Aakhri Mauqa

آخری موقع

منگل اکتوبر

Aakhri Mauqa

آجکل صبح ہی اخبار کھول کر دیکھتے ہی ایک خوفناک ہاتھ انگشت نمائی کرتا نظر آتا ہے کہ :۔
یاد رکھئے۔
یہ ایک ذمہ داری ہے جو آپ کے اوپر اپنے ضمیر اپنے متعلقین اور اپنے ملک کی طرف سے عائد ہوتی ہے خفیہ آمدنی بیرونی زرمبادلہ اور چھُپے ہوئے سر مایہ کو ظاہر کرنے کی آخری تاریخ 15جنوری یہ آخری موقع ہے۔
یہ ہاتھ اور اس ہاتھ کی اٹھی ہوئی انگشت شہادت اسقدر خوفناک ثابت ہوئی ہے کہ یہ جانتے ہوئے بھی کہ ہمارے پاس نہ کوئی چھُپی ہوئی آمدنی ہے نہ بیرونی زرمبادلہ ،بیسا ختگی میں ہم جبیں ٹٹو لنے لگے کہ کوئی آمدنی چپکے سے آکر چھُپ گئی ہو اور جب اپنی طرف سے اطمینان ہو جاتا ہے تو متعلقین میں سے ایک ایک سے پوچھا پڑتا ہے کہ اب بھی سویرا ہے خدا کے لئے بتا دو اگر کچھ چھپا کر رکھا ہے ۔


یہ اخبارات ہم کو اور ہم تمام گھر والوں کو ڈرا تے پھر تے ہیں کہ دیکھو 15جنوری قریب ہے اگر کسی نے کچھ چراچھپا کر رکھا ہے تو ا ب بھی بتا دے آخر آج گھر کی بڑی بوڑھی محترمہ نے اپنا تکیہ اڈھیرا۔

(جاری ہے)

اس کی روئی نکا لکر چار پائی پر ڈھیر کی اور اس میں سے ایک پوٹلی نکا لکر ہمارے سامنے رکھدی کہ لو میاں پیسہ پیسہ دو دو پیسے جوڑ کر یہ رقم میں نے اپنے کفن دفن کے لئے جمع کی تھی اب میری قسمت میں یہی لکھا ہے کہ چند ہ کرکے میری میت اُٹھائی جائے تو قسمت کے لکھے کو میں مٹا نہیں سکتی ۔

میرا یہ روپیہ جا کر ظاہر کر دو ۔اس پوٹلی کو کھو لکر روپے گنے ریز گاری جوڑی اور روپے شمار کئے تو میزان نکل آئی بہتر رو پے چودہ آنے نو پائی نہیں کر محترمہ سے پوچھا کہ اب یہ بھی بتا دیجئے ۔
کہ یہ خفیہ آمدنی کہا ں سے آئی تو وہ بڑی مصیبت سے بو لیں ۔اب یہ تو مجھے یاد بھی نہیں کہ کتنا روپیہ کہا سے آیا البتہ دو چار آنے گھر کے روز مرّہ کے خرچ سے بچا کر جمع کئے تھے اور ایک مرتبہ کچھ ٹوٹی ہوئی با لیاں ۔

ایک نتھ اور دو انگو ٹھیاں بھی بیچی تھیں ۔ان محترمہ سے حساب نہمی کرنے کے بعد اصل گھر والی سے کہا کہ نیک بخت اب تُو بھی بتا دے کہ کیا کچھ جوڑ کر رکھا ہے مگر وہ صاف مُکر گئیں کہ :۔
چیل کے گھو نسلے میں ماس کہاں
اور یہ واقعہ بھی ہے کہ عام شر فار کی طرح اپنے یہاں تو خُدا کے فضل سے 10تاریخ ہی سے قرض کا لین دین شروع ہو جاتا ہے مگر یہ بھی ٹھیک ہے ۔

