Shohar Honay Ke Baad

شوہر ہونے کے بعد

سرور جمال جمعرات جنوری

Shohar Honay Ke Baad
سرور جمال
ایک صبح میری آنکھ کھلی، تو میں نے دیکھا کہ میں ایک شوہر ہو چکی ہوں۔یہ معجزہ کیسےظہور پذیر ہوا، اس کےلئے میں خود حیران ہوں، بس اتنا یاد ہے کہ ایک بارمیں نےشوہر بننےکی خواہش ٹوٹ کرکی تھی۔ قدرت نےغالباً میری پچھلی تمام خواہشوں کی پامالی کےصلہ میں اتنی بڑی اورناممکن سی خواہش راتوں رات پوری کردی۔
قصہ مختصر یہ کہ اب میں ایک عدد شوہر ہوں، اس بیوی کا شوہر، جو کبھی میرے شوہر رہ چکے تھے۔

میں کیا بتاؤں کہ شوہر بننے کے بعد چند ماہ کیسے آرام و سکھ کے گذارے ہر وقت ایک مستی و سرشاری کی کیفیت میرے اوپر چھائی رہتی، ایک جذبۂ افتخار سرپر سوار رہتا۔ گویا کہ شوہر ہو جانا کسی ملک کے صدر یا بادشاہ بن جانے سے کم نہیں— لیکن میں ابھی اپنے اس اعزاز پر دل بھر کے خوش بھی نہ ہونے پایا تھا کہ اس کے سنگین اور تلخ نتائج سامنے آنے لگے۔

(جاری ہے)

اب تو ایسا لگ رہا ہے کہ گھر اور دفتر چکی کے دو پاٹ ہیں اور میں ان میں مسلسل ایسا پس رہا ہوں، کہ نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن—
شوہر بننے کے بعد شوہرانہ ذمہ داریوں پر جیسے جیسے میرے تجربات وسیع ہوتے جارہے ہیں، میرے چھکے چھوٹتے جارہے ہیں۔
میں سوچتا ہوں، ہم مردوں پرقدرت نے یہ داڑھی مونچھ کچھ بے فیض کھیتی ایک عذاب کی شکل میں نازل کردی ہے۔

صبح ہی صبح اور کبھی کبھی شام کو بھی اس کھیتی کو کانٹے اور دوسرے ہی دن پھر اس کی فصل تیار ہوجانے پر کوفت ہوتی ہے، وہ ناقابل بیان ہے، یقین جانیں جب میں اپنی بیوی کو دس منٹ میں جھٹ پٹ تیار ہو جاتے دیکھتا ہوں توان کی قسمت اور اپنی گزشتہ زندگی پر رشک کئے بغیر نہیں رہ سکتا، یہاں ایک مصیبت ہو تو بیان کی جائے۔ کبھی ٹائی کی ناٹ درست کرنے میں گھنٹوں لگ جاتے ہیں، کبھی جوتے اور چہرے کو چمکانے میں ہاتھ اور چہرے کو جابجا داغدار کرنا پڑتا ہے۔

جاڑے کے دنوں میں صبح ہی صبح لحاف سے نکل کر شیو بنانے، منہ ہاتھ دھونے اور لباس تبدیل کرنے سے ناشتہ تک کے مراحل سے گزرنے کے بعد جب گھڑی پر نظر ڈالتے ہیں تو پونے نو ہوتے ہیں۔

اف! دفتر نو بجے پہنچ جانا چاہئے۔ خیر، گھر سے دفتر کا راستہ دس منٹ کا ہے، لپک کر جائیں تو ساتھ منٹ میں پہنچ سکتے ہیں۔ چنانچہ لپکتا ہوا دفتر کے لئے روانہ ہوتا ہوں، گلی کے نکڑ پر جھٹ پٹ صاحب یوں کھڑے ملتے ہیں گویا میرے ہی انتظار میں کھڑے تھے۔


