Aik Sawaal

ایک سوال

جمعہ 28 اپریل 2017

محمد اُسامہ :
دس محاورات یاد کرنے کے لیے میں نے بڑے پاپڑ بیلے خوب ایڑی چوٹی کا زور لگایا دن رات ایک کردیامگر شاید محاورات اور میرے دماغ کے درمیان چھتیس کا آنکڑا تھا کہ اوّل تو کوئی محاورہ دماغ کی گرد کو بھی نہ پہنچ پاتا لیکن اگر قدم رنجہ فرماتا بھی تو جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوتے نہیں اور وہ محاورہ ایسا غائب ہوجاتا جیسے گدھے کے سر سے سینگ پتا ہی نہ چلتا کہ اسے آسمان کھاگیا یا زمین نگل گئی۔

خیر! میں ہمتِ مرداں مددِ خدا کے اصول کے تحت حفظ ِمحاورات کے میدان میں کافی تگ و دو کرتا رہالیکن ڈھاک کے وہی تین پات محاورات یا د ہوکے ہی نہیں دے رہے تھے پتا نہیں یہ دماغ محاورات یاد کررہا تھا کہ بنارہا تھاتھکاوٹ نے میرے دانت کھٹے کردیے بس کیا بتاؤں! نانی یاد آگئی اس تھکاوٹ نے ناکوں چنے چبوادیے دانتوں تلے پسینا آگیادن میں تارے دکھائی د ینے لگ گئے میں سمجھ گیا کہ یہ کوئی خالہ جی کا گھر نہیں اور پھر بیماری نے مجھے آگھیرا یعنی ایک تو کڑوا کریلا دوسرا نیم چڑھاکہ ایک تو میں پہلے ہی محاورات کے یاد نہ ہونے پر جل بھن کر کباب ہورہا تھااوپر سے بیماری نے اور لال پیلا کردیانہ جانے اس اونٹ کو کس کروٹ بیٹھنا تھاشاید میں نے اس مہم کا آغاز کرکے آبیل مجھے مار پر عمل کیا تھالیکن جب اوکھلی میں دیا سرتو موسلوں کا کیا ڈر دن رات کی جاں فشانی سے ایک محاورہ لے دے کے یاد کرہی لیا عرصہٴ دراز تک اسے طوطی وار ازبر کرتا رہاحتیٰ کہ اطمینان ہوگیا کہ اب یہ محاورہ نسیًا منسیًا نہیں ہوگا۔

(جاری ہے)


اب میرا دل بلیوں اچھلنے لگااور میں سرجھاڑ منہ پھاڑ بغلیں بجاتا ہوا اپنے استاد صاحب کے پاس پہنچا اور یہ خوش خبری سنائی تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوجائیں لیکن میں نے منہ کی کھائی اور بڑے سنگین حالات سے دوچار ہواکیوں کہ محاورہ سنتے ہی وہ آگ بگولہ ہوگئے سونے پر سہاگا یہ کہ ایک زناٹے دار طمانچہ میرے رخسارِ غم گسار پر جڑدیا۔
اب تو میری حالت اور پتلی ہوگئی پیروں تلے زمین نکل گئی رہے سہے اوسان بھی خطا ہوگئے
کہ کاٹو تو بدن میں لہو نہیں اور پھرایک دم میرا پارہ چڑھ گیااور میرا غصہ آسمان سے باتیں کرنے لگاکہ میں نے سردھڑ کی بازی لگاکر اور خون پسینا ایک کرکے جوکام کیا تھا اس میں بھی مجھے ڈانٹ ڈپٹ اور مارکٹائی کا سامنا کرنا پڑاایسی کی تیسی ایسے محاورات کیاگر میرا بس چلتا تو ان محاورات کو نیست ونابود ہی کردیتاان کے گلستان کو تہ وبالا کردیتاان کے چمن کو زیرو زبر کردیتا اور پھر میں کافی دیر تک پیچ و تاب کھاتا رہا بڑی بڑی ہانکتا رہایہاں تک کہ استاد صاحب کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیااور پھر انہوں نے مجھے خوب سنائی کہ تم بڑے طوطا چشم ہو ماننے کی صلاحیت تم میں صفر بٹا صفر ہے اور نہ ماننا تمھارے اندر سولہ آنے فٹ ہے دس میں سے صرف ایک محاورہ یاد کیا وہ بھی اونٹ کے منہ میں زیرہاور آٹے میں نمک کے برابر پھر اس پر قیامت یہ کہ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کہ ایک تو چوری اوپر سے سینہ زوری حد ہوگئی کہ صرف تین لفظی محاورہ یادکیا… وہ بھی نقطے سے ․․․․․․خالی!۔

Your Thoughts and Comments