Aen

ع

سہیل عباس خان پیر جولائی

Aen

پیارے بچو عین پیشانی کے نیچے اور عین یعنی آنکھ اور ناک کے درمیان جو رکھتے ہیں اسے عینک کہتے ہیں۔ کچھ لوگ جو آنکھیں پیشانی پر یا سر پر رکھتے ہیں وہ عینک کی مدد لے سکتے ہیں۔ عینک کو چشمہ بھی کہتے ہیں، اب آپ اس سے آب حیواں تلاش کرنا شروع نہ کر دیں۔ ویسے تو چشمے کے نیچے آب کا وسیع ذخیرہ موجود ہوتا ہے۔ وہ عینک جو گوگل پہ تلاش کرتے ہیں اسے گوگلز کہتے ہیں۔

ع سے عبادت بھی ہوتی ہیں، سنا ہے رزق حلال عین عبادت ہے، اس لیے ہم کسی کو حلال کر کے جو رزق حاصل کرتے ہیں، اسے عبادت سے حلال بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ عبادت کو پہلے یا بعد میں لگانے سے معنی بدل جاتے ہیں، جیسے عبادت بریلوی، بریلوی عبادت۔ پیارے بچو ع سے علم ہوتا ہے، کہتے ہیں علم حاصل کرو چاہے تمہیں چین کیوں نہ جانا پڑے، اب چین جانے کی ضرورت نہیں، چین خود یہاں آ رہا ہے، وہ بتائے گا آٹے دال کا بھاوٴ کیا ہوتا ہے، اور ہاں اپنے پالتو اور غیر پالتو جانوروں کی حفاظت خود کریں، حکومت تو اپنے پالتوز کی حفاظت نہیں کر سکے گی، آپ کس کھیت کی مولی ہیں۔

(جاری ہے)

ع سے عشق ہوتا ہے، سنا ہے عشق عشقی سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں لوط بوٹی؛ ایک زرد رنگ کی بیل جسے امربیل یا امبر بیل بھی کہتے ہیں اور جو جال کی طرح کسی درخت پر چڑھتی ہے اور ہر طرف پھیلنا شروع کردیتی ہے، پھیلتے پھیلتے اسے جلا کر خاکستر کر دیتی ہے یعنی اس کا پروان چڑھنا دراصل اپنا ہی خاتمہ ہوتا ہے، آسان لفظوں میں یوں کہہ لیں عشق میں خود کو مار دینا ہوتا ہے یعنی ہر طرف محبوب ہی محبوب ہوتا ہے۔

میں ختم ہو جاتی ہے تو ہی تو رہ جاتا ہے۔ اب اس لوط بوٹی کا تعلق آپ قوم لوط سے نہ جوڑ لیں۔ اب فیس بکی عشق میں پتہ نہیں چلتا کہ عاشق کون ہے اور محبوب کون، بعض اوقات دونوں عشاق ہوتے ہیں اور بعض اوقات دونوں محبوب۔ یعنی جو رانجھا رانجھا کرتی تھی وہ سچی مچی رانجھا تھی۔

ویسے اگر ہم عشق کا ع، انس کا الف اور پیار کا پ، ملا لیں تو ہم بھی دشمن ملک کی طرح عام آدمی پارٹی یعنی عاپ بنا سکتے ہیں، لیکن یاد رہے کرپشن سے آپ کو پھر بھی کوئی نہیں بچا سکتا۔