’’اخاہ! آپ خوب مل گئے۔ میں آپ ہی کی طرف جارہا تھا۔ دراصل رات ایک تازہ غزل ہوگئی— ہا ہا! — کیا غضب کا مطلع بندھ گیا........ سماعت فرمائیے۔’’
وہ طوفان میل کی طرح رواں ہو جاتے ہیں لیکن میں بیچ ہی میں خطرے کی زنجیر کھینچتے ہوئے انہیں واپس گلی کی پر شور دنیا میں لاتا ہوں اور بتاتا ہوں کہ میں بہت جلدی میں ہوں، ہمارے نئے باس سخت اصولوں کے مالک ہیں۔

کئی دنوں سے لیٹ ہو رہا ہوں، مجھے وقت پردفتر پہنچنا ہے۔’’
‘‘اماں چھوڑو بھی ! بہت دیکھے ہیں ایسے باس واس—— ایسی غزل پھر نہ سن سکو گے۔’’
لیکن انہیں غزل پڑھتا ہوا چھوڑ کر تقریباً دوڑتا ہوا دفتر کی راہ لیتا ہوں، پھر بھی دس منٹ لیٹ تو ہو ہی گیا، ڈانٹ سننا یقینی تھا،کل بیوی سے عین وقت پر بٹن کے کھلی ہوئی آستین کے ساتھ میں پندرہ منٹ لیٹ دفتر پہنچا تھا۔

دفتر پہنچتے ہی چپراسی طلبی کا حکم لئے میز کے پاس آدھمکا۔ پھر باس کی زہریلی نگاہوں کے ساتھ ڈانٹ کی ایک خوراک بھی پینی پڑی۔ ایسے موقعوں پر مجھےاپنے پہلےوالے باس یاد آجاتے ہیں۔ آہاہا! کیا پیاری شخصیت تھی۔ کبھی بھول کر ہمارے دیر سے آنے کا نوٹس نہیں لیا۔کیا خوب افسر تھے جناب! کیا مجال کبھی بارہ بجے سے پہلے دفتر آئےہوں۔ ایک گھنٹہ لیٹ جائے، دو گھنٹہ لیٹ جائیے،کو پرواہ نہیں، ہاں اتنا خیال ضرور رکھنا پڑتا تھا، کہ کبھی بارہ بجے کے بعد نہیں جایا کرتے تھے، یار لوگ خوب مزے کرتے تھے۔

یہ ‘‘مسڑی گھڑی’’جب سے آئے ہیں، اپنی مصیبت آگی ہے۔یہ تو عالم ہے دفتر کی حاضری کا— لیکن گھر کی حاضرین کا حال نہ پوچھئیے۔ پوری ڈکٹیٹر شپ ہے، پانچ بجنے کے بعد اگر ایک منٹ کی بھی دیر ہوگئی گھر پہنچنے میں تو بس سمجھ لیجئے کہ قیامت آگئی۔ اس دفتر اور بیوی کی رسہ کشی نے جان عذاب میں ڈال رکھی ہے، یعنی کہ اگر بیوی کو خوش کرنے کے لئے دفتر دیر سے جاؤں اور جلدی گھر پہنچئے اور دیر تک کام کے لئے رکئے، تو بیوی چرخ ہوتی ہیں۔


ایک دوسری رسہ کشی میری محترمہ اور میرے دوستوں کے درمیان چلتی ہے محترمہ چاہتی ہیں، میں اپنا زیادہ سے زیادہ وقت گھر پر گزاروں— احباب چاہتے ہیں، وقت کا زیادہ حصہ ان کے ساتھ گزاروں۔ شاعر حضرات چاہتے ہیں کہ میں ان پر نازل ہونے والے نوع بہ نوع کلام کو سن کر زیادہ سے زیادہ واہ واہ کروں یہی نہیں، بلکہ ہوسکے تو ان کے پورے دیوان ایک ہی نشت میں کئی بار سن لوں۔

