Abdurehman

عبدالرحمن

جمعہ ستمبر

Abdurehman

مظفر بخاری
ایک اخبار میں ایک خبر شائع ہوئی ہے ۔دن بھر کی تھکن دور کرنے کے لیے ناولٹی سینما کا آخری شو دیکھنے والے سید مٹھا بازار کے محنت کش عبدالرحمن کو یہ تفریح انتہائی مہنگی پڑی ۔وہ گھر لوٹ رہا تھا کہ پولیس نے اسے قابو کرلیا اور اس سے اکیس روپے چھین لیے ۔وہ بڑے تھانیدار سے شکایت کرنے تھا نے کے اندر گیا تو وہاں مار مار کر اس کے چار دانت توڑ دئیے گئے ۔

وہ ساری رات تھانے میں پڑا رہا ۔تھانیدار کا موقف تھا کہ سینما سے نہیں گندی گلی سے آیا ہے ۔عبدالرحمن نے اپنی بے گناہی کے ثبوت میں سینما کا ٹکٹ بھی دکھا یا لیکن اس پر کوئی اثر نہ ہوا ۔صبح اسے اس شرط پر جانے کی اجازت ملی کہ وہ ان چار ٹوٹے ہوئے دانتوں کی شکایت اعلیٰ افسروں سے کرنے کی بجائے صبر شکر کرے گا ‘اور اس واقعے کو اپنی تقدیر سمجھے گا ۔

(جاری ہے)

سید مٹھا کا عبدالرحمن چھابڑی میں دال سویاں بیچتا ہے ۔پولیس کاعملہ تشدد کے بعد اس کی ناک اور دانتوں سے بہنے والے خون کوروکنے کے لیے تمام رات اس کے سر پر پانی ڈالتا رہا ۔عبدالرحمن نے پولیس تشدد کے حلاف مجسٹر یٹ کی عدالت میں استغاثہ دائر کر دیا ہے ۔“
یہ خبر پڑھ کر ہمیں متعلقہ سٹا ف رپورٹر کے رویے پر از حد افسوس ہوا جس نے ایک معمولی سے واقع کو نمک مرچ لگا کر پولیس کے فرح شناس عملے کو ایکسپلا ئٹ کرنے کی کوشش کی ہے ۔

لوگ ٹھیک ہی کہتے ہیں کہ اخباروالوں سے اللہ بچا ئے جو بیک وقت جنبش قلم اچھے اچھوں کی پگڑی اچھال دیتے ہیں ۔شاید یہی وجہ ہے کہ پولیس نے بہت عرصہ پہلے پگڑی ترک کرکے ٹوپی پہننا شروع کر دی تھی ۔تب سے اخبار والے ہاتھ دھو کر ان کی ٹوپی کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں ۔حالانکہ پولیس کی ٹوپی کو ٹچ کرنے سے پہلے ہاتھ دھونا بیکار ہے ۔کیونکہ بعد میں یہ کام بہر حال کرنا پڑ تا ہے ۔

اس خبر کو بغور پڑھنے سے پتہ چلتا ہے کہ قصور سر اسر عبدالرحمن کا ہے اور پولیس کا عملہ اپنے حسن سلوک کے سبب تعریفی اسناد کا مستحق ٹھہرتا ہے ۔عبدالرحمن کی پہلی غلطی یہ ہے کہ اس نے تفریح کے لیے ٹاولٹی سینما کا انتخاب کیا جو گندگی گلی سے محض چند قدم پر واقع ہے ۔حالانکہ سید مٹھا بازار سے تقریباََ اتنے ہی فاصلے پر بھاٹی دروازہ ہے جہاں بفضل خدا تین سینما گھر ہیں۔

دوسری بات یہ کہ ایک غریب ‘محبت کش کو ہر گز ہر گز یہ زیب نہیں دیتا کہ و سینما کا آخری شودیکھے بعض اوقات انسان کی زندگی کا آخری شو ثابت ہوتا ہے ۔پولیس کا فرض ہے کہ وہ گندی گلی کے آس پاس پھرنے والوں پر کڑی نظر رکھے اور جسم فروشی جیسے قبیح کا روبار کی حوصلہ شکنی کرے۔اگر چہ کاغذ ات پر گندی گلی کا وجود سابق گورنر ملک امیر محمد خان مرحوم کے زمانے سے مٹ چکا ہے ۔

