بند کریں
مزاح مضامینآہ ۔ لات موسیقی

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین

مزید عنوان

آہ ۔ لات موسیقی
موسیقی سے ہمیں تب سے لگاؤ ہے جب ابھی ہم نئے نئے ہوسٹل میں آئے تھے۔ لگاؤ کی وجہ یہ تھی کہ باتھ رومز کی کنڈیاں نہیں تھیں۔ سونہاتے وقت ہمیں مسلسل گاتے رہنا پڑتا تھا تا کہ باہر والوں کو پتہ چلتا رہے کہ اندر کوئی ہے۔

موسیقی سے ہمیں تب سے لگاؤ ہے جب ابھی ہم نئے نئے ہوسٹل میں آئے تھے۔ لگاؤ کی وجہ یہ تھی کہ باتھ رومز کی کنڈیاں نہیں تھیں۔ سونہاتے وقت ہمیں مسلسل گاتے رہنا پڑتا تھا تا کہ باہر والوں کو پتہ چلتا رہے کہ اندر کوئی ہے۔ ہوسٹل کا پانی بھی موسم کے مطابق ہوتا تھا۔ یعنی گرمیوں میں گرم اور سردیوں میں سرد۔ سو اسی حساب سے سر نکلتے ۔ پچھلے دنوں ہم نے پٹھانے خان کو گاتے سنا تو ہمیں یاد آگیا کہ سردیوں کے دنوں میں ٹھنڈے پانی سے نہاتے ہوئے ہماری آواز کیسی نکلتی تھی۔ گرمیوں میں یک دم گرم پانی آنے سے اچھا خاصا عالمگیر یک دم عطا ء اللہ عیسیٰ خیلوی ہو جاتا ہے۔ صحافت میں آکر ہم نے جب بھی کسی گلوکار کا انٹرویو کیا ، سب سے پہلے اس سے یہی پوچھا کہ کیا آپ کے غسل خانے کی بھی کنڈی نہیں تھی؟ لیکن کچھ لوگ تو پیدا ہی گاتے ہوئے ہوتے ہیں۔ او ان کی آواز سن کر لگتا ہے جیسے کوئی پیدا ہو رہا ہے۔ نصرت فتح علی خان کہتے ہیں: ”جب میں بچہ تھا تو میرے والد کی خواہش تھی کہ میں روؤں بھی سر میں۔ اگر سر میں نہ روتا تو ڈانٹ پڑتی ۔ “ مہدی حسن خان صاحب بچپن میں ایسا سُر میں روتے کہ والدین چپ کرانے کی بجائے انہیں سننے بیٹھ جاتے۔ البتہ عطا ء اللہ عیسیٰ خیلوی کی والدہ آپ کو فوراََ چُپ کرا دیا کرتیں۔ ہمارے ایک پاپ سنگر وک جب پہلا گیت گانے پر پروڈیوسر نے بیس روپے دیئے تو وہ بولا: اس سے زیادہ تو میری والدہ مجھے چپ کرانے کے دیتی ہے۔ نور جہاں کہتی ہیں: جس عمر میں بچے کھلونے کی ضد کرتے ہیں، میں گانے کی ضد کرتی۔ سٹیج پر گاتے ہوئے مختار بیگم کا اندازیہ ہوتا تھا کہ وہ گاتے ہوئے دونوں ہاتھ بلند کرتیں اور اپنے جوتے اتار دیتیں۔ پتہ نہیں کیسے سننے والے ہوتے تھے جو گلو کارہ کا جو تا اتار لیتی تھی۔ بہر حال نور جہاں مختار بیگم کے جوتے اٹھا لیا کرتی تھیں۔ ہمارے ہاں اتنا احترام ہم نے گلوکاروں کا دیکھا یا نمازیوں کا۔ لیکن شہنشاہ غزل پاکستان میں گلوکاروں کے مقام سے پھر بھی نالاں ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ گانے والوں کو بھی پروفیسر کہا جائے۔ یاد رہے اس سے پہلے موسیقاروں نے استاد کہلانا شروع کیا تھا، جس کے بعد سے استادوں نے ٹیچر کہلوانا شروع کر دیا ہے۔ ہمارے ہاں پروفیسر دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک ہاتھ دیکھنے اور دوسرے دکھانے والے۔ کچھ پروفیسر عامل سڑکوں پر مجمع لگاتے ہیں۔ کچھ یہ معمول تعلیمی اداروں میں ہے۔ البتہ عام بول چال میں پروفیسر اسے کہتے ہیں جس کی یاد داشت کمزور ہو ۔ پروفیسر کچھ بھی بن سکتا ہے مگر گلوکار بننے کے لئے بڑا حوصلہ چاہیے۔ بالخصوص ہمسائیوں کا۔ کہتے ہیں تصور خانم کو کسی نے کہا: کوئل پکا کر کھاؤ گی تو تمہاری آواز بالکل کوئل جیسی ہو جائے گی۔ اس نے ایسا ہی کیا اور وہ کوئل نظر آنے لگی۔ کئی گلوکاروں کی حرکتیں دیکھ کر ہمارا دل کئی با انہیں پروفیسر کہنے کو چاہتا ہے۔ لیکن ہم نے یہ کبھی اس لئے نہیں کہا کہی وہ برا نہ مان جائیں۔
