Biviyah

بیویاں

پیر ستمبر

Biviyah

مسٹر دہلوی
سسرال میں جو میکے سے آتی ہیں بیویاں
سوسو طرح سے دھوم مچاتی ہیں بیویاں
کھانے مزے مزے کے کھلاتی ہیں بیویاں
جینے کا جو مزا ہے چکھاتی ہیں بیویاں
کچھ دن تو خوب عیش کراتی ہیں بیویاں
پھر اس کے بعد خون رلاتی ہیں بیویاں
چھوڑے کسی نے بال ہیں بیوی کے واسطے
کچھ جمع کرتے ہیں مال بیوی کے واسطے
کچھ رات دن نڈھال ہیں بیوی کے واسطے
پالے یہ سب وبال ہیں بیوی کے واسطے
اتنے جتن سے گھر میں جو آتی ہیں بیویاں
چودہ طبق میاں کو دکھاتی ہیں بیویاں
کچھ لوگ تو نہال ہیں بیگم کے ہاتھ سے
پاتے ہر اک وبال ہیں بیگم کے ہاتھ سے
کچھ مست جذب وحال ہیں بیگم کے ہاتھ سے
آخر میں سب حلال ہیں بیگم کے ہاتھ سے
بچوں کے ”چوکے “پہلے اڑاتی ہیں بیویاں
پھر شوہروں کے چھکے چھڑاتی ہیں بیویاں
کہتی ہے بیوی اس کو مجازی ہے تو خدا
آقا ہے تو سوامی ہے سرتاج ہے مرا
پھر رفتہ رفتہ اس کا گھٹاتی ہیں مرتبہ
کرتی ہیں انتہا میں خصم کا لقب عطا
مردوں کو ”بودم“ایسا بناتی ہیں بیویاں
سر پہ چڑھا کے قدموں میں لاتی ہیں بیویاں
یہ لائیے دلائیے او روہ منگائیے
اس وقت آپ جائیے اس وقت آئیے
یہ شے جو کھائی آپ نے یہ شے نہ کھائیے
ملئے نہ ان سے آپ نہ ان کو بلائیے
مردوں پہ حکم ایسے چلاتی ہیں بیویاں
افسر کو بھی غلام بناتی ہیں بیویاں
شیران نر ہیں ایک سے اک مرد ہیں جری
رہتی ہے جن کے خوف سے دنیا ڈری ڈری
کہتے ہیں مسٹر آپ کی یہ بات ہے کھری
رکھا قدم جو گھر میں طبیعت ہوئی مری
روباہ شیر نر کو بناتی ہیں بیویاں
پھر دھاڑنا بھی اس کو چھڑاتی ہیں بیویاں

Your Thoughts and Comments