Hindostan Ki Taqseem Sai

ہندوستان کی تقسیم سے

سمجھ لیجئے کہ یہ ہندوستان کی تقسیم سے پہلے کی بات ہے۔ امرتسر سے ایک صاحب لاہور کسی کام سے آئے ہوئے تھے۔ جب وہ واپس امرتسر گئے تو اپنے دوست مسٹرٹل سے ملے۔ مسٹرٹل کہنے لگے۔ ”سناوٴ بھئی لاہور دیکھ آئے۔“ ان کے دوست لاہور سے یہ مقولہ سن گئے تھے کہ جس نے لاہور نہیں دیکھا وہ پیدا ہی نہیں ہوا اور یہی مقولہ انہوں نے مسٹرٹل کو سنا دیا اور لاہور کی تعریفوں کے پل باندھے لگے۔

ٹل جی ذرا عقلمند ثابت ہوئے تھے کہنے لگے۔ ”یار اس کا مطلب ہے کہ ہم پیدا ہی نہیں ہوئے ہم کل ہی لاہور جائیں گے“۔ ٹل جی دوسرے دن سامان وغیرہ لے کر گھوڑے پر سوار ہو کر لاہور کی طرف چل پڑے۔ راستے میں انہیں حاجت محسوس ہوئی۔ پاس سے ایک آدمی گزر رہا تھا جی اسے بلا کر کہنے لگے۔ ارے بھائی ذرا میرے گھوڑے اور سامان کا خیال رکھنا میں ابھی آیا۔

(جاری ہے)

“ جب ٹل جی واپس آئے تو وہ آدمی گھوڑے اور سامان سمیت غائب تھا۔ مسٹرٹل کو خیال آیا کہ واپس گھر چلتے ہیں پھر سوچنے لگے چلو پیدا ہی چلتے ہیں تھوڑی دور ہی لاہور ہے۔ جب ٹل جی لاہور کے قریب پہنے تو ان کا جسم گرد سے اٹا پڑا تھا لیکن جسم پر بہت خوبصورت اور قیمتی لباس پہن رکھا تھا۔ ٹل جی نے ایک آدمی سے پوچھا کہ یہاں کوئی کنواں نہیں ہے۔ میں نہانا چاہتا ہوں۔

آدمی نے ٹل جی کے لباس کو بڑی بے مروتی سے گھوڑا اور کہنے لگے۔ ”یہ پاس ہی مسجد ہے اس میں نہا لیں۔“ ٹل جی ڈر کے بولے۔ ” نہ بابا! جوتے کھانے ہیں جو مسجد میں چلا جاوٴں۔ آدمی کہنے لگا۔ میں آپ کے ساتھ چلتا ہوں دیکھتا ہوں آپ کو کون ہاتھ اٹھاتا ہے۔“ اس طرح آدمی ٹل جی کو مسجد میں لے گیا اور بولا کہ آپ نہا لیں میں باہر ٹھہرتا ہوں۔ ٹل جی نے کپڑے اتارے اور دیوار پر رکھ دےئے اور اطمینان سے نہانے میں مشغول ہو گئے۔

ادھر آدمی ان کے کپڑے اٹھا کر چلتا بنا۔ اب ٹل جی کپرے ڈھونڈ رہے تھے۔ اتنے میں نماز کا وقت ہو گیا۔ لوگوں نے جب دیکھا کہ ایک اجنبی مسجد میں گھسا ہوا ہے تو وہ ٹل جی کے پیچھے پڑ گئے اور انہیں جان چھڑانا مشکل ہو گئی اچانک وہ وہاں سے ننگے ہی بھاگ پڑے اور اسی حالت میں گھر پہنچ گئے۔ جب بیوی نے پوچھا کہ یہ آپ کو کیا ہوا ہے تو ٹل جی سینہ پھلا کر کہنے لگے۔ ”میں پیدا ہو کر آیا ہوں اور جو پیدا ہو کر آتے ہیں وہ ننگے ہی تو آتے ہیں۔ کپڑے پہن کر تھوڑا ہی آتے ہیں۔“
تاریخ اشاعت: 1970-01-01

Your Thoughts and Comments