Abdull Ghafar Khan Ki Eid

عبدالغفار خان کی عید

عطاالحق قاسمی ہفتہ فروری

Abdull Ghafar Khan Ki Eid

یہ خبر پڑھ کر ہم سوچ میں پڑگئے ہیں کہ خان صاحب عید کی نماز بھی ادا کریں گے اور خطاب بھی فرمائیں گے تو پھر عید نہ منانے کے لیے انہوں نے کیا انتظامات کئے ہیں ہماری سمجھ میں جو بات آتی ہے اس کے مطابق خان صاحب عید کا بائیکاٹ غالباً کچھ اس صورت میں کریں گے کہ عید کی صبح کو سحری کے وقت ٹین کھڑکانے والا جب ان سے عیدی لینے آئے گا تو وہ اس سے معذرت کریں گے اور کہیں گے کہ ملک کی موجودہ سیاسی حالت کے پیش نظروہ اسے عیدی دے سکتے ویسے بھی تم آدھی رات کو کنستر کھڑکا کھڑکا کر مظلوم کنستر کے ساتھ زیادتی کے مرتکب ہوتے رہے ہو اور یوں تم نے عدم تشدد کے اصولوں کی خلاف ورزی کی ہے لہٰذا تمہیں تو عیدی دینے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اسی طرح ڈاکیہ ان سے عیدی وصول کرنے آئے گا تو اسے کہیں گے کہ تم آج تک کونسی اچھی خبر لائے ہو جو آج عیدی وصول کرنے آگئے ہو گھر کے ملازم عیدی طلب کریں گے تو انہیں ڈانٹ پلائی جائے گی کہ تم نے یا تمہارے بڑوں نے پاکستان کے سلسلے میں صوبہ سرحد میں ہونے والے ریفرنڈم میں کونسی میری بات مانی تھی جو میں آج تمہیں عیدی دوں اسی طرح بچوں سے کہا جائے گا کہ بچو تم تو میرے بچے ہو تم جانتے نہیں ملک کے سیاسی حالات کی وجہ سے میں عید نہیں منارہا لہٰذا میں تمہیں عیدی بھی نہیں دے سکتا بلکہ تمہیں جو عیدی وصول ہو وہ میرے پاس جمع کردو مجھے بھارت نے جو تھیلی پیش کی تھی میں یہ رقم اس میں شامل کرکے ملک و قوم کی زیادہ اعتماد سے خدمت کرسکوں گا لیکن بچے تو آخر بچے ہوتے ہیں چنانچہ اگر انہوں نے پوچھ لیا کہ داداا ما یہاں ملک سے آپ کی مراد کون ساملک ہے اور قوم سے مراد کونسی قوم ہے؟تو باچا خان انہیں کیا جواب دیں گے کچھ نہ کچھ تو خیر جواب دیں گے کیونکہ تجربہ بڑی چیز ہوتی ہے عید نہ منانے کے سلسلے میں خان عبدالغفار خان کا اگلا اقدام غالباً یہ ہوگا کہ وہ اس روز سویاں نہیں کھائیں گے اس کی پہلی وجہ تو یہی ہوگی کہ وہ عید نہیں منارہے تاہم دوسری وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ سویاں کھانا صردف مہذب آدمی کا نہیں تین چار آدمیوں کا کام ہوتا ہے ایک آدمی کھائے اور باقی تین آدمی سویاں سنبھالنے کے لیے درکار ہوتے ہیں کیونکہ سویاں کھاتے ہوئے چمچے اور منہ کے درمیان کئی سخت مقامات بھی آتے ہیں او ر ایک تیسری وجہ ممکن ہے یہ بھی ہے کہ ڈاکٹر اسرار احمد نے سویاں کھانے کو بدعت قرار دے رکھاہے اور غفار خان اب آخر عمر موحد ہوگئے ہیں کیونکہ انہیں بتوں کی طرف سے رنج بھی تو بہت ملے ہیں اور عید نہ منانے کا ایک طریقہ ہی بھی ممکن ہے کہ خان صاحب جب چارسدہ میں نماز ادا کریں اور نماز عید کے بعد لوگ انہیں عیدملنے کے لیے آگے بڑھیں تو خان صاحب یہاں بھی معذرت کردیں اور کہیں کہ میں ملک کی موجودہ سیاسی صورت حال کی وجہ سے تمہیں گلے نہیں لگاسکتا ویسے بھی تم لوگ اس قابل نہیں ہو کہ تمہیں گلے لگایا جائے تم سرحد پار سے آنے والے افغان مہاجرین کو مجھ سے اجازے لئے بغیر گلے لگا رہے ہو تم ظالم کو گلے لگاتے ہو اور پاکستان کے لیے تو گلے کٹاتے بھی ہو لہٰذا مجھے میرے حال پر چھوڑد و تم عید مناﺅ تم نے آج تک میری کون سی بات مانی ہے جو آج میری مانو گے بلکہ ممکن ہے کہ عید کے روز یہ سب کچھ دیکھ کر ان پر اتنی رقت طاری ہو کہ جب رات کو عید کے ہنگامے سرد پڑجائیں تو وہ اپنی پرسوز آواز میں کہ پے درپے ناکامیوں کے بعد آواز بہر حال پرسوز ہوجاتی ہے مکیش کا یہ گیت گنگناتا شروع کردیں کہ
”مجھ کو اس رات کی تنہائی میں آواز نہ دو“
”مجھ کو جو ساز رلا دے مجھے وہ ساز نہ دو“
مگر یہ نے نوازی بعد از وقت ہوگی اوریوں ان کے کام نہ آئے گی کہ عید کا سارا دن لوگ عید کا ساز بجاتے ہوں گے بلکہ اگلے روزبھی یہ ساز بجائیں گے جو بڑے خان صاحب کو ایک بار پھر رلا دے گا۔

