Apna To Ban

اپنا تو بن!

جمعہ اکتوبر

Apna To Ban

تنویر حسین
اگر کوئی ہمیں دبلے اور موٹے آدمی میں فرق پوچھے تو ہم بغیر کسی تمہید کے کہہ دیں گے کہ ان میں وہی فرق ہے ،جو ایک سردوگرم چشیدہ پہلوان اور اس کے نوخیز پٹھے میں ہوتا ہے ۔ پٹھا ہارے یا جیتے ،دونوں صورتوں میں کریڈیٹ یا ڈِس کریڈیٹ استاد پہلوان ہی کو جائے گا۔بچے عموماََ موٹے شخص کو دیکھ کر ہا تھی کا بچہ کَہ اٹھتے ہیں ۔یہ کوئی ناروابات نہیں بلکہ بزرگوں کے اقوالِ زریں کے مطابق بچے نہایت سچے ہوتے ہیں ۔


انھی خطوط پرہمیں یہ سچ عین حق نظر آیا اور مزید انکشاف ہوا کہ آدمی کا ہاتھی سے منسوب ہونا مکھی یا مچھر کے ساتھ بریکٹ ہونے سے تو بدر جہابہتر ہے ۔سنا ہے کہ لکھنو میں جہاں ہانکے شعراء کی کثرت تھی،اس فضا میں دلّی سے آنے والے بھاری بھر کم شعراء بھی چھیل چھبیلے بن گئے تھے۔

(جاری ہے)

استاد امام بخش ناسخ نے اپنی ہئیت اور جون کو دوامی حیثیت بخشنے کا مصمّم ارادہ کر لیا۔


موصوف شاعر کہلوانے سے قبل جس طرح جسمانی کثرت فرمایا کرتے تھے اور اپنے تن وتوش سے جس خلوص سے محبت کیا کرتے تھے ،شاعری کے میدان میں اترنے کے بعد بے چاری شاعری کا دھوبی پٹڑا کرنے سے باز نہ آئے۔وہ ایک اعتبار سے ”دو مونہے“کہلا سکتے ہیں کہ ایک طرف تو وہ آتش کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس سے نیچہ آزمائی فرماتے تھے ۔دوسری جانب،وہ بستانِ دلّی کا کچو مر نکالنے میں ہمہ تن منہمک رہتے تھے ۔


موٹے آدمی کو بعض لوگ دریائی گھوڑا یا فارنر (بترجمہ پنجابی)بھی کہتے ہیں ․․․․․․․․
ہر قسم کا حرام ہے صاحب کے پیٹ میں
ساری غلاظتوں کا یہ گویا گودام ہے
غرض موٹے آدمی کی سوانح عمری اچھے خاصے سانحوں کا مجموعہ ہوتی ہے ۔وہ بچپن ہی سے کام کے نہ کاج کے ،دشمن اناج کے ہوتے ہیں ۔یہ انھی کے خلوص اور نیک بیتی کا نتیجہ ہے کہ بہت سی اشیائے خوردنی پر زرِمبادلہ ضائع کرنا پڑتا ہے ۔

ان آدمیوں کی زندگی کے قیمتی ماہ وسال سال گروں میں کیکوں کے سومنات فتح کرنے ،ولیموں میں بوٹیوں کے مینارِ پاکستان بنانے ،عقیقوں میں بوٹیوں کی تلاش میں آلو کھانے اور چہلموں میں قورمے اور مٹر گوشت کے انتظار میں چہل قدمی اور مٹر گوشت کرنے میں گزرتے ہیں ۔
یہ حضرات نور کے تڑکے نباتات اور جمادات تک کو چیلنج کرتے دکھائی دیتے ہیں ،وہ اشیائے خوردنی اور ”نوشی “جنھیں ایک باشعور اور خوش ذوق آدمی دیکھ کر غش ہی کھا جائے ،ان کے لیے زندگی بخش نغموں کا پیغام لاتی ہیں ۔