ادیب اور افسانہ نگار حضرات کی خواہش ہوتی ہے کہ میں ان کے بور افسانے اور اور طویل ناول صبر کے ساتھ سنوں بلکہ ان پر تنقید بھی کروں اب یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ تنقید و تبصرہ سے مراد محض تعریف و توصیف ہوتی ہے۔
میرے ایک بے تکلف دوست تو ایسے ہیں، جو ناول سے کم کوئی چیز تصنیف نہیں کرتے اور اس ناچیز پر اس قدر مہربان ہیں، کہ اپنی ہر نئی تصنیف کا مسودہ مجھے سنائے بغیر پبلشر کو نہیں دیتے ، چاہے اس کے لئے دو دن اور دو راتیں ایک جگہ پر بیٹھے ہوئے گزر جائیں۔


اس لالچ میں کبھی تو مجھے کسی مشاعرہ کا صدر بنادیا جاتا ہے، کبھی کسی ادبی تقریب کا کنوینر اور کبھی بزم ادب جیسی شے سکریٹری، اور میں مثلث کے ان تین زاویوں یعنی دفتر، گھر (دوسرے الفاظ میں بیوی) اور احباب) کے چکروں میں ایسا پھنسا ہوا ہوں کہ بالکل گھن چکر ہو کر رہ گیا ہوں۔
میرا المیہ یہ ہے کسی زمانہ میں میں بیوی، اور میری موجودہ بیوی شہر رہ چکے ہیں، اس لئے ہم دونوں ’’بیویانہ’’اور‘‘شوہرانہ’’ داؤں پیچ سے اچھی طرح واقف ہیں، اس لئے ایک دوسرے پر چل نہیں پاتی۔

اگر کبھی سچ مچ بھی اوور ٹائم کرکے گھر میں داخل ہوتا ہوں، تو میرے لاکھ لاکھ قسمیں کھانے پر بھی میری بیوی کو یقین نہیں آتا اور اسے میری بہانہ بازی سمجھتے ہوئے مہا بھارت کا نقشہ کھینچ دیتی ہیں، گھر میں اس قدر واویلا مچتی ہے کہ صبح سے محلہ والوں اور پرسش احوال کرنے والوں کا تانتا بندھ جاتا ہے۔ بیوی کے بعد ان کو اپنے دیر سے آنے کی وجہ بتاتے اور صفائی دیتے دیتے بھی جی چاہنے لگتا ہے، کہ میں خود صاف ہو جاؤں۔

یہی نہیں میری شریمتی جی گزشتہ زندگی کے واقعات کی جوابی کاروائی کے لئے ہمیشہ تیاررہتی ہیں، ایک بار محض اس بات کے لئے کہ میں ان کی پسندیدہ مونچھیں شیو کرنے کے اناڑی پن کے وجہ سے مونڈ ڈالی تھیں، وہ ایک سال کے لئے میکے جا براجی تھیں۔
اسی پرمجھے یاد آیا کہ اپنے بیوی ہونے کے زمانے میں بھی ایک بامحض اس بات سےناخوش ہوکر کہ میری پسندیدہ اور بازار سے لائی ہوئی ٹائی میرے شوہر نےایک خاص موقع پر نہیں باندھی تھی۔

سال بھر تک اپنے میکہ میں ڈٹی رہی۔یہی نہیں، وہ اکثر اپنی فطری شہہ زوری اور میری فطری کمزوری کی وجہ سےمجھ پر غالب آجاتی ہیں،کیونکہ ہزار کچھ ہو،ان میں صنف کر خت اور مجھ میں صنف لطیف کی کچھ نہ کچھ خو بو تو باقی ہے ہی، اس لئے اکثر لڑائی میں وہ جیت جاتی ہیں—— ایک بار ایسی ہی ایک خانہ جنگی میں انہوں نے پاس پڑی ہوئی ایک کرسی میرے سر پر دے ماری۔

