Ab Aik Faisla Mujhe Bhi Karna Hai

اب ایک فیصلہ مجھے بھی کرنا ہے۔

بدھ اپریل

Ab Aik Faisla Mujhe Bhi Karna Hai
میں یہ سطریں بہت دکھ کے ساتھ تحریر کر رہا ہوں۔جب میں چھوٹا سا تھا تو میرے والد نے میرے ذہن میں یہ بات بٹھانا شروع کر دی کہ رزق حلال سے بہتر کوئی رزق نہیں اوریہ کہ کبھی بھی کسی دوسرے کی شان و شوکت سے متاثر نہ ہونا۔ والد ماجد نے یہ بات اتنے تواتر سے میرے ذہن میں بٹھائی کہ ان کی یہ نصیحت میرے شعور اور لاشعور کا حصہ بن گئی۔ والد ماجد کی تنخواہ چند سو روپے ماہوارتھی اور ہم دس افراد خانہ تھے روکھی سوکھی کھاتے تھے اور اللہ تعالی کا شکر ادا کرتے تھے۔

میرا بچپن اور جوانی ماڈل ٹاؤن میں گزرا ہے میرے تمام دوست کروڑ پتی والدین کے بیٹے تھے اور میں اپنے والد کی اعلی تربیت کے طفیل ان کے درمیان سراونچا کر کے چلتا تھا مجھے اپنے ان دو دھاری پاجاموں پربھی ندامت محسوس نہیں ہوئی تھی جو میں بغیر استری کے سکول پہن کر جایا کرتا تھا؟پھر میری شادی ہوئی بچے ہوئے اور میں نے وہی ”زہر “اپنی بیوی اور بچوں کے کان میں پگھلانا شروع کر دیا کہ رزق حلال سے بہتر کوئی رزق نہیں چنانچہ میری بیوی نے مجھ سے بھی زیور کی فرمائش نہیں کی اور میرے بچوں نے مجھ سے کبھی وہ چیز طلب نہیں کی جو میں اپنے محدود آمدنی میں سے ان کے لیے حاصل نہیں کرسکتا تھا۔

(جاری ہے)

جب میرے رشتے کی بات چل رہی تھی ہمارے دفتر کے ایک دوست نے کروڑ پتی آڑھتی کے اکلوتی بیٹی کا رشتہ میرے لئے تلاش کیا تھا مگر اس طرح کے” دوسرے نسخوں“ کی طرح میں نے راتوں رات کروڑ پتی بننے کا یہ نسخہ بھی استعمال کرنے سے انکار کر دیا میں نے فیصلہ کیا کہ نہ جہیز لوں گانہ جہیز دوں گا اور نہایت سادگی سے شادی کی رسم انجام ہوگی‘ میں نیانیا امریکہ سے آیا تھا چنانچہ چند افراد پرمشتمل بارات کے ساتھ جن میں جناب مجید نظامی آغا شورش کاشمیری علامہ احسان الہی ظہیر اور مولانا عبد الرحمان ( جامعہ اشرفیہ ) بھی شامل تھے نسبت روڈ کی ایک گلی میں اپنے سسرال گیا اور ڈولی لے کرگھر آ گیا۔

چنانچہ جب اللہ تعالی نے اولاد دی تو میں نے اسی وقت فیصلہ کیا کہ میں اپنے بیٹوں کو” نیلام گھر“ میں کھڑا نہیں کروں گا‘ ان کی شادیاں سفید پوش گھرانوں میں سادگی سے ہوں گی ‘میں ان کی شادیوں پر کوئی رقم خرچ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں میں بچیوں کے والدین کو بھی کسی امتحان میں نہیں ڈالوں گا۔اب صورت حال یہ ہے کہ میں اپنے خاندان میں سب سے زیادہ غریب ہوں۔

میرے پاس کار ہے رنگین ٹیلی وژن ہے وی سی آرہے ٹیلی فون ہے اس مرلے کا گھر ہے دو کمروں میں ائیر کنڈیشنر ہیں ان سب چیزوں کے لیے مجھے تین نوکریاں کر نا پرتی ہیں میری بیوی بھی ملازمت کرتی ہے چونکہ یہ سب خون پسینے کی کمائی ہے اور اس میں رزق حرام کی ذرا سی بھی آمیزش نہیں اس لیے میں چارتنخواہوں کے باوجود ایک سوروپے ماہوار بچت کرنے کی پوزیشن میں بھی نہیں ہوں ہر ماہ مہینے کے آخر میں بھی دفتر سے اور بھی کسی دوست سے مجھے قرض لینا پڑتا ہے۔

میرے بچے اب بڑے ہورہے ہیں پہلے میں فائیو اسٹار ہوٹلوں میں منعقد ہونے والی شادیوں میں شرکت کرتا تھا تو وہاں اٹھنے والے لاکھوں روپے کے اخراجات دیکھ کر مجھے تشویش نہیں ہوتی تھی مگر جب سے میرے بچے بڑے ہوئے ہیں میں انہیں اس طرح کی شادیوں میں لے جانے سے گریز کرنے لگا جہاں دو ہزار افراد کے کھانے کا اہتمام ہوتا ہے. پورے بازار میں چراغاں کیا گیا ہوتا ہے۔

