Aawazian

آوازیں!

منگل اپریل

Aawazian
ناصر ہنستے ہنستے ایک دم خاموش ہو گیا اور پھر اس نے کہا ”کیا بتا سکتے ہو کہ میں تھوڑی دیر پہلے کیوں ہنس رہا تھا؟ میں نے ایک نظر اس کے چہرے پر ڈالی اور کہا تم اس لیے ہنس رہے تھے کہ ہنسنا بہت آسان ہے جب کہ رونے کے لیے خاصی ریاضت کی ضرورت ہے!“ہاں میرے خیال میں تم صحیح کہتے ہو۔ ناصر نے ایک بار پھر ہنستے ہوئے کہا ہم لوگ خا صے آرام طلب ہو گئے ہیں میں نے چند برس قبل ایک موقع پر رونے کی کوشش کی تھی گر اس میں کامیاب نہ ہوسکا۔

چنانچہ میں نے پھر ہنسناشروع کر دیا میری دیکھا دیکھی دوسرے لوگ بھی ہنسنے لگے میں تو تھوڑی دیر بعد تھک ہار کر خاموش ہو گیا مگر وہ ہنستے چلے گئے ان میں سے کئی تو ابھی تک بنس رہے ہیں۔ کیاتم یہ دبی دبی ہنسی نہیں سن رہے؟“” ہاں سن تو رہا ہوں مگر میں سمجھا کہ یہ شاید میری اپنی آواز ہے دراصل آوازیں بھی گڈ مڈ ہو کر رہ گئی ہیں کبھی کبھی تو دوسروں کی آواز میں اپنی آواز وں جیسی لگنے لگتی ہیں اورکبھی اپنی آواز پر دوسروں کی آواز کا گماں گزرتا ہے لیکن کیا تمہیں یقین ہے کہ یہ جوہنسنے کی آواز آ رہی ہے یہ میری آواز نہیں ہے؟ تم نے تو مجھے بھی شک میں ڈال دیا ہے۔

(جاری ہے)

اب تو یہ آواز مجھے اپنی آواز لگنے لگی ہے ذرا کان لگا کر سنو اگر یہ میری آواز ہے تو اس کومنع کرو۔ میں ہنسنا نہیں چاہتا؟ لیکن تم کیوں ہنسنا نہیں چاہتے؟ میں نے پوچھا”آخرہنسنے میں حرج ہی کیا ہے؟ ہاں یہ بات تو صحیح ہے۔ ناصر نے کہا” مگر رونے میں بھی کیا حرج ہے۔ دیکھو نا ہمیں روئے ہوئے ایک زمانہ گزر چکا ہے! ذرا رک جاوٴ ابھی ابھی تم نے یہ آواز سنی ہے تو رونے کی آواز ہے؟ کہیں یہ میری آواز تو ہیں نہیں، مجھے تو یہ آ واز اپنی آواز لگتی ہے۔

تم اپنی آواز کی شناخت کھو چکے ہو۔ اس کی بات نہ کرو۔ یہ میری آواز ہے اور اگر یہ آواز ہے تو اسے منع کرو میں رونا نہیں چاہتا۔ لیکن تم کیوں رو نانہیں چاہتے؟ میں نے پوچھا "آخررونے میں حرج ہی کیا ہے؟ ہاں یار تم ٹھیک کہتے ہو‘ دراصل ہم لوگ ہنسنا اور رونا بھول چکے ہیں۔ یہ آوازیں ذرا غور سے سنو‘نہ ہنسنے والوں کو ہنسنا آتا ہے اور نہ رونے والوں کو رونا آتا ہے؟ہاں تم ٹھیک کہتے ہو‘ مگر تم یہ کیسے ٹھیک کہتے ہو؟مجھے ان کی شکلیں نظر آرہی ہیں۔

وہ دیکھو ان میں سے کچھ لوگوں کے منہ اور کچھ کے بال کھلے ہوئے ہیں کیا تم انہیں نہیں دیکھی سکتے ؟نہیں‘ میں ا نہیں نہیں دیکھ سکتا۔ ہم میں سے ہر شخص کچھ عرصہ کے لیے بینا رہتا ہے پھر نابینا ہو جاتا ہے۔ میری بینائی کاعرصہ گزر چکا ہے کیاتم انہیں واقعی دیکھ سکتے ہو؟ہاں میں انہیں واقعی دیکھ سکتے ہوں‘ وہ بھی مجھے دیکھ رہے ہیں۔ انہیں کہو میری طرف نہ دیکھیں میں ان میں سے نہیں ہوں۔

میں ان دونوں میں سے نہیں ہوں۔میں نے نہیں بتایا کہ میری بینائی کا عرصہ گزر چکا ہے۔ مجھے صرف آواز میں سنائی دیتی ہیں، شکلیں دکھائی نہیں دیتیں۔ مجھے توتم بھی دکھائی نہیں دیتے تم خاموش کیوں ہو گئے ہو۔ بولو میرے لیے تمہاری موجودگی تمہاری آواز ہے ہم اتنے عرصے سے جو گفتگو کر رہے ہیں کیا اس سے ہماری موجودگی کا احساس ہوا ہے؟ ”تم یہ بات کیوں پوچھ رہے ہو؟بس ایسے ہی مجھے لگتا ہے یہ باتیں ہم نہیں کر رہے کوئی اور کر رہا ہے۔

اگرتم اپنی بینائی واپس لا سکتے ہو تو میری طرف دیکھو۔ اگر میں تم سے باتیں کر رہا ہوں تو میرے ہونٹ کیوں نہیں ہلتے؟ہاں یار ہونٹ تو میرے بھی نہیں ہل رہے۔ تو پھر یہ باتیں کون کر رہا ہے؟مجھے لگتا ہے کمرے میں ہمارے علاوہ کوئی اور بھی موجود ہے! ان ہنسنے اور رونے والوں کے علا وہ“ کون سے ہنسنے اور کون سے رونے والے‘ تم کن لوگوں کا ذکر کر رہے ہو؟“ ہاں یار!یہ میں کن لوگوں کا ذکر کر رہا ہوں کہ یہ شاید ہم اپنے بارے میں کہہ رہے تھے۔

کیا یہ ہم اپنے بارے میں کہہ رہے تھے ؟ غالبا ہم اپنے بارے میں کہہ رہے تھے؟ لیکن ہم میں سے کوہنس رہاتھا اور کون رور ہاتھا۔ یہ تم نہیں تھے۔ میں تونہیں تھا؟ نہیں ہم دونوں تو ایک عرصے سے نہ ہنسنے ہیں اور نہ روئے ہیں یا شاید یہ کہ دل کھول کرہنسنے ہیں جی بھر کر روئے ہیں اب تو کچھ یاد نہیں پڑتا۔ خیر چھوڑو ان باتوں کو آؤپنے اپنے چہرے کھونٹی پر ٹانک کر ذرا آرام کریں ‘بہت تھک گئے ہیں!“

Your Thoughts and Comments