Sahib Baath Room Mein Hain

صاحب باتھ روم میں ہیں

منگل اپریل

Sahib Baath Room Mein Hain
 مجتبیٰ حسین
ایک دن میں نے اپنے علاقہ کے نیتا بدری نارائن جی سے بات کرنے کے لیے فون کیا تو ان کے پرائیویٹ سکریٹری نے کہا”صاحب باتھ روم میں ہیں۔تھوڑی دیر بعد فون کریں“۔
میں نے سوچا جب بدری نارائن جی باتھ روم میں ہیں تو کیوں نہ میں بھی باتھ روم ہو آؤں ۔جیسا راجہ ویسی پرجا۔کچھ دیر بعد اپنے باتھ روم سے نکل کر میں نے انھیں پھر فون ملایا تو جواب آیا ”صاحب باتھ روم میں ہیں“۔


میں نے ڈرتے ڈرتے پوچھا ”صاحب باتھ روم سے کب تک باہر آجائیں گے؟“
سکریٹری بولا”عجیب آدمی ہیں آپ بھی۔موت اور آدمی کے باتھ روم سے نکلنے کا بھی بھلا کوئی وقت مقرر ہوتا ہے ۔وہ باتھ روم میں گئے ہیں توکبھی نہ کبھی نکل ہی آئیں گے ۔ایسی بھی کیا جلدی ہے؟“
اور میں ان اچھے دنوں کو یاد کرنے لگا جب نہ تو بدری نارائن جی کے گھرمیں باتھ روم ہوا کرتا تھا اور نہ ہی میرے گھر میں۔

(جاری ہے)

کتنے اچھے دن تھے وہ جب کسی پرائیویٹ سکریٹری اور ٹیلی فون کی مدد کے بغیر کھلے میدان میں ان سے صبح وشام ملاقات ہو جایا کرتی تھی۔بلکہ ہم لوگ تو ایک دوسرے سے کچھ دور بیٹھ کر کام کی باتیں بھی کر لیا کرتے تھے۔یہ ضرور ہے کہ بیچ بیچ میں کبھی”ہیلو ہیلو“بھی کہنا پڑتا تھا۔
میں نے سوچا اتنی دیر میں کیوں نہ اُس افسر سے بات کرلی جائے جس کے پاس بدری نارائن جی سے سفارش کرانی تھی۔

مجھے ڈرتھا کہ اس افسر کا بھی ایک پرائیویٹ سکریٹری ہے اور کم بخت کے گھر میں وہ محفوظ جگہ بھی ہے جسے باتھ روم کہتے ہیں ۔چنانچہ سیدھا سا جواب آیا”صاحب باتھ روم میں ہیں“۔میں نے سوچا کہ کیوں نہ میں بھی پھر باتھ روم ہو آؤں ۔مگر اپنے خیال پر ہنسی بھی آئی کہ عام اور معمولی آدمی کی قسمت میں اتنی دیر تک باتھ روم میں رہنا کہاں لکھا ہوتا ہے وہ بے چارہ تو دن بھر میں بڑی مشکل سے ایک بار ہی باتھ روم میں جانے کی ہمت کر سکتا ہے ۔

اپنی پھوٹی قسمت کی وجہ سے اسے تو ڈرائنگ روم یا بیڈروم میں ہی رہنا پڑتا ہے ۔اب بھلا بتائیے کہ گھر میں رہنے کی یہ بھی کوئی جگہیں ہیں۔ خیر یہ ایک اعتبار سے اچھا بھی ہے کیوں کہ عام آدمی بھی اگر باتھ روم میں رہنے لگ جائے تو ملک کیسے ترقی کرے گا۔اور مشکل یہ ہے کہ ملک کو تو باتھ روم میں بھیجا نہیں جا سکتا۔
خیر ایک گھنٹہ بعد میں نے بدری نارائن جی کو پھر فون ملایا۔

اس سے پہلے کہ ان کا پرائیویٹ سکریٹری انھیں پھر باتھ روم میں بھیج دیتا میں نے خود ہی پوچھ لیا”ہیلو! کہیں بدری نارائن جی باتھ روم میں تو نہیں ہیں؟“
سکریٹری حیرت سے بولا”تمھارے سونگھنے کی طاقت بڑی زبردست لگتی ہے ۔اتنی دور سے پتہ چلا لیا کہ صاحب باتھ روم میں ہیں“۔
میں نے کہا”بھیا! ایسی بات نہیں ہے ۔ایک گھنٹہ پہلے جب میں نے فون کیا تھا تو پتہ چلا تھا کہ وہ باتھ روم میں ہیں ،میں نے سوچا اب تک واپس آگئے ہوں تو بات کرلوں“۔


سکریٹری بولا”ایک گھنٹے پہلے دوسرے پرائیویٹ سکریٹری نے انھیں وہاں بھیجا تھا،اب میرے ڈیوٹی ہے“۔
میں نے کہا”اس کا مطلب یہ ہوا کہ اب انھیں باتھ روم میں بھیجنے کی ذمہ داری تمھاری ہے“۔
سکریٹری بولا”میری ڈیوٹی اس وقت شروع ہو گی جب وہ باتھ روم سے باہر آجائیں گے ۔ابھی تو وہ وہیں ہیں“۔
یہ ستنے ہی میرے ہاتھ سے ٹیلی فون کا ریسیو ر گر گیا۔