(جاری ہے)

ویسے ایک بات جو ہمیں سمجھ نہیں آئی اورسمجھ اس لئے نہیں آئی کہ خبر میں اس کی کوئی وضاحت موجود نہیں اور وہ یہ کہ خان صاحب نے ملک کی جس سیاسی صورت حال کے پیش نظر عید نہ منانے کا فیصلہ کیا ہے وہ سیاسی حالات ان کے نزدیک کیا ہیں؟یہ ان کے نزدیک والی پخ ہم نے اس لئے لگائی ہے کہ جو سیاسی بلکہ سماجی اور معاشی صورت حال ہے وہ بہر حال ہمارے پیش نظر ہے یعنی یہ کہ انتخابات نہیں ہورہے غنڈہ گردی اورلاقانونیت زوروں پر ہے عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں یہ تو ہم سب جانتے ہیں اور اس پر بہت مضطرب ہیں لیکن خان صاحب کی شکائتیں بھی اس نوعیت کی ہیں ممکن ہے اسی نوعیت کی ہوں لیکن جہاں تک ہمیں یاد پڑتا ہے صدر مملکت جنرل ضیاءالحق خان عبدالغفار کو ایک عظیم محب وطن قرار دے چکے ہیں اور خان صاحب ان سے وعدے وعید کرچکے ہیں کہ وہ ان سے مکمل تعاون کریں گے اب یہ بیچ میں کیا رخنہ آن پڑا ہے کہ خان صاحب وعدے تو کیا عید منانا بھی بھول گئے ہیں یہ ضرور دشمنوں نے کوئی چال چلی ہے اور یوں ظالم سماج کا کردار ادا کیا ہے لیکن ایک خیال ہمیں یہی بھی آیا ہے کہ عیدوغیرہ کے سلسلے میں شاعر لوگ بھی بہت کچھ کہا کرتے ہیں یعنی وہ عید کے لیے نہ چاند کا نظر آنا ضروری سمجھتے ہیں اور نہ علامہ محمود احمد رضوی کے عیدہونے یا عید نہ ہونے کے اعلان کو کوئی اہمیت دیتے ہیں بلکہ ان کی عید اسی روز ہوتی ہے جس روز انہیں محبوب کا چہرہ نظر آجائے ایک محبوب اپنے خان صاحب کا بھی ہے جس کانام بیرک کارمل ہے خان صاحب بہت دنو ں سے کابل نہیں گئے اور یوں ان کی آنکھیں اپنے محبوب کے دیدار کو ترس گئی ہیں چنانچہ غفار خان کی عید تع اس روز ہوگی جس روز انہیں بیرک کارمل کا دیدار نصیب ہوگا یا پھر خدانخواستہ پاکستان میں بیرک کارمل جیسا کوئی چاند طلوع ہوگا سو اس چاند کو دیکھے بغیر خان صاحب کیسے عید مٹائیں انہوں نے اپنے روزے خراب کرنے ہیں۔

Your Thoughts and Comments