نشانہ چوک گیا اور کرسی کی ایک ٹانگ ٹوٹ گئی۔
میں چیخا ‘‘تم نے میرے کرسی کیوں ماری؟ کرسی ٹوٹ گئی۔’’
بولیں‘‘میرا ایسا ارادہ نہ تھا۔’’
‘‘کیسا ارادہ مجھے مارنے کا؟’’
بولیں‘‘نہیں، کرسی توڑنے کا!’’
دوسرے دن میں نے سنا، ہماری پڑوسن اس واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ان سے پوچھ رہی تھیں۔
‘‘تم نے اپنے شوہر کو کرسی کیوں دے ماری؟’’
وہ بڑی معصومیت سے بولیں۔


‘‘کیا کرتی۔ میز مجھ سے اٹھ ہی نہیں رہی تھی۔’’
جس بجٹ کے لئے محترمہ اپنی گزشتہ زندگی میں یعنی ایام شوہری میں ہمیشہ کہا کرتیں،
‘‘جان من بجٹ کا فیل ہونا باعث زحمت نہیں بلکہ باعث عزت و فخر ہے۔ بجٹ ہر بڑی حکومت، بڑی قوم اور بڑی شخصیت کا فیل ہوا کرتا ہے۔’’ اب سی بجٹ کے ٹائٹ رہنے کے سبب مہینہ کی پندرہ تاریخ ہی سے ان کی لڑائی شروع ہو جاتی ہے—پیسے خرچ کرنے میں ہم دونوں یکساں واقع ہوئے ہیں۔

کسی کو بھی قابل رحم حالت میں دیکھ کر ہم دونوں ہی متاثر ہو جاتے ہیں اور ایک دوسرے سے چھپا کر اس کی مدد شروع کردیتے ہیں، لیکن میرے ہاتھ پیر تو واقعی اس وقت پھول جاتے ہیں۔ جب مہینہ کے تیسرے ہفتے کے آغاز ہی میں بیوی اس بات کا اعلان کردیتی ہیں کہ تنخواہ کے سارے روپے ختم ہوگئے۔ اب اگر بدقسمتی سے میرے منہ سے نکل گیا۔
‘‘ارے پانچ سو روپے اتنی جلدی ختم ہوگئے؟’’ تو سن لیجئے ایک لمبی چوڑی تقریر۔


‘‘لو اور سنو! اب مجھ سے حساب بھی لیا جانے لگا۔ اردے یہ میر ہی دم ہے،جو اتنا بڑا جن جال سنبھالے ہوئے ہوں۔ ہزاروں تو خرچے ہیں، سینکڑوں طرح کے ملوں، فیسوں اور چندوں نے زندگی کو اجیرن بنا رکھا ہے، اس پرتمھاری فضول خرچیاں غضب ہیں۔ لاکھ بار کہا فضول خرچیاں کم کیجئے،پان سگریٹ کی عادت چھوڑئیے، دوستوں کو چائے پان کھلانا ترک کیجئے۔ مگر آپ مانتے کب ہیں؟ قسم لےلوجومیری ذات پر ایک کچا پیسہ بھی خرچ ہوتا ہو، میرا کیا ہے، جیسا کہیں گے ویسا خرچ کروں گی— جہاں کہیئے کٹوتی کروں؟
بار بار کی لڑائی جھگڑے سے تنگ آکر کہ کون زیادہ خرچ کرتا ہے، میں نے بیوی کو ایک کاپی دی، کہ جوکچھ کرچ کیا کرو اس میں درج کر لیا کرو، تاکہ آئندہ سوچ بچار کر بجٹ بیایا جائے۔

