوں سے 25فی صد بڑا ہو تا ہے جسکی بدولت یہ بیچاریاں تمام عمر حقیقت پسندی اور جذباتیت کے درمیان شٹل کاک بنی رہتی ہیں۔


ہمارے دین میں شادی شدہ خواتین کو حقوق زوجیت ادا کرنے میں تاخیر نہ کرنے کا حکم ہے۔
یہ جو ہم مردوں کو ” آخر“آئی ہوتی ہے۔ یقین مانیں ہمیں اللہ نے بنایا ہی ایسے ہے ۔ اس خرابی نیت کے پیچھے TESTOSTERONE نامی ہارمون ہو تا ہے جو خواتین کی نسبت مردوں میں 30گنا زیاد ہ پایا جا تا ہے۔
شاید اسی لیے مردوں کو ایک سے زیادہ بار شادی کرنے کی اجازت دی گئی چنانچہ ہم مردوں کی کل علومِ اسلامیہ ہمیں اس نقطے کا طواف کرتےرہنے پر مجبور کر تی رہی ہیں۔

Your Thoughts and Comments