مثلاََ لاہور کے گلے کو چوں سے گزرتے ہوئے یہ احساس ہوتا ہے کہ دیگوں اور دیگچوں کے اندر سے بکرے ،مرغے ،بیل اور بھینسے اپنی اپنی زبانوں ،بونگوں ،رانوں اور کولہوں سے فریاد کرتے نظر آرہے ہیں ۔چوں کہ انسان بھی گوشت پوست کا مرقّع ہے ،اس لیے،ان کی جسمانی مجبوریوں پر اس کے منہ میں پانی بھر آتا ہے ۔
ہم نے خود ایک عرصہ جملہ جانوروں پرمنہ ماراہے اور اب ہمارے معدے نے اپنے اوپر ایک مستقل تختی لگا چھوڑی ہے ۔

برادرِ عزیز !”یہ شارع عام نہیں ،حیوانات کا گزر ممنوع ہے ۔“گھر سے باہر ناشتہ اور لنچ کرنے والوں کو دیکھ کر یہ خیال آتا ہے کہ یا تو یہ نوداردانِ شہر ہیں یا ان کی بیویاں پھوہڑا۔اگر ناشتے میں چھ سات نان ،ایک ڈونگا سری پائے+زبان اور کھد ۔ایک پیالہ دہی ،آدھ کلو حلوہ اور دس بارہ پُوریاں بچھی ہوں تو بندہ کسی جگہ بچھ تو سکتا ہے ،کام پر نہیں جا سکتا۔


ہم جیسے موم کے پَتلے اگر اس نوعیت کے ناشتہ کے قریب سے بھی گزر جائیں توکبھی گھر نہ پہنچیں ۔اس قسم کا ناشتہ کرنا،بِل ادا کرنا اور پھر اسے دوپہر کے کھانے تک اٹھائے پھرنا․․․․․․․
انہی کاکام ہے کہ جن کے حوصلے ہیں زیاد
موٹے لوگوں کے بارے میں پتلے لوگوں نے اُڑارکھی ہے کہ ان کا دماغ بھی موٹا ہوتا ہے ۔حالاں کہ تربوز کے گرین ہیلمٹ کے اندر کا خلاء نہایت محدود ہوتا ہے ۔

یہ بکرے کی سری اس لیے کھاتے ہیں کہ ایک تو ان کا سرصدقہ نکل جائے ۔دوسرے ،ان کی سرداری اور سرتاجی سلامت رہے ۔تیسرے ،انھیں انڈین ایکٹرس سری دیوی کے درشن کی حسرت ہی نہ رہے ۔
اس سے یہ خدشہ بھی بہر حال اپنی جگہ موجود رہتا ہے کہ ایسی مخلوق میں سے بعض یا اکثر تیز اور تُرش مزاج ہستیاں آگے چل کر اسمبلیوں میں ایک دوسرے کا سر کھائیں گی اوریہ چٹ پٹا اور مصالحے دار فیضان بالواسطہ قوم تک بالتر تیب پہنچے گا۔

موٹا آدمی چوں کہ اپنے حجم اور حجامت کے حساب سے ”شمالاً جنوباً اور شرقاً غرباً َ لوٹے“کے قریب تر ہوتا ہے ،اس لیے اس دکان سے گھر تک اور پھر بیت الخلاء․․․․․․․
(یہ جگہ اس لیے چھوڑی ہے کہ ایسا خلاء عمر پھر پُر ہونے میں نہیں آتا)تک پہنچنے میں آسانی رہے ۔موٹے لوگوں کے خوردونوش کی بات چلی ہے تو وہ بکروں یا بکریوں کی زبانیں اس لیے کھاتے ہیں کہ ان کی زبانیں بکروں کی طرح معصوم ،سچی ،صاف اور سفید ہوں ۔