محترمہ نے خوشی خوشی نوٹ بک لے لی اور مہینہ کی پندرہ تاریخ کو ہی کاپی واپس کردی۔
پہلے صفحہ پر لکھا تھا:
آمد    ۰۰/۵۰۰
خرچ    ۰۰/۵۰۰
اللہ اللہ خیر صلا
چلو چھٹی ہوئی۔
جب تک میری حیثیت اس گھر میں ایک بیوی کی سی رہی، میں سمجھتا رہا کہ گھر کے کارخانہ کی چابی شوہر کے ہاتھ میں ہوتی ہے، لیکن اب یہ تجربہ ہورہا ہے کہ جو کچھ ہے، بیوی ہے، بیوی کے خلاف مرضی پتہ تک نہیں ہل سکتا— اور جس کو‘‘نصف بہتر’’کہا گیا ہے، وہ ‘‘کل بدتر’’سے کسی صورت بھی کم نہیں ہے کہنے کا مطلب یہ کہ میرے دوستوں کی چائے پان پر تو ان کی کڑی نظر رہتی ہے— لیکن ان کی دوستوں پر اور ان کیا خرچ ہوتا ہے، یہ سن لیجئے۔


ایک بار مہینہ کے آخری ہفتہ میں جب اپنی بیگم سے سگریٹ کے پیسے مانگے تو چٹخ کے بولیں۔
‘‘میرے پاس اب پچیس روپئے سے زیادہ نہیں رہ گئے ہیں، 31 تاریخ تک اسی میں گھر چلانا ہے، آپ کے فضول سے دوستوں کو چائے سگریٹ کے لئے میرے پاس مفت کے پیسے نہیں ہیں۔’’
‘‘ارے پرسوں ہی تو ریڈیو اسٹیشن سے ملے ہوئے پچھتر روپے لاکر تمہیں دئیے تھے، وہ کیا ہوئے۔

’’
‘‘کیا آپ کو معلوم نہیں، کہ کل ‘‘انجمن اصلاح نسواں’’کا جلسہ ہمارے یہاں تھا، پنتالیس روپےتواسی میں کرچ ہوگئے۔’’
‘‘پینتالیس روپے!ایک میٹنگ میں پنتالیس روپے خرچ ہوگئے؟’’
میں آنکھیں پھاڑ کر بولا اوران پھٹی ہوئی آنکھوں کےسامنے میرےغریبا میں وادبی جلسے ناچنے لگے، جس میں ٹھیک سے چائے پان کا انتظام بھی نہیں ہوپاتا۔


‘‘تو اور کیا، اتنے بڑے بڑے گھر کی خواتین آئی تھیں، وہ کیا بغیر کھائے پئے چلی جاتیں۔ پچیس روپے میں تو ایک درجن چائے کے مگ لائی تھی، اور بیس روپے میں چائے ،پانی، پان، وغیرہ ہوا۔’’
‘‘کیا گھر میں پیالیاں نہیں تھیں، جو تم نئی پیالیاں لے آئیں؟’’
‘‘افوہ! نہ جانے کب آپ کو سمجھ آئے گی، اتنی معزز خواتین کے سامنے وہ باوا ٓدم کے زمانے کی جاپانی سڑی بسی پیالیاں رکھ دیتی، تو کیا ہماری ناک نہ کٹ جاتی، آپ کو نہ زمانے کی خبر، نہ فیشن کی، آج کل تو چائے کے مگ ہی استعمال کرنے کا فیشن ہے۔

’’
‘‘خیر صاحب یہ ایک دن کی بات ہوتی، تو ایک بات بھی تھی، یہاں تو کبھی فرمائش ہوتی ہے۔
‘‘آج مجھے انجمن کےجلسے میں جانا ہے، میرے پاس کوئی اچھی چپل نہیں ہے اللہ مجھے ویسی ہی ہائی ہیل کی چپل دلادیجئے نا جیسی بیگم ارمان کے پاس ہے۔’’
کبھی یہ کہ—
‘‘پرسوں مجھے اپنے نریتہ کلا اسکول کے افتتاح کے لئے وقت لینے کے واسطے ریاست کی خاتون وزیر کے پاس جانا ہے، میں کیا پہن کر جاؤں۔

