Ashfaq Ahmad Work

اشفاق احمد ورک

جمعرات جنوری

اشفاق احمد ورک ۱۹۶۳ء۔حیات ڈاکٹر اشفاق احمد ورک کی تحریریں ملک کے ادبی حلقوں سے زبردست پذیرائی حاصل کر چکی ہیں۔ موجودہ دور بلاشبہ معیاری مزاح کے فقدان کا دور ہے، اس دور میں جن معدودے چند نوجوانوں نے معیاری مزاح کی تخلیق میں سنجیدگی اور وقار کے ساتھ کاوش کی ہے ان میں اشفاق احمد ورک کا نام بہت نمایاں ہے۔ مشتاق احمد یوسفی لکھتے ہیں:”اشفاق احمد ورک نئے شگفتہ نگاروں میں ایک منفرد لہجہ اور نمایاں مقام رکھتے ہیں۔

وہ آگے بہت آگے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کی حسِ مزاح تیز اور انداز تیکھا ہے۔“ اشفاق احمد ورک کی انفرادیت یہ ہے کہ وہ مزاح کے نام سے پیش ہونے والی ابتدائی اور مضحکہ خیزی کی دوڑ میں شامل نہیں ہوئے جس کی وجہ سے مزاح، لطافت اور دانائی کے راستے سے ہٹ کے جگت اور پھکڑ بازی کی پگڈنڈی پہ چل نکلا تھا۔

(جاری ہے)

ایسے میں ان کی استقامت کی داد دینی پڑے گی کہ انہوں نے شائستگی اور لطافت کے دامن کو ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔

محمد خالد اختر نے لکھا :”اشفاق احمد ورک چیزوں اور لوگوں کا مذاق نہیں اڑاتے ، ان پر پھبتی نہیں کستے بلکہ ان کے بارے میں ظرافت سے ، دلنوازی سے ، دانائی سے لکھتے ہیں۔“ سید ضمیر جعفری نے لکھا: ”پیارے اشفاق ورک! آپ کو معلوم نہیں مگر میں آپ کو بتانے کے لئے بے چین تھا کہ میں آپ کی تحریر کا کس قدر گرویدہ ہوں۔ مجھے تمہارے ہاں کرنل محمد خاں دوبارہ لفٹینی کی وردی میں نظر آتا ہے۔

“(اعجاز رضوی) سوانحی اشارے اشفاق احمد ورک 3جون 1963ء کو شیخوپورہ کے ایک گاؤں حنیف کوٹ میں پیدا ہوئے۔ میٹرک اپنے گاؤں سے کیا اور ڈگری کالج شیخوپورہ میں داخل ہو گئے۔ یہاں سے بی اے کرنے کے بعد 1988ء میں پنجاب یونیورسٹی اور ینٹل کالج سے ایم اے کیا اور شیخوپورہ کالج میں بطور لیکچرار ملازمت اختیار کر لی۔ اردو نثر میں طنز ومزاح کے عنوان سے دوران ملازمت آپ نے ڈاکٹر یٹ کی ڈگری کے لئے ایک مقالہ لکھا اور جولائی 2003ء میں انہیں پی ایچ ڈی کی ڈگری عطا کی گئی۔ اشفاق احمد ورک کی تصنیف ”قلمی دشمنی “ کے اب تک کئی ایڈیشن چھپ چکے ہیں آج کل روزنامہ” دن “میں قلمی دشمنی کے مستقل عنوان سے کالم بھی لکھ رہے ہیں۔

Your Thoughts and Comments