Active Mazah Nigar Aur Bivion K Lateefay

ایکٹومزاح نگاراوربیویوں کے لطیفے

ہفتہ جنوری

Active Mazah Nigar Aur Bivion K Lateefay
حافظ مظفر محسن:
عطاء الحق قاسمی اس وقت اردو کے سب سے بڑے ”ایکٹو“ مزاح نگار ہیں کیونکہ․․․ مشتاق احمد یوسفی (اللہ اُن کی بھی عمر دراز کرئے) آجکل الیکٹرونکس میڈیاپر ”ایکٹو“ ہیں اور فاطمہ حسن صاحبہ کی مدد سے اپنی پرانی” مزاح“ (جوسداہری بھری رہتی ہے) میں سے چیدہ چیدہ چن کرعوام کی تفریح کے لیے سنارہے ہیں۔

اپنے فنن کے جوہر دکھارہے ہیں․․․ روحوں کو معطر دماغوں کو مہکا رہے ہیں۔
عطاء الحق قاسمی نے ہرروز کالم لکھا․․․ اور لگتاہے پچاس سال سے لکھ رہے ہیں۔ اُن کی گفتگو․․․ اُن کے کالموں سے بھی کہیں زیادہ ”حسین“ ہوتی ہے․․․ہرموڑپراک نیالطیفہ․․․ گویاصنعت لطیفہ سازی پر اُن کی پوری ”کمانڈ“ ہے۔

(جاری ہے)

لطیفہ سازی میں بہت سے لوگ خود کفیل ہیں مگراُن کے پاس زیادہ تر ”آؤٹ ڈیٹڈ‘ لطیفے ہوتے ہیں اور یہاں ہوتاہے تازہ مال۔


شہرمیں اُن کے سنائے لطیفے سارادن گردش کرتے رہتے ہیں یہاں تک کہ شام وہ اک نیا لطیفہ پیش کر کے اپناہی ریکارڈ توڑ ڈالتے ہیں۔ لطیفے تولیاقت محمودخان آف نوشہرہ ورکاں بھی نت نئے سناتے ہیں۔ کل فرمانے لگے ․․․ اِک بینک میں ڈکیتی ہورہی تھی کچھ لوگ منہ اٹھائے ڈکیتی کابراہ راست منظر انجوائے کررہے تھے۔ (لاہوری سٹائل)
لوٹ مار کے بعد ڈاکو․․․ بینک سے نکلنے لگے توڈاکو کونے بندوق تانے ایک شخص سے پوچھا۔


تم نے مجھے ڈاکہ مارتے دیکھا تونہیں؟۔
وہ شخص․․․ جی ہاں دیکھا ہے“
ڈزز․․․ ڈاکونے گولی ماری اور دوسرے سے مخاطب ہوا․․․․ اور تم نے بھی تومجھے ڈاکہ مارتے نہیں دیکھا کہیں․․․ جی نہیں ڈاکو صاحب․․․ لیکن میری بیوی نے دیکھا ہے․․․ اور وہ سامنے کھڑی ہے آتشی گلابی ساڑھی پہنے۔ اُس شخص نے بیوی کی نشاندھی کرتے ہوئے کہا۔
آج کل سکھوں کے لطیفے کم ہیں․․․(شاید ہمارے اس عمل سے سکھ برادری بُرا محسوس کرے) اور توجہ بیویوں سے متعلقہ لطیفوں پرہورہی ہے۔

میں نے محسوس کیاہے کہ بیویوں سے متعلقہ لطیفے مقبول بھی ہوتے چلے جارہے ہیں۔ جیسے احمد فراز کی وفات کے بعد احمد فراز کی شہرت میں ہزارگنا اضافہ ہوچکا ہے اور اس کی وجہ اُن کے وہ اشعار ہیں جوعوام نے خود” تعمیر“ کئے خود“ تخلیق“ کئے․․․ اور فراز کاتخلص نگینے کی طرح ”جڑ“ دیا۔ نمونہ ملا خطہ ہو۔
نرس ڈاکٹر سے ملی ہنستے ہوئے کل پھر فراز
میں تو ملنے آگئی ہوں تورہے چاہے ناراض
روز پھرتی ہواُن سفید کپڑوں میں فراز
کدی کالاجوڑا پاساڈی فرمائش تے
بڑے ظالم ہیں لوگ اس شہر کے فراز
نمبر بدل کے کہتے ہیں بتاؤ توکون ہوں
بیویوں کے حوالے سے میری اِک غزل ملاخطہ کریں۔