آپ کو معلوم ہے، وہ کیسی کیسی ساڑھیاں پہن کر پبلک تقیریبوں میں آتی ہیں۔ ڈارلنگ، وہ جاپانی جارجٹ کی پرینٹیڈ جو ہم نے مفت لال کے شوکیس میں دیکھی تھی، وہ دلادو۔’’
کبھی دیکھ رہے ہیں، تو بک شیلف خالی پڑا،پوچھنےپرمعلوم ہواکتابیں ‘‘انجمن اصلاح نسواں’’کی لائبریری کو دان کر دی گئیں، اب کوئی پوچھے،یک شیلف کیوں چھوڑا،اسے بھی بھجوادو۔

کبھی گھر کی چوکیداری کرنی پڑتی ہے کہ بیگم صاحبہ انجمن کی ہنگامی میٹنگ میں اچانک چلی گئی ہیں— کبھی بچوں کی دیکھ بھال کرنی پڑتی ہےکہ ان کی والدہ محترمہ انجمن کی طرف سے پیش ہونےوالےکلچرل پروگرام کی تیاری میں بےحد مصروف ہیں،کبھی معلوم ہوا کہ گھرکی دریاں،قالین اورفرنیچر انجمن کو عاریتاً کسی پروگرام میں کام آنےکےلئےدیئے جارہے ہیں، کبھی موٹی سی رسید بک ہمیں پکڑادی جاتی ہے۔


‘‘اللہ سیلاب زدگان کےریلیف فنڈ کےلئےچندہ جمع کرادیجئے۔’’
‘‘توصاحب اس انجمن اصلاح نسواں نے سب سے پہلے ہمارے گر کوتاکا،اور میری‘‘کل بدتر’’کا اچھی طرح بیڑاغرق کیا۔
میری بیوی کو ہمیشہ اپنی ناک اورمیری عزت کا بڑاخیال رہتا ہے— اپنی عزت کا تو مجھے کچھ اندازہ نہیں کہ شہر میں کتنی ہے،لیکن ان کی ناک کے بارے میں وثوق کےساتھ کہہ سکتا ہوں کہ ‘‘نہیں’’کے برابر ہے،کیونکہ جتنا اسے بچانے کی کوشش کی جاتی ہے، اتنی ہی زیادہ وہ کٹتی جا رہی ہے،پھر بھی میری بیوی اس متعدد بارکٹی ہوئی ناک کوکٹنےسےبچانےکےلئےمیری جھکی ہوئی کمرکواورجھکا کرمیرے قدکومزید چھوٹا کرنےپرتلی رہتی ہیں۔

خاندان اوردوستوں کےیہاں ہونےوالی آئےدن کی تقریبات اکثردن میں تارے دکھا دیتی ہیں کبھی کبھی تو معاملہ بڑا سنگین ہوجاتا ہے۔
ایک دن دفترسےجوآیا،تو دیکھا ہماری بیگم بڑی دل گرفتہ بیٹھی ہیں اگرچہ یہ خاموشی پیش خیمہ تھی کسی ہنگامہ خیز دھماکے کی، پھر بھی پرسش احوال تو ضروری تھا۔
پوچھنے پر پتہ چلا— ‘‘باجی کی ساتویں لڑکی کا عقیقہ ہے، اس میں شرکت کا دعوت نامہ آیا ہے۔

