Pachees Gaz Ka Makaan

پچیس گز کا مکان

بدھ اپریل

Pachees Gaz Ka Makaan
 نصرت ظھیر
جولوگ اپنا مکان خود بنانے یا بنوانے کی خواہش رکھتے ہیں ان کی رہنمائی کے لیے داناؤں نے یہ قول کہہ رکھا ہے کہ بے وقوف اس دنیا میں مکان بناتے ہیں اور عقلمند اُن میں رہتے ہیں ۔داناؤں کے ساتھ مشکل یہ ہے کہ ان کی کوئی بات دانائی سے خالی نہیں ہوتی ۔یہی وجہ ہے کہ ہم ان سے دور ہی دوررہتے ہیں چنانچہ بڑی حد تک چین سے ہیں۔
پھر بھی مکان بنانے سے متعلق داناؤں کے مذکورہ بالاقول کا ہم نے ہمیشہ احترام کیا اور مکان بنانے کی بے وقوفی سے ہمیشہ بچتے رہے ۔

اس بے وقوفی کا موقع ہم نے سدا دوسروں کو دیا اور ان کے بنائے ہوئے مکانوں میں کرائے پررہ کر خود کو عقلمندسمجھتے رہے ۔یہ اور بات ہے کہ عقلمندی کا یہ مظاہرہ کافی مہنگا پڑتا رہا۔
اس دوران اتفاق سے دیکھیے کہ دہلی کی ایک غریب سی کالونی میں ایک غریب سے پراپرٹی ڈیلر نے ہمارے نہ چاہتے ہوئے بھی پچیس گز زمین کا ایک ٹکڑا ہمارے ہاتھوں فروخت کر دیا۔

(جاری ہے)

ٹکڑا چوں کہ چھوٹا تھا،اس لیے مکان اس پر کیا بنانا تھا ہم نے سوچا چلو آخرت کے ہی کام آجائے گا اور ہماری وفات حسرت آیات کے بعد گھر والوں کو ہماری میت یہاں وہاں نہیں ڈھونی پڑے گی ۔دہلی جیسے شہروں کا حال آپ جانتے ہی ہیں یہاں سر چھپانے کے لیے مکان اور خود چھپنے کے لیے قبر بڑی مشکل سے ملتی ہے۔
چنانچہ اپنی تمت بالخیر کی طرف سے مطمئن ہو کر ہم پہلے کی طرح عقلمندی کا مظاہرہ کرتے رہے اور باقاعدگی سے ہماری آدھی تنخواہ مکان مالک کے ہاتھوں میں پہنچتی رہی۔

لیکن جب عقل مندی حد سے گزرگئی اور ہماری تنخواہ میں ہمارا حصہ مکان مالک کے حصے کے مقابلے میں برائے نام رہ گیا تو ہمیں کچھ سوچنے پر مجبور ہونا پڑا۔
ایک خیر خواہ نے مشورہ دیا کہ وہ پچیس گز کا پلاٹ تو تمھارے پاس ہے ہی،اس پر مکان کیوں نہیں بنوالیتے ۔ہم نے انھیں سمجھایا کہ میاں اول تو اتنی مختصر جگہ زندہ انسانوں کے رہنے کے لیے ناکافی ونامناسب ہے ۔

پھر ہمارے پاس اتنی رقم مالک مکان نے کہاں چھوڑی ہے کہ ہم اس کی کرایہ داری سے باعزت بری ہو کر خود اپنا مکان بنانے کا خیال بھی دل میں لاسکیں ۔ہماری زندگی میں تو یہ ممکن نہیں البتہ ہمارے فوت ہو جانے کے بعد ممکن ہے کہ اس پلاٹ پر آخرت کا گھر بن جائے۔اس پر انھوں نے ہمیں قنوطیت پرست اور یاسیت پسند بلکہ رجعت پسند اور ابہام پسندجدیدیہ ہونے تک کا طعنہ دے دیااور بولے کہ شکر کروتمھارے پاس پچیس گز کا پلاٹ ہے ،ورنہ اس دہلی شہر میں یہاں کے آخری بادشاہ کو دو گز زمین میسر نہیں آئی تھی۔

اس لیے خاک ڈالو اپنے خیالات پر اور کچھ قرض لے کر دو تین کمرے بنواڈالو۔کم بخت مکان مالک سے تو نجات ملے گی۔
ہم نے انھیں سمجھایا کہ جناب پچیس گز کی زمین پر ایک کمرہ ہی بن جائے تو غنیمت ہے،ورنہ دو تین کمروں کے لیے تو ہمیں دائیں بائیں سرکاری زمین پر غیر قانونی قبضے کرنے پڑیں گے ۔جس کے بعد یقین ہے کہ جیل میں ضرور ہمارا دائمی گھر بن جائے گا۔