کہ اس قرض کے لین دین کے باوجود چھوٹی بچتیں تو ہو ہی سکتی ہیں ۔اور ہمارا دلِ گواہی دے رہا ہے کہ ان محترمہ نے بھی ادھر ادھر کانٹ چھانٹ کرکے ہزار بارہ سو روپے جمع کر ہی رکھے ہوں گے یہ درست ہے کہ یہ رقمیں قانونی گرفت میں نہیں آتیں مگر یہی کیا کم ہے کہ ہم کوپتہ چل جاتا ۔
تو صاحب اپنا تو یہ حال ہے کہ لہٰذا اس اشتہار کی یہ انگشت نمائی اپنے لئے تو بے کارہی ہے البتہ ہم اس دن کا انتظار کر رہے ہیں کہ جب ان ڈھکے چھپے دولت مندوں کو پتہ چلانے کے بعد ہی سفید پوشوں سے بھی پوچھا جا ئیگا کہ ایک لفا فراب تم بھی 15فروری تک صاف صاف بتا دو کہ کتنے کتنے مقروض ہو مقررہ مدت کے اندر تم سے ہر گز نہ پوچھا جائیگاکہ تم نے قر ض کیوں لیا تھا ۔

اور تمہارا قر ض ادا کردیا جائے گا البتہ اس مدّت کے بعد تم مقرض نکلے یا یہ پتہ چلا کہ تم قرض لے رہے ہو تو قانون کی سخت گیری سے تم کو کوئی نہ بچا سکے گا ۔اس مدت کے اندر تم کو چا ہئے کہ قرض کا تفصیلی گو شوارہ بنا کر پیش کر دو کہ کس تاریخ کو کس نے کتنا قرض لیا کتنا واجب کیا ہے ۔یہ قرض حسنہ تھا یا سودی قرض اصل کتنی ادا کی اور قرض کتنا دیا ہے قرض ادا کرنے کیلئے تم کو کیا کیا جتن کرنے پڑے ۔

اگر جا ئیداد وغیر ہ فروخت کی ہے تو اس کی تفصیل کیا تھی پگڑی پر مکان دے کر خود جھو نپڑے میں رہنے لگے تو اس مکان کاکیا نمبر تھا ۔پگڑی کس کو دی زیور فروخت کیا ہے تو کتنے داموں میں اور کس کے ہاتھ وغیرہ وغیرہ ۔یہ گوشوار اگر طلب کر لیا جا ئے تو ہم دعوے سے کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے ایسے بے شمار شریف زردے اور سفید پوش ایسے ایسے کمال کے گوشوار ے پیش کریں گے کہ حکام بھی عش عش کر اٹھیں ۔


”گوشوار ے“ اور” گوشمالی“ کے درمیان اب صرف پانچ دن کا فرق رہ گیا ہے اور اب بھی اپنی ڈھکی چھپی دولت لئے جو بیٹھے ہیں اور دل کو سمجھا رہے ہیں کہ
یہ رات دن گردش میں سات آسمان
ہورہے گا کچھ نہ کچھ گھبرا ئیں کیا
ان کی خدمت میں صر ف اسقدر عرض ہے کہ فی الحال تو واقعی آسمان گردش میں ہیں مگر 15جنوری کے بعد کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ حضرات بھی گردش میں آئیں قصّہ دراصل یہ ہے کہ ان حضرات کا ستارہ تو اس دن گردش میں آگیا ہے جب وہ ستارے ڈوبے ہیں جن سے یہ طفیلی سیارے تھے اور جن سے یہ اپنے لئے چمک دمک حاصل کیا کرتے تھے ۔