دلہن کوکئی کئی کلوزیور پہنایا جاتا ہے مجرے کی محفل بر پا ہوتی ہے اور لاکھوں روپے گانے والیوں کے سروں پر سے وار دیئے جاتے ہیں۔ یہ شادیاں اگر جاگیرداروں ، صنعت کاروں کا روباری لوگوں یا خاندانی رئیسوں کے بیٹوں بیٹیوں کی ہوتیں تو میں اپنے بچوں کو ان شادیوں میں لے جانے سے اجتناب نہ کرتا لیکن یہ شادیاں ان میں انکم ٹیکس’ایل ڈی ا ے ’پولیس ایف آئی اے‘ محمکمہ انسداد رشوت ستانی اور اسی طرح کے دوسرے ناموں سے وابستہ گریڈ گیارہ سے گریڈ سترہ تک کے ملازمین کی ہیں جن کی تنخواہیں میری تنخواہ سے دس گنا کم ہیں میرے بچے جانتے ہیں یہ حرام کا پیسہ ہے جس کی کھلم کھلانمائش کی جارہی ہے۔

الحمد للہ انہیں یہ بھی علم ہے کہ اس کے سحر میں مبتلا نہیں ہوتا لیکن کیا ان لوگوں نے میرے بچوں کو ایک بہت بڑے ذہنی ابتلا ء اور بحران میں مبتلا نہیں کر دیا؟ جب وہ ان شادیوں میں شرکت کے لیے مجھ سے صرف نئے جوتوں کی فرمائش کرتے ہیں تو کیا مجھے صرف اتنی فرمائش پوری کرنے کے لیے بھی اپنا بجٹ دیکھنا چاہیے؟ ان شادیوں میں پانچ پانچ دس دس ہزار روپے کی سلامی دی جاتی ہے میری بیوی اس کے لئے مجھ سے صرف پانچ سوروپے طلب کرتی ہے تو کیا اس وقت میں حلال حرام کا فلسفہ لے کر بیٹھ جاوٴں؟ کیا میں اپنے تمام احباب سے قطع تعلق کرلوں؟ کیا میں اس پورے معاشرے سے اپنا تعلق توڑ لوں جہاں کردار کی عزت نہیں ہے بلک سلامیوں اور برابر کی سطح پر میل جول ہی سے ساری عزت کا دارو مدار ہے۔

میرے بچے اب بڑے ہورہے ہیں اور دو چار سال میں میں نے ان کی شادیاں کرنی ہیں اور اب یہ شادیاں اس سادگی سے نہیں ہوتیں جس طرح میں نے سوچا تھا۔ میں ان دو چار سالوں میں اگر کفایت شعاری کی حد کروں گا تو پچاس ساٹھ ہزار روپے سیوکر لوں گا مگر پچاس ساٹھ ہزار روپے تو میرا دوست عطا اللہ عیسی خیلوی ایک اسی طرح کی تقریب میں شرکت کے لیے لیتا ہے۔ ابھی تو خدا کا بہت فضل ہے کہ میری کوئی بیٹی نہیں ہے مگر میں نے ابھی تک جن اخراجات کا ذکر کیا ہے وہ میں نے بیٹوں کی شادی پر اٹھتے دیکھے ہیں تو پھر مجھے کیا کرنا چاہیے۔

میں اپنے بیٹوں کو نیلام گھر میں کھڑا کر دوں؟ اچھے پیسے مل جائیں گے۔ انہیں متذکر ہ محکموں میں سے کسی محکمے میں بھرتی کرا دوں؟ کئی نسلیں معزز کہلائیں گی خودبھی معزز بن جاوٴں؟ سب کے گلے شکوے دور ہو جائیں گے۔ میر ے دوست مجھ سے ناراض ہیں کہ تم اپنے کالم نگاری کا نہ خودکوئی فائدہ اٹھاتے ہونہ ہمارے کام آتے ہو کہ تمہارے بھی بھائی بند کروڑوں میں کھیل رہے ہیں میں نے اپنے ان دوستوں کی باتوں پر بھی دھیان نہیں دیا تھا لیکن میں اب کہیں جا کر محسوس کرنے لگا ہوں کہ یہ معاشرہ دولت کا پچاری ہو چکا ہے اس میں وہی صاحب عزت ہے جوصاحب ثروت ہے۔

خاندان کے چھوٹے دولت کی وجہ سے بڑے بن جاتے ہیں اور خاندان کے بڑے ان کے سامنے چھوٹوں کی طرح مودب ہو جاتے ہیں یہ کوئی نہیں پوچھے گا کہ تم نے یہ دولت کہاں سے لی ۔ نہ حکومت نہ معاشرہ لیکن اگر تم نے خود پر رزق حرام کے دروازے بند کر لیے ہیں توتمھیں ہزاروں چھبتی ہوئی نگاہوں کا سامنا ضرور کرنا پڑے گا۔ مجھے والد مرحوم کی سب باتیں یاد ہیں لیکن اب میں سوچنے لگا ہوں کہ کیا وہ اس دور میں پریکٹیکل رہ گئی ہیں؟ اور جو کچھ میں اپنے بچوں کو سمجھتا رہا ہوں اس کے نتیجے میں وہ اس معاشرے میں کہیں حقارت بھری نظروں کا نشانہ بن کر تو نہیں رہ جائیں گے؟ ان دنوں مجھے ان تمام معاملات کے بارے میں نئے سرے سے سوچنا ہے اور پھر بھی فیصلہ کرنا ہے۔

Your Thoughts and Comments