جب یہ نیچے گر گیا تو اس میں سے قہقہہ بھری آوازیں آنے لگیں”رانگ نمبر۔رانگ نمبر“۔
میں سوچنے لگا ہمارا ٹیلی فون سسٹم بھی عجیب ہے۔ساری بات کرنے کے بعد پتہ چلتا ہے کہ آپ نے رانگ نمبر ملایا تھا۔اس دن بھی میں نے بدری نارائن جی کا فون نمبر تو صحیح ملایا تھا لیکن وہ غلط جگہ مل گیا تھا۔کیوں کہ ہم نے بدری نارائن جی کو ایک عالیشان کوٹھی میں بھیجا تھااور وہ باتھ روم میں جا کر بیٹھ گئے ۔

اس میں ہمارا ٹیلی فون سسٹم کا کیا قصور۔
شاید ہی کوئی دن ایسا ہوجاتا ہو جب میں کسی بڑے آدمی کو فون کروں اور مجھے یہ اطلاع نہ ملے کہ وہ باتھ روم میں ہے ۔ادھر جب سے بڑے آدمیوں نے زیادہ سے زیادہ باتھ روم یں رہنے کی عادت ڈال لی ہے تب سے آدمی اور گھر دونوں کا تصور ہی بدل گیا ہے۔پرسوں کی بات ہے ۔میں ڈرائنگ روم میں بیٹھا تھا۔فون کی گھنٹی بجی تو میری بیوی نے یہ کہہ کر فون رکھ دیا”جی! وہ تو باتھ روم میں ہیں“۔

میں نے حیرت سے اس کی طرف دیکھ کر پوچھا”کیا گھر میں کوئی مہمان آیا ہے ؟میں تو تمھارے سامنے بیٹھا ہوں ۔پھر باتھ روم میں کون ہے؟“
”وہ بولی“تم ہو تم۔اور کون ہو گا؟“
میں نے غصہ سے کہا”مگر میں تو یہاں بیٹھا ہوں“۔
وہ بولی”وہ تو میں بھی جانتی ہوں کہ تم یہاں بیٹھے ہو۔لیکن میری خواہش ہے کہ تم بھی بڑے آدمی بنو۔
تمھیں بھی بڑا آدمی بننے کا حق حاصل ہے ۔

میں نے تو یہ دیکھا ہے کہ تم جب بھی کسی بڑے آدمی کو فون ملاتے ہوتو وہ ہمیشہ باتھ روم میں ہوتا ہے اور تم ہو کہ سارا دن ڈرائنگ روم میں بیٹھے مکھیا مارتے رہتے ہو ۔آخر میں بھی تو بڑے آدمی کی بیوی بننا چاہتی ہوں۔آج سے تم باتھ روم میں رہنے کی کوشش کرو۔اگر نہیں رہتے تو میں وہاں رہنے لگ جاؤں گی ،میں تو صرف”پہلے آپ پہلے آپ “کے چکر میں ماری جارہی ہوں“۔


ایک زمانہ تھا جب گھر کے نقشہ میں باتھ روم ایسا ہی ہوتا تھا جیسے دنیا کے نقشہ میں آسٹریلیا ۔بالکل الگ تھلگ ۔مگر اب باتھ روم ہی اصل گھر نظر آنے لگا ہے ۔پچھلے دنوں میں نے ایک اخبار میں اشتہار پڑھا تھا ،جس میں لکھا تھا”ضرورت ہے ایک خوش نما بڑے باتھ روم کی،اس کے ساتھ اگر ایک اٹیچڈبیڈروم ہوتو ٹھیک رہے گا۔نہ ہوتو بھی چلے گا“۔میں نے سوچا تھا اشتہاردینے والا یقینا پیٹ کی کسی بیماری کا مریض ہو گا مگر اب پتہ چلا کہ بڑا آدمی تھا۔

پیٹ بڑابدکار ہے ۔پیچش کے مریض اور بڑے آدمی دونوں کو ایک ہی صف میں کھڑا کر دیتا ہے۔ایک بار ہمیں ایک بڑے آدمی کے باتھ روم میں جانے کا موقع ملا تھا۔ہم تو اسے دیکھ کر ہی دنگ رہ گئے تھے ۔اتنا بڑا باتھ روم تھا کہ اس میں ہمار ا سارا گھر آنگن سمیت سما سکتا تھا ۔کیا خوش نماٹائلیں تھیں ۔کیا بھڑ کیلے آئینے تھے ۔ہم تو اس کی خوبصورتی دیکھ کر اتنا دنگ رہ گئے کہ اسے استعمال کیے بغیر ہی واپس آگئے اور بڑے آدمی سے ڈرتے ڈرتے کہا”ہم آ پ کی ہمت کو مان گئے کہ ایسی پیاری جگہ کو آپ باتھ روم کے طور پر استعمال کرتے ہیں ۔

ہم میں یہ حوصلہ نہیں ہے ۔اگر اجازت ہوتو ہم آپ کے بیڈروم کو باتھ روم کے طور پر استعمال کرلیں“۔اور اس کے بعد اس بڑے آدمی نے ہمیں کبھی اپنے گھر میں آنے نہیں دیا۔
دوستو! ہماری باتوں کا یہ مطلب نہ لیا جائے کہ ہم سرے سے باتھ روم کے ہی خلاف ہیں ۔ہم تو صرف یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اگر آج کے بڑے آدمی نے اپنے رہن سہن کے طریقے بدل لیے ہیں اور وہ باتھ روم میں زیادہ رہنے لگا ہے تو پھر ٹیلی فون کا آلہ اپنے ڈرائنگ روم میں کیوں لگواتا ہے ۔باتھ روم میں ہی لگوالے بلکہ ڈائننگ ٹیبل بھی وہیں لگوالے تو کیا حرج ہے ۔کئی بار تو عوام پانچ پانچ برسوں تک بڑے آدمی کو ڈرائنگ روم اور اس کے دفتر میں ڈھونڈتے رہتے ہیں اور وہ باتھ روم میں بیٹھا رہتا ہے ۔

Your Thoughts and Comments