Aik Din Docter Bal Jebrail K Han

ایک دن ڈاکٹر بال جبریل کے ہاں

پیر دسمبر

Aik Din Docter Bal Jebrail K Han
ابنِ انشاء:
پرانے زمانے میں آج سے تیس چالیس برس پہلے اگر کوئی آدمی بیمار ہوتا تھا تو ڈاکٹر کے پاس جاتا تھا ڈاکٹر اسے دیکھتا تھا اس کا معائنہ کرتا تھا اسے بتاتا تھا کہ تمہیں کیا بیماری ہے اسے دوادیتا تھا اور ہدایت کرتا تھا کہ جاکر بستر میں لیٹ جاؤ آرام کرو۔مریض بستر میں جاکر لیٹتا تھا آرام کرتا تھا دوا پیتا تھا اور یا تو صحت یاب ہوجاتا تھا یا پھر صحت یاب نہیں ہوتا تھا۔

لیکن یہ پرانی باتیں ہیں خوشی کی بات ہے کہ سائنس اور طب کی ترقی کے ساتھ ساتھ یہ صورت حال نہیں رہی اب یہ ہوتا ہے کہ پہلے مریض ایک بڑے ڈاکٹر کے پاس جاتا ہے جو کنسلٹنگ ڈاکٹر کہلاتا ہے ماہر یا مشیر کہہ لیجیے،وہ اسے دیکھ کر ہوں ہاں کرتا ہے اور اسے دل کا معائنہ کرنے کے لیے ماہر امراض قلب کے پاس بھیجتا ہے وہاں سے واپسی پر خون کا معائنہ کرنے کے لیے خون کے ماہر کے پاس بھیجتا ہے۔

(جاری ہے)

پیشاپ کا معائنہ کے لیے پیشاپ کے ماہر کے پاس بھیجتا ہے۔مریض اتنے میں جھنجھلا جائے تو اس کے دماغ کا معائنہ کرنے کے لیے ماہر دماغ یا ماہر نفسیات کی طرف ہانک دیتا ہے اس کے بعد اگر اس کے آپریشن کی ضروت ہو تو ایک ماہر اسے انجکشن دے کر یا کلوروفام سنگھا کر بے ہوش کرتا ہے اور اس کے بعد زیادہ زیادہ تر یہ ہوتا ہے کہ مریض صور اسرافیل کی آواز سن کر اٹھتا ہے تو دیکھتا ہے کہ فرشتے اس کا حساب کتاب لینے کے لیے رجسٹر لیے کھڑے ہیں۔

یہ سب تو ہوا ہم سوچتے ہیں کہ اگر دوسرے پیشوں مین بھی یہی خصوصی ماہرین کی ریل پیل ہوگئی تو کیا ہوگا یہ اللہ دتہ صاحب ہیں یہ دو گھنٹے سے ”ڈاکٹر بال جبریل“ماہرموئیات یعنی بالوں کے اسپیشلسٹ کے کلینک میں بیٹھے باری کا انتظار کررہے ہیں آخر ایک چوب دار آواز لگاتا ہے ”مسٹر آلو شوربہ“اللہ دتہ صاحب اجتجاج کرتے آٹھتے ہیں اور چوب دار کو بتاتے ہیں کہ میرا نام آلو شوربہ نہیں ہے اللہ دتا جنجوعہ ہے۔

اب مریض یا جو کچھ بھی اسے آپ کہیں ڈاکٹر بال جبریل کی حضوری میں پیش ہوتا ہے ان کے نام کے ساتھ ڈگریوں کی ایک لمبی فہرست ہے کاغذ ختم ہوجاتا ہے ڈگریاں ختم نہیں ہوتیں۔ڈاکٹر ایک نظر مریض کے چہرے پر ڈالتا ہے وہ دیکھتا ہے کہ کچھ بال مریض کے چہرے پر نکل آئے ہیں کچھ نکلنے کی کوشش کررہے ہیں تاہم وہ اس سے سوال کرتا ہے،اس کی ذاتی زندگی کے بارے میں اس کے والدین کے بارے میں اس کی اولاد کے بارے میں کہ بچے کہاں کہاں پڑھتے ہیں اس کے پیشے کے بارے میں پسند کے بارے میں پھر ایک محدب شیشہ لے کر اس کے چہرے کا معائنہ کرتا ہے پھر سنجیدہ ہوجاتا ہے اور کہتا ہے سمجھ گیا سمجھ گیا آپ نے کب سے شیو نہیں کی۔

مریض بتاتا ہے کہ دو دن سے نہیں کی۔ڈاکٹر کہتا ہے میرا اندازہ صحیح نکلا آپ کو شیو کرانے کی ضرورت ہے۔“ مریض کا چہرہ لٹک جاتا ہے اسے معلوم ہے کہ ڈاکٹر کا فرض اس کے مرض سے آگاہ کرنا ہے۔خواہ وہ حقیقت کتنی ہی خوف ناک کیوں نہ ہو اسے خود بھی اپنے بارے میں یہ شبہ گمان تھا بیوی نے بھی یہی بتایا تھا لیکن وہ تو عورت ذات ہے دل میں دبدھا تھی کہ شاید ڈاکٹر کچھ اور بتائے کچھ اور تفشیش کردے شاید اسے مہلت دے اور اسے حقیقت کا سامنا فوراً نہ کرنا پڑے مریض ممیاتا ہے اور ڈاکٹر سے پوچھتا ہے ڈاکٹر صاحب کیا اسے ایک دو دن کے لیے ملتوی کرسکتا ہوں آج کل دفتر میں کام زیادہ ہے فرصت نہیں اسپیشلسٹ سختی سے کہتا ہے میں نے کہہ دیانا کہ تمہیں شیو کی ضرورت ہے تم چاہو تو اسے ملتوی کردو لیکن پھر نتائج کا ذمہ دار میں نہ ہوگا۔

