Pait Ki Baatein

پیٹ کی باتیں

محمد منور سعید پیر دسمبر

Pait Ki Baatein
لڑکپن میں ہم بہت دبلے پتلے تھے۔اس وقت موٹا ہونے کا جنون سر پر سوار رہتا تھا۔جس کیلئے ہر کس و ناکس سے موٹا ہونے کی ترکیبیں پوچھتے رہتے۔ہمارے ایک انکل تھے جوکہ پچپن میں ہمیں بالکل بقراط لگتے تھے انہوں نے ایک آسان نسخہ بتایا کہ میاں یہ بھی کوئی مشکل کام ہے پیٹ بھر کر کھاو اور لمبی تان کر سو جاو۔ہم نے اس تدبیر پر عنل پیرا ہونے کی کوشش کی مگر چنداں کامیابی حاصل نہ ہوسکی۔

لڑکپن سے نوجوانی میں قدم رکھا تو بھی یہی معاملہ درپیش تھا کسی دانا نے مشورہ دیا کہ ایک دفعہ شادی ہوجائے تو پھر آپ کا مسئلہ حل ہوجائے گا۔شادی انسان کا حدود اربعہ ہی بدل کر رکھ دیتی ہے۔اگر آپ کی اپنی بیگم صاحبہ سے روزانہ ملاقات نہ ہو تو دو چار سال کے بعد پہچانا ہی مشکل ہوجائے کہ کیا یہ فربہ اندام خاتون وہ ہی نازک براندام دوشیزہ ہے کہ جسکی زلفوں کے آپ اسیر ہوئے تھے۔

(جاری ہے)

HORWARD HEALTH RESEARCH INSTITUTE۔کی نئی ریسرچ کے مطابق انسانی دماغ اور پیٹ کا ابدی گٹھ جوڑ ہے۔
سائنسدان معدہ کو انسان کا دوسرا دماغ قرار دے رہے ہیں۔انسانی سوچ و فکر معدہ سے وابستہ ہے جوکہ دماغ کو مخصوص سگنل بھیج کر اپنے زیر تسلط لے آتا ہے اور پھر اسکے ذریعے باقی اعضاء کو اپنے مفادات اور خواہشات کی تکمیل پر آمادہ کرتا ہے۔انسان کا موڈ اسکے جذبات و خواہشات اور ضروریات پیٹ کے تابع ہوتی ہیں۔

اس ریسرچ پر غور کیا تو کئی عقدے کھلنے لگے۔آدمی خوش ہو تو ہنس ہنس کر اسکے پیٹ میں بل پرجاتے ہیں۔اور اگر افسردہ ہوتو سب سے پہلے اسکا پیٹ خراب ہوجاتا ہے اور پھر حکیموں کے مطب اور ڈاکٹروں کی کلینکس آباد ہوجاتی ہیں۔کوئی راز کی بات پوشیدہ رکھنی ہو تو اسے پیٹ میں رکھنے کی تاکیدکی جاتی ہے۔ اکثر انسانوں کیلئے پیٹ بھگوان کا درجہ بھی رکھتا ہے۔

یہ لوگ کوئی کام اسکی پوجا کیے بغیر شروع نہیں کرتے گویا کہ پیٹ ایک بھگوان ہے اور من کی مراد پانے کیلئے اس کی خوشنودی اور پرستش ترجیح اول ہے۔جو صاحب ایمان ہیں انکی آنتیں قل ھو اللہ پڑھتی رہتی ہیں۔
آپ کو زندگی میں بہت سے ایسے لوگ ملیں گے جو کہتے ہیں کہ ہم اپنے بیوی بچوں کا پیٹ پالنے کیلئے محنت مزدوری کرر ہے ہیں ورنہ ہم تو فقیر منش لوگ ہیں خود توشاید کسی مزار پر مجاور بن کر زندگی گزار دیتے۔

رشوت خور سرکاری اہلکاروں سے واسطہ پڑجائے تو چائے پانی کے متمنی ہونگے کہیں گے کہ بھائی صاحب!کیا کریں مجبوری ہے آخر پیٹ ساتھ لگا یوا ہے۔
آپکی نظر اگر غلطی سے انکے موٹے پیٹ پر پڑ گئی تو آپ ایک دم سے شرما جائیں گے اور انکی مجبوری سمجھتے ہوئے انکی ڈیمانڈ پوری کردیں گے۔ملازم اگر نکما اور کام چور ہوتو مالک اسکو فورا پیٹ ہی کا طعنہ دیتا ہے کہ لگتا ہے تمھارا پیٹ بھرا ہوا ہے اسی لئے تمہارا کام میں دل نہیں لگتا۔

عوام مہنگائی کے ہاتھوں پریشان ہے اسکے باوجود اپنا پیٹ کاٹ کر حکمرانوں کے پیٹ بھر رہی ہے امگر ان ندیدے حکمرانوں کا پیٹ تو عمرو عیار کی زنبیل ہے جو بھرنے کا نام ہی نہیں لے رہی۔ہمارے قوم پرست سیاستدان ہما وقت اپنی قوم کے غصب شدہ حقوق کی فکر میں گھلتے رہتے ہیں۔انکا دعوی ہے کہ وہ حکمرانوں کا پیٹ پھاڑ کر اپنے حقوق چھین لینگے۔گویا کہ پیٹ نہ ہوا کوئی تجوری ہوگیا جہاں قوموں کے غصب شدہ حقوق چھپائے گئے ہیں۔