اس مرتبہ انھوں نے ہمیں پہلے سے بھی زیادہ ترس کھانے والی نگاہوں سے دیکھا اور اظہارِ تاسف کرتے ہوئے بولے۔”تمھاری عقل کا پلاٹ اس زمین سے بھی مختصر معلوم ہوتا ہے ۔لگتا ہے مابعد الجدیدادب کا زیادہ مطالعہ کرنے لگے ہو“۔پھر ایک دم سے آنکھیں نکال کر بولے”ارے بھائی اگر دائیں بائیں نہیں پھیل سکتے تو نیچے سے اوپر تو جا سکتے ہو“۔
ہم نے کہا،بے شک! اوپر تو ایک دن سبھی کو جانا ہے مگر ابھی سے کیوں جائیں؟
انھوں نے جھنجھلاکر اپنی پیشانی پر ہاتھ مارا اور بولے”جی تو چاہتا ہے تمھارا سر پیٹ لوں ۔

میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر دائیں بائیں کمرے نہیں بنا سکتے تو کیا ہوا؟تلے اوپر تو بنا سکتے ہو۔ڈرائنگ روم کے اوپر بیڈ روم ،بیڈروم کے اوپر کچن ،کچن کے اوپر ٹوائلٹ۔ایسا کرنے سے تمھیں کون روک سکتاہے“
۔
اس سے پہلے کہ ہم کچھ اور کہتے انھوں نے ہمارا بازو پکڑا اور یہ کہتے ہوئے ساتھ لے چلے کہ”چلو تمھیں ایک بے حد ذہین اور چالاک نقشہ نویس کے پاس لیے چلتا ہوں۔

انشاء اللہ ایسا نقشہ بنا کر دے گا کہ بیڈ روم ،ڈرائنگ روم،چکن،باتھ روم،ٹوائلٹ سب 25گز میں تلے اوپر نکل آئیں گے“۔ہم اس شرط پر ان کے ساتھ چل دیے کہ نقشہ میں ان جگہوں کی ترتیب وہ نہیں ہو گی جو ان کے ذہن میں تھی ۔یعنی بیڈروم پر کچن ،کچی پر ٹوائٹ وغیرہ۔
بہر حال اس کے بعد وہ ہمیں ایک نقشہ نویس کے پاس لے گئے ۔تمام کیفیت سننے کے بعد نقشہ نویس نے مجوزہ مکان میں رہنے والے نفوس کی تعداد پوچھی ،پھر ان کی عمریں دریافت کیں اور یہ سب تفصیل ایک ڈائری میں نوٹ کرنے کے بعد ایک فیتے سے ہمارا ناپ لینا شروع کر دیا۔


ہم نے کہا جناب ہم کپڑے سلوانے نہیں بلکہ مکان کا نقشہ بنوانے آئے ہیں۔انھوں نے کہا خاموش رہو،وہی بنا رہاہوں ۔تمھارا ناپ لینا اس لیے ضروری ہے کہ دروازوں کی اونچائی اور زینہ کی چوڑائی کا اندازہ ہو سکے۔
مگر جب وہ ہماری گردن بھی ناپنے لگے اور وہ بھی محاورتاً نہیں بلکہ عملی طور پر ،تو ہم اندر تک خوف سے لرز گئے اور نہایت عاجزی کے ساتھ ان سے کہا۔

قبلہ ہمارا خود کشی کرنے کا مستقبل قریب میں کوئی ارادہ نہیں ہے ۔اور پھر گھر میں پھانسی کا پھندہ لٹکانے کی جگہ بھلا کون نقشہ نویس الگ سے دکھاتا ہے۔اس کے لیے توچھت کے پنکھے ہی کافی ہوتے ہیں۔
اس پروہ کہنے لگے جناب آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے ۔میں پھانسی کے لیے نہیں بلکہ کھڑکیوں کے سائز کے لیے گردن کی ناپ لے رہا ہوں ۔کہیں ایسا نہ ہو کہ مکان بننے کے بعد آپ کسی کھڑکی سے باہر منہ نکال کر جھانکیں اور پھر جھانکتے ہی رہ جائیں ۔

