Alif

الف

سہیل عباس خان ہفتہ مئی

Alif
پیارے بچو!!
یہ پہلا قاعدہ کہ جو ہم نے ب سے شروع کیا، کیونکہ سنتے آئے ہیں کہ الف خالی ب کے نیچے ایک نقطہ۔
اب اس میں کیا نکتہ ہے یہ تو کوئی سمجھ دار ہی بتا سکتا ہے۔
جس طرح ہر خالی چیز خالی نہیں ہوتی اسی طرح ہر نکتہ چینی میں ضروری نہیں کوئی نکتہ ہو۔
پیارے بچو!!
الف کو اس لیے الف کہتے ہیں کہ یہ سیدھا کھڑا ہو سکتا ہے، ہم بڑی مشکل سے الف کھڑا کرتے ہیں اور شاعر کم بخت اس کو گرا کے دم لیتے ہیں۔


ہم جب سکول میں پڑھتے تھے تو الف کو گُلی سے تشبیہ دیتے تھے۔ آج کل سائنس ترقی کر گئی ہے اس لیے بچے الف کو ون سمجھتے ہیں۔
الف سے انار ہوتا ہے، اس کی کلی بہت مشہور تھی، سنا ہے وہ اکبر کے دربار میں ایٹم سونک کرتی تھی۔ انار سے ویسے تو انار دانہ بنایا جاتا ہے لیکن ہم نے اس سے انارکی بھی بنا لی ہے۔

(جاری ہے)

سنا ہے ایک انار کے لیے سو لوگوں کو بیمار ہونا پڑتا تھا، بیماری کو آزار بھی کہتے ہیں، اس آزار کو بند کرنے لیے انار کا سہارا لیا جاتا تھا، اس کا آزار بند سے کوئی تعلق نہیں، ویسے کسی کا ہو بھی تو ہم کیا کر سکتے ہیں، وہ اپنی مدد آپ کے تحت کسی بھی نوشتہ دیوار کو پڑھ کر حکیم سے رابطہ کر سکتا ہے۔


الف کے اوپر مد ڈال کر آ بنایا جاتا ہے، کہتے ہیں یہ بھی الف تھی جسے الف کے اوپر لٹایا جاتا ہے، اب الف کے اوپر الف لٹانا اور وہ بھی ایک اسلامی ملک میں، یہ ہم گوارا نہیں کر سکتے، میری اسلامی نظریاتی کونسل سے درخواست ہے کہ اس ہم جنس پرستی کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے اور نصاب بنانے والوں کو نشانہ عبرت بنایا جائے۔
الف سے امل بھی ہوتا ہے جبکہ ہمیں بتایا گیا ہے کہ یہ عین سے ہوتا ہے، عین والے پہ وہ عمل کرے جس کی آنکھیں ہوں، ہمیں تو الف والے میں امید کی کرن نظر آتی ہے۔


امل کے ساتھ چھوٹی ی لگا کر لڑکیاں کھاتی ہیں اور لڑکے اس میں آلو بخارا ڈال دیتے ہیں، آلو بڑی مفید چیز ہے، کوئی تنگ کرے تو اس کو رکھ کر اس کا بندوبست کرتے ہیں ، بڑے افسر کو جناب آلو کہتے ہیں، اس کا الو سے نہیں بلکہ اس کے پٹھے سے تعلق ہوتا ہے۔
الف سے آج بھی ہوتا ہے، آپ اسے نیوز چینل نہ سمجھیں بلکہ یہ وہ آج ہے جس کے دونوں طرف کل لگے ہوئے ہیں، چونکہ ہماری کوئی کل سیدھی نہیں اس لیے ہم ہر وقت کل کے گھوڑے پر سوار رہتے ہیں۔

کل کے نیچے زیر لگائیں تو کل کل بن جاتی ہے، اس کے ساتھ بک بک لگائیں تو دونوں کی تکرار سمجھ میں آتی ہے۔ کل پر پیش لگائیں تو وہ کل بنتا ہے اس کا قل سے بھی ایک تعلق ہے جو ہمارے کل نظام پر پڑھا جا سکتا ہے۔
پیارے بچو !!
آپ جاپانی کسی کا شکریہ ادا کرنا چاہیں تو جاپانی میں اری گاتو کہتے ہیں، ہم کسی گات والی کو ایسے اری گاتو کہہ کے بلائیں تو وہ جوتا اُتار لیتی ہے۔
ہم پنجابی آہو کو ہاں کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور آپ جاپانی اسے بے وقوف کے معنوں میں لیتے ہیں اور پھر بھی اپنے آپ کو عقلمند قوم سمجھتے ہیں۔ اردو والوں کو آہو کی چشم پسند ہے، اسی لیے ہماری ان سے چشمک رہتی ہے۔
پیارے بچو اب گھر جاوٴ اور اپنی بے بے کو بتاوٴ کہ کل ہم ب پڑھیں گے۔

Your Thoughts and Comments