Aik Guro Do Chaelay

ایک گورو کے دو چیلے

بدھ جنوری

Aik Guro Do Chaelay
ابن انشاء:
ایک تھا گورو ، بڑا نیک دھرما تھا۔ دو اس کے چیلے تھے وفادار ،جان نثار گورو کے خون کی جگہ اپنا پسینہ بہانے کا تیار، ایک کا شبھ نام پور بومل تھا ۔ دوسرے کا گومل چند گورو جی جب لوگوں کو اپدیش دیتے اور ان کی مرادیں پوری کرنے کے بعد ․․․․ آرام کرنے کو لیٹتے تو چیلا پور بومل ان کی داہنی ٹانگ دبایا اورگومل چند بائیں ٹانگ کی ٹہل سیوا کرتا۔

دونوں اپنے اپنے حصے کی ٹانگ کی مٹھی چاپی کرتے ، جھنڈیاں اور گھنگر وباندھ کر اسے سجاتے، اس کے جیکارے بلاتے، اس پر مکھی بھی نہ بیٹھنے دیتے تھے، ایک روز کرنا پرماتما کا کیا ہوا کہ گروجی ایک کروٹ لیٹ گئے اور ان کی داہنی ٹانگ بائیں ٹانگ کے اوپر جا پڑی۔ چیلے پور بومل کو بہت غصہ آیا۔ اس نے فوراََ ایک ڈنڈا اٹھایا اور بائیں ٹانگ کے رسید کیا۔

(جاری ہے)

گوروجی نے بلبلا کر داہنی ٹانگ اوپر کرلی۔ اب گومل چند کی غیرت نے جوش مارا اس نے اپنی لٹھیا اٹھائی اور بائیں ٹانگ کی خوب ہی مرمت کی۔ گوروجی بہت چلائے کہ ظالمو ، کیوں مارے ڈالتے ہو، لیکن چیلے کے علاقائی خودمختاری کے سرور میں تھے، کب مانتے تھے، دونوں نے پریس کانفرنسیں کیں اور زیادتی میں پہل کرنے کا الزام ایک دوسرے کو دیا۔ گوروجی کی ٹانگیں سوج کر کپا ہوگیئں ، مدتوں ہلدی چونا لگانا پڑا۔

اب آگے چلیے کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی ، لالہ گومل چند کے کئی بیٹے تھے، بڑے ہونہار اور ہوشیار پشاوری مل، لاہوری مل، سندھو رام اور بلوچ رائے ، جب لالہ گومل چند کا دیہانت ہو اتو یہ ٹانگ انہوں نے ورثے میں پائی۔ وہ گوروجی کی ٹانگ دباتے تھے، لیکن کوئی ران کا حصہ زیادہ دباتا تھا۔ کوئی پنڈلی پر زیادہ زور دیتا تھا۔ آکر ایک زبردست جھگڑا ہوا اور سب نے طے کیا کہ ہم اپنا حصہ الگ کرلیں ۔

لالہ پور بومل نے کہا ۔ ہاں ہاں ٹھیک کررہے ہو۔ میں تو اپنے حصے کی پوری ٹانگ کاٹ کرلیے جارہا ہوں ۔ اب ان برخورداروں نے گنڈا سامنگایا۔ ایک نے ران سنبھالی ، بوری میں ڈالی۔ دوسری نے پنڈلی لی، تیسرے نے گھٹنا اٹھایا ۔ چوتھے نے باقی کو سمیٹا اور گھر کی راہ لی، اور اس کے بعد سبھی ہنسی خوشی زندگی بسر کرنے لگے۔ گوروجی کا کیا ہوا؟ مرے یا جئے؟ جیے تو کتنے دن تک جیے

Your Thoughts and Comments