“مریض نے ایک لمبی آہ کھینچی اچھا اگر یہی بات ہے تو میں تیار ہوں کردیجیے میری شیو۔ڈاکٹر بال جبریل ماہر موئیات مسکرایا اس نے کہا جناب میں شیو نہیں کرتا میں توصرف بالوں کا ماہر ہوں میں تو تشخیص کرتا ہوں ا ب آپ کو ماہر ریش وبروٹ ڈاکٹر سلمانی کے پاس بھیجتا ہوں اس نے گھنٹی بجائی اس کی سیکرٹری دوڑی دوڑی آئی،مس زلف درانر ان صاحب کے نام کا کارڈ بنادو شیونگ روم کے لیے اگر ڈاکٹر سلمانی ہوں تو ان سے کہو ان کے چہرے پر مُوربائی کا عمل بذریعہ مقراض و تیغ کریں اور مشاطگی کے لیے شانہ صدوندانہ کا استعمال کریں۔

مسٹر اللہ دتا اور تو کچھ نہ سمجھے تیغ کے نام پر گھبرائے انہیں معلوم نہ تھا کہ یہ استرے کا اصطلاحی نام ہے تاہم چپ رہے کہ اب جو ہو سو ہو،اتنا ضرور پوچھا کہ کیا اس کے لیے مجھے بے ہوش کیا جائے گا کلوروفام سنگھایا جائے گا۔ڈاکٹرصاحب نے پھر تبسم کیا اور کہا میری دانست میں اس کی ضرورت نہیں لیکن زیادہ صحیح سلیمانی ہی بتاسکتے ہیں میرے خیال میں مس زلف دراز،ڈاکٹر صاحب کے پاس بھیجنے سے پہلے انہیں ماہر صابنیات کے پاس لے جاؤ وہ ان کے چہرے پر صابن لگائیں ماہرتولیات ان کے گلے میں تولیہ باندھیں،سیکرٹری نے کچھ ڈاکٹر صاحب کے کان میں کہا انہوں نے فکر مند ہو کر کہا یہ تو افسوس کی بات ہے کہ ماہر صابنیات گھنٹے بھر بعد ملیں گے دونوں ایک مریض کے ساتھ مصروف ہیں بڑاسنگین کیس ہے پوری داڑھی صاف کرنی ہے اور ہاں مس زلف دراز ڈاکٹر سلمانی تو داڑھی مونڈیں گے کان کے اوپر کے بال صاف کرنے کے ماہر ڈاکٹر دراز گوش بھی ہیں یا آج نہیں آئے۔

“مریض نے کہا۔کیا اس کے لیے علیحدہ اسپیشلسٹ ہے داڑھی مونڈنے والا کانوں کے آس پاس کے بال صاف نہیں کرسکتا۔ڈاکٹر بال جبریل نے کہا،بعض لوگ کرلیتے ہیں لیکن خطرہ رہتا ہے کہ قینچی سے کان کی لونہ کٹ جائے تم جانوں آج کل حجامت کی سائنس بھی کافی ترقی کرگئی ہے۔اچھی بات ہے مریض نے راضی بہ رضا ہوکر کہا۔ اس کے بعد ان کو ماہر شمپوئیات کے پاس جانا ہوگا لیکن اس سے پہلے امراض قلب کے ماہر کے پاس ہو آئیں یا شاید اس کی ضرورت نہ ہو آپ ہٹے کٹے معلوم ہوتے ہیں بعض لوگ دوسری طرح کے ہوتے ہیں ان کا شمپو کیا جائے تو بے ہوش ہوجاتے ہیں اور چمپی کی جائے تو بعض اوقات جاں بر نہیں ہوتے اور اس سارے عمل کے بعد میرے خیال میں جلائے پاپوش کی ضرورت بھی پڑے گی۔

مریض کے کان کھڑے ہوئے لیکن سیکریٹری صاحبہ نے دلاسا دیا کہ مطب بوٹ پالش سے ہے،اب مریض نے کہا ڈاکٹر صاحب فیس مشورے کی فیس۔“ڈاکٹر نے سیر چشمی سے کہا اس کی آپ فکر نہ کریں سیکریٹری صاحبہ وصول کرکے ہی آپ کو جانے دیں گی ایمرجنسی کے لیے دروازے پر دو پہلوان بھی آپ نے دیکھے ہوں گے اچھا خدا حافظ اگلے آدمی کو آواز دو۔اور جب بے چارے اللہ دتا صاحب ان سارے مراحل سے فارغ ہوگئے داڑھی گھٹواچکے اور چمپی کراچکے تو جلائے پاپوش کے شعبے میں آئے،وہاں ایک لڑکا بوٹ پالش اور برش اور صافی وغیرہ لیے بیٹھا تھا مسٹر اللہ دتا نے اطمنیان کی سانس لی کہ ایک کام تو ایسا ہے جس میں ماہرین کی ضرورت نہیں پرانی چال پر چل رہا ہے۔

کون سے پاؤں پالش کروں صاحب” لڑکے نے پوچھا۔بھئی اس سے کیا فرق پڑتا ہے اچھا داہنے پاؤں سے شروع کرو،وہ بولا جناب کے لیے آپ کو دوسرے کمرے میں جانا پڑے گا میں صرف بائیں پاؤں پالش کرتا ہوں وہ بھی صرف بوٹ پر چپل اور سینڈل کی پالش کے ماہرین دوسرے ہیں۔“

Your Thoughts and Comments