ویسے تو کہتے ہیں ڈگری ڈگری ہوتی ہے چاہے اصل ہو یا نقل، یہ کوئی نہیں کہتا کرپشن کرپشن ہوتی ہے چاہے بڑی ہو یا چھوٹی۔ پیارے بچو ع سے عزت ہوتی ہے، یہ کس کی ہوتی ہے آپ سب کو پتہ ہے، عوام اسے ب کے ساتھ استعمال کرتے ہیں۔ سنا ہے عزت پہ حرف بھی آتا ہے، وہ اس کی آتا ہے جس کی لوٹی جائے، ویسے بھی اس کی کون سی سی عزت ہوتی ہے، صاحب عزت کو معزز کہتے ہیں، اسے یہ اعزاز عزت کو الیکشن میں داوٴ پہ لگا کر حاصل کرنا پڑتا ہے، ویسے عزت کے لیے ایک امتحان بھی دینا پڑتا ہے، وہ اگر پاس کر لیں تو آپ کسی کی بھی بے عزتی کر سکتے ہیں، سوائے ان لوگوں کے جو ان سے پہلے معزز ہونے کا اعزاز حاصل کر چکے ہوں۔

پیارے بچو ع سے عزیز بھی ہوتا ہے، مجھے کئی دوست عزیز ہیں عزیز ابن الحسن، عبدالعزیز ساحر، عبدالعزیز وغیرہ۔ ایک عزیز مصر بھی تھا۔ ویسے تو پاکستان میں عزیزی بہت مشہور ہے۔ ویسے تو عزیز و اقارب بھی ہوتے ہیں، انہیں حکومت مخلتف وزارتوں میں کھپا دیتی ہے، لیکن اس بات کا خیال رکھا جاتا ہے کہ وہ جس چیز کا وزیر ہوگا وہ عوام کی دسترس سے دور کر دے گا، مثلا بجلی، خزانہ وغیرہ وغیرہ، سمجھ دار لوگ ایسے اپنے عزیزوں کو ان کی اوقات میں رکھتے ہیں تاکہ زمانہ صرف انہیں برا کہے۔

سب سے عزیز چیز کو جان سے عزیز چیز کہا جاتا ہے، اب جب ملکی حالات خراب ہوں تو بھلا جان سے عزیز چیز کو ملک میں رکھا جا سکتا ہے، اور پھر لوگ پوچھتے ہیں کہ آپ کس قانون کے تحت جان سے عزیز چیز کو ملک سے باہر لے کر گئے۔

پیارے بچو ع سے عتاب ہوتا ہے، یہ صرف تب ہوتا ہے جب آپ حکومت سے باہر ہوں، ویسے اگر عقاب والوں سے دوستی ہو تو یہ عتاب ٹل سکتا ہے۔

ع سے عقب بھی ہوتا ہے، اس میں دروازہ ہوتا ہے، عوام اور خواص اس کی مدد سے پتلی گلی میں نکل سکتے ہیں۔ ملکوں کے درمیان اس پتلی گلی کو بیک ڈور پالیسی کہا جاتا ہے۔ ع سے عرب بھی بنتا ہے اور عجم بھی۔ ان دونوں لفظوں میں بہت سے کمالات ہیں، دونوں کے ع اتاریں تو رب اور جم بنتا ہے۔ دوسرے دو حروف کو ملائیں تو رج اور آخری حروف کو ملائیں تو بم۔ انہیں آپس میں ملائیں تو رجم بھی بنتا ہے اور جرم بھی۔

تو پیارے بچو ان الفاظ کو ملا کر ایک کہانی بنائیں، جس میں جارج بش کے کردار پر بھی روشنی ڈالی جائے۔ پیارے بچو لڑائی اگرچہ ل سے ہوتی (اس میں عام لڑائی سے لیکر عین "'ل" سے لڑی جانے والی لذیذ لڑائی تک سبھی شامل ہیں) مگر ہمارے سب سے بڑے فلسفی اور شاعر، اقبال نے "ع لڑائی" کہہ کر ہمیں لائسنس دے دیا ہے: آ گیا عین لڑائی میں اگر... لہٰذا اب ہم لڑائی کو بھی ع سے شروع کر سکتے ہیں۔ پیارے بچو عید ابھی تھوڑی دیر پہلے گزری ہے، اور وہ بھی میٹھی عید، آپ کے استاد کو مٹھاس والی بیماری ہے، بس دل کرتا ہے کہ آپ سب کو میٹھی میٹھی نظروں سے دیکھتا رہوں۔

Your Thoughts and Comments