موسیقی وہ زبان ہے جو دنیا بھر میں مترجم کے بغیر سمجھی جاتی ہے۔ البتہ اس پر حاصل کرنا مشکل ہے۔ ویسے تو دنیا بر کی زبانوں کے ماہر اور ان پر عبور رکھنے والے کا اپنی بیوی کی زبان پر عبور نہیں ہوتا۔ اب موسیقی سننے کے دور سے دیکھنے کے دور میں ہے۔ جو لیس گونکورٹ کی طرح لوگوں کو بھی موسیقی میں جو پسند ہے، یہ وہ حیسنائیں ہیں موسیقی سن رہی ہوتی ہیں۔ موسیقاروں کا ایک دوسرے کو داد دینے کا بھی اپنا انداز ہے۔ جیسے لیو پولڈ گوڈوسکی پر فارمنس دے کر باہر نکلا تو اس کے ایک مخالف گلوکار نے کہا: آج رات تو آپ نے کمال کر دیا۔ میں نے آپ کو اتنا اچھا گاتے پہلے کبھی نہیں سنا۔
گوڈوسکی بولا: خیر یہ اتنا بھی برا نہیں تھا۔ میڈم نور جہاں فلموں میں تب سے گانے گا رہی ہیں جب ابھی خاموش فلمیں ہوتی تھیں، لیکن انہیں بھی ملکہ ترنم ہی کہا گیا، پروفیسر نہیں کہلا سکیں۔ ایسے ہی جیسے یاسر عرفات کا برس ہا برس یہ معمول رہا کہ وہ ہ رات بستر بدل لیتے۔ اس حساب سے انہیں فادر آف دی نیشن ہونا چاہیے تھا لیکن وہ تا حال ایک بچی کے فادر ہی ہو سکے ہیں۔
ہم موسیقی کو روح کی غذا سمجھتے ہیں ۔ مہدی حسن صاح نے فرمایا تھا: میں سر سے کئی بیماریوں کا علاج کر سکتا ہوں۔ سو اس لحاظ سے انہیں پروفیسر کی بجائے ڈاکٹر کہنا چاہیے تھا۔ ڈاکٹر اور گلوکار کے نزدیک دنیا میں دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو کھا نستے ہیں اور دوسرے جو نہیں کھانستے۔ کہتے ہیں گھر میں ہفتہ قوالی کرؤ تو ملیریا نہیں ہوتا۔ مخالفین موسیقی اس کی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ سارے مچھر قوالوں کی تالیوں سے مر جاتے ہیں۔ اگر چہ جب سے پی ایچ ڈی ڈاکٹروں کی تعداد بڑھی ہے، تب سے ڈاکٹر ہونا بھی اختیاطی طلب ہو گیا ہے۔ ازبیکستان میں تو ایم بی بی ایس ڈاکٹر بھی اپنے نام کے ساتھ ڈاکٹر نہیں لکھتے ، ویسے احتیاط کا تقاضا بھی یہ ہے۔ آج کل سپیشلسٹ ڈاکٹروں کا دور ہے۔ سپیشلسٹ وہ ہوتا ہے جو کم سے کم کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جانتا ہے۔ اس حساب سے ڈاکٹر عارف لودھی امراض چمٹا، ڈاکٹر عبدالستار تاری ماہر امراض طبلہ، سجاد علی ماہر امراض پٹھہ و اعصاب اور ڈاکٹر نصرت فتح علی خان ماہر امراض پیٹی و پیٹ اور ڈاکٹر عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی ماہر امراض سردرد کہلاتے۔
ہم نے ایک جرنلسٹ سے پوچھا: مہدی حسن کے باری میں آپ کی کیا رائے ہے؟بولے: مجھے تو وہ بہت پسند ہیں۔ خاص کر کے ان کی شاعری ۔ ہم نے بھی مہدی حسن کی نئی غزلیں دیوان میر میں پڑھیں۔ مزا آگیا۔ وہ شہنشاہ ِ غزل ہیں اور ان کے ساتھ وہی سلوک ہو رہا ہے جو جمہوریتوں میں شہنشاہوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ اس کی غزلیں سن کر ہم یوں حیرت زدہ ہوتے ہیں جیسے کسی پروفیسر عامل سے اپنے مستقبل کا سن کر۔ مہدی حسن کہتے ہیں : میں ایک بار اپنے شاگرد پرویز مہدی کو گانا سکھا رہا تھا۔ میں نے ایسی تان گائی کہ سامنے پڑا گلاس ٹوٹ گیا۔ ان میں اور بھی کئی پروفیسر والی خوبیاں ہیں۔ تجریدی آرٹ اتنا برا نہیں، جتنا نظر آتا ہے۔ ایسے ہی کلاسیکل موسیقی اتنی بری نہیں جتنی سننے میں آتی ہے۔ ہم کلاسیکل موسیقی یوں سنتے ہیں جیسے کسی پروفیسر کی باتیں سُن رہیں ہوں۔ اس کے باوجود اگرکوئی پوچھے کہ گلوکاروں کو کیا کہا جائے؟ تو ہم یہی کہی گے : انہی کچھ نہ کہا جائے۔

(0) ووٹ وصول ہوئے