 یہ دعوے ہم بچپن سے سن رہے ہیں مگر ابتک کوئی کسی کے پیٹ سے حقوق برآمد نہیں کرسکا۔ اداکارہ انجمن نے چونسٹھ سال کی عمر میں شادی کرکے ہمارے فرسودہ معاشرے کیلئے روشن مثال قائم کردی ہے۔ورنہ تو ہمارے یہاں تیس پینتیس سال کیے مرد و زن کو بوڑھا تصور کیا جاتا ہے اگر کوئی غلطی سے شادی کا سوچے بھی تو لوگ جینا حرام کردیتے ہیں کہ'' منہ میں دانت نہ پیٹ میں آنت۔

بڑے میاں لیکر آگئے بارات۔''
قدرت اللہ شہاب ''شہاب نامہ'' میں اپنی اسٹنٹ کمشنری کا واقعہ بیان کرتے ہیں جب انکی پوسسٹنگ بھاگلپور ضلع میں میں ہوئی جہاں اکثر و بیشتر مسلم کش فسادات رہتے تھے۔ان فسادات میں بلوائیوں کی سرپرستی وہاں کے ہندو بنیے کیا کرتے تاکہ انکو مالی مفادات و آسودگی حاصل ہو۔اپنی خدمات کے عوض وہ بخشش و انعام پاتے۔

ایسے ہی ایک ہندو سیٹھ کی حویلی پر جب چھاپہ مارا گیا تو ایک عجیب منظر دیکھا۔
سیٹھ اور سیٹھانی ایک کمرے میں میں آسن دیے بیٹھے تھے۔انکے پیٹ اسقدر بھاری تھے کہ دو چار گاؤ تکیے رکھ کر انھیں سہارا دیا گیا تھا۔
ان دونوں کے سامنے موٹی موٹی زنجیریں لٹکی تھیں جن کے سہارے جھول جھول کر وہ بمشکل کھڑے ہوتے۔ چشم تصور میں ہمیں نریندر مودی ایسا ہی ہندو سیٹھ لگا اور ہمارا حکمران طبقہ اس کے تابعدار کارندے جو مودی کیمذموم مقاصد کی تکمیل کیلیے اسکی ایک جنبش ابرو کے منتظر تھے۔

مودی سیٹھ کی حکم عدولی کی صورت میں انکی نوکری سے برخاستگی عین قرین قیاس تھی جبکہ انعام میں پکی نوکری اور مدت ملازمت میں توسیع کی مکمل ضمانت ۔مودی سیٹھ مزے سے پورا کشمیر ہڑپ کر گیا اور ڈکار بھی نہیں لی۔البتہ کچھ عرصے اپنا پیٹ ضرور سہلاتا رہے گا۔
ہمارے والے اپنے پیٹ کی خاطر خاموش تماشائی بنے رہے۔نفسا نفسی کے اس پرستم دور میں شاید ہی کوئی ایسا احمق ہوگا جو اپنے پیٹ پر آپ ہی لات مارتا یو۔

۔ مگر افسوس اس بات کا ہے کہ ''قوم فروختند وچہ ارزاں فروختند ''۔
بہر کیف ایک وقت تھا کہ جب ہمیں دبلا ہونے کا غم لاحق تھا اور اب یہ وقت آگیا ہے کہ موٹاپے سے جان چھڑانے کی فکر دامن گیر یے۔
پیٹ کو اپنی سابقہ پوزیشن پر دوبارہ بحال کرنے کیلئے صبح شام دوڑیں لگی ہوئیں ہیں۔
ایک اور ریسرچ کے مطابق دل بھی سوچتا ہے۔ہم اس کی تشریح یوں کریں گے کہ دل جذبات رکھتا ہے جبکہ دماغ کیلکیولیٹر ہے۔

نفع نقصان کا حساب لگا کر بات کرتا ہے۔اس لیے بیگم کے علاوہ دل کی بھی سنیں۔ اکثر بیگمات معدے کے راستے ہی دل تک رسائی حاصل کرتی ہیں اور پھر دماغ تک پہنچ کر اسکا مکمل کنڑول سنبھال لیتی ہیں اور اچھا بھلا ادمی انکا تابع مہمل بن جاتا ہے۔حال کلام یہی ہے کہ پیٹ کو اسکی اوقات میں رکھنا چاہیے۔ بظاہر یہ معصوم دکھائی دیتا ہے مگر حقیقتا بہت چالاک اور ہوشیار ہے۔

یہ آپ کو چکنی چپڑی میں لگا کر راہ راست سے ہٹا سکتا ہے۔یہ دشمن جان بھی بن سکتا ہے اور خطرہ ایمان بھی۔خود تو پھیل کر اپنے آپے سے باہر ہو ہی جاتا ہے مگر آپ کو طرح طرح کے زہنی جسمانی اور روحانی عارضوں میں مبتلا کردیتا ہے۔کم کھانا کم سونا کم بولنا ہی دانشمندی کی علامت اور طویل العمری کا راز ہے اور ایمان کامل کی ضمانت دیتا ہے۔
قورمہ اسٹو پسندہ کوفتہ شامی کباب 
جانے کیا کیا کھا گیا ہے یہ معدہ خراب

Your Thoughts and Comments