Maheman Bulaye Jaan

مہمان بلائے جان

مراد علی شاہد ہفتہ اکتوبر

Maheman Bulaye Jaan
پنجاب میں ایک اکھان ہے کہ”مہمان خدا کی رحمت ہوتے ہیں“لیکن اگر رحمت (مہمان) زیادہ آجائے اور آ کر جانے کا نام ہی نہ لے تو یہی رحمت میزبان کے لئے زحمت بھی بن جاتی ہے۔آکر نہ جانے والے مہمانوں کو صرف بچے ہی آڑے ہاتھوں لیتے ہیں جو تیسرے روز ماما کے سکھانے پر پوچھ ہی لیتے ہیں کہ انکل آپ نے کب جانا ہے؟بچے واقعی من کے سچے ہوتے ہیں۔اس بات کا اندازہ مجھے تب ہواجب مجھے سسرال میں قیام کئے تیسرا دن تھا اور اپنے سالے کے سکول جاتے ہوئے بچے سے پوچھ لیاکہ بیٹا واپسی کتنے بجے آؤ گے،انتہائی معصوم مگر بالکل اپنی ماں کے لہجہ میں بولا کہ انکل جب آپ جاچکے ہونگے۔


مہمان آتے جاتے رہیں تو اچھے لگتے ہیں،”کچھ“ آتے ہوئے اور ”زیادہ “جاتے ہوئے۔ایسے مہمان میزبان کے لئے وبال جان ٹھہرتے ہیں جو بن بلائے آبھی جاتے ہیں اور پھر کہنے پر بھی جانے کا نام نہیں لیتے،الٹا شرمائے بغیر بے شرمانہ ہنسی ہنستے ہوئے میزبان کو اس بات پر قائل کر رہے ہوتے ہیں کہ”آپ مذاق کر رہے ہیں نا“۔

(جاری ہے)

ایسے بن بلائے مہمان کسی بلائے ناگہانی سے کم نہیں ہوتے۔

مہمان کم آتے ہوں اور کم ہوں تو اچھے لگتے ہیں۔گزرے وقتوں میں جب مہمان آجاتے تو گھر کے بزرگ بڑے انہیں جانے نہیں دیتے تھے آجکل اگر کسی کے ہاں مہمان آجائیں تو بچے انہیں رہنے نہیں دیتے،الٹا دلائل سے اپنے بڑے بزرگوں کو قائل کرنے کے درپے ہوتے ہیں کہ دیکھو دادا ہم پورے سال میں انکل کے ہاں تین مرتبہ گئے اور تین دن رہے جبکہ انکل ایک ہی وقت میں آئے اورجانے کا نام ہی نہیں لے رہے،اتنی مضبوط دلیل بھی اگربڑوں کو منوا نہ سکیں تو بچے مولانا فضل الرحمن والے پلان بی پر عمل پیرا ہوتے ہوئے مہمان کے جوتوں میں پانی ڈال کر”شو،شو“بتا دیتے ہیں تاکہ مہمان ننگے پاؤں ہی اپنے گھر کی راہ لے،شائد شادی پر ”جوتا چھپائی“کی رسم بھی ایک اشارہ ہی ہوتا ہے کہ اب بھی وقت ہے ننگے پاؤں بھاگ سکتے ہو تو بھاگ لے وگرنہ بیگم نے تو ننگا کرہی دینا ہوتا ہے۔

دیہات،گاؤں میں کسی ایک گھر کا جمائی پورے گاؤں کا ”پروہنا “ہوتا تھا،اب داماد ہو کے بھی پرایا سا ہوتا ہے۔سسرال میں جسے دیکھو اپنا ہی راگ الاپ رہا ہوتا ہے ماسوا داماد کے ،اگر بوریت کی بنا پر کہہ دے کہ چلو بیگم چلتے ہیں تو سب سسرالی اپنی اپنی راہ لیتے ہیں کہ کہیں جیجا جی کا ارادہ ہی تبدیل نہ ہوجائے۔داماد اکثر جانے کی بات بآوازِ بلند کرتا ہے کہ شائد سالے اور سالیاں روکنے کی کوشش کریں،مگر آجکل کی سالیاں توبہ ہے سالی کم اور ”ساہ-لی“زیادہ ہوتی ہیں،جنہیں ساہ(سانس)کھینچنے اور جیب اینٹھنے کے سوا کچھ نہیں آتا۔