لیکن پولیس والوں نے احتیاطََ اس گلی کو اس لیے قائم رکھا ہے کہ عادی مجرموں کی نشان دہی ہو سکے اور موقع پاکر ان کا اخلاق سدھا رد یا جائے ۔ویسے بھی شریف یا بد معاش کسی کے ماتھے پر تو لکھا نہیں ہوتا ‘مشتبہ افراد کو پکڑ کر پوچھ گچھ کیے بغیر بے چاری پولیس کو کسی کے بارے میں کیسے پتہ چل سکتا ہے ۔
پولیس پر الزام دھرنایوں تو بہت آسان ہے لیکن ہمارا ذاتی تجربہ اس سلسلے میں یہ ہے کہ پولیس شریف شہریوں کو نہ صرف چھوڑ دیتی ہے بلکہ حتیٰ الا مکان ان سے ہمدردی بھی کرتی ہے ۔

ہوا یوں تھا کہ ہماری ایک عزیزہ بعارضہ ز چگی ‘لیڈی ولنگڈن ‘ہسپتال میں داخل ہوئی (اتفاق سے یہ ہسپتال بھی گندی گلی کے قریب ہی واقع ہے )بچے کی پیدائش کے بعد ایک نرس نے ہمیں حکم دیا کہ جلد از جلد ایک عدد چوسنی کا بندوبست کرو۔ہم بھاگم بھاگ ہسپتال کی کینٹین پر پہنچے اور چوسنی طلب کی ۔کینٹین والے نے بتا یا کہ سر گودھا میں شدید گرمی پڑنے کی وجہ سے بازار میں چوسنی کی قلت ہوگئی ہے ۔

وہاں بیٹھے ہوئے ایک صاحب نے فرمایا کہ ہم ٹکسالی میں جا کر قسمت آزمائی کریں۔وہاں جا کر ہم نے ایک دکاندار کے سامنے اپنا سوال دہرایا تو جواب ملا”چوسنی تو نہیں البتہ پان سگریٹ حاضر ہیں ۔“
ہم شرمندہ ہو کر ایک اور سٹور پہنچے ‘وہ صاحب فرمانے لگے کہ چوسنی تو اس وقت نہیں ہے ۔ہاں اگر آپ ایک غبار ہ لے جائیں اور اس میں تھوڑی سی ہوا بھر لیں تو یہ چیز و قتی طور پر چوسنی کا کام دے سکتی ہے۔

“ ہمیں چونکہ نومولود کی افتاد طبع کا علم نہ تھا ‘ہم نے اس دکاندار کی پیش کش کو ماننے سے انکار کر دیا ۔ نیزمحض چند گھنٹے کے بچے سے چار سو بیسی کرنا ہمارے ضمیر کو گوارا نہ تھا۔ذرا آگے بڑھے تو لاعلمی میں گندی گلی کے قریب پہنچ گئے ۔فوراََ ہی ہمیں ایک فرض شناس کا نسٹیبل نے دھرلیا اور تھانے چلنے کو کہا ‘ہم نے تفصیل سے اسے اپنی مشکل بتائی تو اس مرد خدا کو ہم سے گہری ہمدردی پیدا ہو گئی کہنے لگا ۔

اگر چہ چوسنی کا ملنا خاصا مشکل ہے تا ہم ایک دکان میری نظر میں ہے ۔“یہ کہہ کر اس نے ہمارے ہاتھ سے دس کانوٹ پکڑا اور پیچھے آنے کو کہا ۔ذرا آگے جانے پر ایک اور کانسٹیبل آتا دکھائی دیا۔ ہمارے والے کا نسٹیبل نے ہمارے کان میں کہا ”آپ تھوڑی دیر کے لیے ادھر ادھر ہو جائیں ایک نہایت خطر ناک کانسٹیبل آرہا ہے ۔“یہ سن کر ہمارے ہوش و حواس گم ہو گئے اور ہم بھاگ کر سر کلر روڈ پر جا پہنچے ‘وہاں سے رکشہ پکڑ ا اور انار کلی سے چوسنی لے کر آئے ۔

