Yarum Parsa

یارم پارسا

جمعہ فروری

Yarum Parsa

فاطمہ عمران

یوں تو بہت سے لوگوں کی "موصوف" سے جان پہچان ہے۔

مگر ہمارے "یارم پارسا" جیسے دوست کم لوگوں کو ہی "بدنصیب" ہوتے ہیں ۔

(جاری ہے)

ہم اپنے یارم کی پارسائی کی قسم کھا کر کہہ سکتے ہیں کہ ان میں رتی بھر بھی نہیں پائی جاتی۔

ایمان اور پارسائی سے بس اتنی ہی شناسائی ہے کہ صفائی کو عین نصف ایمان سمجھتے ہوئے زمانے بھر کا گند سمیٹ کر اپنی سوچ اور موبائل میں بھر کر رکھتے ہیں۔

خود کو بے حد ذہین ماننے میں انہیں کوئی عار محسوس نہیں ہوتی۔

۔ حالانکہ یہ اتنی ہی بے کار چیز سمجھے جاتے ہیں جیسے جوتے کے ڈبے میں سے جوتے نکال لینے کے بعد بیکار ڈبہ۔

تقریبات میں جانا انہیں اس قدر پسند ہے کہ تقریبا ہر دوسرے روز اپنی عزت کے جنازے میں نہ صرف بخوشی شامل ہوتے ہیں بلکہ پہلی صف میں محمود و ایاز کے مقابل پائے جاتے ہیں۔

ہونہار بروا کافی کماؤ پوت بھی ہیں۔جس کا ثبوت یہ ہے کہ موصوف بچپن میں شادیوں میں جا کر دلہے کے ہار پر لگے نوٹ چپکے سے اتار کر جیب میں رکھ لیا کرتے تھے.

اپنے آپ کو توپ چیز سمجھتے ہیں لیکن یہ چلے ہوئے کارتوس سے بھی زیادہ خالی ڈھکن ہیں۔

اسی لیے اکثر انہیں ابے او ڈھکن کہہ کر مخاطب کیا جاتا ہے جسے یہ بخوشی قبول و منظور کرتے ہیں۔

انہیں فلموں میں کام کرنے کا بے حد شوق ہے۔ اور ولن کے چمچے ہونے کا رول کئی دفعہ یہ سوچ کر ٹھکرا چکے ہیں کہ ایسی منحوس شکل تو صرف ہیرو بننے کے لائق ہے ۔

لیکن قوی امید ہے کہ ہیرو بن کر بارش میں گیت فلمبند کرانے کا سپنا آنکھوں میں سجائے ہی یقینا ایک دن آنکھیں بند کر جایئں گے۔

کھانے میں بھنڈی اور جوتے دونوں شوق سے کھاتے ہیں۔ ویسے میٹھے میں خوبصورت لڑکیوں کے منہ سے گالیاں کھانا بھی انہیں بے حد پسند ہے۔

ہم انہیں ہمیشہ سے اذیت پسند سمجھتے آئے۔ کیونکہ اکثر

ہی آگ پر لوٹنے کی خواہش کا اظہار جو کیا کرتے تھے۔

وہ تو ایک دن سڑک سے ایک حسینہ گزری تو بے اختیار انکے منہ سے نکلا "آگ ہے یار آگ" ۔

تب جا کر ہمیں معاملہ کی سمجھ آئی۔

کسی حسینہ کو دیکھ کر ان پر جو لرزہ و کپکپی طاری ہوتی ہے وہ کسی عام آدمی پر "موت کا منظر" سننے کے بعد طاری ہوتی ہے۔

خوبصورت لڑکیاں گاہے بگاہے انکا دماغ ہائی جیک کیے رکھتی ہیں۔

اوقات کو مد نظر رکھتے ہوئے حالات انکے یہ ہیں کہ پوری تین منگنیاں اور چار سو افیر محض اسلیے ٹوٹ گئے کہ لڑکی نے انہیں گھاس ڈالنا ہی مناسب نہ سمجھا۔

صنف نازک کی بدولت زندگی اکثر ہی انہیں نازک موڑ پر لے آئی۔

مگر جہاں حسین انجام ممکن نہ ہوا وہاں حسرت و یاس کی تصویر بنے بےچارگی سے کرسیاں لگانے کا کام کیا۔

زندگی زندہ دلی کا نام ہے۔ اسی کو ثابت کرنے کیلیے کئی دفعہ ہڈیاں سہلاتے ہوئے اٹھ اٹھ کر جیے۔

ایک دفعہ ان کے دل میں بھی سچی محبت کی جوت جگی ۔

ہم نے لاکھ سمجھایا کہ ہوس سمجھ کر جھٹک دیجیے مگر نہ مانے۔

الٹا دیدِ یار کیلیے دیدے پھاڑ کر بلاناغہ کوچہ جاناں پر حاضری لگانے پہنچ جاتے تھے ۔

مگر زندگی میں فقط ایک ہی بارلفٹ نصیب ہوئی وہ بھی پچھلی گرمیوں میں جب سب ایوبیہ گئے تھے۔

ایک دن تو حد ہی کر بیٹھے۔ ۔ چوک پر اس حسینہ کو دیکھ کر ان پر وہی کپکپی سی طاری ہو گئی جو اکثر ہیرونچی پر نشہ ٹوٹتے وقت طاری ہوتی ہے ۔

جسم اکڑا کر بےاختیار ورد کرنے لگے۔ "تلبلا رہا ہے تلبلا رہا ہے "

ہم نے پوچھا "کیوں یارم کیوں تلملا رہا ہے؟ نہیں ڈالتی گھاس تو نہ سہی"

ہماری طرف گھورتے ہوئے بولے "جاہل اس کے گال کاتِل بُلا رہا ہے"۔

Your Thoughts and Comments