سالیاں سسرال میں جتنا جیجا کے آنے کا انتظارچاہت سے کرتی ہیں،جیب خالی ہونے پر اتنی ہی شدت سے جانے کی بھی منتظر ہوتی ہیں۔ 
بڑے شہروں میں دن بہ دن paying guest کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے کہ مہمان ماہانہ کرایہ کے ساتھ ہی کھانے پینے کا خرچہ بھی ایک ساتھ ہی ادا کر دیتا ہے جبکہ چھوٹے شہروں میںpain guest کا ابھی تک رواج چل رہا ہے ،میزبان اس وقت تک pain میں رہتا ہے جب تک مہمان رہتا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ مرزا غالب ساری زندگی کرایہ کے گھر میں رہے اور بطورpaying guest ،اور بطور مہمان ان کا خاصہ تھا کہ نہ کبھی میزبان کو تنگ کیا اور نہ کرایہ ادا کیا۔مالک مکان کے کرایہ طلبی پر ہمیشہ ایک ہی جواب دیتے،جو مالک مکان کو بھی ازبر ہوچکا تھا کہ ”بس اگلے مشاعرے کا جو مشاہرہ آئے گا وہ آپ کا قرض ہی چکانا ہے“غالب ایک بار جیل سے چھوٹ کر آئے تو سیدھا کالے خان کی رہائش پر تشریف لائے کیونکہ وہ مالک مکان تھا،کسی نے ازراہ ہمدردی کہا کہ غالب میاں خدا کا شکر کہ آپ کو گورے کی قید سے رہائی نصیب ہوئی،فوراً بولے کون بھڑوا کہتا ہے رہائی نصیب ہوئی ،پہلے گورے کی قید میں تھا اب کالے کی قید میں ہوں۔

اپنے گھر کی ایک قباحت ہوتی ہے کہ بندہ اپنے گھر میں مہمان نہیں ٹھہر سکتا اور دسروں کے گھر میں یہ مسئلہ کہ بندہ کسی کے ہاں پورا ماہ مہمان نہیں رہ سکتا۔پھر بھی میرے ایک دوست ”و“کی سائنس یہ ہے کہ آپ کسی کے ہاں ایک دن سے زائد مہمان نہ ٹھہریں اور ہرماہ باقاعدگی سے ٹھہریں،اور ایسے آپ کے دوست تیس سے کم نہیں ہونے چاہئے،مہینہ اکتیس کا ہو تو گھر کا کھانا بھی کبھی کبھی کھا لینا چاہئے۔

انسان کو دنیا میں ایسے ہی رہنا چاہئے جیسے سسرال میں رہتا ہے۔بیوی سسرال سے ناراض ہوجائے تو اسے میکے بھیج دیں اور اگر میکے والے ناراض ہوجائیں تو آپ وہاں چلے جائیں۔میرا ایک ولائتی دوست کہتا ہے سسرال اور سلمنگ سنٹر میں کوئی فرق نہیں رہا،سلمنگ سنٹر میں وزن کم ہوتا ہے اور سسرال میں پیسے۔وہ پچھلے ماہ اپنے سسرال پاکستان میں آئے ہوئے تھے تو مجھے کہنے لگے ،میں جب سے پاکستان آیا ہوں ایک ہزار پاؤنڈ کم کیا ہے،مگر وہ کیسے؟فرمانے لگے جب سسرال آیا تھا تو میرے پاس دوہزار پونڈ تھے جو اب ایک ہزار رہ گئے ہیں۔

بچوں کو سب سے زیادہ وہ مہمان بھاتے ہیں جن کے ہاتھ اور جیب بھرے ہوتے ہیں۔خالی جیب اور ہاتھ مہمان ،بچوں کی گرفت میں ایسے آتے ہیں جیسے کبوتر بلی کے پنجوں میں۔رات کے کھانے میں ہی پوچھ لیتے ہیں کہ انکل کل رات کا کھانا تو آپ اپنے گھر میں کھائیں گے نا۔میرے ایک دوست کے ساتھ عملاً یہ حادثہ ہوچکا ہے کہ اپنے کسی رشتہ دار کے ہاں ڈنر کھاتے ہوئے کہہ بیٹھے کہ ماشااللہ کھانے کا ذائقہ بالکل میرے گھر جیسا ہی ہے۔

فوراً ایک بچہ بول پڑا ”تو پھر ہمارے گھر کھانا کھانے کیوں آتے ہیں“
بن بلائے مہمان سب سے زیادہ محلہ کی شاد ی میں آتے ہیں۔گھر کے بزرگ اتنی توجہ” زردہ“پر نہیں دیتے جتنی ایسے مہمانوں پر،میں نے ایک شادی پر بزرگ سے پوچھا کہ بابا جی آپ کو پتہ کیسے چل جاتا ہے کہ کون بن بلایا ہے،کہنے لگے”اس کی پلیٹ سے“۔بابا جی اس بات کے بعد میں تو ہمیشہ کسی کی بھی شادی ہو اپنی پلیٹ میں مناسب کھانا ہی ڈالتا ہوں،آپ بھی کوشش کریں پلیٹ میں” منزلیں“نہ بنائیں خواہ بن بلائے ہی کیوں نا ہوں۔اس لئے کہ ایسے مہمان بلائے جان ہوں نا ہوں بلائے طعام ضرور ہوتے ہیں۔

Your Thoughts and Comments