Tota Bano Gay

طوطا بنو گے

عطاالحق قاسمی پیر اپریل

Tota Bano Gay
گزشتہ دنوں میں نے بازار میں لوگوں کا ہجوم دیکھا جو ایک جگہ جمع تھا میں نے آگے بڑھ کر جھانکا تو ایک طوطے فروخت کرنے والا تھا جس نے کئی پنجروں میں بہت سے طوطے قید کر رکھے تھے مگر لوگ ان طوطوں کو دیکھنے کے لئے یہاں جمع نہ تھے بلکہ ان کی دلچسپی کا مرکز وہ شخص تھا جس نے بھاری قیمت ادا کرکے وہ تمام طوطے خرید لئے تھے اور اب انہیں ایک ایک کرکے آزاد کر رہا تھا تھوڑ ی ہی دیر میں تمام طوطے قید سے رہا ہو چکے تھے اور اڈاری مار کر کہیں کے کہیں پہنچ چکے تھے مگر ان میں ایک طوطا ایسا بھی تھا جو اڑنے کا نام نہیں لیتا تھا، طوطوں کو آزاد کرنے والے شخص نے اسے کئی بار ہاتھ میں پکڑ کر فضا میں اچھالا مگر وہ ہر بار آزاد اور کھلی فضائوں میں گم ہونے کی بجائے زمین پر واپس آ جاتا اور پھر پھدک پھدک کر واپس اپنے آقا کے قدموں میں پہنچ جاتا ۔

(جاری ہے)

یہ غالباً ’’وفادار ‘‘ طوطا تھا اور باقی غالباً ’’طوطا چشم ‘‘طوطے تھے ۔
جب میں نے اس نیک دل شخص کو طوطوں کو یوں آزاد کراتے دیکھا تو میرے دل سے دعا ابھری کہ ’’یا خدا! مجھے بھی کچھ وسائل عطا کر کہ میں بھی بہت سے ’’طوطوں‘‘ کو آزاد کرانا چاہتا ہوں ‘‘ اور پھر چشم تصور میں میں نے دیکھا کہ میری دعا قبول ہو گئی ہے اور میں ایک بہت بڑے پنجرے کے قریب کھڑا ہوں اس پنجرے میں مختلف قسم کے طوطے بند تھے ان

میں سے کچھ بولنے والے تھے اور کچھ ایسے تھے جو بولتے نہیں تھے میں نے علیحدہ علیحدہ ان کی قیمت پوچھی تو دکاندار نے ان کی ایک ہی قیمت بتائی۔

میں نے حیران ہو کر اس کی وجہ پوچھی تو وہ کہنے لگا ’’خاموش رہنے والے طوطوں کی قیمت اس لئے زیادہ ہے کہ وہ خاموش رہتے ہیں اور بولنے والے طوطوں کی قیمت اس لئے زیادہ ہے کہ وہ بولتے ہیں ۔‘‘ میں نے جیب میں ہاتھ ڈالا اور رقم گن کر دکاندار کی ہتھیلی پر رکھ دی اس نے پنجرے کا دروازہ کھول دیا ۔پہلے میں نے خاموش طوطوں کو باہر نکالا اور پھر انہیں ایک ایک کرکے فضا میں اچھال دیا۔

انہوں نے بازار کا ایک چکر لگایا اور پھر خاموشی سے اپنے آقا کے قدموں میں آ گئے اس کے بعد میں نے بولنے والے طوطے باہر نکالے اور انہیں فضا میں اچھال دیا ۔بازار کا چکر لگانے کے بعد وہ بھی ٹائیں ٹائیں کرتے ہوئے اپنے آقا کے قدموں میں پھدکنے لگے۔ میں نے مالک سے اس کی وجہ پوچھی تو پیشتر اس کے کہ وہ کوئی جواب دیتا ایک بولنے والے طوطے نے سنہری لکیر والی گردن اوپر اٹھائی اور کہنے لگا ’’ ہم بازار کا چکر لگا کر آئے ہیں سب کاروبار مندا پڑا ہے ۔

روزی پنجرے کے باہر نہیں پنجرے کے اندر ہے ‘‘ اور خاموش رہنے والے طوطوں نے گردن ہلا کر اس کی تصدیق کر دی ۔
میں نے تعجب سے ایک نظر طوطوں کو اور پھر ان کے مالک کو دیکھا ۔ مالک ہنس رہا تھا، طوطے بھی ہنس رہے تھے میں نے اپنی حیرت پر قابو پایا اور کہا ’’ یہ طوطے ہم انسانوں کی باتیں سمجھتے ہیں اور ہم انسانوں کی زبان میں باتیں کرتے ہیں ، یہ کیا ماجرا ہے ؟‘‘ مالک نے بتایا ’’یہ طوطے معمولی طوطے نہیں ذہین طوطے ہیں ۔

ان میں سے کچھ سیاسی طوطے ہیں، کچھ ادبی اور صحافی طوطے ہیں، انقلابی طوطے ہیں۔ اور اسلامی طوطے ہیں یہ سب دانا جانور ہیں !‘‘ میں نے یہ سن کر اس کی طرف دیکھا اور پوچھا ’’اگر یہ اتنے ہی دانا ہیں تو انہوں نے تمہاری غلامی کس طرح قبول کر لی ہے !‘‘ آقا نے جواب دیا ’’ میں تو محض ان کا رکھوالا ہوں ، یہ میرے غلام نہیں ۔ میں تو خود غلام ہوں ۔

یہ دیکھو !‘‘ یہ کہہ کر اس نے اپنی پشت پر سے کپڑا اٹھایا جس پر غلامی کی مہر موجود تھی !
’’تم کس کے غلام ہو ؟میں نے پوچھا ۔
’’میں جس کا غلام ہوں ، وہ آگے کسی کا غلام ہے اور یہ سلسلہ بہت دور تک چلا گیا ہے ۔‘‘
یہ سن کر میں نے اس مظلوم انسان سے ہاتھ ملایا اور واپس جانے کو تھا کہ اس نے میرے روپوں کی تھیلی مجھے لوٹا دی اور کہا ’’تم ضرورت مند شخص لگتے ہو، اپنے روپے واپس لے لو‘‘ میں نے ممنونیت کی نظروں سے اسے دیکھا اور پیسے جیب میں ڈال لئے۔


میں ابھی تھوڑی ہی دور گیا تھا کہ اس نے ایک بار پھر مجھے پکارا ۔ میں اس کے قریب گیا تو اس نے جیب میں سے روپوں کی ایک اور تھیلی نکالی اور مجھے تھماتے ہوئے ایک آنکھ میچ کر کہا ’’طوطا بنو گے؟‘‘۔

Your Thoughts and Comments