جب تک اندھیری نگری رہی یہ ستارے خوب چمکے مگر جب اس ملک میں صبح کے آثار نمودار ہوئے اور :صبح کا ڈب کے بعد صبح صادق کا ظہور ہوا تو ان تمام ستاروں کی روشنی ماند ہوئی اور پھر تو آفتاب ایسا چمکا کہ ڈوبنے والے ستاروں کے ان طفیلی ستاروں نے اپنے کو دیکھا کہ ہم تو محض بے پر کی اُڑان اُڑ رہے تھے اور اب ہماری حیثیت اس کٹے ہوئے کنکو ے سے زیادہ اور کچھ نہیں ہے لہٰذا یہ فراز عرش سے نشیب زمین پر آرہے بلکہ اب تو یہ محسوس ہو رہا ہے کہ پاؤں تلے کی زمین بھی کھِسکتی ہوئی محسوس ہوئی ہے لہٰذا ان حضرات کی عافیت اسی میں ہے کہ یہ 15جنوری تک اپنے ہر قسم کے مال ومتاع کا اعلان کرکے اپنے دل کی دھڑکنوں کا علاج کرلیں ورنہ اس کے بعدوہ اپنی خیریت بھی کسی کو نہ لکھ سکیں گے۔


اپنی ڈھکی چھپی دولت ظاہر کرنے کوتو سب تیار ہیں یا سب نہ سہی اکثر بیشتر تیاں ہیں مگر اس کا کیا جواب دیں گے کہ یہ آمدنی کہاں سے تھی ۔مثلاََ ایک صاحب نے اپنے دونوں ہاتھوں سے رشوت سمیٹی ہے اب وہ کیسے کہویں گے کہ خدا اور حکومت دونوں مجھ کو معاف کر دیں میرے پاس جتنی دولت ہے اور میری بیوی بچوں کے نام جتنی جائیداد ہے یہ سب رشوت کی آمدنی ہے ۔

بڑا دل گردہ چاہئے اس اعتراف کے لیے لیا ایک صاحب ہیں جو قمار بازی کے بدولت رہئیں بنے ہیں ۔وہ خاندانی طو ر پر رئیس نہ تھے ۔بلکہ پھٹیچر اپن پھٹیچر تھے ۔مگر جُو اکھیل کھیل کر دولت کمائی ہے اور اب پیشے کے خانے میں قمار بازی کس طرح بھر دیں نتیجہ یہ کہ وہ ایسے لوگوں کو ڈھونڈتے پھرتے ہیں جو عارضی طور پر ان کو اپنی دلدایت میں لیکر یہ اعلان کر دیتے کہ میں ہی اس شخص کا باپ ہوں اور یہ کل روپیہ میرا ہے جومیں نے اپنے نور نظر کو دیا ہے اس لئے کہ میر ا اس کے سوا اور ہے ہی کون ۔

مگر اس طرح دوسروں کے لئے اپنی گردن پھنسو انے کے لئے بھی تو آسانی سے نہیں ملتے چنانچہ 15جنوری قریب ہے اور والد کا انتظار نہیں ہو رہا ہے ۔عجیب قحط الرجال کا عالم جہے ۔
سب سے مزے میں ہم آپ ہیں جو زندگی بھر ایڑیاں رگڑتے رہے کہ لہو کے بیل کی طرحّ محنت مزدوری کرتے رہے اور اپنی قسمت کے شا کی رہے کہ نہ پیٹ کو روٹی جڑیں ہے نہ تن کو کپڑا ہے نہ جانے کس طرح سفید پوش قائم کئے ہوے ہیں ۔مگر آج ہماری یہی فاقہ مستی ہمارے لئے نعمت ثابت ہوئی ہے کہ ہم اپنی ڈھکی چھپی عزبت تو ظاہر کرسکتے ہیں امارت اور دولت سے ہمارا کوئی سر وکار نہیں ۔اگر کسی نے چھان بین بھی کی اور ہمارا پردہ اٹھا کر ہماری اصلیت کو جھا نکا تو شرمندہ ہم نہ ہوں گے جھا نکنے والا ہو گا ۔

Your Thoughts and Comments