Lassi Peene Ka Muqabla

لسی پینے کا مقابلہ

حافظ مظفر محسن بدھ جنوری

Lassi Peene Ka Muqabla
”لڑکیوں کا ٹیلنٹ یہ بھی ہے کہ وہ اپنی چھینک میں بھی نزاکت پیداکر سکتی ہیں۔“
یہ ایک سیانے کا قول ہے۔۔” آجکل کے سیانے“ ایسے اقوال زریں ہی جاری کرتے ہیں۔ ایسی ہی باتوں پر ریسرچ کرتے ہیں کیونکہ وہ آپ نے سُن رکھا ہو گا۔۔”جیسا دیس ویسی بھینس“۔؟؟
سوری غلطی کی معافی۔۔؟؟ہماری” سیاست“ مزاح ہماری” قیادت“ میں مزاح ہماری ”ریاضت“ میں مزاح ہماری ” ۔

۔۔“ میں مزاح ہماری ” ۔۔۔“ میں مزاح۔۔ یہ جو میں نے خالی جگہ چھوڑی ہے۔۔ اِس میں آپ مرضی کے لفظ ڈال کر اپنی اپنی مرضی کا مزہ حسب توفیق لے سکتے ہیں۔کل جناب عطاء الحق قاسمی نے شہر کے لکھاریوں کے اعزاز میں ” ناشتہ“ کا پروگرام رکھا۔ میں ایسے چاک و چوبند سینئر کو دیکھتا ہوں تو ہمت پکڑتا ہوں۔ قاسمی صاحب نے ” لسی“ کا گلاس پیا تو میں نے دو پی ڈالے ” مظفر سمجھ رہا ہے یہاں لسی پینے کا مقابلہ ہو رہا ہے۔

(جاری ہے)

“ قاسمی صاحب نے ہنستے ہوئے حافظ عزیز کو دیکھتے ہوئے کہا تو میں نے لسی کا خالی گلاس ایک طرف رکھا اور باداموں والے دودھ کے گلاس کو مُنہ لگایا۔” میزبان“ نے گھورا تو ۔۔ مگر ہم نے چھٹی والے دن ناشتہ ہمیشہ مرضی کا کیا ہے۔یہ ہماراریکارڈہے۔”جی۔۔آپ نے کیا کہا؟؟“
” ہم نے وزن (پیٹ) بڑھانے میں بھی ریکارڈ قائم کیا ہے؟“
لازم نہیں کہ ہم ہرسوال یا جگت کا جواب موقع پر ہی دیں ۔

اسی میں کامیابی ہے۔۔!!
ناشتہ تناول فرما کر نکلے تو پارکنگ میں ایک صاحب کو سکیورٹی والے سے اُلجھتے دیکھا۔ ہم نے سکیورٹی والے کے اعتراض میں عقل کا استعمال دیکھا تو اُس کا ساتھ دینے کی جسارت کیا کی نئی نویلی کرولا والا ”شوخا“ ہمارے ہی گلے پڑ گیا۔۔
تم مجھے جانتے نہیں ؟”جی نہیں میں نے جواب دیا۔”اچھا“ حضور میں نے آپ کا چہرہ مبارک پہلی دفعہ دیکھا۔

۔ مجھے کیا معلوم آپ کون ہیں؟!! اِس دوران ہیلمٹ پہنے ایک نو عمر نے نئی نویلی کرولا والے کی ٹانگوں میں تیز چلتی بڑی سی موٹرسائیکل گُھسا دی۔۔” موصوف“ نے اپنا تھری پیس جھاڑتے ہوئے اٹھتے ہوئے۔۔درد سے کراہتے ہوئے جو موٹرسائیکل والے ہیلمٹ سوار کی طرف دیکھا تو جہ کی۔۔” ہم تو نکل لیئے“؟!!
یہ ہمارا قومی مزاج ہے۔
اس موقع پر ہمارا اپنا ہی یہ شعر ملاحضہ کریں جو رات کے دو بجے جب لاہور میں شدید بارش ہو رہی تھی۔

ہیٹر کے پاس بیٹھے ” مونگ پھلیاں“ کھاتے ہوئے ”ایجاد “ کیا ۔۔جی کیا کہا۔۔”چلغوزے“؟؟؟
وہ اب ”شریف “لوگوں کی پہنچ میں کہاں؟؟ ہمارا تازہ شعر ملاحضہ کریں۔۔؟؟
اِس درجہ ہے میٹھا تیرا لہجہ تیرے الفاظ
دشمن بھی سنے بول اُٹھے ” واہ ارے واہ واہ“
یہ چھٹی والے دن بڑے ہوٹلوں میں ”ناشتہ “ ایک منفرد سی روایت ہے۔ویسے ماڈرن لڑکے لڑکیاں ” ہلکی ہلکی “ حلوہ پوڑی کھاتے ہیں تو ” اُوئی“ ”اُوئی“ کرتے ہیں ایسے Event کو وہ خوب Enjoy کرتے ہیں۔

اگرچہ کبھی کبھارحلوہ پوڑی کھانے سے اُن کو پیچش لگ جاتے ہیں یا لسی کا گلاس پینے سے ” غنودگی“ ہو جاتی ہے اور وہ ” ٹن“ ہو جاتے ہیں۔۔وعدہ کرتے ہیں (خود سے) کہ اب ایک سال تک اتنا Heavy ناشتہ نہیں کریں گے چاہے ”وہ“ یعنی ناشتہ کروانے والا روٹھ جائے۔جب ہم ”کھد“ سری پائے لسی چائے وغیرہ کا ناشتہ ”ٹکا“ کے روز کرتے تھے اور آپ کو حیرت نہیں ہوگی۔۔کیونکہ آپ بھی ہمارے ہی دور کے ہیں۔۔
کہ دو پہر گیارہ بجے لنچ کی تیاری شروع؟
ہو جاتی تھی ،اور بُھوک کا مت پوچھیں؟!!

Your Thoughts and Comments