جس کے بعد سڑک پر آنے جانے والے یہی سوچتے رہیں کہ مکان مالک نے مکان کو بری بلاؤں سے محفوظ رکھنے کے لیے کیا عجیب اور خوفناک زندہ ہنڈیا دیوار پر لٹکا رکھی ہے ۔کھڑ کی کم سے کم اتنی بڑی ضرور ہونی چاہیے کہ اس میں آدمی کی گردن نہ پھنسے اور ایک دفعہ وہ گردن باہر ڈال دے تو واپس زندہ بھی نکال سکے۔اب سمجھے آپ؟۔
اس ناپ تول کے بعد وہ دیر تک ایک کاغذ پر آڑی ترچھی لکیریں کھینچتے رہے اور پھر شمع ادبی معمے جیسا ایک نقشہ ہمارے ہاتھ میں تھماکر بولے۔

جائیے کسی اچھے سے راج مستری کو یہ نقشہ دے کر مکان بنوالیجیے۔
انشاء اللہ ایسا مکان بنے گا کہ زندگی بھر اسے چھوڑنا نہیں چاہیں گے۔
ہم نے ایک حسرت بھری آہ کھینچی اور نقشہ جیب میں رکھ لیا۔نقشہ نویس کے دفتر سے باہر آئے تو یقین نہیں آرہا تھا کہ اتنے مختصر سے پلاٹ پر جو ایک اوسط کنبہ کے اوسط افراد کی اوسط قبروں کے لیے بھی ناکافی ہے ،زندہ آدمیوں کے رہنے کے لیے پورا ایک مکان بن سکتا ہے ۔

ایسا مکان جس میں ڈرائنگ روم ،بیڈ روم،کچن ،ٹوائلٹ اور باتھ روم سب الگ الگ ہوں۔
مگر ہاتھ میں جو نقشہ تھا ،وہ کہتا تھا،ہاں یہ ممکن ہے ۔آہستہ آہستہ یہ خیال ہمارے دل میں گھر کرنے لگا کہ اس نقشہ کی بدولت ہم کرایہ دار سے مکان مالک کا درجہ پا سکتے ہیں۔بس اس خیال کا آنا تھا کہ ہم خوشی سے جھوم اٹھے ۔یکایک پوری دنیا حسین نظر آنے لگی۔سینے میں آرزوؤں کا سمندر جوش مارنے لگا۔


مسرت وشادمانی کے جذبات تھے کہ چھلکے جاتے تھے․․․․․
ایک لمحہ کو جی چاہا کہ نکڑ پر جو پولیس والا کھڑا ہے ،پاس جا کر مذاق میں اس کی کمر پر ایک زور دار دھپ رسید کر دیں اور دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کرکے بغل گیر ہو جائیں۔مگر جب دیکھا وہ بڑی ہی خشونت آمیز نگاہوں اور مشکوک نظروں سے ہماری طرف دیکھ رہا ہے تو یہ پُر خطر ارادہ فوراً ملتوی کر دیا اور نقشہ جیب میں چھپا لیا۔


مگر پولیس والا بھی پورا گرگ باراں دیدہ تھا۔اس نے یہ حرکت دیکھ لی اور قریب آکر بولا”کیا چھپا یا ہے ۔فوراً نکالو“۔ہم نے مکان کا نقشہ اس کے ہاتھ پر رکھ دیا۔وہ کاغذ کو آڑا تر چھا کرکے رشوت آمیز نگاہوں سے ہمیں دیکھنے لگا اور چند لمحوں تک اس ادبی معمے کو سمجھنے کی کوشش کرتا رہا جو ہم نے اسے دیا تھا۔پھر جیسے سب کچھ سمجھ کر سر کوگول گول گھماتے ہوئے بولا”ہوں!تو یہ کوئی سرکاری راز ہے ۔

کسی فوجی اڈے کا نقشہ! تھانے چلو“۔
ہم نے سمجھایا کہ جناب آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے یہ پچیس گز کے مکان کا نقشہ ہے اور آپ جانتے ہیں کہ پچیس گز کے مکان میں رہنے والے لوگ سرکار تو کیا آپس میں ایک دوسرے سے بھی راز داری نہیں برت سکتے ۔چاہیں تو نقشہ نویس کے یہاں چل کر تصدیق کرلیں ۔ساری بات سن کرا س نے کہا”یہ تو میں بھی سمجھتاہوں کہ یہ مکان کا نقشہ ہے ۔

مگر مجھے شک ہے کہ اس نقشہ سے ایٹمی آبدوز بھی بنائی جا سکتی ہے لہٰذاچلو تھانے!“
یہ کہہ کر اس نے ہفتہ طلب آنکھوں سے گھورا اور پیٹھ موڑلی۔دائیں ہاتھ سے وہ ہمیں اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کر رہا تھا جب کہ بائیں ہاتھ کی پیچھے کی طرف مڑی ہوئی ہتھیلی کچھ اور کہہ رہی تھی۔
ہم سمجھ گئے کہ جائے مفر نہیں ہے۔چنانچہ چپ چاپ دس کا نوٹ نکال کر ہتھیلی پر رکھا اور نقشہ اور پاؤں سر پر رکھ کر اپنی کالونی کی طرف بھاگ گئے ۔

