Agar Mian Majnoo Yeh Jantri Daikh Lyty

اگر میاں مجنوں یہ جنتری دیکھ لیتے،

ہفتہ دسمبر

Agar Mian Majnoo Yeh Jantri Daikh Lyty

ابن انشائ

مطلوب کو مشتاق بنانے کی ترکیبیں،
دلگیر جنتری میں سب کچھ موجود ہے!
ع آمد بہار کی ہے جو بلبل ہے نغمہ سٹیج یعنی بلبل بولتا تھا یا بولتی تھی تو لوگ جان لیتے تھے کہ بہار آئی ہے اب گل کھلیں کے دیوانے اپنے کپڑئے پھاڑیں گے اور لڑکے ہالے دیوانوں کی پتھرماریں گے یہ رسم کچھ ایسی پکی ہوگئی کہ اگر کوئی پتھر نہ مارتا تھا تو لوگ شکایت کرتے تھے۔


”دیوانہ برا ہے رودو طفلاں برا ہے“
”یاراں!مگر ایں شہرِشماسنگ نہ دارد“
ہمارا یہ حال ہے کہ ہم نئے سال کی آمد کی فال جنتریوں سے لیتے ہیں ابھی سال کا آغاز دور ہوتا ہے کہ بڑی بڑی مشہور عالم مفید جنتریاں دکانوں پر ان موجود ہوتی ہیں بعض لوگ جنتری نہیں خریدتے خدا جانے سال کیسے گزارتے ہیں اپنی قسمت کا حال اپنے خوابوں کی تعبیراپنا ستارہ(چاند سورج وغیرہ بھی)کیسے معلوم کرتے ہیں سچ یہ ہے کہ جنتری اپنی ذات سے ایک قاموس ہوتی ہے ایک جنتری خرید لو اور دنیا بھر کی کتابوں سے بے نیاز ہوجاؤ فہرست تعطیلات اس میں نماز عید اور نماز جنازہ پڑھنے کی تراکیب جانوروں کی بولیاں دائمی کیلنڈر محبت کے تعویذ انبیائے کرام کی عمریں اولیائے کرام کی کرامتیں لکڑی کی پیمائش کے طریقے کون سا دن کس کام کے لیے موزوں ہے فہرست عرس ہائے بررگان دین صابن سازی کے گر شیخ سعدی کے اقوال چینی کے برتن توڑنے اور شیشے کے برتن جوڑنے کے نسخے اعضا پھڑکنے کے نتائج کرہٴ ارض کی آبادی تاریخ وفات نکالنے کے طریقے یہ محض چند مضامین کا حال ہے کوزے میں دریا بند ہوتا ہے اور دریا میں کوزہ۔

(جاری ہے)

بضحوائے:وہ جو کہے کہ ریخہ کیونکر ہو رشک فارسی۔گفتہ غالب ایک بار پڑھ کر اسے سنا کہ یوں ہم دلگیر جنتری(جیبی)کا ٹریلر دے رہے ہیں اسی سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ غیر جیبی جنتریاں تو بحرذ خارہوں گی۔عام لوگ تو اندھا دھند جس دن جو کام چاہیں شروع کردیتے ہیں یہ جنتری سب کے پاس ہو تو زندگی میں انضباط آجائے ایک باب اس میں ہے کون سا دن کون سے کام کے لیے موزوں ہے نمونہ“۔

ہفتہ:سفر کرنے بچوں کو اسکول میں داخل کرانے کے لیے،اتوار:شادی کرنے افسروں سے ملاقات کرنے کے لیے،بدھ:نیا لباس پہننے غسل صحت کے لیے،جمعرات:حجامت بنانے دعوتِ احباب کے لیے،جمعہ:غسل اور شادی وغیرہ کرنے کے لیے،گویا ہفتہ میں دو دن شادی کے لیے رکھے گئے ہیں یہ قاعدے پرانے ہیں اب صرف ایک شادی کرنے کا قانون ہے چاہے اتوار کو کیجیے چاہے جمعے کو مرتبین کو چاہے اگلے ایڈیشن میں ترمیم کرلیں،غسل صرف جمعے کو واجب ہے اس لیے تو ہمارے بعض دوست فقط جمعے پنڈے پرپانی پڑنے دیتے ہیں بعض لوگوں کو ہر روز یا دوسرے چوتھے کپڑے بدلنے کی لت ہے حالانکہ بدھ کے علاوہ کسی دن ایسا کرنا جائز نہیں غسل صحت کے لئے بھی بدھ ہی کا دن ہے لیکن غسل صحت کی شرائط پوری کرنے کے لئے بیمار کس دن پڑنا چاہیے اس کی صراحت نہیں ہفتہ بچوں کو اسکول داخلہ کرانے کا دن ہے لیکن قباحت یہ ہے کہ کراچی کے بہت سے اسکول ہفتے کو بند رہتے ہیں یہ کسی اور روز بند ہونے چاہییں تاکہ جنتری کے احکام پر عمل ہوسکے اتوار کے متعلق بھی ذرا اور وضاحت چاہیے تھی کہ شادی کرنے کے بعد افسروں سے ملا جائے یا افسروں سے ملنے کے بعد شادی کی جائے ان نکات پر بھی آئندہ ایڈیشن میں تھوڑی توجہ کی ضرورت ہے ہم جو خواب دیکھتے ہیں وہ بالعموم رسی قسم کے ہوتے ہیں اور صبح تک یاد بھی نہیں رہتے جنتری سے معلوم ہوا کہ خوابوں میں بھی بڑی تنوع کی گنجائش ہے خواب میں پھانسی پانے کا مطلب ہے بلند رتبہ حاصل ہونا افسوس کہ ہم نے یہ خواب تو کیا اصل زندگی میں بھی کبھی پھانسی نہ پائی بلند مرتبہ نہ مل سکنے کی اصل وجہ اب معلوم ہوتی من نہ کردم شمار حذر بیکند۔