وہ الگ بات ہے کہ بعض لاہوریوں کی زبانیں اتنی صاف نہیں ۔وہ ”ر“کی بجائے”ڑ“اور بعض اوقات اپنی بات میں زور پیدا کرنے کے لیے ایسی زبان بولتے ہیں ،جو کسی گندھار ا تہذیب سے مُطہر ہو کر آئی ہو ۔اس میں ان کا کوئی قصور نہیں کیوں کہ یہ قصور ان قصائیوں کا ہے جو کبھی کبھار انھیں میدانی اور یتلے بکروں کے بجائے پہاڑ اور ٹیڈی بکرے کھلا دیتے ہیں ۔

موٹے لوگ پائے اس لیے کھاتے ہیں کہ انھیں کوئی مذاق سے چوپائے بھی کہ لے تو وہ چپ چاپ اور ہنسی خوشی برداشت کرسکیں ۔پھر یہ پائے بڑے کثیر المقاصد ہوتے ہیں ۔پائے کھاکر آدمی بڑے پائے کا آدمی کہلاتی ہے ۔
پائے کھانے والے لوگ اتنے مستقل مزاج ہوجاتے ہیں کہ ان کے پائے ثباب میں لغزش نہیں آتی ۔بس ان پائیوں کا ایک ہی نقصان ہے کہ ناغہ کے روز اس کے عادی آدمی اپنے بیگمات سے چار پائی کے پائے ہی کھاتے ہیں ! ان کا ایک اور من بھاتا کھاجا ”اوجھڑی“ہے ۔

حکماء کمزور معدے والوں کو اس کے استعمال کا خصوصاً حکم دیتے ہیں ۔موٹے لوگوں کو خیال ہے کہ جسمانی پٹھوں کو تقویت دینے کے لیے یہ بڑے کام کی چیز ہے کیوں کہ اس میں ”پٹھے “بھرے ہوتے ہیں ۔
پھر وہ لوگ بھی اوجھڑی کثرت سے کھاتے ہیں جنہیں نہانے کے بعد اوجھڑی کے قبیلے سے تعلق رکھنے والی سوتی صنعت (تولےئے)سے چند اں دلچسپی نہ ہو ۔ا س طرح وہ تو لےئے کے خارجی استعمال کی بجائے اس کا داخلی استعمال کرتے ہیں ۔

موٹے لوگوں کا لنچ دیکھ کر دھیان غرباء کی طرف جا تا ہے کہ ان لوگوں نے چتی دوپہروں اور سرد ہواؤں میں زمین کا شت کرکے اناج اُگاہ دینا ہوتا ہے ۔
پولٹری فارم کے مزدوروں نے ایک ڈیڑھ ماہ میں نوٹ سیل کے لیے مرغے کو بلو غت تک پہنچا دینا ہوتا ہے ۔گلہ بانوں نے بکروں کے ریوڑپال دینے ہوتے ہیں ،مگر ان سب کا کیا دھرا کھانے پکانے کی مختلف ترکیبوں سے خوش حالوں اور خوش خوراکوں کے سامنے آجاتا ہے ،جسے وہ آنکھ بند کرکے کھاپی جاتے ہیں ۔

موٹے جب دریائے خوراک میں غوطہ زن ہوتے ہیں تویوں لگتا ہے ،جیسے وہ زندگی کی بہت بڑی سچائی کوعلامہ اقبال کے اس شعر کا کفن پہنا رہے ہوں ․․․․․․
برتر از اندیشہ سود وزیاں ہے زندگی
ہے کبھی جاں اور کبھی تسلیمِ جاں ہے زندگی
رہایہ سوا ل کہ وہ مرغے اور مرغیاں بیک وقت اپنی میز پر کیوں لٹاتے ہیں ؟وہ اس لیے کہ ایک تو وہ اپنے بچوں کو ہےؤں اور شےؤں کے درمیان فرق بتا تے ہیں۔