وہاں پہنچ کرہم نے علاقہ کے سب سے مشہور راج مستری کے گھر کا رُخ کیا جس کے بارے میں لوگوں نے بتایا کہ وہ پچیس گز کے مکان بنانے میں غضب کا ماہر ہے ۔اور یہ کہ علاقہ کے 90فیصد 25گز کے مکان اس کے بنائے ہوئے ہیں۔”اور باقی دس فیصد کس نے بنائے ہیں“۔ہم نے احتیاطاً پوچھا۔جواب ملا”وہ بھی بنائے تو اسی نے تھے مگر اب ٹوٹ پھوٹ کر گر چکے ہیں۔جیسی اللہ کی مرضی“۔

چنانچہ یہاں بھی جائے مفرنہ تھی۔مستری کے گھر جا کر دستک دی تو مکان کے باہر نالی کے پاس اکڑوں بیٹھ کر بیڑی پھونکتے ہوئے ایک مدقوق سے شخص نے کہا۔مستری جی کو پوچھ رہے ہو؟ہم نے کہاہاں ۔بولاوہ تو گھر پر نہیں ہیں،کیا کام تھا؟۔ہم نے بتادیا۔مکان بنوانا ہے۔کہنے لگا یہ بات ہے تو میں ہی مستری جی ہوں اور یہ میرا ہی مکان ہے ۔لائیے نقشہ لائیے۔

ہم نے نقشہ حوالے کر دیا۔مستری نے خوب گھما پھرا کر نقشے کا جائزہ لیا اور بولا،سب کچھ اس کے مطابق بنوانا ہے؟ہم نے کہا بالکل۔وہ بولا،ٹھیک ہے بن جائے گا۔ہم نے پوچھا کب تک۔انگلیوں پر حساب لگا کر بتایا ویسے تو ایک ہفتے کاکام ہے مگر انشاء اللہ ایک مہینے میں پورا کردوں گا۔
حالاں کہ جواب کچھ سمجھ میں نہیں آیا مگر ہم یہ سوچ کر چپ رہے کہ پہنچا ہوا مستری ہے اور چوں کہ بڑی فنکاروں کی بعض باتیں عام آدمی کی سمجھ سے باہر ہوتی ہیں اس لیے شاید ہم بھی اس کے فلسفہ تک نہیں پہنچ پارہے ہیں۔


خیر صاحب! اگلے دن دیسی گھی کے لڈو تقسیم ہوتے ہی مکان کی بنیاد رکھ دی گئی اور تعمیر شروع ہو گئی ۔اور اس کے ساتھ شروع ہو گیا مستری کی ہدایتوں کا سلسلہ۔ریت منگاؤ،اینٹیں لاؤ،سیمنٹ بھجواؤ،بڑے پھاوڑوں سے کام نہیں ہوتا چھوٹے لاؤ۔ریت والے سے کہوریت میں مٹی زیادہ آرہی ہے ۔اینٹ والے کو سمجھاؤ کچی اینٹیں نہ بھیجے۔یہاں تک بھی خیر ٹھیک تھا۔

مگر بعد میں ہدایات نئی شکلیں اختیار کرنے لگیں ۔فلاں مزدور کے پیٹ میں مروڑ ہے ذرا اینٹوں پر پانی ڈال کر ترائی کر دیجیے۔دوسرا مزدور غچہ دے گیا ہے ذرا سیمنٹ اٹھوا کر ریت میں ملوادیجیے۔چھوٹا مستری فلموں کا حددرجہ شوقین ہے اور آج نئی فلم کا پہلا شو دیکھنے گیا ہے اس لیے ذرا اینٹوں کے ردّے رکھوا دیجیے۔القصہ یوں سمجھیے کہ یاک مہینے میں ہم آدھے مستری بن چکے تھے اور مکان ابھی آدھا بھی نہیں بنا تھا۔