ہمارا ہمدرد کا نسٹیبل یقینا آج تک چوسنی لیے ہمیں تلاش کر رہا ہو گا ۔
اس واقعے سے آپ نے اندازہ لگا لیا ہو گا کہ ہماری پولیس فرض شناسی میں لندن کی پولیس سے کسی طرح کم نہیں ۔ویسے حال ہی میں لندن سے آنے والے ایک دوست نے بتایا ہے کہ پاکستانیوں نے وہاں کی پولیس کو بھی رشوت کی چاٹ لگا دی ہے ۔حبیب جالب نے شاید اسی لیے کہا تھا ۔
”جہا ں بھی گئے داستاں چھوڑ آئے “
خیر ‘توذکر ہو رہا تھا بد نصیب اور بے وقوف عبدالرحمن کا ‘اس کا بیان ہے کہ پولیس نے اس سے اکیس روپے چھین لیے ۔

ان روپوں کے چھیننے کا مقصد بھی دراصل عبدالرحمن کو راہ راست پر لا نا تھا۔اگر اس سے یہ اکیس روپے نہ لیے جاتے تو وہ اگلے روز پھر آخری شودیکھنے پہنچ جاتا ۔پولیس نہیں چا ہتی کہ محنت کش عوام خون پیسنے کمائی یوں ضائع کریں ۔اگر عبدالرحمن کو آخری شو دیکھنے کی لت پڑجاتی تو اس کے ازدواجی تعلقات پر بہت برا اثر پڑتا ۔جھگڑے فساد تک نوبت پہنچ سکتی تھی ۔

محلے بھر کے امن کو خطرہ لاحق ہو سکتا تھا ۔چنانچہ پولیس نے ”اندیشہ نقص امن“کے پیش نظر عبدالرحمن سے اکیس روپے کے لیے ‘یہ بھی ہو سکتا ہے کہ روپے لینے والے کانسٹیبل کی حال ہی میں شادی ہوئی ہو اور اس نے یہ اکیس روپے سلامی سمجھ کر وصول کر لیے ہوں ۔
عبدالرحمن کی حماقت ملاحظہ فرمائیں کہ وہ ان اکیس روپوں کی شکایت کرنے تھانے پہنچ گیا ۔

گیدڑ کی موت آئے تو شہر کا رخ کرتا ہے اور شریف شہری وفات پانے کا خواہشمند ہو تو تھانے پہنچ جاتا ہے ۔وہ لوگ جو زندگی سے تنگ آئے ہوئے ہیں ۔لیکن خود کشی کو حرام سمجھتے ہیں ۔انہیں میرا مخلصانہ مشورہ ہے کہ اپنے علاقے کے تھانے میں پہنچ جائیں ۔بہر حال تھانے میں عبدالرحمن کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ توقع سے بہت کم ہے ۔متعلقہ تھانیدار نے غیر معمولی رحمدلی سے کام لیتے ہوئے عبدالرحمن کے صرف چار دانت توڑنے پر ہی اکتفا کیا اور یہ چار دانت بھی کھانے کے نہیں بلکہ دکھانے کے تھے ‘جن کا کوئی خاص مصرف نہیں ہوتا ۔

بس یوں ہی کبھی کبھار ہنسنے ہنسانے کے کام آجاتے ہیں ۔
قابل غور بات یہ ہے کہ اخبار نے یہ تو لکھ دیا کہ چار دانت توڑ دئیے ہیں لیکن یہ کہیں نہیں لکھا کہ اٹھائیس دانت نہیں توڑے ۔اسے کہتے ہیں کہ نیکی برباد گناہ لازم ‘ان چار دانتوں کی اس لیے بھی ضرورت نہیں رہی کہ عبدالرحمن کو ہنسنے کی ضرورت زندگی بھر پیش نہیں آئے گی بشر طیکہ وہ زندہ بچ رہا ۔


عبدالرحمن کا یہ کہنا کہ وہ گندی گلی سے نہیں بلکہ سینما دیکھ کر آیا ہے غلط بھی ہو سکتا ہے ۔کیونکہ اس بازار سے پکڑ ا جانے والا تقریباََ ہر شخص یہی بیان دیتا ہے ۔رہی بات سینما ٹکٹ تو وہ کوئی معتبر ثبوت نہیں ۔ممکن ہے عبدالرحمن نے ٹکٹ فلم کا خریدا ہو ‘اور داخل گندی گلی میں ہو گیا ہو جیسے بعض لوگ تھرڈ کلاس کا ٹکٹ خرید کر فرسٹ کلاس میں جا بیٹھتے ہیں ۔

