Aane Da Bhai Aane Da

آنے دا بھئی آنے دا

بدھ اگست

Aane Da Bhai Aane Da
علی رضا احمد :
جیسے جیسے ایک ماڈرن دور میں داخل ہورہے ہیں ہم سائنس کی دلچسپی ‘ ایجادات اور سہل پسندی کے مزے لوٹ رہے ہیں‘ اورہماری زندگی روپے پیسے کے خرچ اور روانی کی گریس سے نہ صرف سہل ہورہی بلکہ فاصلے بھی سمٹتے جارہے ہیں․․․․․․ لیکن دوسری طرف ہم اپنی تاریخی تہذیب اور اس کی دلچسپیوں سے نہ صرف محروم ہورہے ہیں بلکہ ہم اس کے ہر پہلو میں خاطر خواہ تبدیلی اور کھچاؤ بھی محسوس کررہے ہیں۔


کئی ایک اشیاء ناپیدہوتی جارہی ہیں اور کئی شہروں اور دیہات کے پرانے اور مزاحیہ نام تبدیل ہورہے ہیں․․․․․․ جیسے پہلے بچوں کے ناموں کی عرفیت رکھی جاتی تھی لیکن آج کل وہ بھی ختم ہورہی ہے یعنی بھچا اور ماجاازم دم توڑ دیا ہے․․․․․․ اب مہنگائی کابازار اتنا گرم ہے ۔

(جاری ہے)

اب آنے دا بھی آنے دا“ کی آواز کان میں پڑنا تو ناممکنات میں سے ہو کررہ گیا ہے۔

اب آنے یا روپے کی آوازیں آپ کو پرانی فلموں سے ہی سننے کو مل سکتی ہیں․․․․․․․ اور تواور شہروں کے نام بھی بدلے جارہے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ ناموں قیمتوں اور ریٹس کوپرانی فلموں کے ڈائیلاگ اورگانوں میں کیسے بدلا جائے۔
”جیسا کہ لائل پوروں منگوایا کو کاچاندی دا“ یا پھر بھارت والے اس گانے میں ممبئی کی تبدیلی کیسے کریں گے؟ یعنی یہ ہے بمبے میری جان ‘ اے دل ہے مشکل جینا یہاں “
اب تو ہم ٹانگے کی سواری کو بھی تقریباََ خیر باد کہنے والے ہیں اس کی جگہ موٹر سائیکل رکشا آگیا ہے جو کہ اتنا کامیاب ہورہا ہے کہ شاید اب اس کی ائیرکنڈیشنڈ سروس آئندہ لاہور سے اسلام آباد بذریعہ موٹروے شروع ہونے میں بھی چند روز ہی لگیں گے․․․․․․
لوگ پرانی یادیں بھی اسی لئے دھراتے ہیں کہ وہ صرف سستے دور کی ہیں اگر وہی یادیں ڈالروں پاؤنڈوالی ہوں تو پھر میں دیکھتا ہوں کون پرانے دور کو یادکرتا ہے۔

پرانے لوگ حقہ پیتے تھے حالانکہ اس میں پینے والی کوئی بھی چیز نہیں۔ اس کا تو پانی بھی منہ سے بہت فاصلے پر ہوتا ہے جیسا کہ قلم ‘ دوات اور ہاتھ میں فاصلے بڑھ گئے۔ پہلے لوگ ذرا ذرا بات کو مسئلہ بنا کر آپس میں لڑا کرتے تھے اب صرف الیکشن لڑتے ہیں اور وہ دوسرے کی غلط بات بھی صرف اس لئے نظرانداز کردیتے کہ شاید کل انہیں الیکشن کاجواء کھیلنا پڑے ․․․․․․
میں ان لوگوں پر حیران ہوں جواب بھی گاڑیوں کی ری سیل کومدنظر رکھتے ہوئے گاڑی خریدتے ہیں شاید انہیں پتا نہیں کہ آئندہ گاڑیوں کی حالت بھی کمپیوٹر کی طرغ ہی اونچی نیچی ہونے والی ہے۔

ایک دوسال بعد اس گاڑی کو کوئی نہیں پوچھے گا کہ جو آپ نے ری سیل کو دیکھتے ہوئے لی ہے۔ کچھ عرصہ پہلے بچے مٹی کے بنے ہوئے کھلونوں یعنی گھگھوگھوڑوں سے کھیلاکرتے تھے اب اسی عمر کے بچے کمپیوٹر کی ہارڈڈسک سے مزے لے رہے ہوتے ہیں ․․․․․․․
ہماری تہذیب کاایک اور عنصر بھی دم توڑرہا ہے اور وہ ہے سالن کی امپورٹ ایکسپورٹ کابارٹرسسٹم ۔ یعنی لوگ اپنا سالن دوسرے کے گھر بھیج کروہاں سے اس کامتبادل منگوا لیتے تھے لیکن اب یہ صرف ویڈوکیسٹ اور سی ڈی تک ہی محدود ہوکر رہ گیا ہے․․․․․․
پہلے شادیوں پر باجے بجتے تھے اب دلہا کے منہ پر صرف اس وجہ سے بارہ بجے ہوئے محسوس ہوتے کہ گھروالوں نے باجے کیوں نہیں بجائے بلکہ اب تو شادیوں پر ڈھول کی آواز بھی کم سننے کو ملتی ہے․․․․بلکہ بندر کا تماشا ‘ سپیرے کی بین کتے اور ریچھ کی لڑائی اور پتلی تماشا بھی دور کے ڈھول سہانے کی طرح ہوگیا ہے۔


ہم اسکول جاتے ہوئے گھروالوں سے ایک نہ لیا کرتے تھے لیکن اب حالات یہ بتا رہے ہیں کہ ایک دو سال بعد بچے والدین سے کریڈٹ کارڈ کا تقاضہ کرنے والے ہیں۔ پاؤں کو دس جگہ سے کھانے والا جوتا پہن کر لوگ پیدل ہی اوکاڑے سے لاہور کے لئے نکل پڑتے تھے لیکن اب نرم جوگروں پر مٹی تک نہیں پڑتی۔ یاد ماضی عذاب ․․․․․!

Your Thoughts and Comments