Aik Ghair Mulki Sayah Ka Safar Nama Lahore

ایک غیر ملکی سیاح کا سفر نامہ لاہور

جمعہ اگست

Aik Ghair Mulki Sayah Ka Safar Nama Lahore

ان دنوں جو پاکستانی ادیب بھی بیرون ملک جاتا ہے وہ واپسی پر سفر نامہ ضرور لکھتا ہے۔ اس سے ہم نے یہ اندازہ لگایا ہے کہ جو غیر ملکی پاکستان آتے ہوں گے، واپسی پر وہ بھی یقینا ایک عدد سفر نامہ قلم بند کرتے ہوں گے۔ ہمارے ہاں کے بعض سیاح کسی غیر ملک میں گزارے ہوئے چند گھنٹوں ہی سے اس کی پوری تہذیب اور تمدن کا کچا چٹھا کھول کر ہمارے سامنے رکھ دیتے ہیں۔

اسی طرح ممکن ہے بعض غیر ملکی سیاح بھی سپر ایکسپریس پر پاکستان کا ایک چکر کاٹنے کے بعد اپنے قائین کو پاکستان کے عوام اور یہاں کی معاشرت کے بارے میں فیصلہ کن معلومات دے ڈالتے ہوں۔ سو ہم نے چشم تصور میں ایک ایسے غیر ملکی سیاح کا سفر نامہ ملاحظہ کیا ہے جس نے اک دو روز لاہور میں قیام کیا اور پھر اپنے تاثرات ایک کتابی صورت میں پیش کر دیئے۔

(جاری ہے)

اس ”سفر نامہ کا ایک باب آپ بھی ملاحظہ فرمائیں:
سرخ فوج سے سامنا
جب میں نے لاہور ریلوے سٹین پر قدم رکھا تو سرخ وردیوں میں ملبوس ایک ہجوم نے مجھ پر دھاوا بول دیا۔ ان میں سے کوئی میرا دامن کھینچ رہا تھا اور کسی کا ہاتھ میرے گریبان پر تھا۔ میں نے پاکستا کے بارے میں سنا تھا کہ وہاں ان دنوں سو شلزم کا تجربہ کیا جا رہا ہے چنانچہ سب سے پہلا میرا سانا سرخ فوج کے ان سپاہیوں ہی سے ہوا مگر ان کے چہرے زرد تھے، گال پچکے ہوئے تھے اور آنکھیں اند کو دھنسی ہوئی تھیں۔

ان میں بچے بھی تھے اور کمر خمید، بوڑھے بھی ۔ ان کے جسم لاغر تھے اور آنکھوں میں بے چارگی تھی۔ پیشتر اس کے کہ میں عجلت میں کوئی فیصلہ کر بیٹھتا۔ میری نظر سرخ و ردیوں ہی میں ملبوس کچھ دوسرے افراد پر پڑی جو دیگر مسافروں کا سامان لڑکھڑاتی ٹانگوں کے ساتھ اٹھائے گیٹ سے باہر نکل رہے تھے۔ تب میں نے جانا کہ یہ سوشلسٹ نہیں بلکہ وہ کھادیں ہیں جس سے سوشلزم کے کھیت کی پیدا وار بڑھائی جاسکتی ہے، ان محنت کشوں کی قمیض پر”فی پھیرا آٹھ آنے“ لکھا تھا۔

بعد میں ایک پاکستانی دوست نے مجھے بتایا کہ انہیں استعمال کرنے والے انقلابیوں کی قمیضوں پر”فی پھیرا۔۔۔۔۔ ایک غیر ملکی پھیرا“لکھا ہوتا ہے۔
ایک حیرت انگیز رسم
میرے لیے یہ امر باعث حیرت تھا کہ پاکستان میں عورتوں اور مردوں سے کہیں زیادہ مردوں اور مردوں کو اختلاط کی آزادی حاصل ہے کیونکہ میں نے بے شمار نوجوانوں کو دیکھا جو ایک دوسرے کی کمر میں ہاتھ ڈالے خراماں خراماں چلے جارہے تھے۔

اسی طرح میں نے مردوں کو عورتوں سے زیادہ ”پُر کشش “لباس میں ملبوس پایا۔ انہوں نے سکرٹ قسم کی کوئی چیز(دھوتی) پہنی ہوئی تھی جسے وہ اتنا اوپر اٹھا کر چلتے تھے کہ وہ منی سکرٹ بلکہ مائیکرومنی سکرٹ میں تبدیل ہو جاتی تھی۔
میں نے لوگوں کو برسرعام کسی ایسی دیوار کی طرف منہ کر کے ، جس پر کسی دھے کی تصویر بنی ہوئی تھی، دھواں ”دھار“حرکت کرتے ہوئے پایا۔

کئی ایک لوگوں کو اس کام سے فراغت کے بعد اپنے محرک ہاتھ کے ساتھ ادھر ادھر ٹہلتے بھی دیکھا۔ اگلے روز میں نے اخبار میں ایک خبر پڑھی۔
”شارع عام پر فحش حرکات کرتے ہوئے گرفتار۔“
یقینا وہ یہی لوگ ہوں گے۔
مرحوم کس طرح فوت ہوئے تھے؟
تعزیت کے لیے آنے والے لوگ مرنے والے کے کسی قریبی عزیز سے پہلے تعزیت کے کلمات کہتے ہیں اور پھر ان میں سے ہر کوئی یہ سوال پوچھتا ہے کہ مرحوم کس طرح فوت ہوئے تھے؟
دراصل یہ سوال تعزیت کا حصہ ہی سمجھا جاتا ہے چنانچہ مرحوم کا وہ عزیز وفات سے تین چار روز قبل کے واقعات خصوصاََ مرنے سے چند گھنٹے قبل کے واقعات پوری تفصیل سے سناتا ہے اور کسی ایک خاص مقام پر پہنچ کر دھاڑیں مارنے لگتا ہے ۔