چنانچہ عبدالرحمن سے سچ اگلوانے کے لیے اس کے چار دانت توڑ نا پولیس کے لیے لازمی ہو گیا تھا ۔متعلقہ پولیس کی انسان دوستی کا اس سے بڑھ کر اور کیا ثبوت ہو سکتا ہے کہ پولیس کا عملہ عبدالرحمن کے منہ اور ناک سے بہنے والے خون کو روکنے کے لیے تمام رات اس کے سر پر پانی ڈالتا رہا (حکماء کے نزدیک بہتے ہوئے خون کو روکنے کا یہ بہترین نسخہ ہے )اندازہ فرما ئیں کہ دنیا والے خواب خرگوش کا لطف اٹھا رہے تھے اور ہماری نیک دل اور خدا ترس پولیس عبدالرحمن کی تیمارداری میں مصروف تھی ۔

عبدالرحمن نے اس احسان کا بدلہ یہ دیاکہ اگلی صبح مجسٹریٹ کی عدالت میں استغا ثہ دائر کر دیا ۔اگر تھانے میں ٹبی کے موجود تھانیدار کی بجائے چیچہ وطنی کے تھانیدار ہوتا تو عبدالرحمن کو چوہے مارنے والی دوا کھلا کر اس کا قصہ ہی پاک کر دیتا ۔(چیچہ وطنی کے تھانیدار نے حال ہی میں ایک انسان پر چو ہے مارنے والی دوا کا تجربہ کیا ہے جو سو فیصد کامیاب رہا ہے ۔

)
عبدالرحمن نے تھانے سے رخصت ہوتے وقت پکا وعدہ کیا تھا کہ وہ اس دانت توڑ واقعے کا ذکر اعلیٰ افسران سے نہیں کرے گا لیکن عبدالرحمن وعدہ خلاف نکلا اور تھانے سے نکل کر سیدھا کچہری چلا گیا ۔اب ٹبی کاتھانیدار اپنی شرافت پر یقینا پچھتا رہا ہو گا ۔کیا ہی اچھا ہو تا کہ وہ دوسرے تھانیدار وں کی طرح ”مد عا “(یعنی عبدالرحمن )کو ہی غائب کر دیتا ‘نہ ہوتا بانس نہ بجتی بانسری ۔


دوسرا طریقہ اس سلسلے میں یہ ہو سکتا تھا کہ وہ کانسٹیبل عبدالرحمن کو دائیں بائیں پکڑ تے اور بھاگتے ہوئے پوری طاقت سے اس کا سر سامنے دیوار میں دے مارتے ۔جب وہ تقریباََ نوے فیصد اللہ کو پیارا ہو چکتا تو اس کے خلاف اقدام خود کشی کا مقدمہ درج کرتے اور اسے ہسپتال کے ایمر جنسی وارڈ میں داخل کر آتے ۔اگر پھر بھی کوئی کسر رہے جاتی تو وہ ڈاکٹر پوری کر دیتے ۔

اس شکل میں اگلے روز اخبار وں میں خبر کچھ یوں چھپتی :۔
”سید مٹھا بازار کا ایک شخص عبدالرحمن کل رات گندی گلی میں داد عیش دے کر نکل رہا تھا کہ پولیس کے گشتی عملے نے اسے گرفتار کر لیا ۔تھانے پہنچ کر عبد ا لرحمن نے پولیس کی نظر بچا کر پختہ دیوار میں سر دے مارا ‘جس پر پولیس “نے عبدالرحمن کے خلاف اقدام خود کشی کا مقدمہ درج کر لیا اور فوراََ اسے میو ہسپتال پہنچا دیا ۔

تا ہم ڈاکٹروں کی سر توڑ کو شش کے باوجود عبدالرحمن نے دم توڑ دیا ۔اس کی لاش پوسٹ مارٹم کے بعد ا س کے لواحقین کے سپرد کر دی گئی ۔عبدالرحمن کے بارے میں مزید پتہ چلا ہے کہ وہ ایک آوارہ منش انسان تھا اور کئی ایک طوائفوں کا مقروض تھا ۔“ملا حظہ فرمایا آپ نے کتنی آسانی سے سارا مسئلہ حل ہو سکتا تھا ۔

Your Thoughts and Comments