Shayateen Ki Conference

شیاطین کی کانفرنس

حافظ مظفر محسن بدھ جنوری

Shayateen Ki Conference
ابلیس کے اعلان کے مطابق دنیا کے کونےکونےسے شیاطین اکٹھا ہو رہے ہیں، یہاں تک کہ پورا پنڑال شیاطین سے بھر جاتا ہے۔ صرف ابلیس کی آمد کا انتظار ہے.... لیجئے! ابلیس بھی آہی گئے۔ سارے شیاطین تعظیم کے لئے کھڑے ہو جاتے ہیں۔
ابلیس، شیاطین کو بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے سامنے آجاتا ہے۔ ہر طرف خاموشی چھائی ہے۔ ابلیس شیاطین سے مخاطب ہو کر کہتا ہے:
‘دوستو! مجھے بے حد خوشی ہے کہ ایک مدت کے بعد ہمیں ایک دوسرے سے قریب تر ہونے کا موقع ملا ہے اور سب سے زیادہ مسرت یہ دیکھ کر ہورہی ہے کہ میری صرف ایک آواز پر دنیا کے گوشے گوشے سے شیاطین کھینچ کر اس پنڈال میں اکٹھا ہوگئے ہیں۔

مجھے ابھی ابھی یہ بتلایا گیا ہے کہ اس اچانک طلبی پر میرے دوستوں میں حیرت و استعجاب لہر دوڑ گئی ہے....... واقعی ایسا ہونا بھی چاہیئے۔

(جاری ہے)

لیکن کیا کروں میرے پاس اتنا وقت ہی نہ تھا کہ فرداً فرداً سبھوں کو کانفرنس کی غرض و غایت سے مطلع کرتا۔ بہر کیف، اب میں اپنے جانثاروں کو کانفرنس میں بلانے کی وجہ بتلا رہا ہوں جس کے باعث میرا سکون قلب برباد ہوگیا ہے۔

اور ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ میری پوری مشنری معطل ہو کر رہ گئی ہے.......... میں اپنے دستوں سے دریافت طلب ہوں کہ کیوں ان کے اندر وہ پہلا سا جوش و خروش نہیں۔ اس کا کیا سبب ہے کہ ہفتوں گزرجاتے ہیں لیکن میرے دوست شیاطین مجھے کوئی ایسی خبر نہیں بھیجتے جس کو سن کر میرا دل باغ باغ ہو جائے۔ نتیجہ یہ ہے کہ دفتر میں پڑا اونگھتا رہتا ہوں......... کہیں ایسا تو نہیں کہ سارے شیاطین اپنے فرض کو فراموش کر بیٹھے ہیں۔

لہٰذا میں چاہتا ہوں کہ ہرضلع کے ہڈشیطان یہ بتلائیں کہ ایسا کیوں ہورہا ہے۔’’
 یہ کہہ کر ابلیس بیٹھ جاتا ہے اور ایک شیطان کھڑا ہو کر یوں صفائی پیش کرتا ہے:
‘‘حضرت ابلیس اور معزز حاضرین!
بھلا یہ کیوں کر ممکن ہو سکتا ہے کہ ہم شیاطین اپنے فرض کی ادئیگی سے پہلو تہی کریں۔ بلکہ انسان کو راہ سے بے راہ کرنے کا جو کام ہمارے سپرد ہے، اسے ہم شیاطین اسی جذبہ اور اسی ایمان داری کے ساتھ انجام دے رہے ہیں۔

ہاں، اس کا مجھے ضرور اعتراف ہے کہ حضور ابلیس کے پاس ہماری کار گزاریوں کی اطلاع بہت کم پہنچنے لگی ہے۔ جس کے باعث حضور ابلیس کچھ برہم نظر آرہے ہیں لیکن میں یقین دلاتا ہوں کہ یہ سب حضور کا وہم ہی وہم ہے (چاروں طرف نظر دوڑا کر) یہ نمک خوار حضور ابلیس یہ بھی عرض کرنے میں بے انتہا مسرت محسوس کر رہا ہے کہ اس وقت دنیا حضور کے اقبال سے جس سانچہ میں ڈھل رہی ہے۔

