Khul Ja Sim Sim

کُھل جا سِم سِم

جمعہ جنوری

Khul Ja Sim Sim
امجد محمود چشتی
پرانے دور میں الہٰ دین کا چراغ رگڑ کر جن حاضر کیا جاتا تھا اور دنیا بھر کی خبریں اور کام لئے جاتے تھے۔ سائنس کی معجزانہ ترقی سے اب گوگل الٰہ دین کا چراغ ہے۔ اس کے ہمراہ فیس بک اور ٹوئٹر کُھل جا سم سم کا کام دیتے ہیں۔ کُھل جا سم سم میں جا کر ہیرے جواہرات اشرفیاں اور خزانے ملتے تھے تو آج کمپیوٹر اور اس کے پروگرامز علم و دانش کے خزانے دیتے ہیں۔

آج ہر شخص علی بابا ہے اور اس کے سامنے انٹر نیٹ کے وسیع خزانے ہیں۔ کُھل جا سم سم اصل میں پاس ورڈ ہی تو تھا۔جو آج بدل کر ہر انسان کی اپنی مرضی کا ہو چکا ہے۔ پرانی اصطلاحات حقیقت بن چکی ہیں۔اڑن کھٹولہ جہازاور جام جم کمپیوٹر کی صورت میں موجودہے ۔اب ہر گھر میں ایک ونڈو کھلتی ہے جس میں سے ہر چیز آ اور جا سکتی ہے۔

(جاری ہے)

ایک اور صاحب کی رائے میں سیل فون نیٹ ورکس کی سم اگر بند ہو جائیں تو تصدیق کروا کے دوبارہ کھلوائی جا سکتی ہیں۔

گویا یہ بھی کھل جا سم سم کے پاس ورڈ کا ہی جادو ہے۔ فزکس کے اصول کے مطابق دنیا کا ہر واقعہ اس کائنات کی کسی بڑی ہارڈ ڈسک میں محفوظ ہو رہا ہے۔ آڈیو،ویڈیو سب ریکارڈ ہو رہے ہیں۔ شاید روزِ محشر خالق باری تعالیٰ کی مشیت سے یہی واضع ثبوت انسان کو دکھائے جائیں۔ جیسے آج آثارِ قدیمہ سے پرانے ادوار کی تاریخ کا سراغ لگایا جاتا ہے۔ ایسے ہی کبھی اس ریکارڈ کے توسط سے بیتے لمحوں کو دیکھا جا سکے گا۔

آج قیمتی دستاویزات کو کمپیوٹر میںSaveکر کے محفوظ بنا لیا جاتا ہے۔اگر یاجوج ماجوج اِس اصطلاح سے واقف ہوتے تو اپنے گرد محاصرے والی دیوار کو Saveکر کے سوتے اور کامیاب رہتے۔ سائنس کی بدولت انسان اپنی اوقات سے کچھ زیادہ ہی ترقی کرتا جارہا ہے۔ لگتا ہے سو سال بعد زمینی ٹریفک کی گنجائش ختم ہو جائے اور فضا میں ہلکی پھلکی سواریاں پرواز کرتی نظر آئیں یعنی ایک محلہ سے دوسرے محلہ تک یا ایک شہر سے دوسرے شہر تک سستی اور عام سواریوں پہ سفر کیا جائے۔

وقت کی شدید قلت ہو گی اور کھانے پینے کا وقت نایاب ہوگا۔ غذائی ضروریات محض گولیاں کھانے سے پوری ہوا کرینگی۔سانئس کی منفی ترقی بھی معراج پر ہے۔ خیر سے ایٹم ، ہائیڈروجن اور نیوٹران بم معرضِ وجود میں آچکے ہیں جو بالآخر پھٹنے ہی ہیں۔ اشرف المخلوقات اپنے دام میں ہمیشہ سے ہی خود آتی رہی ہے بم اور میزائل جیسی شیطانی ایجادات اور نفرت انگیز لٹریچر انسانی زندگیوں کیلئے سمِ قاتل ہیں۔

