Yarum Fankar

یارم فنکار

بدھ فروری

Yarum Fankar

کافی دنوں بعد جو یارم سے ملاقات ہوئی تو انکے چہرے پر فکر کی پرچھائیں دیکھ کر ہمیں ذرہ برابر فکر نہ ہوئی کہ یارم اکثر ہی خواہ مخواہ کیفیتِ غم طاری کر کے ہمدردی بٹورنے کی کوشش کیا کرتے ہیں۔

(جاری ہے)

لیکن رسمِ دنیا نبھانے کیلیے پوچھنا ہی پڑا "کیوں یارم خیریت تو ہے نا؟ یہ اڑی اڑی سی آنکھیں ۔

۔یہ
بجھی بجھی سی رنگت"؟

انہوں نے حسب معمول تلملا کر کہا " نالائق! اڑی رنگت اور بجھی آنکھیں ہوتا ہے" مگر ہم نے بھی ڈھٹائی اور پوری سچائی کے ساتھ بیان فرمایا" سچ کہوں تو الفاظ کے ردو بدل سے آپ کے چہرے کی نحوست پر رتی برابر فرق نہیں پڑتا"

یارم نے اک نگاہِ غلط ڈالتے ہوئے شان بے نیازی سے مجھے یوں دیکھا جیسے میرے کہے کی انکے نزدیک دو کوڑی کی اوقات نہ ہو اور پھر انتہائی فلسفیانہ لہجے میں گویا ہوئے " بس تم جیسے ناقدروں کیوجہ سے ہی یہ ہیرا آج تک رُل رہا ہے"

"ہیں؟ ہیرا؟ یار یارم کہاں وہ صاف شفاف بے داغ ہیرا اور کہاں آپ کوئلے کی کان۔

۔ کچھ ہیرے کے حق میں ہی رحم فرمائیے"

مگر انہوں نے ہمیں اگنور کرتے ہوئے اپنی بات جاری رکھی " میں نے سوچ لیا ہے کہ مجھے اپنا نام بنانا ہے۔

اور کچھ کر کے دکھانا ہے۔ویسے بھی میری تعلیم تو مکمل ہو ہی چکی

" اول تو ایم اے ٹھرکیات و ماہر زنانیات کو تعلیم یافتہ ہونا نہیں کہتے دوئم آپ نے جب جب زمانہ طالبعلمی میں کچھ کیا ہے نوٹس بورڈ پر آپ کا ہی نام بنا میرا مطلب لگا ہے۔

تو پھر اب کیا گُل کھلانے کا ارادہ ہے؟ "

یارم نے سکون سے جواب دیا " یار میں نے سوچ لیا ہے کہ میں باقی نوجوانوں کیطرح شارٹ کٹ ڈھونڈنے کی بجائے محنت سے ایکٹنگ کر کے نام کماؤں گا۔

اور اس سلسلے میں بہت ہی جلد ہیرو بھی بننے والا ہوں"

ہم پر تو غشی کا دورہ طاری ہوتے ہوتےہو ہی گیا۔

گو یارم کا ایکٹنگ کا شوق کچھ ڈھکا چھپا نہیں مگر انکے گزشتہ تمام "ایکٹنگ سکلز" ذہن میں رکھتے ہوئے ہم نے جھرجھری سی لی۔

کم
از کم دو سو سال اور چار جنم کی محنت کے بعد بھی وہ ایکٹر تو دور ایکٹنگ کے اسپیلنگ سے بھی واقف نہیں ہو سکتے تھے۔

اب
شومئی قسمت کہ جن سکلز کی بنیاد پر ہم انہیں اور ایکٹینگ کو دور پار کے دشمن سمجھے بیٹھے تھے انہیں سکلز کو لے کر وہ ہیرو بننے کا خواب سجا بیٹھے تھے۔

مگر انہیں باز رکھنا بھی ضروری تھا لہذا بات آگے بڑھائی " لیکن یہ ہو گا کیسے؟ "

یارم بھی جھٹ سینہ تان کر کلف لگی قمیض کی طرح اکڑ کر بولے۔

" بس دیکھ تو۔ تیرے یار کو ایکٹنگ کرنے کا پورا پورا تجربہ تو ہے ہی بس آڈیشن دینا باقی ہے"

ہم تو حلق میں تھوک پھنسا کر بولے "یہ تجربہ کب ہوا آپکو؟ "

یارم نے خوشی سے جواب دیا " یار تمہیں یاد نہیں جب دسویں میں ہمارے سکول میں اسٹیج ڈرامہ ہوا تھا" انار کلی "تو اس میں میرا کتنا اہم رول تھا۔

سارے کا سارا ڈرامہ میرے نازک کندھوں کے بل پر چلا تھا"

"مگر اس میں تو آپ کا کردار انار کلی کو ٹھکانے لگانے والے جلاد کا تھا جو محض ایک سین میں انار کلی کو پکڑ کے لے جاتا یے۔

"