’’
‘‘اوہو، یہ تو بڑی خوشی کی بات ہے،عقیقہ کی دعوتیں بڑی شاندار ہوتی ہیں،خصوصاً اس مہنگائی کےدورمیں—— ضرور چلیں گےاورخوب ٹوٹ کر کھائیں گے۔’’
‘‘آپ کا کیا ہے، جانیں نہ سمجھیں! خوش ہوگئے، بچی کا عقیقہ ہے، ایسے ہی چلے جائیں گے— کم ازکم بچی کےلئے پانچ جوڑے اور کچھ کھلونےتوجائیں گے۔سو روپے سے کیا کم لگیں گے، پھر باجی کو ارمان ہوگا میکہ کا بھی،جوڑانہیں توایک دوپٹہ اورچوڑیاں توبھیجنی ہی پڑیں گی،اگر بھائی صاحب کو کچھ نہیں دیا،تو وہ کیا سوچیں گے۔

تمہارے تو بہنوئی ہیں۔ کم ازکم ایک ٹائی، ٹائی پن اوررومالوں کا سیٹ تو ہونا چاہیئے۔ دو سو کم کا خرچ نہیں۔’’
جی میں آیا کہوں، بائی صاحب کے لئے تو نہیں، اگر میرے لئے ایک مضبوط سی ٹائی خرید دو تو بڑی عنایت ہوگی، کم از کم پھانسی کے پھندے کا کام تو دے ہی دے گی، لیکن بناوٹی ہنسی کے ساتھ بولا۔
‘‘واہ بھئ واہ! حد ہوگئی تم لوگوں کی جہالت اور دقیانوسی پن کی— اوّل تو یہ رسمیں ہی فرسودہ ہیں،اگر منانا ہی ہےتونئےطریقے رائج کرو— تم تواصلاح نسواں کی حامی ہو۔

تم نے پھول ہار کی بات کی تھی، بس ٹھیک ہے۔ بچوں کے لئے مٹھائی،اور پھول ہار باجی اور بھائی صاحب کے لئے۔’’
‘‘واہ واہ! کیا بات کہی، ایک میرے اصلاح کرنے سے تواصلاح ہونے سے رہی۔ اکیلا چنا بھاڑ نہیں پھوڑ سکتا۔ میں خوب جانتی ہوں۔ آپ یہی چاہتےہیں سسرال میں میری ناک کٹ جائے۔ دیکھ لیجئے گا۔ بھابی، بچی کے علاوہ ماں باپ کے بھی بھاری جوڑے لائیں گی۔

ہماری غریبی تو ہماری عزت کا جنازہ نکالنے پر تلی ہوئی ہے۔’’
وہ قریب قریب روتے ہوئے بولیں۔
‘‘ارے رے! یہ کیا ہونے لگا۔’’ہر شریف مرد کی طرح اب میں بھی بیوی کے آنسوؤں سے ڈرنے لگا تھا۔ پتہ یہ سیلاب کی صورت نہ اختیار کرلیں۔‘‘بس بھئی بس! اب رونا دھونا بند کرو۔ میں دفتر سے دوسو روپے ایڈوانس لے لوں گا۔’’
‘‘دو سو روپے میں کیا ہوگا؟ کیا میں ننگی بچی جاؤں گی۔

عورتیں توایسے موقعوں پرریور تک بنولیتی ہیں۔ میرے پاس تو موئے وہی شادی کے گھسے گھسائے زیورات ہیں،خیرزیور نہ سہی، جوڑا تو ایک ڈھنگ کا ہونا چاہئیے؟ بچے بھی پرانے دھرانے کپڑے پہن کر جائیں گے؟’’
بحرحال سب کے کپڑوں، جوڑوں اور تحفے وغیرہ کا جو بجٹ بیوی نے بنایا وہ بقول ان کے بہت ہی کفایت اور کاٹ چھانٹ کر 500 روپے کا نسخہ تھا، اس طرح ہماری شریمتی جی نے،جو انجمن اصلاح نسواں کی ایک سرگرم رکن یہں، پانچ سو روپے ایک عقیقہ پر خرچ کر دئیے اور یہ غریب شوہر آج تک اس مضبوط ٹائی کے خریدنے کی حسرت دل ہی میں لئے بیٹھا ہے۔