جس قدر ترقی ہوتی جاتی ہے ہم پیسے خرچ کر کے ٹینشن کی دلدل میں خود اترتے جاتے ہیں۔ سادگی ٹینشن فری زندگی کی علامت تھی جبکہ ٹیکنالوجی کی ترقی فوائد کے ساتھ ساتھ بے شمار عذاب لئے ہوئے ہے۔ قدرتی آفات مثلاً سیلاب زلزلے وغیرہ پہلے بھی آتے تھے مگر وقت سے قبل کھٹکا نہیں تھا اب ٹیکنالوجی کی ترقی سے اگرچہ قبل از وقت پیش گوئیوں سے نقصان کم ہوتا ہے مگر یہی پیش گوئیاں انسان کا ”تراہ“ نکال کر ٹینشن کی اذیت دوبالا کرتی رہتی ہیں۔

بیماریوں کے خلاف ترقی کرتی میڈیکل سائنس نے گویا موت کے سامنے بند باندھ دیئے ہیں۔ پہلے جو آسانی سے موت میسر تھی اب طبّی سہولتوں کی وجہ سے موت بھی کافی اذیت کے بعد نصیب ہوتی ہے ۔پھر عزیزوں ،رشتہ داروں کے طعنوں اور ملامت سے بچنے کیلئے لوگ اپنے نحیف مریضوں کو کلینکوں اور ہسپتالوں کی زینت بناتے ہیں اور ڈاکٹروں کی روٹی روزی کا وسیلہ بھی بنتے ہیں۔

یو ں لاغر مریض خود اور اپنے اہل خانہ کیلئے چند روز اضافی بیماری میں مبتلا رہ کر سماجی وقار کا باعث بنتا ہے۔
ڈاکٹرز کے مطابق اشرف المخلوقات کو ہزاروں بیماریوں کے جینز تفویض کئے گئے ہیں جنہیں وہ پورے خلوص سے امانتاً محفوظ رکھتا ہے۔ بعض اوقات اپنے عادات و اطوار کے باعث اُن میں اضافے کا موجب بھی بنتا ہے۔ بہت سی بیماریوں پر قابو پایا جا چکا ہے۔

مگر تا حال انسانی فطرت ، سرشت، خود غرضی ،کمینگی، بے غیرتی ، بے حیائی، نافرمانی اور کرپشن وغیرہ کی پیمائش ،وجوہات اور علاج کا سراغ نہیں لگایا جا سکا۔ مگر اُمید ہے کہ جلدہی ان بیماریوں کے ٹیسٹ بھی ہوا کرینگے اور ڈاکٹرز نسخے بھی تجویز کرینگے۔ مثلاً طالبان اور داعش اور القاعدہ کے افراد کو ایسے انجکشن دیئے جائیں کہ وہ اچھے انسان اور مسلمان بن سکیں یا پھر چور ڈاکوؤں اور منافع خوروں کے میڈیکل لیب ٹیسٹ میں ظلم اور بددیانتی کی مقداریں معلوم کر کے انہیں اصلاحِ کردار کی مختلف گولیاں کھلائی جائیں۔

کرپشن کا ٹیسٹ پازٹیو آنے پہ اینٹی کرپشن کیپسول تجویز کئے جائیں گے ۔ اس سے قبل میڈیکل سائنس کو خلوص،ایمانداری،حب الوطنی قابلیت و اہلیت اور اخلاق و کردار کی نارمل ویلیوزکا تعین بھی کرنا ہوگا۔ ہو سکتا ہے کسی سادہ لوح مریض میں ایمانداری و خلوص کے جرثومے مقررہ حد سے زیادہ نکلیں۔ اس صورت میں اعتدال قائم رکھنے کیلئے ڈاکٹرزکو بد دیانتی پر مبنی نسخے تجویز کرنا پڑیں گے تا کہ مریض بقیہ زندگی میانہ روی سے گزار سکے۔

خون کی کمی کے ٹیسٹوں کی مانند غیرت و حیاء کی کمی کے ٹیسٹ بھی متوقع ہیں اور ثابت ہونے پہ شرم و حیا ء کی انسولین انجیکٹ کر نا ہو گی۔عشق کا ٹیسٹ پازیٹوہوا تومیڈیکل سائنس جانے کیا علاج سوچے پر شاعر تو بہت پہلے سوچ چکا کہ۔ 
 تشخیص بجا ہے کہ مجھے عشق ہوا ہے
 نسخے میں لکھو ُان سے ملاقات مسلسل
گویا اب کھل جا سم سم کے مصداق ہم جو چاہیں کر سکیں گے۔

Your Thoughts and Comments