دوسرے وہ مرغوں اور مرغیوں کو ذبح کرتے وقت اپنے بچوں کو علامہ اقبال کی پیاری پیاری نظموں ”بچے کی دعا“،”ہمدردی “اور ”پرندے کی فریاد“ذائقے سمیت ان کے پیٹ نشین کراتے ہیں ۔گوبھی آلو اور بھنڈیاں اس لیے کھاتے ہیں کہ پٹرول اور مٹی کی آلودگی کے باعٹ جسم میں حرص وہوا کی کمی واقع نہ ہو جائے ۔دہی کے کُونڈے اس لیے نوش جاں کرتے ہیں کہ دوسروں کا ”کُونڈا“کرنے میں آسانی رہے ۔


پھلوں کی چیڑ پھاڑ اس لیے کہ مسئلہ کشمیر حل ہونے سے پہلے پہلے پھل کھانے کی خوب پر یکٹس ہو جائے اور سلاد تمام کھانوں پر پردہ ڈالنے کی خاطر۔ موٹا آدمی لبِ سڑک ہاتھ جوڑ کر ہی کیوں نہ کھڑا ہو جائے ،کوئی اسے لفٹ نہیں دیتا کیوں کہ گاڑی والوں کو بہر حال اپنی گاڑی کی ناموس عزیز ہوتی ہے ۔ویگن والے تو اس حدتک کاروباری ہیں کہ وہ صرف ایسی ہی سواریوں کا انتخاب کرتے ہیں ،جن کے جسم اور چال چلن دونوں میں کافی لچک ہو۔


موٹا آدمی اگر رکشے میں گھُسنے کی کوشش کرے تو رکشے والا کچھ یوں جواب دے گا۔“باؤجی !اگر آپ کا پھیرا لگ گیا تو باقی پھیرے دوکشاپ کے ہوں گے ۔“یوں تو گھروں میں مہمانوں کو رحمتِ خداوندی سمجھا جاتا ہے مگر ہیوی ویٹ مہمانوں کو یہاں بھی دماغ پرکافی زور دے کر خوش آمدید کہا جاتا ہے ۔ایسا مہمان اگر جلدی سے کسی ایسی چار پائی پر بیٹھ جائے جو رعشہ زدہ ہوتو زنانہ سرگوشیوں کے ساتھ چارپائیانہ سسکیاں بھی کانوں میں ”رسیاں “گھولتی ہیں۔


موٹے آدمی کی بدولت اس کے درزی اور دھوبی بھی قنوطیت کا شکار ہو جاتے ہیں کیوں کہ درزی کو ایسے آدمی کا عام لباس بھی کفن نظر آتا ہے اور دھوبی کو ایسے آدمی کے کپڑوں کے عوض حاصل ہونے والی کمائی اس کی ”شو“ہی حل ہوتی دکھائی دیتی ہے ۔موٹے حضرات کی گردن دیکھ کر یہ گمان گزرتا ہے کہ جیسے یہ پلتے پلتے سر پر حاوی ہونے کے چکر میں ہے ۔اس کے سینہ میں جھانکا جائے تویوں لگتا ہے جیسے سینے نے اندر اس حد تک مُشک مچایا ہے کہ وہ تعلقات ِعامہ کے لیے سلائیاں ادھیڑ رہا ہے ۔

اس کی رانوں اور کولہوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں پریشاں نظر ی کا لپکا ہے ۔
اس کا پیٹ ایسے دکھائی دیتا ہے جیسے گنبدِ بے درغلاف میں ہلکوں لے رہا ہو۔ہم چوں کہ وانا نہیں ،اس لیے یہ راز کھولتے ہیں کہ موٹاپے کے شکار لوگوں کو اپنے جسم کے اعشاری نظام کے اشارے سمجھنے چاہییں لیکن ان حضرات کے نزدیک ہم جیسے ہما شما بندوں کی کیا حیثیت ہے ،انھوں نے تو حکیم الامّت شاعرِ مشرقی جیسے انقلابی فلسفی کی بات کب مانی،جس نے بڑی سماجت سے کہا تھا ۔
اپنے ”تن “میں ڈوب کر پاجاسراغ ”لاغری “
تو اگر میرا نہیں بنتا ،نہ بن ،اپنا تو بن

Your Thoughts and Comments