گھوڑا دیکھنے کا مطلب ہے دولت حاصل کرنا قیاس کہتا ہے کہ مطلب وکٹوریہ کے گھوڑے سے نہیں ریس کے گھوڑے سے ہے خچر دیکھنے سے مراد ہے سفر پیش آنا جو لوگ ہوائی جہاز سے سفر کرتے ہیں ان کو ہوائی جہاز دیکھنا چاہیے بلی کا پنجہ مارنا بیماری کے آنتے کی علات ہے سانپ کا گوشت کھانا دشمن کا مال حاصل ہونے کی خواب میں کان میں چیونٹی گھس آئے تو سمجھیے موت قریب ہے(خواب کے علاوہ گھس آئے تو چنداں حرج نہیں سرسوں کا تیل ڈالیے نکل آئے گی اپنے سر کو گدھے کا سر دیکھنے کا مطلب ہے عقل کا جاتے رہنا یہ تعبیر ہم خود بھی سوچ سکتے تھے کوئی آدمی اپنے سر کو گدھے کا سر(خواب میں بھی)دیکھے گا تو اس کی عقل جاتے رہنے میں کیا کلام ہے؟خواب میں مردے سے مصافحہ کرنے کی تعبیر ہے درازی عمر خدا جانے یہاں عمر فانی سے مراد ہے یا عرعمر جادوانی سے ایک بات ظاہر ہے کہ انسان کو خوب سمجھ کر دیکھنے چاہییں فقط ایسے کہ دشمن کا مال ملے یا بلند مرتبہ حاصل ہو بے کار قسم کے خواب دیکھنادانشمندی نہیں۔

ایک باب اس میں جسم کے اعضا کے پھڑکنے اور ان کے عواقب کے بارے میں بھی ہے آنکھ پھڑکنا تو ایک عام بات ہے رخسار شانہ راست گوش چپ انگشت چہارم زبان گلا گردن بجانب چپ ٹھوڑی بغل راست وغیرہ ان پچاس اعضا میں سے ہیں جن کے پھڑکنے پر نظر رکھنی چاہے ان میں سے بعض کے نتائج ایسے ہیں کہ ہم نقل کردیں تو فحاشی کی زد میں آجائیں ایک دو امور البتہ فاضل مرتبین نظر انداز کرگئے نگہ انتخاب کی پسلی پھڑک اٹھنا استادوں کے کلام میں آیا ہے اس کا نتیجہی نہیں دیا گیا ہماری رگ حمیت بھی کبھی کبھی پھڑک اٹھتی ہے اس کے عواقب کی طرف بھی یہ جنتری رہنمائی نہیں کرتی یہ نقا ئض رفع ہونے چاہییں یہ معلومات تو شاید کہیں اور بھی مل جائیں لیکن اس جنتری کا مغز محبت عملیات اور تعویذات ہین جو حکمی تاثیر رکھتے ہیں قیس میاں کی نظر سے یہ جنتری گزرتی ہوتی تو جنگلوں میں مارے مارے نہ پھرتے ایک نسخہ حاضر ہے۔

محبت کے مارے کو چاہیے کہ 12 مارچ کو بہ وقت ایک گھڑی بعد طلوع آفتابِ مشرق کی طرف منہ کرکے نقش ذیل کو نام مطلوب بمع والدہٴ مطلوب الو کے خون سے لکھ کر اپنے دہنے بازو پر باندھے اور مطلوب 20 مارچ بہ وقت صبح ایک گھڑی 45 پل پر بعد طلوع آفتاب اپنا سایہ دے مطلوب فوراً مشتاق ہوجائے گا،نام مطلوب مع والدہ مطلوب اپنا نام مع نام والدہ یہاں بعض باتیں جی میں آتی ہیں اگر مطلوب یا محبوب بات ہی نہیں کرتا تو اس کی والدہ اور دیگر رشتہ داروں کے نام کیسے معلوم کیے جائیں؟پھر اُلو کیسے پکڑا جائے اور 20 مارچ کو بہ وقت صبح عین ایک گھڑی 45 پل بعد طلوع آفتاب مطلوب کو کیسے مجبورکیا جائے کہ طالب کے سایے میں آئے ان باتوں کا اس جنتری میں کوئی ذکر نہیں ہاں جنتری کے پبلشرز نے جنترمتر مکمل نامی جو کتاب نہ قیمت چھ روپے شائع کی ہے اس میں ان کی تفصیل ملے گی۔