"ہاں تو سوچو اگر میں نہ پکڑ کر لے جاتا انار کلی کو تو آج پوری تاریخ ہی کچھ اور ہوتی اور یاد کرو جب کالج میں ہیر رانجھا پر ڈرامہ ہوا تھا تب بھی کیسے میں نے منہ پر ماسک چڑھا کر جاسوس کا روول ادا کیا تھا۔

"

یارم جاسوس کا روول چچا کیدو کا تھا اور آپ تو اس درخت پر کوا بنے بیٹھے تھے۔

جس درخت کے نیچے ہیر رانجھا ملاقات کرتے تھے۔ وہ تو سین میں جان ڈالنے کیلیے اور درخت کو اصلی دکھانے کے چکر میں آپ کو ٹانگ دیا شاخوں پر۔

اور جسے آپ ماسک کہہ رہے ہیں وہ سالگرہ پر پہنی جانے والی تکونی ٹوپی کو کالا رنگ کر کے الٹا کر کے آپ کے چہرے پر چونچ لگائی تھی"

" ہاں تو تمہارا کیا خیال ہے کہ کوے کی آنکھیں بند تھیں کیا۔

یا اسے ہیر رانجھا دکھائی یا سنائی نہیں دے رہے تھے؟ ارے اس کوے نے سب دیکھا اور سنا تھا اور باقی کووں کو جا کر بتایا بھی تھا۔

بڑا جاسوس کوا تھا یار"

یارم باز آتے نہیں نظر آ رہے تھے۔

مزید گویا ہوئے " اور رئیل لائف ایکٹینگ بھی یاد کر کہ کیسے لڑکوں کو حسینہ چھیڑتے دیکھ کر میں ان ناہنجاروں کو للکارتے ہوئے ہیرو بن کر سین میں کودا تھا"؟

" پہلی بات وہ ایکٹنگ نہیں اوور ایکٹنگ تھی اور دوئم اس کودنے کے بعد آپ کافی عرصہ کودنے تو دور تشریف رکھنے سے بھی محروم رہے تھے۔

"

یارم نے غصہ سے جواب دیا" یار ایک تو تم جیسے منفی سوچ رکھنے والے دوست انسان کو لے ڈوبتے ہیں۔

تمہارے ہوتے ہوئے کیا خاک ترقی کروں گا میں"

"مگر یارم کو کیسے بتاؤں کہ یہ وہ حقیقت ہے جو ان کو دکھانا مجھ جیسے جان نثار دوستوں کا فرض ہے۔

الغرض دو گھنٹے کی بحث و مباحثہ نما تکرار کے بعد بھی وہ ٹس سے مس نہ ہوئے۔

اور ہم انکا ارادہ متزلزل کرنے میں تقریبا ناکام ہی رہے۔

اپنے تئیں ہیرو بننے کے ارادے میں کامیابی کے بعد خود کو تقریبا ہیرو سمجھتے ہوئے ہی بولے " دیکھ یار اب تیرا دوست چاکلیٹی ہیرو بننے کے بعد کیسے بڑا آدمی بنتا ہے۔

"چاکلیٹی کی اصطلاح کم از کم یارم کے رنگ کی حد تک توٹھیک ہی تھی ۔

۔
اگر یہاں مراد ڈارک چاکلیٹ تھی تو۔

میں نے بھی ہار کر انکو دل ہی دل میں تقریبا آڈیشن کیلیے وداع کرتے ہوئے علامہ اقبال کی نظم مکڑا اور مکھی کی خیالی ری انیکٹمنٹ کرتے ہوئے مکھی کا روول یارم کے سپرد کرتے ہوئے خود مکڑے کا کردار اپنے اوپر طاری کیا اور کہا"یارم اب آپ روشنیوں کی دنیا میں گم ہونے جا رہے ہیں۔

پھر آپ اتنے مہان آدمی اور بڑے ہیرو بن جائیں گے کہ آپ سے ملاقات کا شرف بھی قسمت والوں کو ہی نصیب ہو گا ۔

کہاں مجھ سی مظلوم جان آپ کی ایک جھلک دیکھنے کو دھکے کھاتی پھرے گی۔

لہذا
آپ نے جو میری USB ادھار لی ہوئی ہے بلکہ قابض کی ہوئی ہے وہ کم از کم دوست ہونے کے ناطے واپس کرتے جائیے۔

"

یہ سن کر یارم کی ساری یاری یک دم ہی ماتھے پر پڑی

تیوری کیساتھ نتھنے اوپر چڑھانے کے چکر میں ناک سے بہہ گئی اور وہ کچھ وولن نما انداز میں غراتے ہوئے میری جانب یہ کہتے ہوئے لپکے"میں ہیرو بننے جا رہا ہوں بارڈر پر جنگ لڑنے نہیں ۔

۔" اور مجھے انکی اگلی داستان سنانے تک جان بچانے کیلیے بھاگنا ہی پڑا۔

Your Thoughts and Comments