اس کے پیش نظر اب اتنے اسٹاف کی بھی ضرورت نہیں..... ہی ہی ہی........ میرے دوست تو جانتے ہی ہیں کہ اس ناچیز کے ذمہ نفاق پھیلانا ہے۔ لیکن اسے حضور ابلیس کا اقبال کہئے کہ جس گھر میں بھی نفاق پھیلانے کی نیت سے جاتا ہوں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہاں تو عرصہ سے پورا گھر مرض نفاق میں مبتلا ہے........ صاف بات تو یہ ہے کہ اتفاق ہی سے مجھے کوئی ایسا گھرانا نظر آتا ہے جہاں قبل ہی سے نفاق کی بنیاد نہ پڑی ہو جدھر جائیے باپ بیٹے میں جھگڑا، بھائی بھائی میں دشمنی، زن و شو میں تو تو میں میں......... تو ایسی حالت میں راہ راست پر لاؤں تو کس کو اور رپورٹ بھیجوں تو کیسی۔

یہاں تو حضور کے اقبال سے دنیا کے لوگ خود ہی راہ راست کی طرف دوڑ رہے ہیں (تالیاں)۔
 ابلیس (اٹھ کر).......‘‘بھائیو! جہاں تک ممکن ہو مختصر الفاظ میں کار گزاری پیش کریں۔اب کسی دوسرے ضلع کے ہڈ شیطان مائک پر آئیں۔
ایک گرو گھنٹال کھڑا ہوتا ہے۔
حضور ابلیس اور معزز حاضرین!
جہاں تک میری کار گزاریوں کا تعلق ہے اس کے پیش نظر کوئی وجہ نہیں کہ حضور ابلیس کو میری جانب سے کسی طرح کی کوتاہی کا احتمال ہو— میں نے جو کر دکھایا ہے وہ ایک عرصہ کے لئے کافی ہے۔

میں نے سب سے پہلا عملی قدم جو اٹھایا تو کثیر تعداد میں مولوی ملاؤں کو بے عمل بنا کر چھوڑا۔ جی ہاں! میں نے جڑہی کاٹ دینی مناسب سمجھی۔ کیوں کہ مجھے ڈر تھا کہ اس جماعت کے اندر علم کے ساتھ عمل کا بھی مادہ باقی رہا، تو پھر غضب ہی غضب ہے۔ میں نے ایسی ترکیب کی کہ یہ حضرات اپنے علم و صلاحیت کے ذریعہ دوسروں پر اچھا اثر ہی نہ ڈال سکیں۔ یعنی مین نے ان کے کانوں میں پھونک دی کہ میاں گھر بیٹھے تسبیح ہلایا کرو، وعظ، تقریر یا دوسروں کو اچھی راہ بتلانے کی کوشش فضول ہے۔

ہاں کبھی کبھی کوئی میلاد شریف پڑھوانے کو بلائے تو چلے جایا کرو اور وہ بھی ایسی جگہ جہاں شیرنی کے علاوہ پلاؤ ملنے کی امید ہو۔ (ٹھہرکر)....... گدی نشیں شاہ صاحبان کو بھی میں نے پٹی پڑھادی کہ دینی تبلیغ کی کوشش اور جاہل اور ان پڑھ لوگوں کو اللہ رسول کی باتیں بتلانے کے چکر میں پڑنا فضول ہے....... بس حجرے میں بیٹھے اللہ اللہ کیا کرو..... جی ہاں، حضور ابلیس یہ سن کر جھوم اٹھیں گیں کہ میری اس کوشش کا خاطر خواہ اثر ہوا ہے۔

یعنی جس کا جی چاہے مولویوں، عالموں اور شاہ صاحبان کے اڑوس پڑوس میں گھوم پھر کر دیکھ لے۔ بہتیرے ایسے ملیں گے، جو کلمہ تک صحیح نہیں پڑھ سکتے۔نماز اور روزہ تو رہا کوسوں دور۔ اجی صاحب! اگر میں اس جماعت کی طرف سے ذرا بھی غفلت برتتا، تو آج صوم و صلٰوۃ کے پابندوں، نمازیوں اورپرہیز گاروں کا شمارمشکل ہوتا۔ ایسی حالت میں کس قدرسبکی تھی ہماری........ اور ہاں یہ تو عرض ہی نہیں کیا۔