جو لوگ ہمارے تن آسان ہیں محبت میں اتنا کشٹ نہیں اٹھاسکتے ان کے لیے مرتب جنتری نے کچھ آسان تر عمل بھی دیے ہیں جن کی بہ دولت محبوب قدموں پر تو آکر خیر نہیں گرتا لیکن مائل ضرور ہوجاتا ہے ان میں سے ایک تعویذ ہے جسے ہر روز کاغذ کے چالیس ٹکڑوں پر لکھ کر اور نیچے طالب و مطلوب کے نام درج کرکے آٹے کی گولیوں میں لپیٹ کر دریا میں ڈالنا چاہیے اور چالیس دن تک یہی کرنا چاہیے ہم نے حساب لگالیا ہے ازاراہِ کفایت آدھے کی گولی بھی بنائی جائے تو ایک پاؤر وزانہ یعنی دس سیر آٹے میں محبوب کو راضی کیا جاسکتا ہے بھارت میں تو لوگ دس سیر آٹے کے لیے محبوب کو بھی دریا میں ڈال دینے پر تیار ہوجائیں گے لیکن ہمارے ہاں یہ عمل چنداں دشوار نہیں البتہ جو حضرات اس میں بھی خسّت کریں اور اپنی محبت کو بالکل پاک رکھنا چاہیں وہ ایک اور عمل کی طرف رجوع کرسکتے ہیں وہ یہ کہ جب بھی محبوب سامنے آئے آہستہ سے دل میں بسم اللہ الصمد دس بار پڑھیں اور آخر میں محبوب کی طرف منہ کرکے پھونک ماریں اس طرح کہ منہ کیہوا اس کے کپڑوں کو چھوسکے پندرہ بیس مرتبہ ایسا کرنے سے اس کے دل میں قرار واقعی محبت پیدا ہوجائے گی،یہ عمل بہ ظاہر تو آسان معلوم ہوتا ہے لیکن عملاً ایسا آسان بھی نہیں اول تو محبوب کو اتنی دیر سامنے کھڑا رہنے پر مجبور کرنا آپ دس بار عمل پڑھ کر پھونکیں مارسکیں اور وہ بھاگے نہیں اپنی جگہ ایک مسئلہ ہے پھر آپ پھونکیں ماریں گے اس کی بنا پر محبوب کیا رائے قائم کرے گا اس کے متعلق ہم کچھ نہیں کہہ سکتے زیادہ شوقین مزاج ان دونوں سے قطع نظر کرکے محبت کا سرمہ استعمال کرسکتے ہیں جس کا بنانا تھوڑی محنت تو ضرور لے گا لیکن اس کا جادو بھی عالمگیر ہے یعنی صرف محبوب ہی پرکاری اثر نہیں کرتا بلکہ لکھنے والے نے لکھا یہ کہ یہ سرمہ ڈال کر جس کی طرف بھی صبح سویرے دیکھے وہی محبت میں مبتلا ہوجائے گایہ سرمہ بنانے کے لئے حاجت مند کو 19 فروری کا انتظار کرنا پڑے گا اس روز وہ بہ وقت طلوع آفتاب پرانی داتن کو جلا کر اس کی راکھ میں چمگادڑ کا خون ملائے اور اس سے یہ نقش بہ وقت صبح ایک گھڑی 15 پل بعد طلوع آفتاب لکھے اور اس پر سورہٴ گیارہ سو بار پڑھے نئے چراغ میں روغن کنجد(تل کا تیل) ڈال کر جلائے اور اس کی سیاہی آنکھوں میں ڈالے ایک صاحب نے یہ سرمہ دنیالہ دار لگایا تھا اتنا ہم نے بھی دیکھا کہ محبوب انہیں دیکھتے ہی ہنس دیا آگے کا حال ہمیں معلوم نہیں،یہی صابن اور تیل تیار کرنے بوٹ پالش بنانے کھٹمل اور مچھلی مارنے اور مشہور عام ادویہ کی نقلیں تیار کرنے کی ترکیبیں بھی اس میں درج ہیں لوگ اکثر شکایت کرتے ہیں کہ اردو میں کوئی انسائیکلوپیڈیا نہیں معلومات کی کتاب نہیں انسائیکلوپیڈیا اور کیا ہوتی ہے ادب شرط ہے منہ نہ کھلوائیں ہم نے انسائیکلوپیڈیا برٹینکا وغیرہ دیکھی ہیں الم غلم مضامین کا طومار ہیں اہل دل کے مطلب کی ایک بات بھی نہیں ہمارا یہ دستور ہوگیا ہے کہ باہر کی چیز کو ہمیشہ اچھا جانیں گے اپنے ہاں کے سونے کو بھی مٹی گردانیں گے۔

Your Thoughts and Comments