تھوڑی دیر بعد کوئی دوسرا شخص تعزیت کے لیے آتا ہے اور پوچھتا ہے:
”مرحوم فوت کس طرح ہوئے تھے؟“
چنانچہ وہ یہی داستان غم ایک بار پھر پوری تفصیل سے سناتا ہے اور مقررہ وقت پر پھر دھاڑیں مارنے لگتا ہے۔یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہتا ہے جب تک کہ تعزیت کرنے ولے آتے رہتے ہیں اور پوچھتے رہتے ہیں کہ مرحوم آخر فوت کس طرح سے ہوئے تھے؟حتٰی کہ مرحوم کا وہ عزیز نڈھال ہوجاتا ہے اور پھر وہ ہر تعزیت کرنے والے کو آنکھوں ہی آنکھوں میں بتاتا ہے کہ مرحوم دراصل اس طرح فوت ہوئے تھے۔


مردوں کو فرائی کرنا
کسی محفل میں میری ملاقات ایک سو گوار شخص سے ہوئی جس کے والد کو فوت ہوئے کچھ عرصہ گزرا تھا۔ وہ اپنے والد کی وفات سے متعلق گفتگو کر رہا تھا اور کہہ رہا تھا:
”پورے نو من گھی خرچ ہوا ہے“۔
اس سے میں نے یہ اندازہ لگایا کہ شاید یہاں مردوں کو تل کے دفن کیا جاتا ہے لیکن بعد میں پتہ چلا کہ میرا یہ اندازہ درست نہیں تھا کیونکہ متذکرہ شخص کا نو من گھی چہلم کی رسومات کی ادائیگی کے سلسلے میں خرچ ہوا تھا۔


حاضرین کو چھوہارے مارنا
یہاں شادی کے موقع پر ایک رسم یہ ہے کہ نکاح سے فراغت کے بعد دولہا کے کوئی عزیز محفل میں موجود حاضرین کو چھوہارے مارتے ہیں اسے یہاں چھوہارے لٹانا کہاجاتا ہے۔ ایک چھوہارا میری ناک کو بھی لگا جس کے باعث ناک کئی دن تک سوجی رہی ۔ چھوہار ے کے بارے میں وضاحت کردوں کہ جب کھجور پڑی پڑی سوکھ جائے تو یہاں کے لوگ اسے چھوہارا کہنے لگتے ہیں نیز یہ کہ چھوہارے کی شکل صرف چھوہارے سے ملتی ہے۔


جوتی چرانے کی رسم
اس موقع پر دولہا کی سالیاں اپنے اپنے بہنوئی کو جوتیاں اتار کر بیٹھنے پر زور دیتی ہیں۔ چنانچہ جب وہ جوتیاں اتارتا ہے تو موقع پا کر یہ سالیاں جوتی غائب کر دیتی ہیں۔ بعد میں اس جوتی کی واپسی کے لیے دولہا کو منہ مانگی رقم ادا کرنا پڑتی ہے۔ مجھے بتایا گیا کہ جوتی کو چرانے کی یہ رسم شادی بیاہ کے علاوہ ہر جمعہ کو مسجد کے باہر بھی ادا کی جاتی ہے اور یہ رسم سالیاں ادا نہیں کرتیں ممکن ہے یہ رسم سالے ادا کرتے ہوں۔

تاہم میں نے اس ضمن میں کوئی تحقیقق نہیں کی۔
حیرت انگیز صنعتیں
پاکستان کے متعلق میرا تاثر یہ تھا کہ یہ صنعتی طور پر بھی خاصا پسماندہ ملک ہے، چنانچہ یہ ابھی تک اس معاملے میں خود کفیل نہیں ہوسکا، مگر لاہور میں چند روز ہ قیام کے دوران مجھ پر انکشاف ہوا کہ پاکستان میں صنعتوں کا جال بچھا ہوا ہے ، بلکہ یہاں ایسی ایسی صنعتیں موجود ہیں جو ابھی تک تمام تر ترقی کے باوجود یورپ وغیرہ میں بھی قائم نہیں ہو سکیں۔

مثلاََ ایک دوست نے ان کی تفصیل بتاتے ہوئے صنعت اشتقا، صنعت شبہ اشتقاق اور صنعت طباق وغیرہ کا نام لیا۔ ان بڑی صنعتوں سے منسلک اس نے سمال انڈسٹریز کی تفصیل بھی بتائی جو ایک اور صنعت ، صنعت تجینس کے تحت قائم ہیں۔ مثلاََ تجنیس تام ، تجنیس تام مماثل اور تجنیس تام مستوفی وغیرہ، میرے لیے یہ بالکل نئی صنعتیں تھیں۔ چنانچہ میں نے اپنے دوست سے اس ضمن میں استفسار کیا تو اس نے بتایا کہ صنعت اشتقاق سے مراد کلام میں ایسے الفاظ کا جمع ہونا ہے جو ایک ہی مادہ یا مصدر سے مشتق ہوں۔


اسی طرح اس نے دیگر صنعتوں کے بارے میں بھی تفصیل سے بتایا لیکن اس کے باوجود میں ان صنعتوں کی نوعیت نہ سمجھ سکا۔ تاہم میں نے اس سے پوچھا کہ ان صنعتوں کی بدولت کتنے لوگوں کو روزگار حاصل ہوا ہے؟ تو دوست نے کہا کہ ان صنعتوں سے بے شمار شاعر واپستہ ہیں اور تمام بے روزگار ہیں۔

Your Thoughts and Comments