آپ سمجھتے ہوں گے،کہ میری مصیبتیں تمام ہوچکیں،لیکن جناب وہ مصیبتیں ہی کیا جو تمام ہوجائیں، میری بیوی کوعام شکایت یہ رہتی ہے کہ میں گھر کا کام نہیں کرتا۔ بقول ان کے‘‘ایک جان ہزار مصیبتیں’’لیکن کاش کہ کوئی روزمرہ کے کاموں کے لئے لائن میں لگنی والی اس لمبی لائن کو بھی دیکھتا— مثلاً بجلی کا بل جما کرنا ہو تو لائن میں لگئیے منی آرڈر کرنا ہو تو لائن میں لگئے، سیٹ ریزرو کرانی ہو تو لائن میں لگئیے۔

ٹکٹ ڈاک کا لینا ہو کہ سنیما کا، ریلوے کا لینا ہو یا بس کا، لمبی لائن میں لگنا ہی پڑتا ہے۔ کنڑول کی دکان سے راشن لانے کے لئے ڈھائی تین سو لوگوں کی لمبی لائن میں لگ کر نہ صرف کپڑے پھڑوئیے،جیبیں کٹوائیے،بلکہ وہاں ہونے والی تمام چیخم دھاڑ اور گالی گلوج کو شہد کے گھونٹ کی طرح پیجئے۔ یہ نہیں، بلکہ وہاں ہونے والے جھگڑے فساد کے نتیجہ میں جو مقدمات چلتےہیں،اس کےعینی گواہ بن کرعدالت کےگھن چکر بنیے،ہماری بیگم جوکاموں کی لمبی لائن لگا کر ہمیں دکھاتی ہیں،ان لائنوں میں کھڑے ہونےکے نام سے کوسوں دور بھاگتی ہیں اور یہ کہہ کر اپنی جان بچالیتی ہیں۔


‘‘اے نوج! کہیں شریف گھر کی بیٹیاں بھی لائنوں میں لگا کرتی ہیں؟’’
غرض،ان روز روز کی مصیبتوں اورجھگڑوں سے میں تنگ آگیا ہوں۔ بیوی سے خوب جم کر لڑائی ہوئی، لیکن صورت حال یہ تھی کہ نہ ہم بدلے،نہ وہ بدلیں۔آخر جان سےعاجز آکر میں گھرمیں مسلم پرسنل لا کی کتاب لایا،اسے بغور پڑھا اور شرعی جواز ڈھونڈا، کہ اگر بیوی، شوہر کو تنگ کرتی ہو تو دوسری شادی کی کس حد تک گنجائش نکل سکتی ہے، اور ایک دن لڑائی کے دوران جب وہ میکے جانےکی دھمکی دے رہی تھیں، میں نےاپنی بیوی کو دھمکی دے دی،کہ میں دوسری شادی کرنے جا رہا ہوں—— پھر کیا تھا، اللہ دے اور بندہ لے— بیوی کی لڑائی نے ایسا زور باندھا کہ میں جان سے بیزار ہوگیا، اور چیخ کر بولا—
‘‘چپ ہو جاؤ ورنہ میں دیور سے سر ٹکرادوں گا۔

’’
وہ بھلا کا ہے کو چپ ہونے لگیں اور میں نے سچ مچ دیوار سے سر دے مارا۔ایک جھٹکے سے میری آنکھ کھل گئی۔ میں نے دیکھا کہ پلنگ کی پٹی پر میں اپنا سردے مارا تھا،ماتھے سے خون بہہ رہا تھا اور میرے شوہر پریشانی سےمیرے اوپر جھکے ہوئے تولیہ سے میرا کون پونچھ رہے تھے۔
ماتھا پھٹ جانےکی وجہ سےمیرے سر میں شدید دود تھا لیکن اس کے باوجود میں زور سے ہنس پڑی اور ایک بار اپنے آپ کو بیوی کے روپ میں دیکھ کر خدا کا شکر بجالائی۔

Your Thoughts and Comments