اسکولوں اور کالجوں میں مخلوط تعلیم کا انتظام کیا کم قابل تعزیت بات ہے۔ بلکہ اس کارنامہ پر میں جتنا بھی فخر کروں کم ہے اور یہی وجہ ہے کہ ان کارناموں اور خدمات عالیہ کے پیش نظر میں اس قدر مطمئن ہوں کہ اب چنداں دوڑ دھوپ کی بھی ضرورت نہیں سمجھتا۔ جی ہاں، جی ہاں...... مجھے زیادہ کچھ عرض کرنا نہیں ہے۔یعنی آگے بات ختم۔’’
ایک اور شیطان صفائی پیش کرتا ہے۔


‘‘حضور ابلیس! مجھے اگر قبل سےاطلاع ہوتی کہ یہ کانفرنس اس مقصد کےتحت بلائی گئی ہےتومیں اپنا رجسٹرلئےآتا، خیرکوئی بات نہیں۔ حضورابلیس کے پاس تو میری کاروائیوں کی رپورٹ برابر پہنچتی ہی رہتی ہے۔ رہا یہ سوال کہ حضورابلیس کےخیال میں ہماری سرگرمی پہلےسےکم کیوں نظرآنےلگی ہے، تو اس کےمتعلق ابھی ابھی میرے دوستوں نے کافی روشنی ڈالی ہےاوربہت ممکن ہے کہ حضور والا مطمئن ہو گئے ہوں۔

،
میرا تو کام یہ ہے کہ اللہ کے بندوں کو ایسا بہکاؤں کہ نماز کی طرف طبیعت ہی مائل نہ ہو کیونکہ یہ دنیا جانتی ہےکہ محشر میں
اولیں پرشش نماز بود
یہ حضور ابلیس کا اقبال ہے کہ میں اپنی کوشش میں کامیاب رہا ہوں۔ میرے اس دعوے کی دلیل میں جس کا جی چاہے دیکھ لے۔ شاید ہی کوئی حقیقی معنوں میں نماز پڑھ رہا ہوگا۔
میرا یہ دعوے سن کر میرے احباب کہہ سکتے ہیں کہ شاید کی بھی ایک رہی۔

سیکڑوں کیا ہزاروں نماز پڑھ رہے ہوں گے— اجی توبہ کیجئے! نماز تو ضرور پڑھ رہے ہوں گے لیکن میرا دعویٰ ہے کہ خشوع اور خضوع کا فقدان ہوگا۔ جس کے متعلق مولوی صاحب کہتے ہیں کہ ایسی نماز منہ پر پھینک ماری جائے گی۔ چلو چھٹی ہوئی۔
اور لگے ہاتھ یہ بھی سن لیجئےکہ جسےمیں اپنے سالہا سال کے ٹھوس تجربے کےبعد بیان کرررہا ہوں۔ یعنی زیادہ تعداد ایسے نمازیوں کی ہے جوکسی کےڈر سےیا کسی کے دکھانے یا کسی لالچ سے نماز پڑھتے ہیں۔

اللہ واسطے تو بہت تھوڑے ہی .......اس لفظ تھوڑے پر کسی انسان کا ایک شعر یاد آگیا ؎
شیخ کو تھوڑا نہ جانو نہ جانو یہ بڑا مکار ہے
ساری دنیا چھوڑ بیٹھا ہے خیال حور میں
 نماز بھی کیسی، موقع ملا دو ٹکڑیں مارلیں۔ اجی صاحب الفاظ بھی منہ سے ادا نہیں ہوتے۔ سجدہ بھی ایسا کریں گےجیسےمرغ دانہ ٹونگ رہاہو۔ اوروہ بھی اس قرد جلدی جلدی جیسےریل چھوٹ جانےکا ڈر ہو۔


نماز سےمیں نےلوگوں کا دل کس قدر پھیر دیا ہے، اس کا اندازہ کرنا ہو تو حضور ابلیس کسی سنیما گھر کے پاس کھڑے ہو کر دیکھ لیں۔ ادھر مؤذن پکار رہا ہے۔ حیّ علی الصلوٰۃ (نماز کے لیے آؤ) اور لوگ پلےہیں ٹکٹ کٹانےکےلئے۔ ادھر مؤذن چیخ رہا ہے حیّ علی الفلاح (فلاح کی طرف آؤ) اورلوگ گھسےجارہے ہیں سنیما دیکھنےکے لئے— اور مزہ تو ہے کہ یہی انسان کہتا پھرتا ہے کہ ہم کو فلاح نہیں۔