اِس غزل کی خوبی یہ ہے کہ یہ غزل بیوی کوخوشامد کے وقت ”استعمال“ کی جاسکتی ہے․․․ بیوی کوشرمندہ کرنے کے لیے بھی استعمال کی جاسکتی ہے اور اگر آپ خود شرمندہ ہوناچاہیں توبھی میری اِس غزل کاسہارا لیںآ فاقہ ہوگا۔ میری اس غزل کوآخری کام کے لیے ہرروز یابہت زیادہ استعمال نہ کریں اس سے ”موت“ بھی واقعہ ہوسکتی ہے کہ آج ہم ہرکام خوشامد کے ذریعے ہی کروانے کے عادی ہوچکے ہیں۔


دو دھاری تلوار سمجھ کربیوی کو
پھولوں کی مہکارسمجھ کربیوی کو
سونے جیسا منڈا اپنا دے ڈالا
شہر کابڑا سونار سمجھ کربیوی کو
ایسے لوگ سنبھال سنبھال کررکھتے ہیں
ڈالر پاؤنڈ دینار سمجھ کربیوی کو
جھکارہابیوی کے آگے جھکا رہا
ہائے قطب مینار سمجھ کربیوی کو
حکم بجالانے میں ہردم جلدی کی
ماسٹر کانٹے دار سمجھ کربیوی کو
بات بات پروہ ڈانٹے اور ہم چپ
حاکم زمیندارسمجھ کربیوی کو
درپردہ ہے نئی کہانی بھی سن لو
سب رکھتے ہیں ہارسمجھ کربیوی کو
کچھ کی ٹانگیں کانپنے لگتی ہیں محسن
ایک سوچار بخار سمجھ کربیوی کو
بات ہورہی تھی”ایکٹو“ مزاح نگاروں کے حوالے سے اور جانکلی بیویوں کے لطیفوں کی طرف․․․ میرے پاس بیویوں کے حوالے سے پانچ سوسے زیادہ لطیفے ہیں مگرمیں آپ کواس وقت ایک بھی سنانے کی پوزیشن میں نہیں ہوں کہ بیوی سامنے بیٹھی ہے او میں کوئی رسک لینے کی پوزیشن میں نہیں ہوں۔


کل لاہورکے اک فائیوسٹار ہوٹل میں حسن عباسی اور حافظ عزیز نے اِک تقریب بپاکرڈالی․․․ یہ تقریب ایک ایسا ایوارڈ ملنے کی خوشی میں عطاء الحق قاسمی کے اعزاز میں تھی کہ جس پرعطاء صاحب نے خود کہاکہ مجھے ستارہ جرات جیسا ایوارڈبھی مل چکا ہے۔ صدارتی ایوارڈبھی مگر قطرے کے عالمی ادب ایوارڈ پرمیں بے حدخوش ہوں اور یہ میرے لیے بڑی عزت اور فخر کی بات ہے۔


اس تقریب میں معروف اداکارہ نشو، محترمہ صغرہ صدف۔ افضل عاجز معروف شاعر عباس تابش، مشہور کالم نگاریاسرپیرزادہ، جمشید مسرور (ایشین آرٹس کونسل ناروے، اوسلو) اور دوسرے احباب شامل تھے۔
تقریب کی رودادعلیحدہ سے لکھناپڑے گی مگر حاصل محفل نہایت سادہ لطیفہ (جو آپ کے شایان شان تو نہیں) بذبان عطاء الحق قاسمی حاضر ہے۔
تیس سال پہلے ایک مشاعرہ کے سلسلہ میں لکھنوء گئے۔

ہمیں لکھنوء میں ادب دوست نہایت تمیزوالے رکھ کھاؤ والے بانکا ٹائپ ”آداب عرض․․․ آداب عرض“ قسم کے لوگوں کی تلاش تھی․․․ جوکہیں نظر نہ آئے اور ہم مایوس ہونے ہی والے تھے کہ ہمیں تانگے پرسفر کرناپڑگیا۔ تانگہ بہت آہستہ بہت ہی آہستہ چل رہا تھا․․․ ہم نے کوچوان سے گزارش کی․․․ حضوراسے کچھ تیز کیجئے۔ مشاعرہ ”مس“ ہوجائے گا۔

حضور ان کی ذرا طبیعت ناساز ہے یہ تیز نہیں چل پائیں گے۔ کوچوان نے گھوڑے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مودب ہوکہا۔
ایک دفعہ میں اور شیخ سجاد حسین بدملہی گاؤں جارہے تھے․․․ صبح کاوقت تھا ہمارے ساتھ ایک نوجوان بھی تھا․․․ چچا جلدی کرذرا تیزچلا․․․ میں نے ساڑھے آٹھ بجے امتحانی سینٹر پہنچنا ہے جہاں میراریاضی کاپرچہ ہے“ نوجوان نے گھبراہٹ میں کہا” پترواپسی تے تیزچلاواں گا․․․ کوچوان نے غیرارادی طور پر جواب دیا۔

Your Thoughts and Comments