ہم نے کام کی تاخیر کی شکایت کی تو بگڑ کر کہا۔نقشے کے مطابق مکان بنوانا ہے تو اسی طرح بنے گا۔
جلدبازی میں کوئی چیز ٹیڑھی بن گئی تو کون ذمہ دار ہو گا ۔ہم نے گلی کی طرف کی ایک دیوار کے بارے میں بتایا کہ وہ پہلے ہی ٹیڑھی بنی ہوئی ہے۔اس پر مستری نے کہا آپ ٹیڑھے کھڑے ہو کر تیڑھی گردن سے دیکھ رہے ہیں ۔گردن سیدھی کرکے دیکھیے ۔مگر جب ہم نے سول فیتہ لٹکا کر دیکھنے کو کہا تو اس نے اچھی طرح پیمائش کرنے کے بعد صرف اتنا قبول کیا کہ دیوار ٹیڑھی نہیں بلکہ ترچھی ہے ،جس سے یہ فائدہ ہو گا کہ ا وپر کی چھت کچھ بڑی ہو جائے گی اور چھت پر جو کمرہ بنے گا اس میں آپ کپڑوں کی ایک فاضل الماری کھڑی کر سکیں گے۔

لہٰذا یہ غلطی نہیں بلکہ کاریگری ہے۔
ہم اگر چہ آدھے مستری ہو چکے تھے مگر ابھی اتنے ماہر نہیں ہوئے تھے،لہٰذا چپ رہے۔
آخر خدا خدا کرکے دوماہ میں مکان پورا ہوا۔اس بیچ کسی کام کے لیے ہم شہر سے باہر چلے گئے تھے ۔
دوہفتے بعد واپسی پر مستری اور اس کے مزدوروں کا حساب بے باق کرنے کے بعد ہم ذرا دورکھڑے ہو کر مکان کا نظار ہ کرنے لگے۔واقعی تلے اوپر تین کمرے بننے کے بعد وہ کچھ مکان ساہی معلوم ہورہا تھا۔

مگر جب ہم اس میں داخل ہوئے تو پتہ چلا دروازہ غائب ہے ۔گھبرا کر مستری سے پوچھا،اس میں داخلہ کیسے ہوگا۔
اس نے جھٹ لکڑی کی سیڑھی ایک کھڑکی پر ٹکادی اور بولا۔آئیے تشریف لائیے۔سیڑھی پر چڑھ کر بحالت رکوع اندر داخل ہوئے۔وہاں سے اوپر کے کمرے میں جانے کا راستہ پوچھا تو مستری نے سیڑھی ایک ایسے چوکور سوراخ پر لگا دی جسے ہم روشن دان سمجھے ہوئے تھے۔

اس سے ایک زینہ منسلک تھا جو اوپر کے کمرے میں کھلتا تھا۔سر بسجو د ہو کر اس زینے میں پہنچے اور پھر اس طرح رکوع اور سجدے کرتے ہوئے پورے مکان کی سیر کی ۔بڑی مشکل سے مکان کا جغرافیہ سمجھ میں آیا۔
جسے غسل خانہ سمجھے تھے وہ بیڈ روم نکلا۔جو ٹوائلٹ دکھائی دیتا تھا وہ اصل میں کچن تھا۔سب سے اوپر کی چھت پردوفٹ چھوڑا ایک پلیت فارم نما چھجہ بڑے خطر ناک انداز میں باہر کو نکلا ہوا تھا جس پر کوئی روک نہیں تھی ،اور ذراسی بداحتیاطی وہاں کھڑے ہونے والے کو نیچے گراسکتی تھی۔

ہم نے پوچھا یہ کیا ہے تو فرمایا،کبھی کسی کاپتنگ اڑانے کوجی چاہے تو یہاں آکر شوق پورا کر سکتاہے۔
ہم اس شوق کے ہولناک انجام کا تصور کر لرزتے کا نپتے ،اس عظیم الشان بھول بھلیاں سے بہار آئے اور خود کو بقید حیات پا کر اطمینان کا سانس لینے لگے ۔مستری یہ حالت دیکھ کر ہمدردی سے ہمارا شانہ تھپتھپا یا اور بولا”صبرکرو۔اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ے ۔

کچھ دن رہو گے تو آہستہ آہستہ مکان کی عادت پڑجائے گی ۔سب یاد ہو جائے گا کہ کچن کون سا ہے اور باتھ روم کدھر ہے ۔اور اگر خدا نخواستہ مکان کے مطابق یادداشت کو نہ ڈھال سکوتو اپنی یادداشت کے مطابق مکان کو ڈھال لو“۔
”وہ کیسے “ہم نے حیرت سے پوچھا۔
”وہ ایسے کہ جس چیز کو غلطی سے جو سمجھتے ہووہی سمجھتے رہو۔مثلاً کچن میں بستر بچھا لو اور باتھ روم میں کھانا بنا لو اور ٹوائلٹ میں․․․․“
ہم نے فوراً کانوں پر ہاتھ رکھ لیے۔ظاہر ہے اس سے آگے سننے کی تاب ہم میں نہیں تھی۔

Your Thoughts and Comments