بیوقوف! ہی ہی ہی ہی........
(ابلیس سےدومنٹ اوروقت لےکر)میں انسان پراس قدرحاوی ہوگیا ہوں کہ وہ میرے اشارے پر ناچنے لگے ہیں۔ انسان جانتا ہے کہ خدا ہی دراصل پرور دگار عالم ہے، وہی سارے جہاں کا رازق ہے۔ اسی کےاشارے پرکائنات کےنظام کا انحصار ہے۔ لیکن یہ انسان میرے رتابع ہو کر دوڑتا ہےتو اپنےحاکم سے۔ حاکم بھی کون، جو خود اسی کی طرح محتاج ہے وہ رازق سمجھتا ہے، تو اپنےافسراعلیٰ کواس سلسلےمیں میرے اشارے پر سب سے زیادہ چلنےوالےیہ کرائی بالو اورکلرک لوگ ہیں۔

ہائے، یہ بیچارے کس قدرمعصوم ہوتے ہیں۔خدا کے حکم کی خلاف روزی ہو جائے سو قبول، مگر کیا مجال کہ افسر اعلیٰ کا حکم ٹل جائے— میں نے ان کلرکوں کے دل میں بیٹھا دیا ہےکہ تمہارے افسر ہی تمہارے لئے سب کچھ ہیں۔ یہ کہیں بگڑ گئے، تو پھر رزق کا دردازہ ہمیشہ کے لئے بند ہے۔ اللہ میاں بھی کچھ نہ کر سکیں گے.......... معاف کیجئے گا۔ میری تقریری بہت لمبی ہوتی جا رہی ہے اس لئے اب بیٹھ جاتا ہوں۔

’’
ایک اور ہڈ شیطان سامنے آتا ہے۔
معزز حاضرین!
میں نےجوکٹھن کام انجام دیا ہےاس کےمقابلہ میں سارے کارنامے، ہیچ ہیں اور یہی وجہ ہے کہ میں اس کی ضررت ہی نہیں سمجھتا کہ روز روز کی رپورٹ حضورابلیس کی خدمت میں بھیجا کروں۔ میں نےارادہ کرلیا تھا کہ ہرماہ کےبجائےاب اپنی کارگزاریوں کی سالانہ رپورٹ بھیجا کروں گا۔ لیکن اسی درمیان میں طلبی ہوئی۔

خیرکوئی بات نہیں ؎
1آں را کہ حساب پاک است از محاسبہ چہ باک
جی ہاں! میں نےبڑی کوششوں کےبعد انسان کوراہ راست پرلایا ہےاب کثیرتعداد انسانوں کی مشکل ہی سےخدا کےوجود کی قائل ہے۔ انسان ہر چیزکا سبب نیچرکوبتاتا ہے۔اپنے وجود اور اپنی پیدائش کو بھی نیچر ہی سے منسوب کرتا ہے۔ اللہ کی راہ بتلانے والوں کا منہ چراتا ہے۔ خدا اور رسول کےتذکرے کو تضیع اوقات سمجھتا ہے........ تو یہ سب کیسے ہو۔

کیا انسان خود بخود راہ راست پر آگئے۔ جی، ہرگزنہیں۔یہ میرا ہی رستہ دکھلایا ہوا ہے...... اس کےعلاوہ.........
‘‘بس اتنا ہی کافی ہے’’ابلیس چیخ اٹھتا ہے۔‘‘میری تشفی ہوگئی۔ میں کچھ غلط فہمی میں مبتلا ہوگیا تھا۔ لیکن ان دو چار ہڈ شیطانوں کی تقریر نے پوری کیفیت کا اظہار کردیا ۔ میرے بدن کا بوجھ ہلکا ہوگیا۔ وہی سکون اور وہی فرحت میرے دل میں پیدا ہوگئی......... میرے دوست جس تندہی اورجانفشانی کےساتھ اپنے فرائض ادا کرنےمیں منہمک ہیں وہ قابل ستائش ہے۔بلکہ میں یہ کہنےمیں مسرت محسوس کر رہا ہوں کہ اگر انسانون کو راہ سے بے راہ کرنےکی یہی رفتار رہی، تو کیا عجب ہے کہ خداوند قدوس کو ایک اور جہنم کا انتظام کرنا پڑے (تالیاں)، تو اب جلسہ کی کاروائی ختم کی جاتی ہے۔

Your Thoughts and Comments